( ملفوظ 436 ) مخالفین کی بد دینی اوہام پرستی اور بد دیانتی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کانپور الہ آباد لکھنؤ میں مخالفین نے میرے متعلق یہ مشہور کر دیا کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حجرہ کا پاخانہ بنوا دیا ہے ۔ میں نے سن کر کہا کہ یہ تو صغری ہے اور کبری کیا ہے اور اس کی کیا دلیل ہے کیا اگر کوئی ایسا کرے تو حرام ہے قرآن میں حدیث میں یا حنفی ، شافعی ، حنبلی ، مالکی کے فقہ میں کسی کا یہ قول ہے کہ حجرہ کا پاخانہ بنانا جائز نہ ہے ان لوگوں کے عقائد محض اوہام پرستی پر مبنی ہیں حالانکہ واقع میں یہ روایت ہی غلط اور محض بہتان ہے دین تو لوگوں میں رہا ہی نہ تھا مگر دیانت بھی نہیں رہی البتہ اس کا عکس ضرور ہوا ہے کہ پائخانہ کا ایک حجرہ بنا دیا ۔

( ملفوظ 435 )ہمارے حضرت حاجی صاحب فن طریقت کے امام تھے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اپنے بزرگوں کی دعا کی برکت سے صحیح اصول دل میں پیدا فرما دیئے باقی آگے اور کچھ آتا جاتا نہیں کتابیں پڑھیں وہ بھی بے تکی سبق میں کبھی حاضر ہوا کبھی نہیں مگر اللہ کا فضل ہے کہ باوجود ان سب کوتاہیوں کے اساتذہ ایسے مل گئے کہ ان حضرات کی تحقیقات مغز ہیں ۔
حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے استاد ملے جو میزان کل تھے کتابوں کے اور علوم کے اور اس کے بعد حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے استاد ملے جو اس فن کے امام تھے مجتہد تھے مجدد تھے سب ان ہی کا صدقہ ہے جو ہم بیٹھ کر باتیں بگھارتے ہیں گو حضرت درسیات پڑھے ہوئے نہ تھے مگر علم جس چیز کا نام ہے وہ حضرت کو عطا ہوا تھا ۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میں حضرت حاجی صاحب کا علم کے سبب معتقد ہوں کسی نے اس کی حقیقت پوچھی تو مولانا نے فرمایا کہ ایک تو ہے ابصار ( نگاہ ) اور ایک ہے مبصرات ( دیکھی ہوئی چیزیں ) فرض کرو ایک شخص اپنے وطن ہی میں مقیم ہے اس نے سیاحت نہیں کی مگر نگاہ بہت تیز ہے جس چیز کو دیکھتا ہے صحیح دیکھتا ہے ۔ سو اس شخص کے مبصرات کم ہیں مگر ابصار زیادہ ہے ۔ ایسے ہی حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو علم زیادہ ہے گو معلومات کم ہیں جس چیز کو بھی سمجھے ہوئے ہیں اس کی حقیقت تک پہنچے ہوئے ہیں اور درسیات پڑھنے والے اسی شخص کے مشابہ ہیں جس نے ساحت تو زیادہ کی مگر نگاہ ضعیف ہے اس کے مبصرات زیادہ ہیں اور ابصار کم پھر فرمایا کہ میں مولانا کا یہ مقولہ اس وجہ سے سناتا ہوں کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے علم کے متعلق اتنے بڑے شخص کی شہادت ہے یہی تو وہ علوم ہیں جس کی نسبت فرماتے ہیں
بینی اندر خود علوم انبیاء بے کتاب و بے معید و اوستا
( تم اپنے اندر حضرات انبیاء علیہم السلام کے علوم بغیر کسی کتاب اور مددگار اور استاد کے پاؤ گے )
حضرت مولانا یہ بھی فرماتے تھے کہ ہمارے ذہن میں تو مقدمات پہلے آتے ہیں اور مقاصد بعد میں اسی لئے وہ مقدمات کے تابع ہوتے ہیں اگر کہیں مقدمات غلط ہو گئے تو مقاصد بھی غلط ہو جاتے ہیں اور حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے یا دوسرے عارفین کے ذہن میں مقاصد پہلے آتے ہیں اور مقدمات کی غلطی کا اثر مقاصد میں نہیں پہنچتا ۔ بلکہ بعض حقیقت شناسوں نے تو مولانا محمد قاسم صاحب کے علوم کو حضرت حاجی صاحب کے علوم کا ظل بتایا جاتا ہے چنانچہ حضرت حاجی صاحب خود فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کو ایک لسان عطاء فرماتے ہیں ۔ حضرت شمس تبریز کو حضرت مولانا رومی عطاء فرمائے گئے تھے جو ان کی لسان تھے اور مجھ کو مولانا محمد قاسم صاحب عطاء فرما گئے ہیں جو میری لسان ہیں حاصل یہ تھا کہ میرے ہی علوم کی ترجمانی فرماتے ہیں ۔

( ملفوظ 434 ) رسمی پیروں کا مقصود جاہ و مال طلبی :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ آج کل رسمی پیر جن کا مقصود جاہ طلبی اور مال طلبی کے سوا کچھ نہیں باوجود بیحد مداہنت کے یہ بھی مصیبت ہی میں رہتے ہیں ایک پیر صاحب یہاں پر آئے تھے کہ میں قرضدار ہوں کہیں کسی کو کچھ لکھ دو وجہ قرض کی یہ بیان کی کہ مرید کھا گئے اور دیا کچھ نہیں یہ انجام ہے لنگرخانہ کا میں تو کہا کرتا ہوں کہ آدمی لنگر دینے کی وجہ سے لنگڑ دین ہو جاتا ہے اور قرض بھی چاہتے تھے تین چار ہزار کی رقم میں نے پوچھا ادا کہاں سے کرو گے ۔ کہتے ہیں کہ مریدوں سے وصول کر کے دے دوں گا بے چارے پھر بھی مریدوں کے معتقد تھے ان کے نہ دینے پر بھی اعتقاد نہیں ٹوٹا خلوص ہو تو ایسا ہو چاہے فلوس نہ ہو ۔

( ملفوظ 433 )شیخ کی اقسام :

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیخ کی دو قسمیں ہیں ایک مبطل ( باطل پر عمل کرنے والا ) ایک محق ( حق پر عمل کرنے والا ) پھر محق کی دو قسمیں ہیں
ایک محقق ، ایک غیر محقق شیخ کے لئے محق کے ساتھ محقق ہونے کی بھی ضرورت ہے ۔

( ملفوظ 432 )لوگوں کے تدین اور خیالات کا قحط

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگوں نے ایک یہ طرز اختیار کر لیا ہے کہ اہل حق سے تو بطور اشکال کے پوچھتے ہیں کہ آپ یہ فرماتے ہیں اور دوسرے علماء اس کے خلاف سمجھتے ہیں تو ہم کس کی مانیں اور کس پر عمل کریں مگر اہل باطل سے کبھی یہ سوال نہیں کرتے کانپور میں ایک تھانےدار تھے میرے ایک وعظ میں شریک تھے میں نے بعض بدعات کی ممانعت بیان کی بعد وعظ وہ تھانےدار صاحب کہنے لگے کہ آپ تو گیارہویں کو ناجائز کہتے ہیں اور دوسرے بعض علماء جائز کہتے ہیں اب ہم کیا کریں ۔
میں نے کہا کہ آپ نے جیسے مجھ سے پوچھا کبھی ان علماء سے بھی اس طرح پوچھا ہے کہ تم تو جائز کہتے ہو اور فلاں عالم ناجائز کہتے ہیں اب ہم کیا کریں اس سے معلوم ہوا کہ اگر آپ کے اس سوال کا سبب تردد ہوتا تو ان سے بھی پوچھتے معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا خود جی چاہتا ہے یہ کام کرنے کو اس لئے ہم سے ہی اشکال کیا جاتا ہے ۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں اور ایک مولوی صاحب غازی پوری اٹاوہ میں جمع ہو گئے وہ کہنے لگے کہ آپ لوگوں کا ہندوستان میں بڑا اثر ہے جس کی آپ لوگوں کو خبر نہیں صرف ایک کسر ہے اگر آپ لوگ مولود میں قیام کرنے لگیں تو پھر تو سارا ہندوستان آپ کا غلام ہو جائے اور میں ذمہ دار ہوتا ہوں کہ سارے ہندوستان کو آپ کا مرید کرا دوں ۔
میں نے کہا کہ اگر کسی کو مرید کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو تو کہنے لگے کہ بس یہ بڑی مشکل ہے بتلائیے یہ علماء کے مشورہ ہیں اس ہی سے اندازہ کر لیجئے ان لوگوں کے خیالات کا اور تدین کا ۔

( ملفوظ 431 )بغیر حنفی مذہب سلطنت نہیں چل سکتی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے ایک انگریز کا قول دیکھا ہے وہ کہتا ہے کہ بغیر حنفی مذہب کے سلطنت چل نہیں سکتی کیونکہ اس قدر توسع اور مراعات مصالح دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتیں ۔ مگر باوجود اتنے توسع کے پھر بھی وجدان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرات اس وقت ہوتے تو اس زمانہ کی حالت کی پر نظر کر کے غالبا اور توسع کرتے مگر ہماری تو ہمت نہیں پڑتی اپنے اندر قوت اجتہاد بھی نہیں پھر نااہلوں سے بھی ڈر لگتا ہے نہ معلوم کیا گڑبڑ شروع کر دیں یہ تو بدوں اہل فتوی کے توسع ہی کے حدود سے نکل کھڑے ہوئے پھر اس کی مثال میں کہ بعض جزئیات میں غالبا زیادہ توسع فرماتے یہ فرمایا کہ مثلا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت دارالحرب میں رہتی ہو تو اس کے متعلق بعض ابواب سیاسیہ میں کیا احکام ہیں ۔ مفصل مستقل طور پر مدون نہیں اور اس کا ذکر غالبا اس وجہ سے نہیں فرمایا کہ ان حضرات کو اس کا وہم گمان بھی نہ تھا کہ کبھی ایسا ہو گا کہ مسلمان کفار کے ماتحت ہونگے باقی تفصیل و استقلال کی نفی سے نفس احکام کا غیر مذکور ہونا لازم نہیں آتا اور وہ بھی کافی ہے اس کے کافی ہونے کے بعد اب کسی کے اجتہاد کی ضرورت نہیں ۔ اب ایسوں کے لئے اپنی رائے سے فتوی دینے سے سکوت ہی اسلم ہے کیونکہ بعض سکوت کبھی بعض نطق سے اچھا ہوتا ہے ۔
اس پر ایک حکایت یاد آئی ایک بہو کسی گھر میں بیاہی ہوئی آئی مگر بولتی نہ تھی ساس نے کہا کہ بہو بولتی کیوں نہیں کہا کہ اماں نے منع کر دیا ہے ساس نے کہا کہ ماں تو تیری بے وقوف ہے تو بولا کر بہو کہتی ہے کہ بولوں کہا ضرور بول ۔ بہو کہتی ہے کہ اگر تمہارا بیٹا مر گیا تو مجھ کو بیوہ بٹھائے رکھو گی یا کہیں نکاح کر دو گی ۔ ساس نے کہا کہ تیرے ماں نے ٹھیک کہا تھا تو تو خاموش ہی اچھی ۔ یا تو بہو بولتی نہ تھی اور بولی تو یہ نور برسائے ۔ یہی حالت ہے اکابر کے اصول کو چھوڑ کر نئے لوگوں کے بولنے کی ۔

( ملفوظ 430 )حکومت کا اصل مقصود اقامت دین ہے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر اختیار ایسا ہی سستا ہے کہ ہر مقصود کے لئے اس کا استعمال جائز ہو اس میں کوئی قید ہی نہ ہو تو اس درجہ میں تو حکومت بھی اختیاری ہے آزادی حاصل کریں ۔ یا بعنوان دیگر آج کل کی اصطلاح میں قربانی کریں اور یہ قربانی ایسی ہے کہ ذی الحجہ سے پہلے ذی قعدہ میں بھی ہو سکتی ہے مگر یہ دیکھ لیں کہ یہ حکومت دین کی ہو گی یا بددینی کی ۔ جس کا معیار حق تعالی کے فرمان سے معلوم ہو سکتا ہے :
” الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ و امروا بالمعروف و نھو عن المنکر وللہ عاقبۃ الامور ”
” یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دیدیں تو یہ لوگ نماز کی پابندی کریں اور زکوۃ دیں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں ۔ اور سب کاموں کا انجام تو خدا ہی کے اختیار میں ہے ”
اگر ایسی نیت ہے تو کوشش کریں یعنی حدود شریعت کا تحفظ شرط ہے مگر اب تو ایسا اطلاق ہو رہا ہے کہ شریعت کے خلاف ہو یا موافق ( اس کی پرواہ ہی ہیں ) تو ایسی حکومت تو فرعون اور شداد کو بھی حاصل تھی حکومت سے اصل مقصود اقامت دین ہے اور یہ تدابیر اس کے اسباب ہیں اگر دین مقصود نہیں جیسا آج کل کی حالت سے ظاہر ہے تو لعنت ہے ایسی حکومت پر ۔

( ملفوظ 429 ) آزادی کا زمانہ

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو شخص علوم عالیہ کو حاصل کئے ہوئے ہو تب قرآن و حدیث کو سمجھ سکتا ہے اب جاہلوں کی اصطلاحوں کو کلام میں ٹھونس کر کام نکالنا چاہتے ہیں جس سے بالکل غیر ممکن ہے کہ حقیقت کا انکشاف ہو سکے اور علوم کے ساتھ اس انکشاف کے لئے ذوق کی بھی ضرورت ہے اور ذوق بدوں کسی کامل کی صحبت کے پیدا نہیں ہو سکتا ۔ مگر ان چیزوں کا اہتمام ہی نہیں اور یہ ساری خرابی اس کی ہیں کہ لوگوں کے قلوب میں خوف آخرت نہیں رہا اور نہ آخرت کی فکر ہے اسی لئے ہر شخص مقرر ہے ہر شخص مفسر ہے ہر شخص محدث ہے ہر شخص مصنف ہے آزادی کا زمانہ ہے نہ اصول ہیں نہ قواعد ۔ جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں اگر فکر آخرت ہو تو ہر چیز میں احتیاط اور حقیقت کی تلاش ہو اور اس کے لئے اس کے اسباب کی کوشش ہو ۔

( ملفوظ 428 )محمدی کہنا جائز ہے تو حنفی اور شافعی بھی جائز :

ایک صاحب کے سوال کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ ایک غیر مقلد قاضی صاحب یہاں پر آئے تھے یہاں کی تعلیم پر ذکر بالجہر کیا کرتے تھے کسی نے ان سے کہا کہ یہ تو بدعت ہے کہنے لگے کہ میاں اس میں مزا آتا ہے اس میں بدعت کی کیا بات ہے گویا ان کے یہاں مزہ پر مدار تھا جس میں مزہ ہو وہ بدعت نہیں ہماری جماعت کے بے حد معتقد تھے مگر تھے غیر مقلد ۔
ہر شخص اپنے خیال میں مست ہے کوئی کیفیت کے پیچھے پڑا ہوا ہے اصل مقصود جو کہ طریق کی روح ہے وہ محض تعلق مع اللہ ہے اس کی کسی کو ہوا بھی نہیں لگی الا ماشاء اللہ جو اصل چیز ہے وہ صرف یہ ہے کہ صحیح معنی میں بندہ کا تعلق اللہ تعالی سے ہو جائے مگر اس کی کسی کو فکر نہیں وہی غیر مقلد قاضی صاحب بھی کہتے تھے کہ یہاں جتنی باتیں ہیں سب سنت کے موافق ہیں صرف ایک بات کے متعلق کہا کہ بدعت ہے وہ یہ نسبتیں ہیں چشتی ، قادری ، نقشبندی ، سہروردی بس یہ بدعت ہے اور یہ سمجھ میں نہیں آتا ۔ میں نے سن کر کہا کہ یہ کہنا کوئی ضروری تھوڑا ہی ہے تم صرف یہ کہا کرو ہم شریعت والے ہیں یہ نسبتیں تو اصطلاحات اور خاص حالات کی تعبیر کی سہولت کے لئے ہیں ۔ آخر یہ غیر مقلد بھی تو اپنے کو محمدی کہتے ہیں یہ بھی تو نسبت ہی ہے تو کیا محمدی کہنا بھی بدعت ہے اسی لئے کہ شریعت تو خدا کی ہے تو بجائے محمدی کے اپنے کو الہی کہا کرو اور اگر محمدی کہنا کسی تاویل سے جائز ہے تو حنفی شافعی ، مالکی ، حنبلی ، چشتی ، نقشبندی ، قادری ، سہروردی کہنا بھی جائز ہو گا ۔ گو ان تعبیرات کا معبرعنہ جدا جدا حقائق ہیں مگر وہ حقائق دین کے خلاف نہیں پھر اس میں بدعت کی کیا بات ہے یہ تحقیق نسبت کی اور یہ جواب محمدی کی نظیر پیش کر کے فرمایا ۔
کہ یہ ہمارے استاد علیہ الرحمۃ کا افادہ ہے ۔ ہزاروں مناظرے ایک طرف اور یہ سادے اور بے تکلف نکتے ایک طرف واقعی ہمارے یہ حضرات حقیقت کو منکشف فرما دیتے ہیں ۔ ہمارے حضرات کے علوم ماشاء اللہ تعالی متقدمین کے علوم کے مشابہ تھے اور واقعہ ہے کہ علوم اصل میں متقدمین ہی کے پاس تھے باقی متاخرین کے الفاظ بے شک نہایت چکنی چپڑی عبارتیں نہایت مرتب تقریریں نہایت مہذب مگر متقدمین کے کلام کی برابر ان میں مغز نہیں ۔ قرآن و حدیث کے الفاظ نہایت سادہ اور وہی طرز بزرگوں کے کلام کا ہے مگر ان کی وقعت جو اس وقت قلوب میں کم ہے یہ خرابی نئی اصطلاحات دماغ میں رچ جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے پھر اس میں ترقی ہوتے ہوتے دنیا داروں اور بے علموں تک کا رنگ لے لیا گیا چنانچہ اب وہ طرز ہی کلام کا بدل گیا ۔ علماء تک کی تقریریں دوسرے نئے جاہلانہ رنگ میں ہونے لگیں خدا بھلا کرے ان تحریکات کا کہ بالکل ہی کایا پلٹ ہو گئی علماء کی تقاریر اور تصانیف کا رنگ نیچریوں کے طرز پر ہونے لگا ان کا وعظ ایسا ہونے لگا جیسے کوئی لیکچر دے رہا ہو نہ وہ ملاحت ہے نہ اثر ہے بلکہ اور وحشت معلوم ہوتی ہے علماء کو چاہئے وہ کام میں اپنے بزرگان سلف کا طرز اختیار کریں اس ہی میں برکت ہے اور وہی طرز مؤثر ہے ۔

( ملفوظ 427 )دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت دخل دینا مرض عام ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دوسروں کی فضول فکر اور دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت دخل دینا آج کل یہ مرض عام ہو گیا ہے اور یہ اس راہ میں سم قاتل ہے کہ اپنے اختیارات کا تو اہتمام نہ کرے اور دوسروں کے اختیاریات میں مشغول ہو جاوے جو اس کے اعتبار سے غیر اختیاری ہے اسی کے متعلق فرماتے ہیں کار خود کن کار بے گانہ مکن