نیک کاموں کے ثواب اور بری باتوں کے عذاب کا بیان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں سے بعضے نیک کاموں کے ثواب اور بری باتوں کے عذاب کا بیان تا کہ نیکیوں کی رغبت اور برائیوں سے نفرت ہو۔

نیت خالص رکھنا

ایک شخص نے پکار کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کیا چیز ہے۔ آپ نے فرمایا نیت کو خالص رکھنا۔ ف مطلب یہ ہے کہ جو کام کرے خدا کے واسطے کرے۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سارے کام نیت کے ساتھ ہیں۔ ف مطلب یہ کہ اچھی نیت ہو تو نیک کام پر ثواب ملتا ہے ورنہ نہیں ملتا۔

دکھلاوے کے واسطے کوئی کام کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص سنانے کے واسطے کوئی کام کرے اللہ تعالی قیامت میں اس کے عیب سنوائیں گے۔ اور جو شخص دکھلانے کے واسطے کوئی کام کرے اللہ تعالی قیامت میں اس کے عیب دکھلائیں گے۔ اور فرمایا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تھوڑا سا دکھلاوا بھی ایک طرح کا شرک ہے۔

قرآن و حدیث کے حکم پر چلنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت میری امت میں دین کا بگاڑ پڑ جائے اس وقت جو شخص میرے طریقے کو تھامے رہے اس کو سو شہیدوں کے برابر ثواب ملے گا۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تم لوگوں میں ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اس کو تھامے رہو گے تو کبھی نہ بھٹکو گے۔ ایک تو اللہ تعالی کی کتاب یعنی قرآن۔ دوسرے نبی کی سنت یعنی۔حدیث

نیک کام کی راہ نکالنا یا بری بات کی بنیاد ڈالنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص نیک راہ نکالے پھر اور لوگ اس راہ پر چلیں تو اس شخص کو خود اس کا ثواب بھی ملے گا اور جتنوں نے اس کی پیروی کی ہے ان سب کے برابر بھی اس کو ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں بھی کمی نہ ہو گی۔ اور جو شخص بری راہ نکالے پھر اور لوگ اس راہ پر چلیں تو اس شخص کو خود اس کا بھی گناہ ہو گا اور جتنوں نے اس کی پیروی کی ہے ان سب کے برابر بھی اس کو گناہ ہو گا۔ اور ان کے گناہ میں بھی کمی نہ ہو گی۔ ف مثلاً کسی نے اپنے اولاد کی شادی میں رسمیں موقوف کر دیں یا کسی بیوہ نے نکاح کر لیا اور اس کی دیکھا دیکھی اوروں کو بھی ہمت ہوئی تو اس شروع کرنے والی کو ہمیشہ ثواب ہوا کرے گا۔

دین کا علم ڈھونڈھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کے ساتھ اللہ تعالی بھلائی کرنا چاہتے ہیں اس کو دین کی سمجھ دے دیتے ہیں ف یعنی مسائل کی تلاش اور شوق اس کو ہو جاتا ہے۔

دین کا مسئلہ پوچھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سے کوئی دین کی بات پوچھی جائے اور وہ اس کو چھپا لے تو قیامت کے دن اس کو آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔ ف اگر تم سے کوئی مسئلہ پوچھا کرے اور تم کو خوب یاد ہو تو سستی اور انکار مت کیا کرو اچھی طرح سمجھا دیا کرو۔

مسئلہ جان کر عمل نہ کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم نے جس قدر علم ہوتا ہے وہ علم والے پر وبال ہوتا ہے بجز اس شخص کے جو اس کے موافق عمل کرے۔ ف دیکھو کبھی برادری کے خیال سے یا نفس کی پیروی سے مسئلہ کے خلاف نہ کرنا۔

پیشاب سے احتیاط نہ کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب سے خوب احتیاط رکھا کرو کیونکہ اکثر قبر کا عذاب اسی سے ہوتا ہے۔

وضو اور غسل میں خوب خیال سے پانی پہنچانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن حالتوں میں نفس کو ناگوار ہو ایسی حالت میں وضو اچھی طرح کرنے سے گناہ دھل جاتے ہیں۔ ف ناگواری کبھی سستی سے ہوتی ہے کبھی سردی سے۔

مسواک کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دو رکعتیں مسواک کر کے پڑھنا ان ستر رکعتوں سے افضل ہیں جو بے مسواک کیے پڑھی جائیں۔

وضو میں اچھی طرح پانی نہ پہنچانا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعضے لوگوں کو دیکھا کہ وضو کر چکے تھے مگر ایڑیاں کچھ خشک رہ گئی تھیں تو آپ نے فرمایا بڑا عذاب ہے ایڑیوں کو دوزخ کا۔ ف انگوٹھی چھلا چوڑیاں چھڑے اچھی طرح ہلا کر پانی پہنچایا کرو اور جاڑوں میں اکثر پاؤں سخت ہو جاتے ہیں خوب پانی سے تر کیا کرو۔ اور بعضی عورتیں منہ سامنے سامنے دھو لیتی ہیں کانوں تک نہیں دھوتیں۔ ان سب باتوں کا خیال رکھو۔

عورتوں کا نماز کے لیے باہر نکلنا

فرمایا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے سب سے اچھی مسجد ان کے گھروں کے اندر کا درجہ ہے ف معلوم ہوا کہ مسجدوں میں عورتوں کا جانا اچھا نہیں۔ اس سے یہ بھی سمجھو کہ نماز کے برابر کوئی چیز نہیں۔ جب اس کے لیے گھر سے نکنا اچھا نہیں سمجھا گیا تو فضول ملنے ملانے کو یا رسموں کو پورا کرنے کو گھر سے نکلنا تو کتنا برا ہو گا۔

نماز کی پابندی

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچوں نمازوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے دروازے کے سامنے ایک گہری نہر بہتی ہو اور وہ اس میں پانچ وقت نہایا کرے۔ ف۔ مطلب یہ کہ جیسے اس شخص کے بدن پر ذرا میل نہ رہے گا۔ اسی طرح جو شخص پانچوں وقت کی نماز پابندی سے پڑھے اس کے سارے گناہ دھل جائیں گے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا۔

اول وقت نماز پڑھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اول وقت میں نماز پڑھنے سے اللہ تعالی کی خوشی ہوتی ہے۔ ف۔ بیبیو تم کو جماعت میں جانا تو ہے ہی نہیں پھر کیوں دیر کیا کرتی ہو۔

نماز کو بری طرح پڑھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص بے وقت نماز پڑھے اور وضو اچھی طرح نہ کرے اور جی لگا کر نہ پڑھے اور رکوع سجدہ اچھی طرح نہ کرے تو وہ نماز کالی بے نور ہو کر جاتی ہے اور یوں کہتی ہے کہ خدا تجھے برباد کرے جیسا تو نے مجھ کو برباد کیا۔ یہاں تک کہ جب اپنی خاص جگہ پر پہنچتی ہے جہاں اللہ کو منظور ہو تو پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر اس نمازی کے منہ پر ماری جاتی ہے۔ ف۔ بیبیو نماز تو اسی واسطے پڑھتی ہو کہ ثواب ہو۔ پھر اس طرح کیوں پڑھتی ہو کہ اور الٹا گناہ ہو۔

نماز میں اوپر یا ادھر ادھر دیکھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم نماز میں اوپر مت دیکھا کرو کبھی تمہاری نگاہ چھین لی جائے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص نماز میں کھڑے ہو کر ادھر ادھر دیکھے اللہ تعالی اس کی نماز کو اسی پر الٹا ہٹا دیتے ہیں۔ ف۔ یعنی قبول نہیں کرتے۔

نماز پڑھتے کے سامنے سے نکل جانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو خبر ہوتی کہ کتنا گناہ ہوتا ہے تو چالیس برس تک کھڑا رہنا اس کے نزدیک بہتر ہوتا سامنے نکلنے سے۔ ف۔ لیکن اگر نمازی کے سامنے ایک ہاتھ کے برابر یا اس سے زیادہ کوئی چیز کھڑی ہو تو اس چیز کے سامنے سے گزرنا درست ہے۔

نماز کو جان کر قضا کر دینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص نماز کو چھوڑ دے وہ جب خدائے تعالی کے پاس جائے گا تو وہ غضب ناک ہوں گے۔

قرض دے دینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں نے شب معراج میں بہشت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا کہ خیرات کا ثواب دس حصے ملتا ہے اور قرض دینے کا ثواب اٹھارہ حصے۔

غریب قرض دار کو مہلت دے دینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک قرض ادا کرنے کے وعدے کا وقت نہ آیا ہو اس وقت تک اگر کسی غریب کو مہلت دے تب تو ہر روز ایسا ثواب ملتا ہے جیسے اتنا روپیہ خیرات دے دیا۔ اور جب اس کا وقت جائے اور پھر مہلت دی تو ہر روز ایسا ثواب ملتا ہے جیسے اتنے روپے سے دونا روپیہ روز مرہ خیرات کر دیا۔

قرآن مجید پڑھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص قرآن مجید کا ایک حرف پڑھتا ہے اس کو ایک حرف پر ایک نیکی ملتی ہے۔ اور نیکی کا قاعدہ ہے کہ اس کے بدلے دس حصے ملتے ہیں۔ اور الم کو ایک حرف نہیں کہتا بلکہ الف ایک حرف ہے اور ل ایک حرف اور م ایک حرف۔ تو اس حساب سے تین حرفوں پر تیس نیکیاں ملیں گی

اپنی جان یا اولاد کو کوسنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ تو اپنے لیے بددعا کیا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے اور نہ اپنے خدمت کرنے والے کے لیے۔ اور نہ اپنے مال و متاع کے لیے۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تمہارے کوسنے کے وقت قبولیت کی گھڑی ہو کہ اس میں خدا سے جو مانگو اللہ تعالی وہی کر دیں۔

حرام مال کمانا اور اس سے کھانا پہننا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو گوشت اور خون حرام مال سے بڑھا ہو گا وہ بہشت میں نہ جائے گا دوزخ ہی اس کے لائق ہے۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص کوئی کپڑا دس درہم کو خریدے اور اس میں ایک درہم حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا اللہ تعالی اس کی نماز قبول نہ کریں گے۔ ف۔ ایک درہم چونی سے کچھ زائد ہوتا ہے۔

دھوکا کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص ہم لوگوں سے دھوکا بازی کرے وہ ہم سے باہر ہے۔ ف۔ خواہ کسی چیز کے بیچنے میں دھوکا ہو یا اور کسی معاملے میں سب برا ہے۔

قرض لینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ کسی کا کوئی درہم یا دینار رہ گیا ہو تو وہ اس کی نیکیوں سے پورا کیا جائے گا جہاں نہ دینار ہو گا نہ درہم ہو گا۔ ف۔ دینار سونے کا دس درہم کی قیمت کا ہوتا ہے۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرض دو طرح کا ہوتا ہے جو شخص مر جائے اور اس کی نیت ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں اس کا مددگار ہوں۔ اور جو شخص مر جائے اور اس کی نیت ادا کرنے کی نہ ہو اس شخص کی نیکیوں سے لے لیا جائے گا۔ اور اس روز دینار درہم کچھ نہ ہو گا۔ ف۔ مددگار کا مطلب یہ ہے کہ میں اس کا بدلہ اتار دوں گا

مقدور ہوتے ہوئے کسی کا حق ٹالنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مقدور والے کا ٹالنا ظلم ہے۔ ف۔ جیسے بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ قرض والی کو یا جس کی مزدوری چاہتی ہو اس کو خواہ مخواہ دوڑاتی ہیں جھوٹے وعدے کرتی ہیں کہ کل نا پرسوں نا۔ اپنے سارے خرچ چلے جاتے ہیں مگر کسی کا حق دینے میں بے پروائی کرتی ہیں۔

سود لینا دینا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے پر اور سود دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

کسی کا زمین دبا لینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص بالشت بھر زمین بھی ناحق دبائے اس کے گلے میں ساتوں زمین کا طوق ڈالا جائے گا۔

مزدوری کا فورا دے دینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مزدور کو اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دے دیا کرو۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تین آدمیوں پر میں خود دعوی کروں گا۔ ان میں سے ایک وہ شخص بھی ہے کہ کسی مزدور کو کام پر لگایا اس سے کام پورا لے لیا اور اس کی مزدوری نہ دی۔

اولاد کا مر جانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دو میاں بیوی مسلمان ہوں اور ان کے تین بچے مر جائیں اللہ تعالی ان دونوں کو اپنے فضل و رحمت سے بہشت میں داخل کریں گے۔ بعضوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اگر دو مرے ہوں آپ نے فرمایا کہ دو میں بھی یہی ثواب ہے پھر ایک کو پوچھا آپ نے ایک میں بھی یہی فرمایا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ قسم کھاتا ہوں اس ذات پاک کی جس کے اختیار میں میری جان ہے کہ جو حمل گر گیا ہو وہ بھی اپنی ماں کو نواں نال سے پکڑ کر بہشت کی طرف کھینچ کر لے جائے گا جبکہ ماں نے ثواب کی نیت کی ہو۔ ف۔ یعنی ثواب کا خیال کر کے صبر کیا ہو۔

غیر مردوں کے روبرو عورت کا عطر لگانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت اگر عطر لگا کر غیر مردوں کے پاس سے گزرے تو وہ ایسی ایسی ہے یعنی بدکار ہے۔ ف۔ جہاں دیو جیٹھ بہنوئی یا چچا زاد ماموں زاد پھوپھی زاد خالہ زاد بھائی کا آنا جانا ہو عطر نہ لگائے۔

عورت کا باریک کپڑا پہننا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعضی عورتیں نام کو تو کپڑا پہنتی ہیں اور واقع میں ننگی ہیں ایسی عورتیں بہشت میں نہ جائیں گی اور نہ اس کی خوشبو سونگھنے پائیں گی۔

عورتوں کو مردوں کی وضع اور صورت بنانا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں کا سا پہناوا پہنے ۔ ف۔ ہمارے ملک میں کھڑا جوتا یا اچکن مردوں کی وضع ہے عورت کو ان چیزوں کا پہننا حرام ہے۔

شان دکھلانے کو کپڑا پہننا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی دنیا میں نام و نمود کے واسطے کپڑے پہننے خدا تعالی اس کو قیامت میں ذلت کا لباس پہنا کر پھر اس میں دوزخ کی آگ لگائیں گے۔ ف۔ مطلب یہ ہے کہ جو اس نیت سے کپڑا پہننے کہ میری خوب شان بڑھے۔ سب کی نگاہ میرے ہی اوپر پڑے۔ عورتوں میں یہ مرض بہت ہے۔

کسی پر ظلم کرنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس بیٹھنے والوں سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ مفلس کیسا ہوتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ کہلاتا ہے جس کے پاس مال اور متاع نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ میری امت میں بڑا مفلس وہ ہے کہ قیامت کے دن نماز روزہ زکوٰۃ سب لے کر آئے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ کسی کو برا بھلا کہا تھا اور کسی کو تہمت لگائی تھی اور کسی کا مال کھا لیا تھا اور کسی کا خون کیا تھا اور کسی کو مارا تھا۔ پس اس کی نیکیاں ایک کو مل گئیں کچھ دوسرے کو مل گئیں۔ اور اگر ان حقوق کے بدلے ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو چکیں تو ان حقداروں کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں گے اور اس کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔

رحم اور شفقت کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص آدمیوں پر رحم نہ کرے اللہ تعالی اس پر رحم نہیں کرتے۔

اچھی بات دوسروں کو بتلانا اور بری بات سے منع کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص تم میں سے کوئی بات خلاف شرع دیکھے تو اس کو ہاتھ سے مٹا دے اور اتنا بس نہ چلے تو زبان سے منع کر دے اور اگر اس کا بھی مقدور نہ ہو تو دل سے برا سمجھے۔ اور یہ دل سے برا سمجھنا ایمان کا ہارا درجہ ہے۔ ف۔ بیبیو اپنے بچوں اور نوکروں پر تمہارا پورا اختیار ہے ان کو زبردستی نماز پڑھواؤ۔ اگر ان کے پاس کوئی تصویر کاغذ کی یا مٹی چینی کی یا کپڑے کی دیکھو یا کوئی بیہودہ کتاب دیکھو تو فورا توڑ پھوڑ دو ان کو ایسی چیزوں کے لیے یا آتشبازی اور کنکوے کے لیے یا دیوالی کی مٹھائی کے کھلونوں کے لیے پیسے مت دو۔

مسلمان کا عیب چھپانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا عیب چھپائے اللہ تعالی قیامت میں اس کا عیب چھپائیں گے۔ اور جو شخص مسلمان کا عیب کھول دے اللہ تعالی اس کا عیب کھول دیں گے یہاں تک کہ کبھی اس کو گھر میں بیٹھے فضیحت اور رسوا کر دیتے ہیں۔

کسی کی ذلت یا نقصان پر خوش ہونا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص اپنے بھائی مسلمان کو کسی گناہ پر عار دلائے تو جب تک یہ عار دلانے والا اس گناہ کو نہ کرے گا اس وقت تک نہ مرے گا۔ ف۔ یعنی جس گناہ سے اس نے توبہ کر لی ہو پھر اس کو یاد دلا کر شرمندہ کرنا بری بات ہے اور اگر توبہ نہ کی ہو تو نصیحت کے طور پر کہنا درست ہے لیکن اپنے آپ کو پاک سمجھ کر یا اس کو رسوا کرنے کے واسطے کہنا پھر بھی برا ہے۔

چھوٹے چھوٹے گناہ کر بیٹھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عائشہ چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے کو بہت بچاؤ کیونکہ خدائے تعالی کی طرف سے ان کا مؤاخذہ کرنے والا بھی موجود ہے۔ ف۔ یعنی فرشتہ ان کو بھی لکھتا ہے پھر قیامت میں حساب ہو گا اور عذاب کا ڈر ہے۔

ماں باپ کو خوش رکھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالی کی خوشی ماں باپ کی خوشی میں ہے اور اللہ تعالی کی ناراضی ماں باپ کی ناراضی میں ہے۔

رشتے داروں سے بدسلوکی کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر جمعے کی رات میں تمام آدمیوں کے عمل اور عبادت دربار الٰہی میں پیش ہوتے ہیں جو شخص رشتہ داروں سے بدسلوکی کرے اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔

بے باپ کے بچوں کی پرورش کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں اور جو شخص یتیم کا خرچ اپے ذمے کھے بہشت میں اس طرح پاس پاس رہیں گے اور شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کر کے بتلایا۔ اور دونوں میں تھوڑا فاصلہ رہنے دیا۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل نے کہ جو شخص یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے اور محض اللہ ہی کے واسطے پھیرے جتنے بالوں پر کہ اس کا ہاتھ گزرا ہے اتنی ہی نیکیاں اس کو ملیں گی اور جو شخص کسی یتیم لڑکی یا لڑکے کے ساتھ احسان کرے جو کہ اس کے پاس رہتا ہو تو میں اور وہ جنت میں اس طرح رہیں گے جیسے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی پاس پاس ہے۔

پڑوسی کو تکلیف دینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص اپنے پڑوسی کو تکلیف دے اس نے مجھ کو تکلیف دی اور جس نے مجھ کو تکلیف دی اس نے خدائے تعالی کو تکلیف دی۔ اور جو شخص اپنے پڑوسی سے لڑا وہ مجھ سے لڑا اور جو مجھ سے لڑا وہ اللہ تعالی سے لڑا۔ ف۔ مطلب یہ کہ بے وجہ یا ہلکی ہلکی باتوں پر اس سے رنج و تکرار کرنا برا ہے

مسلمان کا کام کر دینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص اپنے بھائی کے کام میں ہوتا ہے اللہ تعالی اس کے کام میں ہوتے ہیں۔

شرم اور بے شرمی

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرم ایمان کی بات ہے اور ایمان بہشت میں پہنچاتا ہے اور بے شرمی بدخوئی کی بات ہے اور بدخوئی دوزخ میں لے جاتی ہے۔ ف۔ لیکن دین کے کام میں شرم ہرگز مت کرو جیسے بیان کے دنوں میں یا سفر میں اکثر عورتیں نماز نہیں پڑھتیں اسی شرم بے شرمی سے بھی بدتر ہے۔

خوش خلقی اور بد خلقی

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خوش خلقی گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتی ہے جس طرح پانی نمک کے پتھر کو پگھلا دیتا ہے۔ اور بدخلقی عبادت کو اس طرح خراب کر دیتی ہے جس طرح کہ سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سب میں مجھ کو زیادہ پیارا اور آخرت میں سب میں زیادہ مجھ سے نزدیکی والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور تم سب میں زیادہ مجھ کو برا لگنے والا آخرت میں سب میں زیادہ مجھ سے دور رہنے والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق برے ہوں۔

نرمی اور روکھا پن

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بے شک اللہ تعالی مہربان ہیں اور پسند کرتے ہیں نرمی کو اور نرمی پر ایسی نعمتیں دیتے ہیں کہ سختی پر نہیں دیتے۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص محروم رہا نرمی سے وہ ساری بھلائیوں سے محروم ہو گیا۔

کسی کے گھر میں جھانکنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک اجازت نہ لے لے کسی کے گھر میں جھانک کر نہ دیکھے اور اگر ایسا کیا تو یوں سمجھو کہ اندر ہی چلا گا۔ ف۔ بعضی عورتوں کو ایسی شامت سوار ہوتی ہے کہ دولہا دلہن کو جھانک جھانک کر دیکھتی ہیں بڑی بے شرمی کی بات ہے۔ حقیقت میں جھانکنے اور کواڑ کھول کر اندر چلے جانے میں کیا فرق ہے۔ بڑے گناہ کی بات ہے۔

کنسوئیں لینا یا باتیں کرنے والوں کے پاس جا گھسنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص کسی کی باتوں کی طرف کان لگائے اور وہ لوگ ناگوار سمجھیں قیامت کے دن اس کے دونوں کانوں میں سیسہ چھوڑا جائے گا۔

غصہ کرنا

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھ کو کوئی ایسا عمل بتلائیے جو مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ آپ نے فرمایا غصہ مت کرنا اور تیرے لیے بہشت ہے۔

بولنا چھوڑ دینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے بھائی مسلمان کے ساتھ تین دن سے زیادہ بولنا چھوڑ دے۔ اور جو تین دن سے زیادہ بولنا چھوڑ دے اور اسی حالت میں مر جائے وہ دوزخ میں جائے گا۔

کسی کو بے ایمان کہہ دینا پھٹکار ڈالنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص اپنے بھائی مسلمان کو کہہ دے کہ او کافر تو ایسا گناہ ہے جیسے اس کو قتل کر دے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان پر لعنت کرنا ایسا ہے جیسا کہ اس کو قتل کر ڈالنا۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی شخص کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو اول وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے آسمان کے دروازے بند کر لیے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی طرف اتری ہے وہ بھی بند کر لی جاتی ہے پھر وہ دائیں بائیں پھرتی ہے جب کہیں ٹھکانا نہیں پاتی تب اس کے پاس جاتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی۔ اگر وہ اس لائق ہوا تو خیر۔ نہیں تو اس کے کہنے والے پر پڑتی ہے۔ ف۔ بعضی عورتوں کو بہت عادت ہے کہ سب پر خدا کی مار خدا کی پھٹکار کہا کرتی ہیں۔ کسی کو بے ایمان کہہ دیتی ہیں یہ بڑا گناہ ہے چاہے آدمی کو کہے یا جانور یا کسی چیز کو۔

کسی مسلمان کو ڈرا دینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال نہیں کسی مسلمان کو کہ دوسرے مسلمان کو ڈراوے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص کسی مسلمان کی طرف ناحق اس طرح نگاہ بھر کر دیکھے کہ وہ ڈر جائے اللہ تعالی قیامت میں اس کو ڈرائیں گے۔ ف۔ اور اگر کسی خطاء و قصور پر ہو تو ضرورت کے موافق درست ہے۔

مسلمان کا عذر قبول کر لینا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص اپنے بھائی مسلمان کے سامنے عذر کرے اور وہ اس کے عذر کو قبول نہ کرے تو ایسا شخص میرے پاس حوض کوثر پر نہ آئے گا۔ ف۔ یعنی اگر کوئی تمہارا قصور کرے اور پھر وہ معاف کرا دے تو معاف کر دینا چاہیے۔

چغلی کھانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ چغلخور جنت میں نہ جائے گا۔

غیبت کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص دنیا میں اپنے بھائی مسلمان کا گوشت کھائے گا یعنی غبتا کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن مردار گوشت اس کے پاس لائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ جیسا تو نے زندہ کو کھایا تھا اب مردہ کو بھی کھا۔ پس وہ شخص اس کو کھائے گا اور ناک بھوں چڑھتا جائے گا اور غل مچاتا جائے گا۔

کسی پر بہتان لگانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص کسی مسلمان پر ایسی بات لگائے جو اس میں نہ ہو اللہ تعالی اس کو دوزخیوں کے لہو اور پیپ کے جمع ہونے کی جگہ رہنے کو دیں گے یہاں تک کہ اپنے کہے سے باز آئے اور توبہ کرے۔

کم بولنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص چپ رہتا ہے بہت آفتوں سے بچا رہتا ہے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے اللہ کے ذکر کے اور باتیں زیادہ مت کیا کرو کیونکہ سوائے اللہ تعالی کے ذکر کے بہت باتیں کرنا دل کو سخت کر دیتا ہے اور لوگوں میں سب سے زیادہ خدائے تعالی سے دور وہ شخص ہے جس کا دل سخت ہو۔

اپنے آپ کو سب سے کم سمجھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص اللہ کے واسطے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کا رتبہ بڑھا دیتے ہیں اور جو شخص تکبر کرتا ہے اللہ تعالی اس کی گردن توڑ دیتے ہیں۔ ف۔ یعنی ذلیل کر دیتے ہیں۔

اپنے آپ کو اوروں سے بڑا سمجھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا آدمی جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا۔

سچ بولنا اور جھوٹ بولنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سچ بولنے کے پابند رہو کیونکہ سچ بولنا نیکی کی راہ دکھلاتا ہے اور سچ اور نیکی دونوں جنت میں لے جاتے ہیں اور جھوٹ بولنے سے بچا کرو کیونکہ جھوٹ بولنا بدی کی راہ دکھلاتا ہے اور جھوٹ اور بدی دونوں دوزخ میں لے جاتے ہیں۔

ہر ایک کے منہ پر اسی کی سی بات کہنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کے دو منہ ہوں گے قیامت میں اس کی دو زبانیں ہوں گی آگ کی ف دو منہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے منہ پر اسی کی سی کہہ دی اور اس کے منہ پر اس کی سی کہہ دی۔

اللہ کے سوا دوسرے کی قسم کھانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا یوں فرمایا کہ اس نے شرک کیا۔ ف جیسے بعض آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ اس طرح قسم کھاتے ہیں تیری جان کی قسم اپنے دے دوں کی قسم اپنے بچوں کی قسم یہ سب منع ہیں اور ایک حدیث میں ہے کہ اگر ایسی قسم کبھی منہ سے نکل جائے تو فورا کلمہ پڑھ لے۔

ایسی قسم کھانا کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو ایمان نصیب نہ ہو

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص قسم میں اس طرح کہے کہ مجھ کو ایمان نصیب نہ ہو تو اگر وہ جھوٹا ہو گا تب تو جس طرح اس نے کہا ہے اسی طرح ہو جائے گا اور اگر سچا ہو گا تب بھی ایمان پورا نہ رہے گا۔ ف اسی طرح یوں کہنا کہ کلمہ نصیب نہ ہو یا دوزخ نصیب ہو یہ سب قسمیں منع ہیں یہ عادت چھوڑنی چاہیے۔

راستے میں سے چیز ہٹا دینا

راستے میں سے ایسی چیز ہٹا دینا جس کے پڑے رہنے سے چلنے والوں کو تکلیف ہو

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک شخص چلا جا رہا تھا راستے میں اس کو ایک کانٹے دار ٹہنی پڑی ہوئی ملی اس نے راستے سے الگ کر دیا اللہ تعالی نے اس عمل کی بڑی قدر کی اور اس کو بخش دیا۔ ف اس سے معلوم ہوا کہ ایسی چیز راستے میں ڈالنا بری بات ہے۔ بعضی بے تمیز عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ آنگن میں پیڑھی بچھا کر بیٹھتی ہیں آپ تو اٹھ کھڑی ہوئیں اور پیڑھی وہیں چھوڑ دی۔ بعضی دفعہ چلنے والے اس میں الجھ کر گر جاتے ہیں اور منہ ہاتھ ٹوٹتا ہے اسی طرح راستے میں کوئی برتن چھوڑ دینا یا چارپائی یا کوئی لکڑے یا سل بٹہ ڈالنا سب سے برا ہے۔

وعدہ اور امانت پورا کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس کو عہد کا خیال نہیں اس میں دین نہیں۔

کسی پنڈت یا فال کھولنے والے یا ہاتھ دیکھنے والے کے پاس جانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص غبل کی باتیں بتلانے والے کے پاس آئے اور کچھ باتیں پوچھے اور اس کو سچا جان اس شخص کی چالیس دن کی نماز قبول نہ ہو گی۔ ف اسی طرح اگر کسی پر جن بھوت کا شبہ ہو جاتا ہے بعض عورتیں اس جن سے ایسی باتیں پوچھتی ہیں کہ میرے میاں کی نوکری کب لگ جائے گی میرا بیٹا کب آئے گا یہ سب گناہ کی باتیں ہیں۔

کتاب پالنا یا تصویر رکھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے۔ ف یعنی رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ بچوں کے کھلونے جو تصویر دار ہوں وہ بھی منع ہیں۔

بدون لاچاری کے الٹا لیٹنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو پیٹ کے بل لیٹا تھا آپ نے اس کو اپنے پاؤں سے اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس طرح لیٹنے کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتے۔

کچھ دھوپ میں کچھ سائے میں بیٹھنا لیٹنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیٹھنے کو منع فرمایا ہے کہ کچھ دھوپ میں ہو اور کچھ سائے میں۔

بد شگونی اور ٹوٹکا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بد شگونی شرک ہے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ٹوٹکا شرک ہے۔

دنیا کی حرص نہ کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی حرص نہ کرنے سے دل کو بھی چین ہوتا ہے اور بدن کو بھی آرام ملتا ہے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر بہت سی بکریوں میں دو خونی بھیڑیئے چھوڑ دیئے جائیں جو ان کو خوب چیریں پھاڑیں کھائیں تو اتنی بربادی ان بھیڑیوں سے بھی نہیں پہنچتی جتنی بربادی آدمی کے دین کو اس بات سے ہوتی ہے کہ مال کی حرص کرے اور نام چاہے۔

وقت کو غنیمت سمجھنا موت کو یاد رکھنا اور بہت دنوں کے لیے بندوبست نہ سوچنا اور نیک کام کے لیے

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو بہت یاد کیا کرو جب ساری لذتوں کو قطع کر دے گی یعنی موت۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صبح کا وقت تم پر آئے تو شام کے واسطے سوچ بچار مت کیا کرو اور جب شام کا وقت تم پر آئے تو صبح کے واسطے سوچ بچار مت کیا کرو۔ اور بیماری نے سے پہلے اپنی تندرستی سے کچھ فائدہ لے لو اور مرنے سے پہلے اپنی زندگی سے کچھ پھل اٹھا لو۔ ف مطلب یہ کہ تندرستی اور زندگی کو غنیمت سمجھو اور نیک کام میں اس کو لگائے رکھو ورنہ بیماری اور موت میں پھر کچھ نہ ہو سکے گا۔

بلا اور مصیبت میں صبر کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کو جو دکھ مصیبت بیماری رنج پہنچتا ہے یہاں تک کہ کسی فکر میں جو تھوڑی سی پریشانی ہوتی ہے ان سب میں اللہ تعالی اس کے گناہ معاف کرتے ہیں۔

بیمار کو پوچھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بیمار پرسی صبح کے وقت کرے تو شام تک اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعا کرتے ہیں اور اگر شام کو کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے دعا کرتے ہیں۔

مردے کو نہلانا اور کفن دینا اور گھر والوں کی تسلی کرنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص مردے کو غسل دے تو گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ اور جو کسی مردے پر کفن ڈالے تو اللہ تعالی اس کو جنت کا جوڑا پہنائیں گے۔ اور جو کسی غمزدہ کی تسلی کرے اللہ تعالی اس کو پرہیزگاری کا لباس پہنائیں گے اور اس کی روح پر رحمت بھیجیں گے اور جو شخص کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے اللہ تعالی اس کو جنت کے جوڑوں میں سے ایسے قیمتی دو جوڑے پہنائیں گے کہ ساری دنیا میں قیمت میں ان کے برابر نہیں۔

چلا کر اور بیان کر کے رونا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر کے رونے والی عورت پر اور جو سننے میں شریک ہو اس پر لعنت فرمائی ہے۔ ف بیبیو خدا کے واسطے اس کو چھوڑ دو۔

یتیم کا مال کھانا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت میں بعضے آدمی اس طرح قبروں سے اٹھیں گے کہ ان کے منہ سے آگے کے شعلے نکلتے ہوں گے۔ کسی نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہوں گے۔ آپ نے فرمایا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ لوگ اپنے پیٹ میں انگارے بھر رہے ہیں۔ ف ناحق کا مطلب یہ ہے کہ ان کو وہ مال کھانے کا اس میں سے اٹھانے کا شرع سے کوئی حق نہیں۔ بیبیو۔ ڈرو ہندوستان میں ایسا برا دستور ہے کہ جہاں خاوند چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مرا سارے مال پر بیوہ نے قبضہ کیا پھر اسی میں مہمانوں کا خرچ اور مسجدوں کا تیل اور مصلیوں کا کھانا سب کچھ کرتی ہیں۔ حالانکہ اس میں ان یتیموں کا حق ہے اور سارے خرچ ساجھے میں سمجھتی ہیں۔ اور ویسے بھی روز کے خرچ میں اور پھر ان بچوں کے بیاہ شادی میں جس طرح اپنا جی چاہتا ہے خرچ کرتی ہیں۔ شرع سے کوئی مطلب نہیں۔ اس طرح ساجھے کے مال سے خرچ کرنا سخت گناہ ہے۔ ان کا حصہ الگ رکھ دو اور اس میں سے خاص ان ہی کے خرچ میں جو بہت لاچاری کے ہیں اٹھاؤ اور مہمانداری اور خرل خیرات اگر کرنا ہو تو اپنے خاص حصے سے کرو وہ بھی جبکہ شرع کے خلاف نہ ہو نہیں تو اپنے مال سے بھی درست نہیں خوب یاد رکھو نہیں تو مرنے کے ساتھ ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔

قیامت کے دن کا حساب کتاب

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت میں کوئی شخص اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے گا جب تک کہ چار باتیں اس سے نہ پوچھی جائیں گی۔ ایک تو یہ کہ عمر کس چیز میں ختم کی دوسری یہ کہ جانے ہوئے مسئلوں پر کیا عمل کیا۔ تیسری یہ کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں اٹھایا۔ چوتھی یہ کہ اپنے بدن کو کس چیز میں گھٹایا۔ ف مطلب یہ کہ یہ سارے کام شرع کے موافق کیے تھے یا اپنے نفس کے موافق اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت میں سارے حقوق ادا کرنے پڑیں گے۔ یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بے سینگ والی بکری کی خاطر بدلہ لیا جائے گا ف یعنی اگر اس نے ناحق سنگ مار دیا ہو گا۔

بہشت دوزخ کا یاد رکھنا

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ دو چیزیں بہت بری ہیں ان کو مت بھولنا۔ یعنی جنت اور دوزخ۔ پھر یہ فرما کر آپ بہت روئے یہاں تک کہ آنسوؤں سے آپ کی ریش مبارک تر ہو گئی۔ پھر فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے آخرت کی باتیں جو کچھ میں جانتا ہوں تم کو معلوم ہو جائیں تو جنگلوں کو چڑھ جاؤ اور اپنے سر پر خاک ڈالتے پھرو۔ ف بیبیو۔ یہ ایک سو ایک حدیثیں ہیں اور کئی جگہ اس کتاب میں اور حدیثیں  بھی آتی ہیں۔ ہمارے حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو کوئی چالیس حدیثیں  یاد کر کے میری امت کو پہنچائے تو وہ قیامت کے دن عالموں کے ساتھ اٹھے گا۔ تم ہمت کر کے یہ حدیثیں اوروں کو بھی سناتی رہا کرو۔ انشاء اللہ تعالی تم بھی قیامت میں عالموں کے ساتھ اٹھو گی۔ کتنی بڑی نعمت کیسی آسانی سے ملتی ہے۔

پیری مریدی کا بیان

مرید بننے میں کئی فائدے ہیں۔ ایک فائدہ یہ کہ دل کے سنوارنے کے طریقے جو اوپر بیان کیے گئے ہیں ان کے برتاؤ کرنے میں کبھی کم سمجھی سے غلطی ہو جاتی ہے پیر اس کا ٹھیک راستہ بتلا دتا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ کتاب میں پڑھنے سے بعضی دفعہ اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا کہ پیر کے بتلانے سے ہوتا ہے ایک تو اس کی برکت ہوتی ہے پھر یہ بھی خوف ہوتا ہے کہ اگر کوئی نیک کام میں کمی کی یا کوئی بری بات کی پیر سے شرمندگی ہو گی۔ تیسرا فائدہ یہ کہ پیر سے اعتقاد اور محبت ہو جاتی ہے اور یوں جی چاہتا ہے کہ اس کا طریقہ ہے ہم بھی اس کے موافق چلیں چوتھا فائدہ یہ ہے کہ پیر اگر نصیحت کرنے میں سختی یا غصہ کرتا ہے تو ناگوار نہیں ہوتا۔ پھر اس نصیحت پر عمل کرنے کی زیادہ کوشش ہو جاتی ہے۔ اور بھی بعضے فائدے ہیں جن پر اللہ تعالی کا فضل ہوتا ہے ان کو حاصل ہوتے ہیں اور حاصل ہونے ہی سے معلوم ہوتے ہیں۔ اگر مرید ہونے کا ارادہ ہو تو اول پیر میں یہ باتیں دیکھ لو۔ جس میں یہ باتیں نہ ہوں ان سے مرید نہ ہوں۔ ایک یہ کہ وہ پیر دین کے مسئلے جانتا ہو۔ شرع سے ناواقف نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ اس میں کوئی بات خلاف شرع نہ ہو۔ جو عقیدے تم نے اس کتاب کے پہلے حصہ میں پڑھے ہیں ویسے اس کے عقیدے ہوں جو جو مسئلے اور دل کے سنوارنے کے طریقے تم نے اس کتاب میں پڑھے ہیں کوئی بات اس میں ان کے خلاف نہ ہو۔ تیسرے کمانے کھانے کے لیے پیری مریدی نہ کرتا ہو۔ چوتھے کسی ایسے بزرگ کا مرید ہو جس کو اکثر اچھے لوگ بزرگ سمجھتے ہوں۔ پانچویں اس پیر کو بھی اچھے لوگ اچھا کہتے ہوں۔ چھٹے اس کی تعلیم میں یہ اثر ہو کہ دین کی محبت اور شوق پیدا ہو جائے یہ بات اس کے اور مریدوں کا حال دیکھنے سے معلوم ہو جائے گی۔ اگر دس مریدوں میں پانچ چھ مرید بھی اچھے ہوں تو سمجھو کہ یہ پیر تاثیر والا ہے۔ اور ایک آدھ مرید کے برے ہونے سے شبہ مت کرو۔

اور تم نے جو سنا ہو گا کہ بزرگوں میں تاثیر ہوتی ہے وہ تاثیر یہی ہے۔ اور دوسری تاثیروں کو مت دیکھنا کہ وہ جو کہہ دیتے ہیں اسی طرح ہوتا ہے وہ ایک چھو کر دیتے ہیں تو بیماری جاتی رہتی ہے۔ وہ جس کام کے لیے تعویذ دیتے ہیں وہ کام مرضی کے موافق ہو جاتا ہے۔ وہ اسی توجہ دیتے ہیں کہ آدمی لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے۔ ان تاثیروں سے کبھی دھوکا مت کھانا۔ ساتویں اس پیر میں یہ بات ہو کہ دین کی نصیحت کرنے میں مریدوں کا لحاظ ملاحظہ کرتا ہو۔ بیجا بات سے روک دیتا ہو۔ جب کوئی ایسا پیر مل جائے تو اگر تم کنواری ہو تو ماں باپ سے پوچھ کر اور اگر تمہاری شادی ہو گئی ہے تو شوہر سے پوچھ کر اچھی نیت سے یعنی خالص دین کے درست کرنے کی نیت سے مرید ہو جاؤ۔ اور اگر یہ لوگ کسی مصلحت سے اجازت نہ دیں تو مرید ہونا فرض تو ہے نہیں مرید مت بنو۔ البتہ دین کی راہ پر چلنا فرض ہے بدون مرید ہوئے بھی اس راہ پر چلتی رہو۔

اب پیری مریدی کے متعلق بعضی باتوں کی تعلیم کی جاتی ہے

تعلیم پیر کا خوب ادب رکھے۔ اللہ کے نام لینے کا طریقہ وہ جس طرح بتلائے اس کو نباہ کر کرے۔ اس کی نسبت یوں اعتقاد رکھے کہ مجھ کو جتنا فائدہ دل کے درست ہونے کا اس سے پہنچ سکتا ہے اتنا اس زمانے کے کسی بزرگ سے نہیں پہنچ سکتا۔ تعلیم اگر مریدوں کا دل ابھی اچھی طرح نہیں سنوارا تھا کہ پیر کا انتقال ہو گیا تو دوسرے کامل پیر سے جس میں اوپر کی سب باتیں ہوں مرید ہو جائے۔ تعلیم کسی کتاب میں کوئی وظیفہ یا کوئی فقیری کی بات دیکھ کر اپنی عقل سے کچھ نہ کرے پیر سے پوچھ لے۔ اور جو کوئی نئی بات بھلی یا بری دل میں آئے یا کسی بات کا ارادہ پیدا ہو پیر سے دریافت کر لے۔ تعلیم پیر سے بے پردہ نہ ہو اور مرید ہونے کے وقت اس کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دے رومال یا کسی اور کپڑے سے یا خالی زبان سے مریدی درست ہے۔ تعلیم اگر غلطی سے کسی خلاف شرع پیر سے مرید ہو جائے یا پہلے وہ شخص اچھا تھا اب بگڑ گیا تو مریدی توڑ ڈالے اور کسی اچھے بزرگ سے مرید ہو جائے لیکن اگر کوئی ہلکی سی بات کبھی کبھار پیر سے ہو جائے تو یوں سمجھے کہ آخر یہ بھی آدمی ہے فرشتہ تو ہے نہیں۔ اس سے غلطی ہو گئی جو توبہ سے معاف ہو سکتی ہے۔ ذرا ذرا سی بات میں اعتقاد خراب نہ کرے۔ البتہ اگر وہ اس بیجا بات پر جم جائے تو پھر مریدی توڑ دے۔ تعلیم پیر کو یوں سمجھنا گناہ ہے کہ اس کو ہر وقت ہمارا سب حال معلوم ہے۔ تعلیم فقیری کی جو ایسی کتابیں ہیں کہ ان کا ظاہری مطلب خلاف شرع ہے ایسی کتابیں کبھی نہ دیکھے۔ اسی طرح جو شعر اشعار خلاف شرع ہیں ان کو کبھی زبان سے نہ پڑھے۔ تعلیم بعضے فقیر کہا کرتے ہیں کہ شرع کا راستہ اور ہے اور فقیری کا راستہ اور ہے۔ یہ فقیر گمراہ ہیں۔ ان کو جھوٹا سمجھنا فرض ہے۔ تعلیم اگر پیر کوئی بات خلاف شرع بتلائے اس پر عمل درست نہیں۔ اگر وہ اس پر ہٹ کرے تو اس سے مریدی توڑ دے۔

تعلیم اگر اللہ تعالی کا نام لینے کی برکت سے دل میں کوئی اچھی حالت پیدا ہو یا اچھے خواب نظر آئیں یا جاگتے میں کوئی آواز یا روشنی معلوم ہو تو بجز اپنے پیر کے کسی سے ذکر نہ کرے نہ کبھی اپنے وظیفوں اور عبادت کا کسی سے اظہار کرے کیونکہ ظاہر کرنے سے وہ دولت جاتی رہتی ہے۔ تعلیم اگر پیر نے کوئی وظیفہ یا ذکر بتلایا اور کچھ مدت تک اس کا اثر یا مزہ دل پر کچھ معلوم نہ ہوا تو اس سے تنگ دل یا پیر سے بد اعتقاد نہ ہو بلکہ یوں سمجھے کہ بڑا اثر یہی ہے کہ اللہ کا نام لینے کا دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور اس نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اور ایسے اثر کا کبھی دل میں خیال نہ لائے کہ مجھ کو خواب میں بزرگوں کی زیارت ہوا کرے مجھ کو ہونے والی باتیں معلوم ہو جایا کریں۔ مجھ کو خوب رونا آیا کرے۔ مجھ کو عبادت میں ایسی بیہوشی ہو جائے کہ دوسری چیزوں کی خبر ہی نہ رہے کبھی کبھی یہ باتیں بھی ہو جاتی ہیں اور کبھی نہیں ہوتیں اگر ہو جائیں تو خدائے تعالی کا شکر بجا لائے۔ اور اگر وہ ہوں یا ہو کر کم ہو جائیں یا جاتی رہیں تو غم نہ کرے۔ البتہ خدا نہ کرے اگر شرع کی پابندی میں کمی ہونے لگے یا گناہ ہونے لگیں۔ یہ بات البتہ غم کی ہے۔ جلدی ہمت کر کے اپنی حالت درست کرے اور پیر کو اطلاع دے اور وہ جو بتلائیں اس پر عمل کرے۔ تعلیم دوسرے بزرگوں کی یا دوسرے خاندان کی ان میں گستاخی نہ کرے اور نہ جگہ کے مریدوں سے یوں کہے کہ ہمارے پیر تمہارے پیر سے یا ہمارا خاندان تمہارے خاندان سے بڑھ کر ہے ان فضول باتوں سے دل میں اندھیرا پیدا ہوتا ہے۔ تعلیم اگر اپنی کسی پیر بہن پر پیر کی مہربانی زیادہ ہو یا اس کو وظیفہ و ذکر سے زیادہ فائدہ ہو تو اس پر حسد نہ کرے۔

مرید کو بلکہ ہر مسلمان کو اس طرح رات دن رہنا چاہیے

ضرورت کے موافق دین کا علم حاصل کرے خواہ کتاب پڑھ کر یا عالموں سے پوچھ پاچھ کر۔ سب گناہوں سے بچے۔ اگر کوئی گناہ ہو جائے فورا توبہ کرے۔ کسی کا حق نہ رکھے۔ کسی کو زبان سے یا ہاتھ سے تکلیف نہ دے۔ کسی کی برائی نہ کرے۔ مال کی محبت اور نام کی خواہش نہ رکھے نہ بہت اچھے کھانے کپڑے کی فکر میں رہے۔ اگر اس کی خطا پر کوئی ٹوکے تو اپنی بات نہ بنائے فورا اقرار اور توبہ کر لے۔ بدون سخت ضرورت کے سفر نہ کرے۔ سفر میں بہت سی باتیں بے احتیاطی کی ہوتی ہیں۔ بہت سے نیک کام چھوٹ جاتے ہیں۔ وظیفوں میں خلل پڑ جاتا ہے وقت پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ بہت نہ ہنسے بہت نہ بولے۔ خاص کر نا محرم سے بے تکلیفی کی باتیں نہ کرے۔ کسی سے جھگڑا تکرار نہ کرے۔ شرع کا ہر وقت خیال رکھے۔ عبادت میں سستی نہ کرے۔ زیادہ وقت تنہائی میں رہے۔ اگر اوروں سے ملنا جلنا پڑے تو سب سے عاجز ہو کر رہے۔ سب کی خدمت کرے برائی نہ جتلائے۔ اور امیروں سے تو بہت ہی کم ملے۔ بد دین آدمی سے دور بھاگے۔ دوسروں کا عیب نہ ڈھونڈے۔ کسی پر بدگمانی نہ کرے اپنے عیبوں کو دیکھا کرے اور ان کی درستی کیا کرے۔ نماز کو اچھی طرح اچھے وقت دل سے پابندی کے ساتھ ادا کرنے کا بہت خیال رکھے۔ دل یا زبان سے ہر وقت اللہ کی یاد میں رہے کسی وقت غافل نہ ہو۔ اگر اللہ کا نام لینے سے مزہ آئے دل خوش ہو تو اللہ تعالی کا شکر بجا لائے۔ بات نرمی سے کرے۔ سب کاموں کے لیے وقت مقرر کر لے اور پابندی سے اس کو نباہے۔ جو کچھ رنج و غم نقصان پیش آئے اللہ تعالی کی طرف سے جانے پریشان نہ ہو اور یوں سمجھے کہ اس میں مجھ کو ثواب ملے گا۔ ہر وقت دل میں دنیا کا حساب کتاب اور دنیا کے کاموں کا ذکر مذکور نہ رکھے بلکہ خیال بھی اللہ ہی کا رکھے۔ جہاں تک ہو سکے دوسروں کو فائدہ پہنچائے خواہ دنیا کا یا دین کا۔ کھانے پینے میں نہ اتنی کمی کرے کہ کمزور یا بیمار ہو جائے نہ اتنی زیادتی کرے کہ عبادت میں سستی ہونے لگے۔

خدائے تعالی کے سوا کسی سے طمع نہ کرے نہ کسی کی طرف خیال دوڑائے کہ فلانی جگہ سے ہم کو یہ فائدہ ہو جائے۔ خدائے تعالی کی تلاش میں بے چین رہے۔ نعمت تھوڑی ہو یا بہت اس پر شکر بجا لائے اور فقر و فاقہ سے تنگ دل نہ ہو۔ جو اس کی حکومت میں ہیں ان کی خطا و قصور سے درگزر کرے۔ کسی کا عیب معلوم ہو جائے تو اس کو چھپائے۔ البتہ اگر کوئی کسی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور تم کو معلوم ہو جائے تو اس شخص سے کہہ دو۔ مہمانوں اور مسافروں اور غریبوں اور عالموں اور درویشوں کی خدمت کرے۔ نیک صحبت اختیار کرے۔ ہر وقت خدائے تعالی سے ڈرا کرے۔ موت کو یاد رکھے۔ کسی وقت بیٹھ کر روز کے روزے اپنے دن بھر کے کاموں کو سچا کرے جو نیکی یاد آئے اس پر شکر کرے گناہ پر توبہ کرے۔ جھوٹ ہرگز نہ بولے۔ جو محفل خلاف شرع ہو وہاں ہرگز نہ جائے۔ شرم و حیا اور بردباری سے رہے۔ ان باتوں پر مغرور نہ ہو کہ میرے اندر ایسی خوبیاں ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا کیا کرے کہ نیک راہ پر قائم رکھیں۔

قرآن مجید پڑھنے میں دل لگانے کا طریقہ

قاعدہ ہے کہ اگر کوئی کسی سے کہے کہ ہم کو تھوڑا سا قرآن سناؤ دیکھیں کیسا پڑھتی ہو تو اس وقت جہاں تک ہو سکتا ہے خوب بنا کر سنوار کر سنبھال کر پڑھتی ہو اب یوں کیا کرو کہ جب قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو پہلے دل میں یہ سوچ لیا کرو کہ گویا اللہ تعالی نے ہم سے فرمائش کی ہے کہ ہم کو سناؤ کیسا پڑھتی ہو اور یوں سمجھو کہ اللہ تعالی خوب سن رہے ہیں اور یوں خیال کرو کہ جب آدمی کے کہنے سے بناسنوار کر پڑھتے ہیں تو اللہ تعالی کے فرمانے سے جو پڑھتے ہیں اس کو تو خوب ہی سنبھال سنبھال کر پڑھنا چاہیے۔ یہ سب باتیں سوچ کر اب پڑھنا شروع کرو۔ اور جب تک پڑھتی رہو یہی باتیں خیال میں رکھو۔ اور جب پڑھنے میں بگاڑ ہونے لگے یا دل ادھر ادھر بٹنے لگے تو تھوڑی دیر کے لیے پڑھنا موقوف کر کے ان باتوں کے سوچنے کو پھر تازہ کر لو انشاء اللہ تعالی اس طریقے سے صحیح اور صاف بھی پڑھا جائے گا اور دل بھی ادھر متوجہ رہے گا۔ اگر ایک مدت تک اسی طرح پڑھو گی تو پھر آسانی سے دل لگنے لگے گا۔

نماز میں دل لگانے کا طریقہ

اتنی بات یاد رکھو کہ نماز میں کوئی کام پڑھنا بے ارادہ نہ ہو بلکہ ہر بات ارادے اور سوچ سے ہو مثلاً اللہ اکبر کہہ کر جب کھڑی ہو تو ہر لفظ پر یوں سوچو کہ میں اب سبحانک اللہم پڑھ رہی ہوں پھر سوچو کہ اب وبحمد کل کہہ رہی ہوں۔ پھر دھیان کرو کہ اب و تبارک اسمک منہ سے نکل رہا ہے۔ اسی طرح ہر لفظ الگ الگ دھیان اور ارادہ کرو پھر الحمد اور سورت میں یوں ہی کرو پھر رکوع میں اسی طرح ہر دفع سبحان ربی العظیم کو سوچ سوچ کر کہو۔ غرض منہ سے جو نکالو دھیان بھی ادھر رکھو۔ ساری نماز میں یہی طریقہ رکھو انشاء اللہ تعالی اس طرح کرنے سے نماز میں کسی طرف نہ بٹے گا۔ پھر تھوڑے دنوں میں آسانی سے جی لگنے لگے کا اور نماز میں مزہ آئے گا۔

مراقبہ یعنی دل سے خدا کا دھیان رکھنا اور اس کا بیان

دل سے ہر وقت دھیان رکھے کہ اللہ تعالی کو میرے سب حالوں کی خبر ہے ظاہر کی بھی اور دل کی بھی اگر برا کام ہو گا یا برا خیال لایا جائے گا شاید اللہ تعالی دین میں یا آخرت میں سزا دیں دوسرے عبادت کے وقت یہ دھیان جما لے کہ وہ میری عبادت کو دیکھ رہے ہیں اچھی طرح بجا لانا چاہیے۔ طریقہ اس کا یہی ہے کہ کثرت سے ہر وقت یہ سوچا کرے تھوڑے دنوں میں اس کا دھیان بندھ جائے گا پھر انشاء اللہ تعالی اس سے کوئی بات اللہ تعالی کی مرضی کے خلاف نہ ہو گی۔

باتوں کا بیان ہے جن سے دل سنورتا ہے۔ توبہ اور اس کا طریقہ

توبہ ایسی اچھی چیز ہے کہ اس سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جو آدمی اپنی حالت میں غور کرے گا۔ کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی بات گناہ کی ہو جاتی ہے ضرور توبہ کو ہر وقت ضروری سمجھے گا۔ طریقہ اس کے حاصل کرنے کا یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں جو جو عذاب کے ڈراوے گناہوں پر آئے ہیں ان کو یاد کرے اور سوچے اس سے گناہ پر دل دکھے گا۔ اس وقت چاہیے کہ زبان سے بھی توبہ کرے اور جو نماز روزہ وغیرہ قضا ہوا ہو اس کو قضا بھی کرے۔ اگر بندوں کے حقوق ضائع ہوئے ہیں ان سے معاف بھی کرا لے یا ادا کرے اور جو ویسے ہی گناہ ہوں ان پر خوب کڑھے اور رونے کی شکل بنا کر خدائے تعالی سے خوب معافی مانگے۔

خدائے تعالی سے ڈرنا اور اس کا طریقہ

اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ مجھ سے ڈرو۔ اور خوف ایسی اچھی چیز ہے کہ آدمی اس کی بدولت گناہوں سے بچتا ہے۔ طریقہ اس کا وہی ہے جو طریقہ توبہ کا ہے کہ خدائے تعالی کے عذاب کو سچا کرے اور یاد کیا کرے۔

اللہ تعالی سے امید رکھنا اور اس کا طریقہ

اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ تم حق تعالی کی رحمت سے نا امید ہو۔ اور امید ایسی اچھی چیز ہے کہ اس سے نیک کاموں کے لیے دل بڑھتا ہے اور توبہ کرنے کی ہمت ہوتی ہے۔ طریقہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت کو یاد کیا کرے اور سوچا کرے۔

صبر اور اس کا طریقہ

نفس کو دین کی بات پر پابند رکھنا اور دین کے خلاف اس سے کوئی کام نہ ہونے دینا اس کو صبر کہتے ہیں۔ اور اس کے کئی موقعے ہیں۔ ایک موقع یہ ہے کہ آدمی چین امن کی حالت میں ہو۔ خدائے تعالی نے صحت دی ہو۔ مال دولت عزت برو نوکر چاکر مال اولاد گھر بار سازو سامان دیا ہو۔ ایسے وقت کا صبر یہ ہے کہ دماغ خراب نہ ہو۔ خدائے تعالی کو نہ بھول جائے۔ غریبوں کو حقیر نہ سمجھے ان کے ساتھ نرمی اور احسان کرتا رہے دوسرا موقع عبادت کا وقت ہے کہ اس وقت نفس سستی کرتا ہے جیسے نماز کے لیے اٹھنے میں یا نفس کنجوسی کرتا ہے جیسے زکوٰۃ خیرات دینے میں ایسے موقع میں تین طرح کا صبر درکار ہے۔ ایک عبادت سے پہلے کہ نیت درست رکھے۔ اللہ ہی کے واسطے وہ کام کرے نفس کی کوئی غرض نہ ہو۔ دوسرے عبادت کے وقت کہ کم ہمتی نہ ہو جس طرح اس عبادت کا حق ہے اسی طرح ادا کرے۔ تیسرے عبادت کے بعد کہ اس کو کسی کے روبرو ذکر نہ کرے۔ تیسرا موقع گناہ کا وقت ہے۔ اس وقت کا صبر یہ ہے کہ نفس کو گناہ سے روکے۔ چوتھا موقع وہ وقت ہے کہ اس شخص کو کوئی مخلوق تکلیف پہنچائے برا بھلا کہے اس وقت کا صبر یہ ہے کہ بدلہ نہ لے خاموش ہو جائے۔ پانچواں موقع مصیبت اور بیماری اور مال کے نقصان یا کسی عزیز و قریب کے مر جانے کا ہے۔ اس وقت کا صبر یہ ہے کہ زبان سے خلاف شرع کلمہ نہ کہے بیان کر کے نہ روئے۔ طریقہ سب قسم کے صبروں کا یہ ہے کہ ان سب موقعوں کے ثواب کو یاد کرے اور سمجھے کہ یہ سب باتیں میرے فائدے کے واسطے ہیں۔ اور سوچے کہ بے صبری کرنے سے تقدیر تو ٹلتی نہیں۔ ناحق ثواب بھی کیوں کھویا جائے۔

شکر اور اس کا طریقہ

خدائے تعالی کی نعمتوں سے خوش ہو کر خدائے تعالی کی محبت دل میں پیدا ہونا اور اس محبت سے یہ شوق ہونا کہ جب وہ ہم کو ایسی ایسی نعمتیں دیتے ہیں تو ان کی خوب عبادت کرو۔ اور ایسی نعمت دینے والے کی نافرمانی بڑے شرم کی بات ہے۔ یہ خلاصہ ہے سکر کا۔ یہ ظاہر ہے کہ بندے پر ہر وقت اللہ تعالی کی ہزاروں نعمتیں ہیں۔ اگر کوئی مصیبت بھی ہے تو اس میں بھی بندے کا فائدہ ہے تو وہ بھی نعمت ہے۔ جب ہر وقت نعمت ہے تو ہر وقت دل میں یہ خوشی اور محبت رہنا چاہیے کہ کبھی خدائے تعالی کے حکم کے بجا لانے میں کمی نہ کرنی چاہیے۔ طریقہ اس کا یہ ہے کہ خدائے تعالی کی نعمتوں کو یاد کیا کرے اور سوچا کرے۔

خدائے تعالی پر بھروسہ رکھنا اور اس کا طریقہ

یہ ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ بدون خدائے تعالی کے ارادے کے نہ کوئی نفع حاصل ہو سکتا ہے۔ نہ نقصان پہنچ سکتا ہے اس واسطے ضرور ہوا کہ جو کام کرے اپنی تدبیر پر بھروسہ نہ کرے۔ نظر خدائے تعالی پر رکھے اور اسی مخلوق سے زیادہ امید نہ رکھے نہ کسی سے زیادہ ڈرے یہ سمجھ لے بدون خدا کے چاہے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کو بھروسہ اور توکل کہتے ہیں طریقہ اس کا یہی ہے کہ اللہ تعالی کی قدرت اور حکمت کو اور مخلوق کے ناچیز ہونے کو خوب سوچا اور یاد کیا کرے۔

خدائے تعالی سے محبت کرنا اور اس کا طریقہ

اللہ تعالی کی طرف دل کا کھینچنا اور اللہ تعالی کی باتوں کو سن کر اور ان کے کاموں کو دیکھ کر دل کو مزہ نا یہ محبت ہے طریقہ اس کا یہ ہے کہ اللہ کا نام بہت کثرت سے پڑھا کرے اور ان کی خوبیوں کو یاد کیا کرے اور ان کو جو بندے کے ساتھ محبت ہے اس کو سوچا کرے۔

خدائے تعالی کے حکم پر راضی رہنا اور اس کا طریقہ

جب مسلمان کو یہ معلوم ہے کہ خدائے تعالی کی طرف سے جو کچھ ہوتا ہے سب میں بندے کا فائدہ اور ثواب ہے تو ہر بات پر راضی رہنا چاہیے۔ نہ گھبرائے نہ شکایت حکایت کرے۔ طریقہ اس کا اسی بات کا سوچنا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے سب بہتر ہے۔

صدق یعنی سچی نیت اور اس کا طریقہ

دین کا جو کوئی کام کرے اس میں کوئی دنیا کا مطلب نہ ہو نہ تو دکھلاوا ہو نہ ایسا کوئی مطلب ہو جیسے کسی کے پیٹ میں گرانی ہے اس نے کہا لاؤ روزہ رکھ لیں۔ روزے کا روزہ ہو جائے گا اور پیٹ ہلکا ہو جائے گا یا نماز کے وقت پہلے سے وضو ہو مگر گرمی بھی ہے اس لیے وضو تازہ کر لیا کہ وضو بھی تازہ ہو جائے گا اور ہاتھ پاؤں بھی ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ یا کسی سائل کو دیا کہ اس کے تقاضے سے جان بچی اور یہ بلا ٹلی۔ یہ سب باتیں سچی نیت کے خلاف ہیں۔ طریقہ اس کا یہ ہے کہ کام کرنے سے پہلے خوب سوچ لیا کرے اگر کسی ایسی بات کا اس میں میل پائے اس سے دل کو صاف کر لے۔

نیک کام دکھلاوے کے لیے کرنے کی برائی اور اس کا علاج

یہ دکھلاوا کئی طرح کا ہوتا ہے کبھی صاف زبان سے ہوتا ہے کہ ہم نے اتنا قرآن پڑھا۔ ہم رات کو اٹھے تھے کبھی اور باتوں میں ملا ہوتا ہے۔ مثلاً کہیں بدوؤں کا ذکر ہو رہا تھا۔ کسی نے کہا کہ نہیں صاحب یہ سب باتیں غلط ہیں ہمارے ساتھ ایسا ایسا برتاؤ ہوا۔ تو اب بات تو ہوئی اور کچھ لیکن اسی میں یہ بھی سب نے جان لیا کہ انہوں نے حج کیا ہے کبھی کام کرنے سے ہوتا ہے جیسے دکھلاوے کی نیت سے سب کی روبرو تسبیح لے کر بیٹھ گئی یا کبھی کام کے سنوارنے سے ہوتا ہے جیسے کسی کی عادت ہے کہ ہمیشہ قرآن پڑھی ہے مگر چار عورتوں کے سامنے ذرا سنوار سنوار کر پڑھنا شروع کر دیا۔ کبھی صورت شکل سے ہوتا ہے جیسے آنکھیں بند کر کے گردن جھکا کر بیٹھ گئی۔ جس میں دیکھنے والے سمجھیں کہ بڑی اللہ والی ہیں۔ ہر وقت اسی دھیان میں ڈوبی رہتی ہیں۔ رات کو بہت جاگی ہیں۔ نیند سے آنکھیں بند ہوئی جاتی ہیں۔ اسی طرح یہ دکھلاوا اور ابھی کئی طور پر ہوتا ہے اور جس طرح بھی ہو بہت برا ہے۔ قیامت میں ایسے نیک کاموں پر جو دکھلاوے کے لیے ہوں ثواب کے بدلے اور الٹا عذاب دوزخ کا ہو گا۔ علاج اس کا وہی ہے جو کہ نام اور تعریف چاہنے کا علاج ہے جس کو ہم اوپر لکھ چکے ہیں۔ کیونکہ دکھلاوا اسی واسطے ہوتا ہے کہ میر انام ہو اور میری تعریف ہو۔
ضروری بتلانے کے قابل بات
ان بری باتوں کے جو علاج بتلائے گئے ہیں ان کو دو چار بار برت لینے سے کام نہیں چلتا۔ اور یہ برائیاں نہیں دور ہوتیں مثلاً غصے کو دو چار بار روک لیا تو اس سے بیماری کی جڑ نہیں گئی یا ایک آدھ بار غصہ نہ یا تو اس دھوکے میں نہ آئے کہ میرا نفس سنور گیا ہے بلکہ بہت دنوں تک ان علاجوں کو برتے۔ اور جب غفلت ہو جائے افسوس اور رنج کرے اور آگے کو خیال رکھے۔ مدتوں کے بعد انشاء اللہ تعالی ان برائیوں کی جڑ جاتی رہے گی۔
ایک اور ضروری کام کی بات
نفس کے اندر کی جتنی برائیاں ہیں اور ہاتھ پاؤں سے جتنے گناہ ہوتے ہیں ان کے علاج کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ جب نفس سے کوئی شرارت اور برائی یا گناہ کا کام ہو جائے اس کو کچھ سزا دیا کرے۔ اور دو سزائیں آسان ہیں کہ ہر شخص کر سکتا ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ اپنے ذمہ کچھ آنہ دو آنے روپیہ دو روپے جیسی حیثتآ ہو جرمانے کے طور پر ٹھہرا لے۔ جب کبھی کوئی بری بات ہو جایا کرے وہ جرمانہ غریبوں کو بانٹ دیا کرے اگر پھر ہو۔ پھر اسی طرح کرے۔ دوسری سزا یہ ہے کہ ایک دو وقت کھانا نہ کھایا کرے۔ اللہ تعالی سے امید ہے کہ اگر کوئی ان سزاؤں کو نباہ کر برتے انشاء اللہ تعالی سب برائیاں چھوٹ جائیں گی اچھی

اترانے اور اپنے آپ کو اچھا سمجھنے کی برائی اور اس کا علاج

اگر کوئی اپنے آپ کو اچھا سمجھی یا کپڑا زیور پہن کر اترائی اگرچہ دوسروں کو بھی برا اور کم نہ سجھی یہ بات بھی بری ہے حدیث میں آیا ہے کہ یہ خصلت دین کو برباد کرتی ہے اور یہ بھی بات ہے کہ ایسا آدمی اپنے سنوارنے کی فکر نہیں کرتا کیونکہ جب وہ اپنے آپ کو اچھا سمجھتا ہے تو اس کو اپنی برائیاں کبھی نظر نہ آئیں گی۔ علاج اس کا یہ ہے کہ اپنے عیبوں کو سوچا اور دیکھا کرے اور یہ سجھے کہ جو باتیں میرے اندر اچھی ہیں یہ خدائے تعالی کی نعمت ہے میرا کوئی کمال نہیں۔ اور یہ سوچ کر اللہ تعالی کا شکر کیا کرے اور دعا کیا کرے کہ اے اللہ اس نعمت کا زوال نہ ہو

غرور اور شیخی کی برائی اور اس کا علاج

غرور اور شیخی اس کو کہتے ہیں کہ آدمی اپنے کو علم میں یا عبادت میں دیانتداری میں یا حسب و نسب میں یا مال اور سامان میں یا عزت آبرو میں یا عقل میں یا اور کسی بات میں اوروں سے بڑا سمجھے اور دوسروں کو اپنے سے کم اور حقیر جانے یہ بڑا گناہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہ جائے گا اور دنیا میں بھی ایسے لوگ آدمی سے دل میں بہت نفرت کرتے ہیں اور اس کے دشمن ہوتے ہیں اگرچہ ڈر کے مارے ظاہر میں آؤ بھگت کرتے ہیں اور اس میں یہ بھی برائی ہے کہ ایسا شخص کسی کی نصیحت کو نہیں مانتا حق بات کو کسی کے کہنے سے قبول نہیں کرتا بلکہ برا مانتا ہے اور اس نصیحت کرنے والے کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے۔ علاج اس کا یہ ہے کہ اپنی حقیقت میں غور کرے کہ میں مٹی اور ناپاک پانی کی پیدائش ہوں۔ ساری خوبیاں اللہ تعالی کی دی ہوئی ہیں اگر وہ چاہیں ابھی سب لے لیں۔ پھر شیخی کس بات پر کروں اور اللہ تعالی کی بڑائی کو یاد کرے۔ اس وقت اپنی بڑائی نگاہ میں نہ آئے گی اور جس کو اس نے حقیر سمجھا ہے اس کے سامنے عاجزی سے پیش آئے اور اس کی تعظیم کیا کرے شیخی دل سے نکل جائے گی اگر اور زیادہ ہمت نہ ہو تو اپنے ذمے اتنی ہی پابندی کر لے کہ جب کوئی چھوٹے درجے کا آدمی ملے اس کو پہلے خود سلام کر لیا کرے۔ انشاء اللہ تعالی اس سے بھی نفس میں بہت عاجزی جائے گی۔

نام اور تعریف چاہنے کی برائی اور اس کا علاج

جب آدمی کے دل میں اس کی خواہش ہوتی ہے تو دوسرے شخص کے نام اور تعریف سے جلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔ اس کی برائی اوپر سن چکی ہو۔ اور دوسرے شخص کی برائی اور ذلت سن کر جی خوش ہوتا ہے۔ یہ بھی بڑے گناہ کی بات ہے کہ آدمی دوسرے کا برا چاہے۔ اور اس میں یہ بھی برائی ہے کہ کبھی ناجائز طریقوں سے نام پیدا کیا جاتا ہے مثلاً نام کے واسطے شادی وغیرہ خوب مال اڑایا۔ فضول خرچی کی۔ اور وہ مال کبھی رشوت سے جمع کیا کبھی سودی قرض کیا اور یہ سارے گناہ اس نام کی بدولت ہوئے اور دنیا کا نقصان اس میں یہ ہے کہ ایسے شخص کے دشمن اور حاسد بہت ہوتے ہیں اور ہمیشہ اس کو ذلیل اور بدنام کرنے اور اس کو نقصان اور تکلیف پہنچانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں علاج اس کا ایک تو یہ ہے کہ یوں سوچے کہ جن لوگوں کی نگاہ میں ناموری اور تعریف ہو گی نہ وہ رہیں گے نہ میں رہوں گی تھوڑے دنوں کے بعد کوئی پوچھے گا بھی نہیں پھر ایسی بے بنیاد چیز پر خوش ہونا نادانی کی بات ہے۔ دوسرا علاج یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جو شرع کے تو خلاف نہ ہو مگر یہ لوگوں کی نظر میں ذلیل اور بدنام ہو جائے۔ مثلاً گھر کی بچی ہوئی باسی روٹیاں غریبوں کے ہاتھ سستی بیچنے لگے اس سے خوب رسوائی ہو گی۔

کنجوسی کی برائی اور اس کا علاج

بہت سے حق جن کا ادا کرنا فرض اور واجب ہے جیسے زکوٰۃ قربانی کسی محتاج کی مدد کرنا اپنے غریب رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا کنجوسی میں یہ حق ادا نہیں ہوتے۔ اس کا گناہ ہوتا ہے یہ تو دین کا نقصان ہے۔ اور کنجوس آدمی سب کی نگاہوں میں ذلیل و بے قدر رہتا ہے یہ دنیا کا نقصان ہے اس سے زیادہ کیا برائی ہو گی۔ علاج اس کا ایک تو یہ ہے کہ مال اور دنیا کی محبت دل سے نکالے۔ جب اس کی محبت نہ رہے گی کنجوسی کسی طرح ہو ہی نہیں سکتی دوسرا علاج یہ ہے کہ جو چیز اپنی ضرورت سے زیادہ ہو اپنی طبیعت پر زور ڈال کر اس کو کسی کو دے ڈالا کرے۔ اگرچہ نفس کو تکلیف ہو مگر ہمت کر کے اس تکلیف کو سہار لے۔ جب تک کہ کنجوسی کا اثر بالکل دل سے نہ نکل جائے یوں ہی کیا جائے۔