ملفوظ 4: اپنی فکر کرنی چاہئے

ایک صاحب نے کوئی مسئلہ پیش کر کے عرض کیا کہ فلاں صاحب نے یہ دریافت کیا
ہے ان کی حالت کے مناسب فرمایا کہ خود آپ کو جو ضرورت ہو اس کو معلوم کیجئے دوسروں کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہئے بڑی ضرورت اس کی ہے کہ ہر شخص اپنی فکر میں لگے اور اپنے اعمال
کی احلاح کرے آج کل یہ مرض عام ہو گیا ہے عوام میں بھی اور خواص میں بھی کہ دوسروں کی تو
اصلاح کی فکر ہے اپنی خبر نہیں ـ میرے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا دوسروں کی جوتیوں
حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ـ واقعی بڑے کام کی بات فرمائی ـ

ملفوظ3: اپنی جماعت کے ساتھ لگے رہنے میں فائدہ ہے

صبح کی دس بجے والی گاڑی سے چند حضرات تشریف لاۓ منجملہ اور حضرات کے حافظ عبدالطیف صاحب ناظم مظاہر علوم بھی تھے – حافظ صاحب سے بابو ولی محمد صاحب کا ذکر آیا
حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ بابو صاحب کہاں پر ہیں عرض کیا کہ رنگوں گئے ہوۓ ہیں فرمایا
کہ اس سے بڑا جی خوش ہوا کہ ان کا تعلق مدرسہ ہی سے رہا ـ میں بھی کام کے آدمی اس عمر میں علم
دین کا حاصل کرنا ہمت کی بات ہے ـ میں چاہتا ہوں کہ اب ان کو بابو نہ کہوں مگر اور
پتہ صحیح سمجھ میں نہ آنے کے خیال سے کہنا ہی پڑتا ہےـ بطور مزاح فرمایا کہ علم دین حاصل کر کے بھی
بابو ہی رہے ـ مدرسہ سے ان کا تعلق رہنا یہ بھی خدا کی بڑی رحمت ہے اس لۓ کہ جماعت سے
جدا ہو کر وہ حالت ہی نہیں رہتی ـ یہ سب ملے جلے رہنے کی برکت ہوتی ہے کہ اپنے کام میں
لگا رہتا ہے اور اسی میں عافیت ہے بڑوں کیلۓ بھی اور چھوٹوں کو ضرورت
ہے کہ بڑوں کی صحبت ہو ـ اسی طرح بڑوں کو ضرورت ہے کہ چھوٹوں کی صحبت ہو ـ اس( کہ اپنی
جماعت سے جدا ہو کر وہ حالت نہیں رہتی ) یاد آیا کہ ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب ؒ
فرمایا کرتے تھے کہ بھائی ہماری مثال روڑ کی گودام کے کاریگروں جیسی ہے جب تک
گودام کے اندر ہیں سب کچھ ہیں اور جہاں گودام سے باہر ہوئے نہ مستری مستری ہیں اور نہ
کاریگر ہیں اسلئے کہ وہاں کام تو مشینیں کرتی ہیں اور وہ محض چلانے والے ہیں اس لئے جب اس
احاطہ سے باہر ہوئے کچھ بھی نہ رہے سب کاریگری ختم ! اسی طرح جب تک ہم اپنی جگہ پر ہیں
سب کچھ ہیں کام بھی سب ہو رہے ہیں درس وتدریس بھی ہے تہجد بھی ہے ذکر و شغل بھی ہے ـ
غرضیکہ سب ہی کچھ ہے باہر نکل کر کچھ بھی نہیں رہتا یہ منتہا ہے ہمارے کمالات کا ـ واقعی حضرت
مولانا بہت ہی وسیع النظر تھے بڑے محقق تھے کیسی کام کی بات فرمائی ـ میں تو اس کو بہت ہی
بڑا فضل خدا وندی سمجھتا ہوں کہ جس کو اپنوں کی معیت نصیب ہو جائے ورنہ یہ زمانہ بہت ہی پر فتن
ہے دوسری جگہ جا کر وہ حالت رہتی ہی نہیں اکثر تجربہ ہو رہا ہے ـ

ملفوظ 2: مجلس خاص کے انتظام کی رعایت :

احقر جامع سے حضرت والا نے فرمایا ان حضرات کے نام جو مجلس خاص میں شریک
کۓ جائیں گے درج فہرست کر لۓ جائیں پھر ان حضرات کے نام فرماۓ جو حضرات اس وقت
خانقاہ میں موجود تھے ان کے نام لکھوا دینے کے بعد فرما یا کہ بعض حضرات فلاں فلاں آنے والے
ہیں ان کے آ جانے پر ان کے نام بھی درج فہرست کر لۓ جائیں اور روزانہ نو ساڑھےنو بجے صبح کو
جب میں کہوں ان حضرات کو اطلاع کر دی جایا کرے اس میں یہ سہولت ہو گی کہ سب کے روزانہ
نام الگ الگ لے کر نہ کہنا پڑیگا ورنہ یہ خود ایک مستقل کام ہو جائیگا

ملفوظ 1: صبح کی مجلس خاص کا اجراء

بسم اللہ الرحمن الرحیم
فرمایا ! کہ صبح کو مجلس عام کی وجہ سے بے حد تعب ہوتا ہے جس کی برداشت نہیں ـ (اس
کے قبل صبح کو بھی مجلس عام ہوتی تھی ) اس لئے آج یہ سوچا ہے کہ بجائے مجلس عام کے صبح کو مجلس
خاص کردی جائے اور صورت اس کی یہ ذہن میں آئی ہے کہ جو لوگ خاص خاص ہیں جن میں اکثر
اہل علم ہیں وہ اگر آکر بیٹھا کریں تو اس سے مجھ پر کوئی تعب نہ ہوگا اس کی دو وجہ ہیں ایک تو یہ کہ مجمع
کم ہوگا ـ جب جی چاہے گا مجلس کو ختم کر دیا جائیگا ـ مجمع زائد نہ ہونے کی وجہ سے ختم کر دینے میں
کوئی گرانی بھی نہ ہو گی ـ دوسرے یہ کہ جب مجلس عام نہ ہوگی تو جس روز طبیعت صاف نہ ہوگی یا
جی نہ چاہے گا بالکل ہی موقوف رکھی جائے گی اور اس کی اطلاع اس روز کردی جایا کرے گی اور کبھی
کبھی عام بھی کردی جایا کرے گی جب کہ طبیعت اچھی ہو آج کل طبیعت بھی خاص نہیں کھانسی کی
وجہ سے تکلیف ہے اب ضرورت اس کی ہے کہ اس کا کوئی معیار ایا اصطلاح ہونی چاہیے جس سے
یہ معلوم ہوکہ اس وقت مجلس عام ہے یا مجلس خاص ـ اس کی صورت یہ سمجھ میں آئی ہے ( اور احقر صغیر
احمد کی طرف حضرت والا نے مخاطب ہو کر فرمایا ) کہ ان حضرات کے نام کی ایک فہرست بنالی
جائے جو مجلس خاص میں شرکت کیا کریں گے ان کے نام میں بتا دوں گا جب میں کہوں ان کو
اطلاع کردی جائے اور مجلس عام کی اطلاع حافظ اعجاز کے ذریعہ سے ہوا کرے گی جس کی صورتیہ ہو گی کہ وہ لوگ حافظ اعجاز سے معلوم کرلیا کریں کہ تم کو اطلاع دی گئی ہے یا نہیں ـ اگر وہ کہیں کہ
دی گئی ہے تب تو آ جائیں اگر وہ کہیں نہیں دی گئی نہ آئیں یہ انتظام اس وجہ سے ہے کہ کبھی بعض
حضرات قیاس مع الفاروق پر عمل فرمائیں ـ دوسروں کو بیٹھے دیکھ کر آکر بیٹھنا شروع کر دیں ـ
میں سچ عرض کرتا ہوں مجھ کو اس کا بھی خیال ہے کہ لوگ محبت کی وجہ سے آتے ہیں
سب کے ساتھ برتاؤ میں مساوات رہے مگر جو بات قوت سے باہر ہے اس کا کس طرح تحمل کروں ـ
اگر کوئی اس عدم مساوات پر برا مانے مانا کرے مجھ کو اس کی برواہ نہیں ـ مولوی محمد حسن صاحب
امر تسری عرض نے کیا کہ ہم لوگوں کو تو بہت وقت مجالست کیلئے دیا جاتا ہے جو حضرت والا کی شفقت
اور محبت پر مبنی ہے اگر یہ حکم دیا جائے کہ سال بھر تک دروازہ پر کھڑے رہو ایک سال کے بعد
ملاقات کی اجازت ہوگی اس پر بھی ہم لوگوں کی خوش قسمتی ہے اور حضرت والا کا احسان ہے ـ
فرمایا یہ آپ کی محبت کی بات ہے میں تو خود ہی اس قسم کی رعایت اور اس کے دقائق
پیش نظر رکھتا ہوں ہاں اس کو ضرور جی چاہتا ہے کہ خدمت بھی ہوتی رہے اور کچھ وقت آرام کا بھی
ملے اور مجلس عام کی صورت میں آرام نہیں مل سکتا ـ وجہ یہ ہے کہ اگر کسی وقت اٹھ جانے کو جی چاہے
مجمع کی رعایت سے نہیں اٹھ سکتا ـ
نیز بعض مرتبہ مجمع کثیر ہونے کی وجہ سے تقریر میں آواز بلند ہو جاتی ہے اور یہ امر طبعی ہے
جی چاہتا ہے کہ سب سنیں جس کا اثر دیر تک دماغ پر رہتا ہے یہ بھی ایک تکلیف ہے باقی محکوم بن
کر رہنے کو تو جی گوارا نہیں کرتا ـ ظہر کے بعد کا وقت عصر تک بھی مجلس کے لئے کچھ کم نہیں کافی وقت
ہے ـ فرمایا کہ مولوی صاحب ! یہاں پر شروع میں جس وقت آئے تھے اس وقت سے یہ صبح کی مجلس
کی رسم قائم ہو گئی ان کی رعایت دو وجہ سے تھی ایک تو یہ کہ ان کا تعلق مولوی صاحب سے ہے یہ خیال
ہوا کہ مولوی صاحب کہیں یہ خیال نہ کریں کہ ہمارے آدمی کے ساتھ بے التفاتی کا برتاؤ کیا دوسرے
ان کو خود بھی مجھ سے محبت اور تعلق ہے اور مجھے تو بحمداللہ سب ہی کا خیال ہے مگر اب ضعف کے سبب
تحمل نہیں ـ اس کا میرے پاس کیا علاج ہے فرمایا پیشتر رمضان المبارک میں یہ معمول تھا کہ حالاتکا پرچہ بکس میں جو کہ مدرسہ میں لگا ہے ڈالنے کی عام اجازت تھی ـ مگر اب تجربہ سے معلوم ہوا کہ جن
کو قلت مناسبت ہوتی ہے ان کے پرچوں سے بھی اذیت پہنچتی ہے – اس لۓ اس مرتبہ یہ سمجھ
میں آیا کہ جس پر کچھ روز سے عملدرآمد بھی ہے کہ ایسے لوگ پرچہ بھی نہ ڈالا کریں-مخاطبت مکاتبت
دونوں بند رہیں بلکہ چند روز خاموش مجلس میں بیٹھے رہیں اور جس وقت مناسبت پیدا ہو جاۓ اس
وقت اس قسم کا سلسلہ زبانی یا تحریری اختیار کریں تو مضائقہ نہیں مگر پیشتر مناسبت پیدا کر لیں جس پر نفع
کا انحصار ہے اس صورت میں کام بھی ہوجاۓ گا اورکلفت بھی طرفین میں سے کسی کو نہ ہو گی- ایک
حکمت یہ بھی ہے کہ کام بھی کم ہو جائیگا اب زیادہ کام کی برداشت بھی نہیں ضرورت کے لحاظ سے
اور بہت سے تجربوں کے بعد یہاں پر قواعد مرتب ہوتے ہیں ان قواعد سے طرفین کی راحت رسانی
مقصود ہوتی ہے خدانخواستہ حکومت تھوڑا ہی مقصود ہے اور جیسا مجھے دوسروں کی اصلاح کا اہتمام ہے
اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے اپنی اصلاح کا بھی خاص اہتمام ہے اور صاحب کون بے فکر ہو سکتا ہے
کس کو خبر ہے کہ آخرت میں میرے ساتھ کیا معاملہ ہوگا –

پیش لفظ

مژ دہ اے دل کہ مسیحا نفسے می آید ٭ کہ از انفاس خوشش بوئے کسے می آید
للہ الحمد ہر آں چیز کد خاطر میخو است ٭ آمد آخر ز پس پردہ تقدیر پدید
تمھید
مژ دہ جانفزائے فیض جدید ٭ یعنی در شہر صوم عود العید
الا یا ایھا الطلاب طوبی ٭ فعود العید مستطاب
جز وے از حسن العزیز
حمدو صلٰوۃ کے بعد عرض ہے کہ حضرت حکیم الامت مجدد الملت قطب الارشاد سلطان
المشائخ اشرف العماء مولانا شاہ محمد اشرف علی صاحب متعنا اللہ بطول حیاتہ وافاض علینا من شآ بیب
برکاتہ کے یومیہ افاضات وکلمہ طیبات یعنی ملفوظات پیشتر باوجود کسی مستقل انتظام نہ ہونے کے وقتا
فوقتا کوئی نہ کوئی ضبط کرتا رہتا تھا اور وہ بہ عنوان ،، حسن العزیز ،، شائع ہوتے رہتے تھے لیکن ایک
عرصہ سے یہ سلسلہ اتفاقا بوجہ نہ ہونے کسی ضابطہ کے بند تھا جس کے سخت قلق تھا ـ بالخصوص جب کہ
حضرت اقد س نے کچھ عرصہ سے بوجہ بعض عذرات و عظ فرمانا بھی تقریبا موقوف ہی فرما دیا ہے
الانا درا اور اس کے بجائے صرج ملفوظات ہی پر اکتفا فرماتے ہیں جو حسب ارشاد ممدوح بوجہ انطباق علی الحالات الجزئیہ انفع واوقع (بوجہ شخصی اور جزی حالات کے مطابق ہونے کے زیادہ نافع
اور قابل فہم ہوتے ہیں 12)النفس ہوتے ہیں ـ ادھر تصنیفات کا سلسلہ بھی بوجہ کثرت خطوط
ونظر اصلاحی مواعظ وغیرہ وہجوم طالبین وضعف قوی برائے نام رہ گیا ہے نظر بہ حالات موجودہ اس
کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ ضبط ملفوظات کا کوئی مستقل انتظام کیا جائے ـ کہ اب یہ ہی
ایک صورت افاضہ عام کی باقی رہ گئی ہے ـ چناچہ حسن اتفاق سے ایک موقع خاص پر چند احباب
خاص کا خانقاہ شریف میں اجتماع ہوا اور اس ضرورت شدیدہ کا تذکرہ ہو کر آپس میں ماہوار چندہ ہوا
اور ایک صاحب کو جو ثقہ اور باسلیقہ ہیں ـ ملفوظات کیلئے مقرر کر دیا گیا جنہوں نے محض از راہ خلوص
اپنی شان کے خلاف فی الحال بہت قلیل معاوضہ پر قناعت فرما کر اس خدمت کو رمضان المبارک
1350ھ سے اپنے ذمہ لے لیا فجزا ھم اللہ خیرالجزاء
از عنایات قاضی حاجات ٭ باز شد انتظام ملفوظات
کرد حق بحر فیض باز رواں ٭ اے خوشا عود عید در رمضان
چونکہ مخلص افراد کے ماہوار چندہ سے ان افاضات یومیہ کے ضبط کا انتظام ہوا ہے اس رعایت سے اس مجموعہ کا نام ،، الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ ،، تجویذ کیا گیا جس کے
اجزاء انشاءاللہ تعالی مثل دیگر مسودات ضبط شدہ بعد نظر اصلاحی حضرت اقد س وقتا فوقتا حسب موقع
شائع ہوتے رہیں گے ـ اللہ تعالی کا مزید احسان یہ ہے کہ ساتھ کے ساتھ ان افاضات روزانہ کی
اشاعت ماہانہ کا بھی انتظام رسالہ النور میں شروع ہو گیا ہے جس کے ذریعہ سے تازہ بہ تازہ
ملفوظات ہدیہ مشتاقین ہوتے رہیں گے جن سے انشاء اللہ تعالی غائبین کو حضوری کا حاضرین مجلس
کو جو بالمشافہ بھی سن چکے ہیں ـ قند مکرر کا لطف ہوگا ـ اگر خصوصیت کسی مضمون کی مقتضی ہوئی
تو کچھ ملفوظات صاحب موصوف کے پاس سابق کے لکھے ہوئے بھی موجود ہیں وہ بھی اسی سلسلہ
میں شائع کر دیے جائیں گے اور بغرض امتیاز ان کے آخر میں لفظ قدیم بین القوسین بڑھا دیا جائے
گا ـ اب آخر میں دعا ہے کہ حق تعالی جل شانہ و عم نوالہ ،اس سلسلہ خیر کو مدت مدید تک جاری اور اس
کے منافع و برکات کو قلوب طالبین میں ساری رکھے آمین ثم آمین ـ
المفتقر الی رحمتہ اللہ الصمد الاحقر حافظ جلیل احمد رئیس علی گڑھ
خازن چندہ ملفوظات ، مقیم خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون ضلع مظفر نگر نصف شوال 1350ھ

نوٹ 1 : پہلے افاضات یومیہ کے سات حصے تھے جو کسی مصلحت کی بنا پر نہ ہوئے تھے بلکہ بعض
مجبوریوں کی وجہ سے ہو گئے تھے اسی لئے ان کی ضخامت میں بہت فرق تھا چونکہ یہ حصوں کی تقسیم
حضرت کی تجویز کردہ نہ تھی میری ہی کی ہوئی تھی اس لئے اب میں نے اس کل مجموعے کے د س حصے
کرکے سب کی یکساں ضخامت کردی ہے تاکہ ناظرین کو مطالعہ میں سہولت ہو ـ شبیر علی
نوٹ 2: اس مرتبہ فارسی اشعار اور عربی عبارت کا جو ترجمہ کیا گیا ہے وہ لفظی ترجمہ نہیں ہے بلکہ
حاصل ترجمہ ہے اور آیات قرآنیہ کا ترجمہ تفسیر بیان القرآن سے نقل کیا گیا ہے ـ
27 شعبان المعظم 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنجشنبہ

جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ والصلوۃ والسلام کے پیارے اور پاکیزہ شمائل اور آپ کی عادتوں کا بیان

بیہقی نے حضرت براء بن عازب سے روایت کی ہے کہ آپ سب سے زیادہ حسین تھے اور سب سے زیادہ خوش خلق تھے اور نہ بہت لمبے تھے نہ پستہ قد تھے۔ ابن سعد نے اسمعیل بن عیاش سے بطریق صحیح مرسل روایت کیا ہے کہ آپ سب سے زیادہ لوگوں کی ایذا پر صبر فرماتے تھے ترمذی نے ہند بن ابی ہالہ سے ایک بڑی حدیث بسند حسن آپ کے شمائل میں روایت کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ آپ جب چلنے کے لیے پاؤں اٹھاتے تو قوت سے پاؤں اکھڑتا تھا اور قدم اس طرح رکھتے کہ آگے کو جھک پڑتا اور تواضع کے ساتھ قدم بڑھا کر چلتے چلنے میں گویا کسی بلندی سے پستی میں اتر رہے ہیں جب کسی کروٹ کی طرف کی چیز کو دیکھنا چاہتے تو پورے پھر کر دیکھتے یعنی کن انکھیوں سے دیکھنے کی عادت نہ تھی نگاہ نیچی رکھتے زمین کی طرف آپ کی نظر بہت زیادہ رہتی تھی بہ نسبت آسمان کے اور صحابہ کے پیچھے آپ چلا کرتے تھے عموماً عادت آپ کی کن انکھیوں سے دیکھنے کی تھی مطلب یہ ہے غایت حیا سے پورا سرا ٹھا کر نگاہ بھر کر نہ دیکھتے تھے جو آپ کو ملتا تھا پہلے آپ ہی اس کو سلام کرتے تھے ابوداود نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ آپ کے کلام میں ترتیل ہوتی تھی یعنی آپ ٹھیر ٹھیر کر بات چیت فرماتے تھے تاکہ مخاطب اچھی طرح سمجھ لے لیکن نہ اس قدر ٹھیر ٹھیر کر جس سے مخاطب گھبرا جائے اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ ایک بات کو تین بار فرمایا کرتے تھے غرض یہ ہے کہ آپ کلام کو نہایت عمدہ طریق سے ادا فرماتے تھے جیسا موقع ہوتا تھا اس کا لحاظ فرماتے تھے بعضے مخاطب خوش فہم اور جلدی سمجھنے والے ہوتے ہیں وہاں پر ایک بات کو چند بار لوٹانا نا مناسب ہے اور بعضے مخاطب دیر میں بات کو سمجھتے ہیں ان کو کئی بار سنانا مناسب ہے اور جہاں ہر قسم کے لوگ ہوں وہاں تین بار بات کو لوٹانا مناسب ہے اس لیے کہ بعضے اعلی درجہ کے فہیم ہوتے ہیں اور اول ہی دفعہ سمجھ لیں گے اور بعض اوسط درجہ کی سمجھ رکھتے ہیں وہ دو بار میں سمجھ لیں۔

گے اور بعضے غبی ہوتے ہیں وہ تین بار میں بخوبی سمجھ لیں گے اور اگر کہیں اس مقدار سے بھی زیادہ حاجت ہو تو خوش اخلاقی کی بات یہ ہے کہ اس سے بھی دریغ نہ کرے خوب سمجھ لو اصل تو یہ ہے کہ خوش اخلاقی اور قواعد کی پابندی کا اعلی مرتبہ جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا تھا نہ کسی کو پہلے میسر ہوا اور نہ آئندہ میسر ہو گا اور باوجود قواعد انتظامیہ کی پابندی کے خوش اخلاقی کا برتاؤ بہت بڑا کمال ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارک تھی کہ آپ اس کام میں جس کو خود انجام دیتے تھے۔ خوب اچھی طرح قواعد کی پابندی فرماتے تھے اور دوسروں سے جو ان امور میں غلطی اور کوتاہی ہوتی تھی تو زجر نہ فرماتے ہاں ان کی اصلاح کی غرض سے باقاعدہ اور نرمی سے نصیحت فرما دیتے تھے یہی طریقہ متبعین سنت کو اختیار کرنا چاہیے کہ قواعد انتظامیہ کی پابندی اور خوش اخلاقی کی عادت اختیار کریں اور دوسروں کو بھی رغبت دلا دیں مگر محض اپنے نفس و غضب کی شفاء کے لیے دوسروں کی کوتاہی کی گرفت نہ کریں ہاں ان کی اصلاح کی غرض سے اگر ضرورت ہو تو سختی بھی محمود ہے خوب سمجھ لو

ابوداود نے حضرت عائشہ سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام جدا جدا ہوتا تھا جو شخص ا سکو سنتا سمجھ لیتا بیہقی نے حضرت عائشہ سے بسند حسن روایت کی ہے کہ جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام بری عادتوں سے زیادہ جھوٹ ناگوار ہوتا تھا بیہقی اور ابوداؤد اور نسائی نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ آپ کو سب کپڑوں میں بہت محبوب یمنی چادر تھی جس میں کئی رنگ ہوتے ہیں اور عزیزی نے ابن رسلان سے اس کپڑے کے پسندیدہ ہونے میں یہ حکمت نقل کی ہے کہ وہ بہت زینت کا کپڑا نہیں ہے یعنی سادہ ہوتا ہے اور وہ میلا بھی کم ہوتا ہے۔ سبحان اللہ کیا شان مبارک تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ اپنی ذات مقدسہ کو دنیا میں مسافر سمجھتے تھے نہ دنیا کی رونق سے تعلق تھا نہ اس کر مزخرفات کی طرف توجہ تھی مسلمانو تم کو بھی یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ بقدر ضرورت ایسے کپڑے پہن لیا کرو جس سے ستر ڈھک جائے اور جو سادے ہوں اور میلے کم ہوں تاکہ ان کی زینت خدائے تعالی کی طرف توجہ رکھنے سے مانع ہو اور جلدی صاف کرنے کی حاجت نہ ہو کہ اس میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے اور بعضی روایتوں میں سفید کپڑوں کی بھی تعریف آتی ہے بخاری اور ابن ماجہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ عبادت زادہ محبوب تھی جو ہمیشہ ادا ہو سکے یعنی نوافل وغیرہ اس قدر پڑھنے چاہئیں جن کو نباہ سکے یہ نہیں کہ ایک دن تو سب کچھ کر لیا اور دوسرے دن کچھ بھی نہیں تھوڑی عبادت جو ہمیشہ ہو سکے وہ اس سے بہتر ہے کہ بہت عبادت کی جائے مگر کبھی ہو اور کبھی ناغہ ہو جائے جیسا کہ بسند صحیح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہوا ہے (السنی) وغیرہ نے مرسلا بسند حسن لغیرہ مجاہد سے روایت کی ہے کہ آپ کو بکری کے گوشت میں اس کا اگلا حصہ زیادہ پسند تھا۔

حاکم وغیرہ نے بسند حسن لغیرہ حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ پینے کی چیزوں میں آپ کو ٹھنڈا اور میٹھا پانی زیادہ محبوب تھا ابو نعیم نے حضرت ابن عباس سے بسند حسن لغیرہ روایت کی ہے کہ آپ کو پینے کی چیزوں میں دودھ بہت زیادہ پسند تھا ابن السنی اور ابو نعیم نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ آپ کو شہد کا شربت پینے کی چیزوں میں بہت زیادہ محبوب تھا۔ ابو نعیم نے حضرت ابن عباس سے بسند حسن لغیرہ روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تمام سالن سے زیادہ سرکہ محبوب تھا مسلم نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ آپ کو پسینہ زیادہ آتا تھا اور عزیزی میں ہے کہ حضرت ام سلیم جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ کو اکٹھا کر لیتی تھیں اور دوسری خوشبو میں ملا لیتی تھیں کیونکہ وہ خوشبو دار ہوتا تھا اور یہ روایت مسلم میں ہے حضرت جابر سے مسلم نے روایت کی ہے کہ آپ کی ڈاڑھی مبارک کے بال زیادہ تھے۔ ابن عدی وغیرہ نے حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ میوہ جات میں آپ کو خرمائے تر اور خرپزہ زیادہ محبوب تھا۔

ابو نعیم نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ آپ کو شانہ کا گوشت اور جگہ کے گوشت سے زیادہ محبوب تھا امام احمد اور نسائی نے بسند صحیح حضرت ابو واقد سے روایت کی ہے کہ جب آپ امام ہوتے تھے تو نماز بہت مختصر پڑھتے تھے اور جب تنہا نماز پڑھتے تھے تو بہت طویل پڑھتے تھے آپ مقتدیوں کے ساتھ اس لیے مختصر نماز پڑھتے تھے کہ ان کو تکلیف نہ ہو اور تنہا اس لیے تطویل فرماتے تھے کہ نماز آپ کی آنکھ کی ٹھنڈک تھی اس میں آپ کو چین ہوتا تھا اور اس سے بڑھ کر کیا چین ہو گا کہ محبوب حقیقی کے سامنے عاجزانہ کھڑا ہو کر اس سے التجا کرے اور اس اختصار اور تطویل کی مقدار اور حدیثوں میں بہ تفصیل وارد ہوئی ہے امام احمد اور ابوداود نے بسند حسن حضرت عبداللہ بن بسر سے روایت کی ہے کہ جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر تشریف لے جاتے تو دروازے کے سامنے نہ کھڑے ہوتے بلکہ اس کے داہنے ستون کے سامنے کھڑے ہوتے یا بائیں ستون کے سامنے کھڑے ہوتے اور فرماتے السلام علیکم یہ طریقہ سنت ہے کہ کہیں جائے تو دروازے کے مقابل نہ کھڑا ہو داہنے یا بائیں جانب کھڑا ہو اس لیے کہ اس طرح کھڑے ہونے میں کسی کی بے پردگی کا اندیشہ نہیں ہے ہاں اگر دروازہ بند ہو تو دروازے کے سامنے کھڑا ہونا بھی مضائقہ نہیں اور گھر والے کو اپنے آنے کی اطلاع اس طرح سے کہے کہ السلام علیکم کہے اگر وہ پہلی بار نہ سنے تو دوبارہ پھر یہی کہے خوب سمجھ لو۔

ابن سعد نے طبقات میں حضرت عکرمہ سے مرسلا روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ جب آپ کے پاس کوئی شخص آتا اور آپ اس کے چہرے پر بحالی اور خوشی دیکھتے تو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتے غرض یہ تھی کہ اس کو آپ کے ساتھ انسیت حاصل ہو ابن مندہ نے عتبہ سے روایت کی ہے کہ جب آنحضرت کے پاس کوئی شخص آتا تھا اور اس کا نام ایسا ہوتا تھا جو آپ کو محبوب نہ ہوتا تو اس نام کو بدل دیتے تھے۔ امام احمد وغیرہ نے روایت کی ہے کہ جب آپ کے پاس کوئی اپنے مال کی زکوٰۃ لاتا تھا تاکہ آپ اس کو موقع پر صرف کر دیں تو آپ فرماتے تھے اے اللہ فلاں شخص پر رحمت فرما ہم کو بھی یہ طریقہ برتنا چاہیے کہ جب کوئی ہمارے ذریعہ سے صدقات تقسیم کرائے یا کسی چندہ میں روپیہ دلائے تو ہم اس کو یہی دعا دیں حاکم نے حضرت عائشہ سے بسند حسن روایت کی ہے کہ جب آنحضرت کو کوئی خوشی پیش آتی تھی تو فرماتے تھے الحمد للہ الذی بنعمۃ تتم الصالحات اور جب ناگواری پیش آتی تو فرماتے الحمدللہ علی کل حال۔ امام احمد اور ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ جب لونڈی غلام جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں جہاد میں آتے تھے تو آپ سب گھر والوں کو بانٹ دیتے تاکہ ان گھر والوں میں باہم تفریق نہ ہو جائے یعنی اگر کسی کو ملے اور کسی کو نہ ملے تو اندیشہ ہے کہ ان لوگوں میں باہم رنجش پیدا ہو جائے یہی طریق ہم لوگوں کو اختیار کرنا چاہیے کہ جب کوئی چیز تقسیم کریں تو ہر موقع پر اس کا خیال رکھیں کہ ایسا طریق اختیار نہ کریں جس سے باہم لوگوں میں رنجش پیدا ہو اور کوئی مفسدہ پیدا ہو خواہ برادری میں تقسیم کی جائے یا اہل و عیال میں یا شاگردوں و مریدوں میں۔

خطیب نے حضرت عائشہ سے بسند ضعیف روایت کی ہے کہ جب آنحضرت کے پاس کھانا لایا جاتا تھا اور دوسرے لوگ بھی آپ کے ساتھ کھاتے تو آپ اپنے آگے سے کھاتے تھے اور جب آپ کے پاس چھوارے لائے جاتے تو ہر طرف سے تناول فرماتے تھے۔ ابن السنی وغیرہ نے بسند صحیح حضرت انس سے روایت کی ہے کہ جب آپ کے پاس پھل لایا جاتا تو ایسے وقت کہ جب وہ اول ہی کھانے کے قابل ہوتا ہے تو آپ اس کو دونوں آنکھوں سے لگاتے پھر دونوں ہونٹوں سے لگاتے اور فرماتے اللہم کما اریتنا اولہ فارنا اخرہ پھر بچوں کو دے دیتے تھے جو آپ کے پاس اس وقت بیٹھے ہوتے تھے ابن عساکر نے حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر اور حضرت قاسم بن محمد سے بطریق مرسل صحیح روایت کی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ برتن لایا جاتا تھا جس میں خوشبو دار تیل وغیرہ ہوتا تو آپ اس تیل سے انگلیاں تر فرما لیتے پھر اس کو جہاں لگانا ہوتا ان انگلیوں سے استعمال فرماتے تھے۔ طبرانی نے حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت کی ہے کہ آپ جب سونے کو لیٹتے تھے تو اپنے داہنے ہاتھ کو داہنے رخسارہ کے نیچے رکھ لیتے تھے۔

شیرازی نے القاب میں حضرت عائشہ سے بسند حسن لغیرہ روایت کی ہے کہ آپ جب سر میں تیل لگانے کا قصد فرماتے تھے تو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں اس کو رکھتے پھر بھوؤں سے لگانا شروع کرتے یعنی بھوؤں کو اول لگاتے پھر دونوں آنکھوں ر لگاتے پھر سر پر لگاتے اور عزیزی میں ہے کہ منادی نے فرمایا ہے کہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ڈاڑھی میں تیل لگانے کے قصد فرماتے تھے تو پہلے دونوں آنکھوں پر لگاتے تھے پھر ڈاڑھی میں لگاتے تھے احقر کہتا ہے کہ یہ روایت میری نظر سے نہیں گزری ابوداود اور ترمذی اور طیالسی نے حضرت انس اور حضرت جابر سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ آپ جب پیشاب یا پائخانہ کے لیے بیٹھنے کا قصد فرماتے تھے تو اپنے کپڑے کو نہ اٹھاتے تھے جب تک کہ زمین کی اس جگہ سے جہاں فراغت فرماتے سے قریب نہ ہو جاتے تاکہ بغیر ضرورت ستر نہ کھلے کیونکہ ستر کھولنے کی ضرورت تو اسی وقت ہوتی ہے جب قضائے حاجت کے لیے آدمی بیٹھ جائے سو پہلے سے ستر کھولنے کی کیا حاجت ہے اس لیے آپ عین ضرورت کے وقت ستر کھولتے تھے۔ ابوداود و نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت عائشہ سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ جب آپ جنب ہونے کی حالت میں بغیر غسل کیے سونے کا قصد فرماتے تھے تو وضو فرما لیتے تھے پھر سوتے تھے اور جب ایسی حالت مذکورہ میں کھانے یا پینے کا قصد فرماتے تھے تو فقط دونوں ہاتھ گٹوں تک دھو لیتے تھے پھر کھاتے پیتے تھے حیض اور نفاس والی عورت جب پاک ہو تو اس کے لیے بھی یہی سنت ہے۔

حاکم و ابوداود نے بسند صحیح حضرت عبداللہ بن یزید سے روایت کی ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم لشکر کو رخصت فرماتے تھے تو یہ دعا پڑھتے استودع اللہ دینکم امانتکم وخواتیم اعمالکم مناسب ہے کہ جب کسی کو رخصت کرو تو یہ دعا پڑھ لیا کرو یہ اس شخص کی دین و دنیا کی فلاح کے لیے دعا ہے جس کو رخصت کیا جاتا ہے خطیب نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بسند ضعیف روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسواک کر چکتے تھے تو جو بڑا شخص ہوتا اس کو عنایت فرما دیتے تھے اور جب کچھ پانی وغیرہ پیتے تو بچا ہوا اس شخص کو عنایت فرماتے جو آپ کی داہنی جانب ہوتا یہ دونوں چیزیں آپ بوجہ سخاوت اور لوگوں کو برکت پہنچانے کے عطا فرماتے تھے

ابن السنی اور طبرانی نے بسند حسن حضرت عثمان بن ابی العاص سے روایت کی ہے کہ جب باد شمالی چلتی تھی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے۔ اللہم انی اعوذبک من شر ما ارسلت فیہا۔ وجہ اس دعا کے پڑھنے کی یہ تھی کہ ایسی ہوا کبھی کسی قوم پر بطریق عذاب بھیجی جاتی ہے کذا فی العزیزی تو آپ دعا فرماتے تھے کہ یا اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جس کو آپ نے اس ہوا میں بھیجا ہے اور یہی ترجمہ ہے اس دعا کا امام احمد اور حاکم نے بسند صحیح حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل بیت میں سے کسی کی نسبت یہ اطلاع ہوتی کہ اس نے ایک دفعہ بھر جھوٹ بولا ہے تو آپ برابر اس سے رنجیدہ اور ناراض رہتے یہاں تک کہ وہ شخص توبہ کر لیتا اور جب توبہ کر لیتا اور جب توبہ کر لیتا تو آپ بدستور اس سے راضی ہو جاتے وجہ یہ تھی کہ جھوٹ چونکہ اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ ہے اور گنہگار سے بغض رکھنا لازم ہے اس لیے آپ ایسے شخص سے اعراض فرماتے تھے اور سب گنہگاروں سے آپ کا یہی برتاؤ تھا۔ شیرازی نے القاب میں بسند حسن لغیرہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غمگین ہوتے تھے تو ڈاڑھی مبارک ہاتھ میں لے لیتے تھے اور اس کو دیکھتے تھے۔ اور ابن السنی اور نعیم نے حضرت عائشہ سے اور ابونعیم نے نیز حضرت ابوہریرہ سے بھی بسند حسن یہ مضمون نقل کیا ہے کہ آپ جب غمگین ہوتے تھے تو بکثرت ڈاڑھی مبارک کو مس فرماتے تھے۔ امام احمد نے بسند صحیح حضرت عقبہ بن عامر سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سرمہ لگاتے تھے تو بعدد طاق سلائی آنکھوں میں پھیرتے تھے دوسرے حدیث میں جس کو ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے یہ مضمون ہے کہ ہر آنکھ میں تین تین سلائی سرمہ لگاتے تھے۔

مسلم اور امام احمد وغیرہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ جب آپ کھانا کھاتے تھے تو اپنی تین انگلیوں کو جن سے کہ آپ کھایا کرتے تھے کما فی روایۃ الحاکم چاٹ لیا کرتے تھے تاکہ حق تعالی کی نعمت یعنی رزق ضائع نہ ہو۔ ترمذی نے حضرت ابویرہرہ سے روایت کی ہے کہ جب آپ کو کوئی دشواری پیش آتی تھی تو سر مبارک کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور سبحان اللہ العظیم پڑھتے تھے۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بسند صحیح حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے میں کسی کو کسی کام کے لیے بھیجتے تھے تو فرما دیتے تھے کہ خوشخبری سناؤ لوگوں کو یعنی ان سے خوش کن باتیں کرو دینی اور دنیاوی امور میں اور ان کو نفرت نہ دلاؤ تاکہ وہ تم سے نفرت نہ کریں مگر حد شرعی کو ہر جگہ ملحوظ رکھنا چاہیے اییر بشارتیں اور خوش کن باتیں نہ کرے جو دین کے خلاف ہوں اور آسانی کرو لوگوں پر سختی نہ کرو۔ ابو داؤد اور ترمذی نے حضرت صخر بن داعہ سے بسند حسن روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر کو روانہ کرنے کا قصد فرماتے تھے تو اول روز میں اس کو روانہ فرماتے تھے کیونکہ وہ برکت کا وقت ہے حاجت روائی کی ایسے وقت جانے سے زیادہ امید ہے۔

ابو داؤد نے حضرت عائشہ سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ جب آپ کسی شخص کو کوئی بری بات معلوم ہوتی تھی تو آپ نصیحت کے وقت یہ نہیں فرماتے تھے کہ فلاں شخص کا کیا حال ہے کہ وہ ایسا کام کرتا ہے یا ایسی بات کہتا ہے لیکن یہ فرماتے تھے لوگوں کا کیا حال ہے کہ ایسی ایسی باتیں یعنی بری باتیں کہتے ہیں اور ایسے ایسےیعنی برے کام کرتے ہیں سبحان اللہ کیا حسن اخلاق تھا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور کیا دانائی تھی کہ نصیحت بھی اس طرح فرماتے تھے جس سے مقصود بھی حاصل ہو جائے اور وہ مجرم رسوا بھی نہ ہو اور اس کو ندامت بھی نہ ہو بلکہ نصیحت کی قدر کرے اور اس پر عمل کرے۔ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کو کھانا کھا لیتے تھے تو شام کو نہ کھاتے تھے اور جب شام کو کھا لیتے تھے تو صبح کو نہ کھاتے تھے۔ فائدہ مقصود یہ ہے کہ آپ دن میں ایک وقت کھانا کھاتے تھے کبھی صبح کو کبھی شام کو ابن ماجہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تھے تو دو رکعت نماز نفل جس کا نام لوگوں نے تحیۃ الوضو رکھ لیا ہے پڑھ لیتے تھے جبکہ وقت مکروہ نہ ہوتا پھر نماز فرض پڑھنے مسجد میں تشریف لے جاتے تھے

خطیب اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس نے بسند حسن لغیرہ روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب جاڑے کا موسم آتا تو آپ جمعہ کی رات کو مکان کے اندر سونا شروع فرماتے تھے اور جب گرمی کا موسم آتا تو جمعہ کی رات کو باہر سونا شروع فرماتے اور جب نیا کپڑا پہنتے تھے اللہ تعالی کی حمد فرماتے تھے یعنی الحمد للہ یا مثل اس کے کوئی اور لفظ شکریہ میں فرماتے اور دو رکعت نماز نفل شکریہ میں پڑھتے اور پرانا کپڑا کسی محتاج کو عطا فرما دیتے بیہقی اور خطیب نے بسند حسن حضرت حسن بن محمد بن علی سے مرسلا روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مال آتا تھا سو اگر صبح کے وقت آتا تھا تو دوپہر تک نہ رکھتے تھے اور اگر شام کے وقت آتا تو رات تک نہ رکھتے تھے۔ فائدہ مقصود یہ ہے کہ آپ دین میں ایک وقت کھانا کھاتے تھے کبھی صبح کو شام کو ابن ماجہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم جب وضو فرماتے تھے تو دو رکعت نماز نفل جس کا نام لوگوں نے تحیۃ الوضو رکھ لیا ہے پڑھ لیتے تھے جبکہ وقت مکروہ نہ ہوتا پھر نماز فرض پڑھنے مسجد میں تشریف لے جاتے تھے خطیب اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس سے بسند حسن لغیرہ روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب جاڑے کا موسم تا تو آپ جمعہ کی رات کو مکان کے اندر سونا شروع فرماتے تھے اور جب گرمی کا موسم تا تو جمعہ کی رات کو باہر سونا شروع فرماتے اور جب نیا کپڑا پہنتے تھے اللہ تعالی کی حمد فرماتے تھی۔

یعنی الحمد للہ یا مثل اس کے کوئی اور لفظ شکریہ میں فرماتے اور دو رکعت نماز نفل شکریہ میں پڑھتے اور پرانا کپڑا کسی محتاج کو عطا فرما دیتے بیہقی اور خطیب نے بسند حسن حضرت حسن بن محمد بن علی سے مرسلا روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے پاس جب مال آتا تھا سو اگر صبح کے وقت آتا تھا تو دوپہر نہ رکھتے تھے اور اگر شام کے وقت آتا تو رات تک نہ رکھتے تھے۔ فائدہ یعنی فورا خرچ فرما دیتے تھے۔ محدث بغوی نے حضرت والد مرہ سے بسند ضعیف روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب زیادہ ہنسی آتی تھی تو منہ پر ہاتھ رکھ لیتے تھے۔ فائدہ اور ایسا اتفاق کبھی ہو جاتا تھا کہ آپ کو زیادہ ہنسی آئے ورنہ آپ تو صرف مسکرایا کرتے تھے کماورد بسند صحیح ابن السنی نے حضرت ابو امامہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے تھے اور بات چیت فرماتے تھے اور پھر وہاں سے اٹھنے کا قصد فرماتے تھے تو استغفار پڑھتے تھے دس سے لے کر پندہ بار تک فائدہ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ وہ استغفار یہ تھی استغفراللہ العظمس الذی لا الہ الا ہوالحی القیوم واتوب الیہ کافی العززی لکم لم اقف علی سندہ۔ ابوداود نے حضرت عبداللہ بن سلام سے بسند حسن روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تھے اور باتیں کرتے تھے تو کثرت سے آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے تھے۔ امام احمد اور ابو داود نے حضرت حذیفہ سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی دشواری پیش آتی تھی تو نماز نفل پڑھتے تھے اس عمل سے ظاہری و باطنی دنیوی و اخروی نفع ہوتا ہے اور پریشانی دور ہوتی ہے۔ ابن السنی نے حضرت سعید بن حکیم سے بسند حسن لغیرہ روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز عمدہ معلوم ہوتی تھی اور اس چیز کو اپنی نظر لگ جانے کا اندیشہ فرماتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔

اللہم بارک فیہ ولا تضرہ فائدہ آپ کی نظر سے بجز بھلائی کسی کو برائی نہیں پہنچ سکتی تھی مگر باوجود اس کے آپ اس عمل کو امت کی تعلیم کے لیے فرماتے تھے تاکہ امت کے لوگ ایسا کیا کریں کذا فی العزیزی ابن سعد نے مجاہد سے بطریق حسن مرسل روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی عورت کو اپنے نکاح کا پیغام دیتے تھے اور وہ پیغام منظور نہ ہوتا تو دوبارہ اس کا ذکر نہ فرماتے تھے یعنی اصرار نہ کرتے اگر پیغام منظور ہو جاتا نکاح فرما لیتے ورنہ خاموش رہتے اور اصرار کر کے ذلت اختیار نہ فرماتے تھے اور کسی پر دباؤ نہ ڈالتے تھے اور آپ نے ایک عورت کو پیغام نکاح دیا اس نے انکار کیا پھر خود اس عورت ہی نے آپ سے نکاح کرنا چاہا آپ نے فرمایا کہ ہم نے دوسری عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ اب ہم کو حاجت نہیں رہی ابن سعد اور ابن عساکر نے حضرت عائشہ سے بسند حسن لغیرہ روایت کی ہے۔ کہ جب آپ ازواج مطہرات سے خلوت فرماتے تھے تو بہت نرمی اور خوب خاطر داری اور بہت اچھی طرح ہنسنے بولنے سے پیش آتے تھے۔ ابن سعد نے حبیب بن صالح سے مرسلا روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پائخانہ میں تشریف لے جاتے تھے تو جوتہ پہن کر جاتے تھے اور سر کو ڈھک لیتے تھے۔ بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تھے۔ تو اس سے آپ یہ کہتے تھے لاباس طہور انشاء اللہ تعالی طبرانی نے بسند حسن ابوایوب انصاری  سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا فرماتے تھے تو پہلے اپنے واسطے دعا فرماتے تھے۔ پھر اوروں کے لیے دعا کرتے تھے

نسائی نے بسند حسن حضرت ثوبان سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوف پیش آتا تھا تو یہ دعا پڑھتے تھے اللہ اللہ ربی لا شریک لہ۔ ابن مندہ نے حضرت سہیل سے رویت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات یا کسی کام سے راضی ہوتے تھے تو سکوت فرماتے تھے۔ ابو نعیم نے حضرت ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ جب ازواج مطہرات میں سے کسی کی آنکھ دکھتی تو آپ ان سے ہم بستری چھوڑ دیتے تھے آنکھ کے آرام ہونے تک ابن المبارک و ابن سعد نے مرسلا روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازہ پر تشریف لے جاتے تھے تو بہت خاموشی فرماتے تھے اور اپنے دل میں موت کے متعلق گفتگو فرماتے تھے کیونکہ جنازہ عبرت کا مقام ہے اس کو دیکھ کر اپنی موت کو یاد کرنا چاہیے اور اس بے کسی کا خیال کرنا چاہیے جو بعد موت پیش آئے گی اور عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ حاکم اور ابو داود اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چھینکتے تھے تو اپنا ہاتھ یا کپڑا منہ پر رکھ لیتے تھے اور آواز کو پست فرما لیتے تھے۔ مسلم اور ابوداود نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نیک کام شروع فرماتے تھے تو پھر اس کو ہمیشہ کیا کرتے تھے۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آتا تھا اس حال میں کہ آپ کھڑے ہوتے تھے تو آپ بیٹھ جاتے تھے۔

اور جب ایسے حال میں غصہ آتا تھا کہ آپ بیٹھے ہوتے تھے تو آپ لیٹ جاتے تھے حالت بدل دینا علاج ہے غصہ فرو ہو جانے کا یعنی غصہ جاتے رہنے کا ابوداود نے حضرت عثمان سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مردہ کے دفن سے فارغ ہوتے تو قبر پر کچھ دیر ٹھیرتے تھے اور آپ کے ہمراہی بھی ٹھیر جاتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ اپنے مردہ بھائی کے لیے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرو اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو اس لیے کہ اس وقت اس سے سوال کیا جاتا ہے یعنی منکر و نکیر کے سوال کا وقت ہے اس لیے اس کے جواب میں ثابت قدم رہنے کی اور جواب باقاعدہ دینے کی دعا کرو تاکہ مردے کو پریشانی نہ ہو ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کرتہ پہنتے تھے تو داہنی طرف سے سے شروع فرماتے تھے۔

یعنی اول داہنا ہاتھ اس میں داخل فرماتے تھے کذا فی العزیزی ابن سعد نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارک تھی کہ آپ کے صحابہ میں سے کوئی آپ سے ملتا اور وہ ٹھیر جاتا آپ کے ساتھ تو آپ بھی ٹھیر جاتے اور جب تک وہ شخص چلا نہ جاتا آپ برابر ٹھیرے رہتے اور جب آپ کے صحابہ میں سے کوئی آپ سے ملاقات کرتا اور آپ بھی ٹھیر جاتے اور جب تک وہ شخص چلا نہ جاتا آپ برابر ٹھیرے رہتے اور جب آپ کے صحابہ میں سے کوئی آپ سے ملاقات کرتا اور آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا تو آپ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیتے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں سے نہ نکالتے تھے جب تک کہ وہ خود نہ چھوڑ دیتا اور ابن المبارک کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ اپنا چہرہ اس کے سامنے سے نہ پھیرتے تھے جب تک کہ وہ اپنا چہرہ آپ کے سامنے سے نہ پھیر لیتاتھا اور آپ جب صحابہ میں سے کسی سے ملاقات فرماتے تھے اور وہ صحابی آپ کے کان کے قریب ہونا چاہتے سرگوشی کے لیے تو آپ ان کے قریب اپنا کان کر دیتے اور اپنے کان کو نہ ہٹاتے جب تک کہ وہ شخص فارغ ہو کر خود نہ ہٹ جاتے نسائی نے حضرت حذیفہ سے بسند حسن روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے صحابہ میں سے کوئی ملتا تھا آپ مصافحہ فرماتے تھے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے۔

طبرانی نے حضرت جندب سے روایت کی ہے کہ جب آپ صحابہ سے ملتے تو مصافحہ نہیں فرماتے تھے یہاں تک کہ سلام کر لیتے یعنی پہلے سلام کرتے پھر مصافحہ فرماتے تھے ابن السنی نے روایت کی ہے کہ ایک انصاری  کی کنیزہ سے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو پکارنا چاہتے تھے اور اس کا نام یاد نہ آتا تھا تو ابن عبداللہ کہہ کر پکارتے تھے یعنی اے خدا کے بندہ کے بیٹے حاکم نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے تو ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے ابوداود نے بعض آل ام سلمہ سے بسند حسن روایت کی ہے کہ آپ کا بچھونا کفن کی مثل ہوتا تھا یعنی جیسے کپڑے کا کفن دیا جاتا ہے اسی کی قسم سے بچھونا بھی تھا قیمتی اور تکلف کا نہ تھا اور آپ کی مسجد آپ کے سرہانے تھی یعنی جب آپ سوتے تھے تو آپ کا سر مسجد کی جانب ہوتا تھا کذا فی العزیزی اور دوسری حدیث میں جس کو ترمذی نے بسند حسن حضرت حفصہ سے روایت کیا ہے یہ وارد ہوا ہے کہ آپ کا بچھونا ٹاٹ کا تھا۔ حاکم نے بسند صحیح حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ ٹخنوں سے اوپر ہوتا تھا یعنی نصف پنڈلیوں تک جیساکہ دوسری روایت میں آیا ہے کذا فی العزیزی بغیر ذکر سند الروایۃ۔ اور آپ کے کرتہ کی آستین انگلیوں کے برابر ہوتی تھیں اور دوسری حدیث میں جس کو ابوداود اور ترمذی نے بسند حسن روایت کیا ہے آستین کی لمبائی ہاتھوں کے گٹوں تک وارد ہوئی ہے غرض دونوں طرح آپ کا پہننا ثابت ہو گیا۔ پس آپ کا کرتہ کبھی گٹوں تک ہوتا تھا اور کبھی انگلیوں کی برابر۔

امام احمد اور ترمذی اور ابن ماجہ نے بسند حسن حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ چمڑے کا تھا جس میں خرما کے درخت کی چھال بھری تھی طبرانی نے نعمان بن بشیر سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت معمولی درجہ کے چھوہارے بھی اس قدر میسر نہ آتے تھے جس سے آپ شکم سیری فرما لیتے روئے زمین کے خزانے آپ کے پیروں میں آ لگے تھے مگر زہد اختیار کیا تھا اور لذت دنیا کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر آپ نے ایسے فقر کی حالت اختیار کی تھی اور جو آمدنی ہوتی تھی اس کو کثرت سے آپ خیرات کرتے تھے اور چھوہارے اہل عرب کی معمولی غذا ہیں کیونکہ وہاں بہ کثرت پیدا ہوتے ہیں ترمذی نے بسند صحیح حضرت انس سے روایت کی ہے کہ آپ اپنے لیے کل آئندہ کے واسطے کچھ جمع نہیں رکھتے تھے طبرانی نے حضرت ابن عباس سے بسند حسن روایت کی ہے کہ جب آپ چلتے تھے تو لوگوں کو آپ کے آگے سے نہ ہٹایا جاتا تھا اور نہ مارا جاتا تھا جیسا کہ متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ خادم سٹرک پر سے لوگوں کو ہٹاتا ہے جھڑکتا ہے تاکہ ان کے لیے سڑک خالی ہو جائے۔ ابن سعد نے بسند حسن حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ آپ تین دن سے کم میں قرآن شریف ختم نہیں کرتے تھے۔ ابن سعد نے محمد بن الحنفیہ سے مرسلا روایت کی ہے کہ آپ کی یہ عادت تھی کہ آپ کسی کام کے کرنے کو جو شرع میں جائز ہوتا تھا منع نہیں فرماتے تھے پس جب آپ سے کوئی سوال کیا جاتا اور آپ اس سوال کے پورا کرنے کا قصد کرتے تو فرماتے ہاں اور اگر ارادہ اس کے پورا کرنے کا کسی مجبوری سے نہ ہوتا تھا تو خاموش رہتے تھے۔

اضافات از مشکوۃ

حدیث: ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے حق میں میری نصیحت بھلائی کرنے کی قبول کرو اس لیے کہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی ہے الخ متفق علیہ فائدہ یعنی اس سے راستہ و درستی کامل کی توقع مت رکھو اس کی کج فہمی پر صبر کرو دیکھئے عورتوں کی کس قدر رعایت کا حکم ہے۔ حدیث: ابوہریرہ سے روایت ہے کہ مومن مرد کو مومن عورت سے یعنی بی بی سے بغض نہ رکھنا چاہیے کیونکہ اگر اس کی ایک عادت کو ناپسند رکھے گا تو دوسری کو ضرور پسند کرے گا روایت کیا اس کو مسلم نے ۔ فائدہ یعنی یہ سوچ کر صبر کر لے۔ حدیث: عبداللہ بن زمعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی بی بی کو غلام کی طرح بیدردی سے نہ مارنا چاہیے اور پھر ختم دن پر جماع کرنے لگے الخ۔ متفق علیہ فائدہ یعنی پھر مروت کیسے گوارہ کرے گی۔ حدیث: حکیم بن معویہ اپنی باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم پر ہماری بی بی کا کیا حق ہے آپ نے فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ جب تو کھانا کھائے اس کو بھی کھلا دے اور جب تو کپڑا پہنے اس کو بھی پہنا دے اور اس کے منہ پر نا مارے اور بول چال گھر ہی کے اندر رہ کر چھوڑ دی جائے روایت کیا اس کو احمد اور ابو داود اور ابن ماجہ نے ۔ فائدہ یعنی اگر اس سے روٹھے تو گھر سے باہر نہ جائے۔ حدیث: ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب مومن ہیں مگر ایمان کا کامل وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور تم سب میں اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیبیوں کے ساتھ اچھے ہوں۔ روایت کیا اس کو ترمذی نے اور اس کو حسن صحیح کہا ہے۔ فائدہ یہ فصل ثانی کی حدیثیں ہیں اور فصل اول میں تیرہ تھیں سب ملا کر چالیس ہو گئیں گویا یہ مجموعہ فصلین فضائل نساء کی ایک چہل حدیث ہے۔

آیتوں کا مضمون

فرمایا اللہ تعالی نے جن بیبیوں میں آثار سے تم کو معلوم ہو کہ یہ کہنا نہیں مانتیں تو اول ان کو نصیحت کرو اور اس سے نہ مانیں تو ان کے پاس سونا بیٹھنا چھوڑ دو اور اس پر بھی نہ مانیں تو ان کو مارو اس کے بعد اگر وہ تابعداری کرنے لگیں تو ان کو تکلیف دینے کے لیے بہانہ مت ڈھونڈ۔ فائدہ اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کا کہنا نہ ماننا بہت بری بات ہے اور فرمایا اللہ تعالی نے چلنے میں پاؤں زور سے زمین پر مت رکھو جس میں زیور وغیرہ کی غیر مرد کو خبر ہو جائے۔ فائدہ باجے دار زیور تو پہننا بالکل درست نہیں اور جس میں باجہ نہ ہو ایک دوسرے سے لگ کر بچ جاتا ہو اس میں یہ احتیاط ہے اور سمجھو کہ جب پاؤں میں جو ایک چیز ہے اس کی آواز کی اتنی احتیاط ہے تو خود دعوت کی آواز اور اس کے بدن کھلنے کی تو کتنی تاکید ہو گی۔

حدیثوں کا مضمون

فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عورتو میں نے تم کو دوزخ میں بہت دیکھا ہے عورتوں نے پوچھا اس کی کیا وجہ آپ نے فرمایا تم مار پھٹکار سب چیزوں پر بہت ڈالا کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری بہت کرتی ہو اور اس کی دی ہوئی چیز کو بہت ناک مارتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بی بی نے بخار کو برا کہا آپ نے فرمایا کہ بخار کو برا مت کہو اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بی بی نے بخار کو برا کہا آپ نے فرمایا کہ بخار کو برا مت کہو اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر کے رونے والی عورت اگر توبہ نہ کرے گی تو قیامت کے روز اس حالت میں کھڑی کی جائے گی کہ اس کے بدن پر کرتے کی طرح ایک روغن لپیٹا جائے گا جس میں آگ بڑی جلدی لگتی ہے اور کرتے ہی کی طرح تمام بدن میں خارش بھی ہو گئی یعنی اس کو دو تکلیفیں ہوں گی خارش سے تمام بدن نوچ ڈالے گی اور دوزخ کی آگ لگے گی وہ الگ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے مسلمان عورتو کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر اور ہلکا نہ سمجھے چاہے بکری کی کھڑی کیوں نہ ہو۔ فائدہ بعضی عورتوں میں یہ عادت بہت ہوتی ہے کہ دوسرے کے گھر کی آئی ہوئی چیز کو ناک مارا کرتی ہیں طعنے دیا کرتی ہیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا تھا اس نے اس کو پکڑ کر باندھ دیا تھا نہ تو کھانے کو دیا اور نہ اس کو چھوڑا یوں ہی تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ فائدہ اسی طرح جانور پال کر اس کے کھانے پینے کی خبر نہ لینا عذاب کی بات ہے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعضے مرد اور عورت ساٹھ برس تک خدا کی عبادت کرتے ہیں پھر موت کا وقت آتا ہے تو خلاف شرع وصیت کر کے دوزخ کے قابل ہو جاتے ہیں۔

فائدہ جیسے بعضوں کی عادت ہوتی ہے یوں کہہ مرتے ہیں دیکھو میری چیز میرے نواسہ کو دیجیو بھائی کو نہ دیجیو یا فلانی بیٹی کو فلانی چیز دوسری بیٹی سے زیادہ دیجیو یہ سب حرام ہے وصیت اور میراث کے مسئلے کسی عالم سے پوچھ کر اس کے موافق عمل کرے کبھی اس کے خلاف نہ کرے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عورت دوسری عورت سے اس طرح نہ ملے کہ اپنے خاوند کے سامنے اس کا حال اس طرح کہنے لگے جیسے وہ اس کو دیکھ رہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ آپ کی دو بیبیاں بیٹھی تھیں ایک نابینا صحابی آنے لگے آپ نے دونوں کو پردے میں ہو جانے کا حکم دیا دونوں نے تعجب سے عرض کیا کہ وہ تو اندھے ہیں آپ نے فرمایا تم تو اندھی نہیں ہو تم تو ان کو دیکھتی ہی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کو دنیا میں کچھ تکلیف دیتی ہے تو بہشت میں جو حور اس خاوند کو ملے گی وہ کہتی ہے کہ خدا تجھے غارت کرے وہ تو تیرے پاس مہمان ہے جلدی ہی تیرے پاس سے ہمارے پاس چلا آئے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایسی دوزخی عورتوں کو نہیں دیکھا یعنی میرے زمانہ سے پیچھے ایسی عورتیں پیدا ہوں گی کہ کپڑا پہنے ہوں گی اور ننگی ہوں گی یعنی نام کو بدن پر کپڑا ہو گا لیکن کپڑا باریک اس قدر ہو گا کہ تمام بدن نظر آئے گا اور اترا کر بدن کو مٹکا کر چلیں گی اور بالوں کے اندر موباف یا کپڑا دے کر بالوں کو لپیٹ کر اس طرح باندھیں گی جس میں بال بہت سے معلوم ہوں جیسے اونٹ کا کوہان ہوتا ہے ایسی عورتیں بہشت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نصیب نہ ہو گی۔

فائدہ یعنی جب پرہیزگار بیبیاں بہشت میں جانے لگیں گی ان کو ان کے ساتھ جانا نصیب نہ ہو گا پھر چاہے سزا کے بعد ایمان کی برکت سے چلی جائیں اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عورت سونے کا زیور دکھلاوے کو پہنے گی اسی سے اس کو عذاب دیا جائے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تشریف رکھتے تھے ایک آواز سنی جیسے کوئی کسی پر لعنت کر رہا ہو آپ نے پوچھا یہ کیا بات ہے لوگوں نے عرض کیا کہ یہ فلانی عورت ہے کہ اپنی سواری کو اونٹنی پر لعنت کر رہی ہے وہ اونٹنی چلنے میں کمی یا شوخی کرتی ہو گی ا س عورت نے جھلا کر کہہ دیا ہو گا تجھے خدا کی مار جیسا کہ عورتوں کا دستور ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ اس عورت کو اور اس کے اسباب کو اس اونٹنی پر سے اتار دو یہ اونٹنی تو اس عورت کے نزدیک لعنت کے قابل ہے پھر اس کو کام میں کیوں لاتی ہے۔ فائدہ خوب سزا دی تمام شد رسالہ کسوۃ النسوۃ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج و عادت کا بیان

آپ دل کے بڑے سخی تھے کسی سوالی سے نہیں کبھی نہیں کی اگر ہوا دے دیا یا نہ ہوا تو نرمی سے سمجھا دیا دوسرے وقت دینے کا وعدہ کر لیا آپ بات کے بڑے سچے تھے آپ کی طبیعت بہت نرم تھی سب باتوں میں سہولت اور آسانی برتتے اپنے پاس اٹھنے بیٹھنے والوں کا بڑا خیال رکھتے کہ ان کو کسی طرح کی اپنے سے تکلیف نہ پہنچے۔ یہاں تک کہ اگر رات کو اٹھ کر باہر جانا ہوتا تو بہت ہی آہستہ جوتی پہنتے بہت ہلکے سے کواڑ کھولتے بہت آہستہ چلتے اور اگر گھر میں تسریف لاتے اور گھر والے سو رہتے تو بھی سب کام چپکے چپکے کرتے کبھی کسی سوتے کی نیند خراب نہ ہو جائے ہمیشہ نچی نگاہ زمین کی طرف رکھتے جو بہت سے آدمیوں کے ساتھ چلتے تو اوروں سے پیچھے رہتے جو سامنے آتا اس کو پہلے خود سلام کرتے جب بیٹھتے تو بہت عاجزی کی صورت بنا کر جب کھانا کھاتے تو بہت ہی غریبوں کی طرح بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا کبھی چپاتی نہیں کھائی۔ تکلف کی تشتریوں میں کبھی نہیں کھایا ہر وقت خدائے تعالی کے خوف سے غمگین سے رہتے ہر وقت اسی سوچ میں لگے رہتے اسی دھن میں کسی کروٹ چین نہ آتا زیادہ وقت خاموش رہتے بدون ضرورت کے کلام نہ فرماتے جب بولتے تو ایسا صاف کہ دوسرا آدمی خوب سمجھ لے۔ آپ کی بات نہ تو اتنی لمبی ہوتی کہ ضرورت سے زیادہ اور نہ اس قدر کم ہوتی کہ مطلب بھی سمجھ میں نہ آئے۔ بات میں ذرا سختی نہ تھی نہ برتاؤ میں کسی طرح کی سخت تھی اپنے پاس آنے والے کی بے قدری اور ذلت نہ کرتے تھے کسی کی بات نہ کاٹتے تھے البتہ اگر شرع کے خلاف کوئی بات کرتا تو یا تو منع فرما دیتے یا وہاں سے خود اٹھ جاتے خدا کی نعمت کیسی ہی چھوٹی کیوں نہ آپ اس کو بہت بڑا سمجھتے تھے کبھی اس میں عیب نہ نکالتے تھے کہ اس کا مزہ اچھا نہیں ہے۔ یا اس میں بدبو آتی ہے البتہ جس چیز کو دل نہ لیتا اس کو خود نہ کھاتے اور نہ اس کی تعریف کرتے نہ اس میں عیب نکالتے۔

دنیا کی کیسی ہی بات ہو اس کی وجہ سے آپ کو غصہ نہ آتا مثلاً کسی کے ہاتھ سے نقصان ہو گیا کسی نے کوئی کام بگاڑ دیا یہاں تک ک حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے دس برس تک آپ کی خدمت کی اس دس برس میں میں نے جو کچھ کر دیا اس کو یوں نہیں فرمایا کہ کیوں کیا اور جو نہیں کیا اس کو یوں نہیں پوچھا کہ کیوں نہیں کیا۔ البتہ اگر کوئی بات خلاف دین کے ہو جاتی تو اس وقت آپ کے غصہ کی کوئی تاب نہ لا سکتا تھا۔ اپنے ذاتی معاملہ میں آپ نے غصہ نہیں کیا۔ اگر کسی سے ناراض ہوتے تو صرف منہ پھیر لیتے۔ یعنی زبان سے کچھ سخت و سست نہ فرماتے اور جب خوش ہوتے تو نیچی نگاہ کر لیتے۔ شرم اس قدر تھی کہ کیا کنواری لڑکی کو ہو گی۔ بڑی ہنسی آتی تو یوں ہی ذرا مسکرا دیتے یعنی آواز سے نہ ہنستے سب میں ملے جلے رہتے یہ نہیں کہ اپنی شان بنا کر لوگوں سے کھنچنے لگیں بلکہ کبھی کبھی کسی کا دل خوش کرنے کو ہنسی مذاق بھی فرما لیتے اس میں بھی وہی بات فرماتے جو سچی ہوتی نفلیں اس قدر پڑھتے کہ کھڑے کھڑے دونوں پاؤں سوج جاتے جب قرآن شریف پڑھتے یا سنتے تو خدا کے خوف اور محبت سے روتے۔ عاجزی اس قدر مزاج میں تھے کہ اپنی امت کو حکم فرمایا کہ مجھ کو بہت مت بڑھا دینا۔ اور اگر کوئی غریب ماما اصیل آ کر کہتی کہ مجھ کو آپ سے الگ کچھ کہنا ہے آپ فرماتے اچھا کہیں سڑک پر بیٹھ کر کہہ لے وہ جہاں بیٹھ جاتی آپ بھی وہیں بیٹھ جاتے کوئی بیمار ہو امیر یا غریب اس کو پوچھتے کسی کا جنازہ ہوتا آپ اس پر تشریف لاتے کیسا ہی کوئی غلام ملام دعوت کر دیتا آپ قبول فرما لیتے اگر کوئی جو کی روٹی اور بدمزہ چربی کی دعوت کرتا آپ اس سے بھی عذر نہ فرماتے زبان سے کوئی بیکار بات نہ نکلتی۔

سب کی دلجوئی کرتے کوئی ایسا برتاؤ نہ فرماتے جس سے کوئی گھبرائے ظالم موذیوں کی شرارت سے خوش تدبیری کے ساتھ اپنا بچاؤ بھی کرتے مگر ان کے ساتھ اسی خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتے آپ کے پاس حاضر ہونے والوں میں اگر کوئی نہ آتا اس کو پوچھتے ہر کام کو ایک قاعدہ سے کرتے یہ نہیں کہ کبھی کچھ کر دیا کبھی کسی طرح کر لیا جب اٹھتے خدا کی یاد کرتے جب بیٹھتے خدا کی یاد کرتے جب کسی محفل میں تشریف لے جاتے تو جہاں تک آدمی بیٹھے ہیں اس کے کنارے پر بیٹھ جاتے یہ نہیں کہ سب کو پھاند کر بڑی جگہ جا کر بیٹھیں۔ اگر بات کرنے کے وقت کئی آدمی ہوتے تو باری باری سب کی طرف منہ کر کے بات کرتے یہ نہیں کہ ایک طرف توجہ ہے دوسروں کو دیکھتے بھی نہیں سب کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے کہ ہر شخص یوں سمجھتا کہ مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں اگر کوئی پاس کر بیٹھتا یا بات شروع کرتا اس کی خاطر رکے بیٹھے رہتے جب پہلے وہی اٹھ جاتا تو آپ اٹھتے۔ آپ کے اخلاق سب کے ساتھ عام تھے۔ گھر میں جا کر آرام کے لیے مسند پر تکیہ لگا کر بیٹھتے تھے گھر کے بہت سے کام اپنے ہاتھ سے کر لیتے کہیں بکری کا دودھ نکال لیا کہیں اپنے کپڑے صاف کر لیے اپنا کام اکثر اپنے ہاتھ سے کر لیا کرتے کیسا ہی برے سے برا آدمی آپ کے پاس آتا اس سے بھی مہربانی کے ساتھ ملتے اس کی دلشکنی نہ فرماتے۔ غرض سارے آدمیوں سے زیادہ آپ ہی خوش اخلاق تھے۔

اگر کسی سے کوئی ناپسند بات ہو جاتی تو کبھی اس کے منہ در منہ نہ جتلاتے نہ طبیعت میں سختی تھی اور نہ کبھی سختی کی صورت بناتے جیسے بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ کسی کے ڈرانے دھمکانے کو جھوٹ موٹ غصہ کی صورت بنا کر ویسی ہی باتیں کرنے لگتے ہیں کہ آپ کی عادت چلانے کی تھی جو کوئی آپ کے ساتھ برائی کرتا آپ کبھی اس کے ساتھ برائی نہ کرتے بلکہ معاف اور درگزر فرما دیا کرتے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی غلام کو خدمت گار کو عورت کو بلکہ جانور تک کو بھی نہیں مارا اور شریعت کے حکم سے سزا دینا اور بات ہے اگر آپ پر کوئی زیادتی کرتا تو اس کا بدلہ نہ لیتے ہر وقت ہنس مکھ رہتے اور ناک بھوؤں کو نہ چڑھاتے اور یہ مطلب نہیں کہ بیغم رہتے کیونکہ اوپر آ چکا ہے کہ ہر وقت غم اور سوچ میں رہتے۔ مزاج بہت نرم تھا نہ بات میں سختی نہ برتاؤ میں سختی نہ بیباکی تھی کہ جو چاہا پھٹ سے کہہ دیا نہ کسی کا عیب بیان کرتے نہ کسی چیز کے دینے میں دریغ فرماتے ان خصلتوں کی ہوا بھی نہ لگی تھی جیسے اپنی بڑائی کرنا کسی سے بحثا بحثی لگانا جس بات میں کوئی فائدہ نہ ہو اس میں لگنا نہ کسی کی برائی کرتے نہ کسی کے عیب کی کھود کرید کرتے اور وہی بات منہ سے نکالتے جس میں ثواب ملا کرتا ہے کوئی باہر کا پردیسی آ جاتا اور بول چال میں پوچھنے پاچھنے میں بے تمیزی کرتا آپ اس کی سہار فرماتے کسی کو اپنی تعریف نہ کرنے دیتے۔ اور حدیثوں میں بڑی اچھی اچھی باتیں لکھی ہیں۔ جتنی ہم نے بتلا دی ہیں اگر عمل کرو یہ بھی بہت ہیں۔ اب نیک بیبیوں کے حال سنو۔

آیتوں کا مضمون

فرمایا اللہ تعالی نے جو عورتیں ایسی ہیں کہ اسلام کا کام کرتی ہیں یعنی نماز اور روزے کی پابندی گناہ ثواب کے کاموں کا خیال رکھتی ہیں اور جو ایمان درست رکھتی ہیں یعنی حدیث و قرآن کے خلاف کسی بات میں اپنا دل نہیں جماتیں اور جو عورتیں تابعداری سے رہتی ہیں یعنی شیخی نہیں کرتیں اور جو عورتیں خیرات و زکوٰۃ دیتی ہیں اور جو عورتیں روزہ رکھتی ہیں اور جو عورتیں اپنی عزت و آبرو کو بچاتی ہیں یعنی کسی کے سامنے ہو جانے کا اور کسی کو آواز سنانے کا اور خلاف شرع کپڑے پہننے کا اور بے ضرورت کسی سے ہنسنے بولنے کا اور بھی ہر طرح کی بے شرمی کا پرہیز رکھتی ہیں اور جو عورتیں اللہ کو بہت یاد رکھتی ہیں یعنی دل سے بھی ان کا دھیان رکھتی ہیں اور زبان سے بھی ان کے نام لیتی ہیں ایسی عورتوں کے واسطے اللہ تعالی نے اپنی بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے اور فرمایا اللہ تعالی نے جو نیک بخت عورتیں ہوتی ہیں ان میں یہ باتیں ہوا کرتی ہیں کہ وہ تابعدار ہوتی ہیں اور خاوند گھر نہ بھی ہو جب بھی اپنی آبرو کا بچاؤ رکھتی ہیں اور فرمایا اللہ تعالی نے ایسی بیبیاں اچھی ہیں جو شرع کا کاموں کی پابند ہوں اور ان کے عقیدے ٹھیک ہوں اور وہ تابعداری کرتی ہوں اور جہاں کوئی خلاف شرع بات ہوئی فورا توبہ کر لیتی ہوں اور خدائے تعالی کی عبادت میں لگی رہتی ہیں اور روزہ رکھتی ہوں۔

دوسری فصل کنزالعمال کے ترغیبی مضمون میں

حدیث :ارشاد فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے کیا تم اس بات پر راضی نہیں یعنی راضی ہونا چاہیے کہ جب تم میں کوئی اپنے شوہر سے حاملہ ہوتی ہے اور وہ شوہر اس سے راضی ہو تو اس کو ایسا ثواب ملتا ہے کہ جیسا اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے والے اور شب بیداری کرنے والے کو اور جب اس کو درد زہ ہوتا ہے تو آسمان اور زمین کے رہنے والوں کو اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی راحت کا جو سامان مخفی رکھا گیا ہے اس کی خبر نہیں پھر جب وہ بچہ جنتی ہے تو اس کے دودھ کا ایک گھونٹ بھی نہیں نکلتا اور اس کی پستان سے ایک دفعہ بھی بچہ نہیں چوستا جس میں اس کو ہر گھونٹ اور ہر چوسنے پر ایک نیکی نہ ملتی ہو اور اگر بچہ کے سبب اس کو رات کو جاگنا پڑے اس کو راہ خدا میں ستر غلاموں کو آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے اے سلامت یہ نام ہے حضرت ابراہیم صاحبزادہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی کہلاتی کا وہی اس حدیث کے راوی ہیں آپ ان سے فرماتے ہیں کہ تم کو معلوم ہے کہ میری اس سے کون عورتیں مراد ہیں باوجودیکہ نیک ہیں ناز پروردہ ہیں مگر شوہروں کی اطاعت کرنے والی ہیں اپنے شوہروں کی ناقدری نہیں کرتیں۔ الحسن بن سفیان طس وابن عساکر بن سلامۃ حاضنۃ السید ابراہیم حدیث : فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے مگر گھر کو برباد نہ کرے یعنی قدر اجازت و مقدار مناسب سے زیادہ خرچ نہ کرے تو اس عورت کو بھی ثواب ملتا ہے بسبب اس کے خرچ کرنے کے اور اس کے شوہر کو بھی اس کا ثواب ملتا ہے بوجہ اس کے کمانے کے اور تحویلدار کو بھی اس کے برابر ملتا ہے کسی کے سبب کسی کا اجر گھٹتا نہیں۔ عن عائشہ فائدہ۔ پس عورت یہ نہ سمجھے کہ جب کمائی مرد کی ہے تو میں ثواب کی کیا مستحق ہوں گی۔ حدیث: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عورتو تمہارا جہاد حج ہے عن عائشہ فائدہ۔

دیکھئے ان کی بڑی رعایت ہے کہ ان کو حج کرنے سے جس میں جہاد کی برابر دشواری بھی نہیں جہاد کا ثواب ملتا ہے جو کہ سب سے زیادہ مشکل عبادت ہے۔ حدیث: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر نہ جہاد ہے جب تک علی الکفایہ رہے اور نہ جمعہ اور نہ جنازہ کی ہمراہی (طعن عن ابی قتادہ) فائدہ پھر دیکھئے گھر بیٹھے ان کو کتنا ثواب مل جاتا ہے۔ حدیث: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بیبیوں کو ساتھ لے کر حج فرمایا تو ارشاد ہوا کہ بس یہ حج تو کر لیا پھر اس کے بعد بوریوں پر جمی بیٹھی رہنا (حم عن ابی ہریرۃ) فائدہ مطلب یہ کہ بلا ضرورت شدید سفر نہ کرنا۔ حدیث: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی پسند کرتا ہے اس عورت کو جو اپنے شوہر کے ساتھ تو محبت اور لاڈ کرے اور غیر مرد سے اپنی حفاظت کرے۔ (قرعن علی) فائدہ مطلب یہ ہے کہ شوہر سے محبت کرنے اور اس کی منت سماجت کرنے کو خلاف شان نہ سمجھے جیسی مغرور عورتیں ہوتیں ہیں۔ حدیث: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتیں بھی مردوں ہی کے اجزاء ہیں (حم عن عائشہ) فائدہ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت حوا علیہا السلام کا پیدا ہونا مشہور ہے۔ مطلب یہ کہ عورتوں کے احکام بھی مردوں ہی کی طرح ہیں باستثنائے احکام مخصوصہ پس اگر ان کے فضائل وغیرہ جدا بھی نہ ہوتے تب بھی کوئی دلگیری کی بات نہیں جب اعمال پر فضائل کا مردوں سے وعدہ ہے ان ہی اعمال پر ان سے ہے۔ حدیث: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحقیق حق تعالی نے عورتوں کے حصہ میں رشک کا ثواب لکھا ہے اور مردوں پر جہاد لکھا ہے پس جو عورت ایمان اور طلب ثواب کی راہ سے رشک کی بات پر جیسے شوہر نے دوسرا نکاح کر لیا صبر کرے گی اس کو شہید کے برابر ثواب ملتا ہے (طب عن ابی مسعود) فائدہ دیکھئے ایک ذرا سے ضبط پر کتنا بڑا ثواب ملتا ہے جو مزدوروں کو کس دشواری سے ملتا ہے۔

حدیث: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بی بی کے کاروبار کرنے سے بھی تم کو صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔ (فرعن ابن عمر) فائدہ دیکھئے عورتوں کو راحت پہنچانے کا کیسا سامان شریعت نے کیا ہے کہ اس میں ثواب کا وعدہ فرمایا جس کی طمع میں ہر مسلمان اپنی بی بی کو راحت پہنچائے گا۔ حدیث فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب عورتوں سے اچھی وہ عورت ہے کہ جب خاوند اس کی طرف نظر کرے تو وہ اس کو مسرور کر دے اور جب اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کر دے اور اپنی جان اور مال میں اس کو ناخوش کر کے اس کی کوئی مخالفت نہ کرے حم ن ک عن ابی ہریرۃ حدیث فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ رحمت فرمائے پائجامہ پہننے والی عورتوں پر قط فی الافردک فی تاریخہ ہب عن ابی ہریرۃ فائدہ دیکھئے حالانکہ پاجامہ اپنی مصلحت پردہ کے لیے مثل امر طبعی کے ہے پہنا مگر اس میں بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا لے لی یہ کتنی بڑی مہربانی ہے عورتوں کے حال پر۔ حدیث فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدکار عورت کی بدکاری ہزار بدکار مردوں کی برابر اور نیک کار عورت کی نیک کاری ستر اولیاء کی عبادت کے برابر ہے ابو الشیخ عن ابن عمر دیکھئے کتنے تھوڑے عمل پر کتنا بڑا ثواب ملا یہ رعایت نہیں عورتوں کی تو کیا ہے۔

ان باتوں کا بیان کہ ان کے بدون ایمان ادھورا رہتا ہے

حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کئی اوپر ستر باتیں ایمان کے متعلق ہیں سب میں بڑے بات تو کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور سب سے چھوٹی بات یہ ہے کہ راستہ میں کوئی کانٹا لکڑی پتھر پڑا ہو جس سے راستہ چلنے والوں کو تکلیف ہو اس کو ہٹا دے۔ اور شرم و حیا بھی ایمان کی ان ہی باتوں میں سے ایک بڑی چیز ہے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ جب اتنی باتیں ایمان سے علاقہ رکھتی ہیں تو پورا مسلمان وہی ہو گا جس میں سب باتیں ہوں اور جس میں کوئی بات ہو اور کوئی بات نہ ہو وہ ادھورا مسلمان ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ مسلمان پورا ہی ہونا ضروری ہے۔ اس لیے ہر ایک کو لازم ہوا کہ ان سب باتوں کو اپنے اندر پیدا کرے اور کوشش کرے کہ کسی بات کسر نہ رہ جائے اس لیے ہم ان باتوں کو لکھ کر بتلائے دیتے ہیں۔ وہ سب سات اوپر ستر ہیں۔ تیس تو دل سے متعلق ہیں۔ اللہ تعالی پر ایمان لانا یہ اعتقاد رکھنا کہ خدا کے سوا سب چیزیں پہلے ناپید تھیں پھر خدا کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئیں یہ یقین کرنا کہ فرشتے ہیں یہ یقین کرنا کہ خدائے تعالی نے جتنی کتابیں پیغمبروں پر اتاری تھیں سب سچی ہیں۔ البتہ اب قرآن کے سوا اوروں کا حکم نہیں رہا۔

یہ یقین کرنا کہ سب پیغمبر سچے ہیں البتہ اب فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کا حکم ہے یہ یقین کرنا کہ اللہ تعالی کو سب باتوں کی پہلے ہی سے خبر ہے اور جو ان کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے یہ یقین کرنا کہ قیامت آنے والی ہے جنت کا ماننا دوزخ کا ماننا اللہ تعالی سے محبت رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا اور کسی سے بھی اگر محبت یا دشمنی کرے تو اللہ ہی کے واسطے کرنا ہر کام میں نیت دین کی کرنا گناہوں پر پچھتانا خدائے تعالی سے ڈرنا خدائے تعالی کی رحمت کی امید رکھنا شرم کرنا نعمت کا شکر کرنا عہد پورا کرنا صبر کرنا اپنے کو اوروں سے کم سمجھنا مخلوق پر رحم کرنا جو کچھ خدا کی طرف سے ہو اس پر راضی رہنا خدا پر بھروسہ کرنا اپنی کسی خوبی پر نہ اترانا کسی سے کینہ کپٹ نہ رکھنا کسی پر حسد نہ کرنا غصہ نہ کرنا کسی کا برا نہ چاہنا دنیا سے محبت نہ رکھنا۔ اور سات باتیں زبان سے متعلق ہیں زبان سے کلمہ پڑھنا قرآن شریف کی تلاوت کرنا علم سیکھنا علم سکھلانا دعا کرنا لغو اور گناہ کی بات سے جیسے جھوٹ غیبت گالی کو سنا خلاف شرع گانا ان سب سے بچنا۔

اور چالیس باتیں سارے بدن سے متعلق ہیں وضو کرنا غسل کرنا کپڑے کا پاک رکھنا نماز کا پابند رہنا زکوٰۃ صدقہ فطر دینا روزہ رکھنا حج کرنا اعتکاف کرنا جہاں رہنے میں دین کی خرابی ہو وہاں سے چلے جانا منت خدا کی پوری کرنا جو قسم گناہ کی بات پر نہ ہو اس کو پورا کرنا ٹوٹی ہوئی قسم کا کفارہ دینا جتنا بدن ڈھانکنا فرض ہے اس کو ڈھانکنا قربانی کرنا مردے کا کفن دفن کرنا کسی کا قرض آتا ہو اس کو ادا کرنا لین دین میں خلاف شرع باتوں سے بچنا سچی گواہی کا نہ چھپانا اگر نفس تقاضا کرے نکاح کر لینا جو اپنی حکومت میں ہیں ان کا حق ادا کرنا ماں باپ کو آرام پہنچانا اولاد کو پرورش کرنا رشتہ داروں ناتہ داروں سے بد سلوکی نہ کرنا آقا کی تابعداری کرنا انصاف کرنا مسلمانوں کی جماعت سے الگ کوئی طریقہ نہ نکالنا حاکم کی تابعداری کرنا مگر خلاف شرع بات میں نہ کرے لڑنے والوں میں صلح کرا دینا نیک کام میں مدد دینا نیک راہ بتلانا بری بات سے روکنا اگر حکومت ہو تو شرع کے موافق سزا دینا اگر وقت آئے تو دین کے دشمنوں سے لڑنا امانت ادا کرنا ضرورت والے کو قرضہ دے دینا پڑوسی کی خاطر داری رکھنا آمدنی پاک لینا خرچ شرع کے موافق کرنا اسلام کا جواب دینا اگر کوئی چھینک لے کر الحمد للہ کہے تو اس کو یرحمک اللہ کہنا کسی کو ناحق تکلیف نہ دینا خلاف شرع کھیل تماشوں سے بچنا راستہ میں سے ڈھیلا۔ پتھر کانٹا لکڑی ہٹا دینا اگر الگ الگ سب باتوں کا ثواب معلوم کرنا ہو تو فروع الایمان ایک کتاب ہے اس میں دیکھ لو۔

قلب کی صفائی اور باطن کی درستی کی ضرورت

عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ لا ینظر الی اجسامکم ولا الی صورکم ولکن ینظر الی قلوبکم۔ رواہ مسلم ترجمہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شبہ حق تعالی نہیں دیکھتے یعنی توجہ نہیں فرماتے فقط تمہارے جسموں کی طرف اور نہیں دیکھتے فقط تمہاری صورتوں کی طرف۔ اور یہ خیال نہ کرو کہ جب ظاہری اعمال جو فقط ظاہری اعضاء سے ادا کیے جائیں اور ان میں قلب کو توجہ نہ ہو مقبول نہیں تو اعمال قلبیہ بھی مقبول نہ ہوں گے۔ ا ور نیز ظاہری اعمال مقبول ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں اس لیے کہ فرماتے ہیں لیکن دیکھتے ہیں تمہارے دلوں کی طرف مطلب یہ ہے کہ حق تعالی ایسے اعمال کو قبول نہیں کرتے جو فقط ظاہر ہی میں اچھے معلوم ہوتے ہوں اور اخلاص اور توجہ قلبی سے خالی ہوں مثلاً کوئی عبادت کرے اور بظاہر تو عبادت میں مشغول ہے مگر دل میں غفلت چھا رہی ہے اور دل میں تمیز نہیں ہوتی کہ خدا کے سامنے کھڑا ہے یا کوئی اور کام کر رہا ہے تو ایسے اعمال مقبول نہیں ہوتے اور یہ غرض نہیں ہے کہ ظاہری اعمال کا بالکل اعتبار ہی نہیں بلکہ اعتبار ہے لیکن اس شرط سے کہ توجہ اور اخلاص قلبی بھی اس کے ساتھ ہو جیسا کہ حدیث و قرآن اعمال کا بالکل اعتبار ہی نہیں بلکہ اعتبار ہے لیکن اس شرط سے کہ توجہ اور اخلاص قلبی بھی اس کے ساتھ ہو جیسا کہ حدیث و قرآن سے ثابت ہے کیونکہ قلب خاص محل نظر الٰہی ہے اور جس طرح اس کو ظاہری طبی تشریح میں سلطان البدن ہونے کا شرف حاصل ہے اسی طرح روحانی اور باطنی تشریح میں بھی ملک الجوارح ہونے کا فخر میسر ہے جب تک اس کی حالت درست نہ ہو گی کوئی صورت فلاح اور نجات کی حاصل نہیں ہو سکتی۔

مثلاً کوئی ظاہر میں مسلمان ہو دل سے نہ ہو تو اس کو اسلام کا خداوند کریم کے نزدیک کچھ بھی اعتبار نہیں اور علی ہذا القیاس کوئی محض دکھانے یا ایسی ہی اور کسی غرض فاسد کے لیے نماز صدقہ وغیرہ عبادت کرے تو وہ کسی درجہ میں بھی شمار نہیں۔ پس معلوم ہوا کہ فلاحیت دارین اور مقبولیت عنداللہ تعالی کا مدار اصلاح قلب پر ہے۔ لوگوں نے آجکل اس میں بہت بڑی کوتاہی کر رکھی ہے۔ فقط ظاہری اعمال تو تھوڑے بہت کرتے بھی ہیں اور ان کا علم بھی حاصل کرتے ہیں مگر باطنی اصلاح اور قلب کی درستی و اصلاح کی کچھ بھی فکر نہیں گویا کہ یوں خیال کرتے ہیں کہ اصلاح باطن اور ریا و کینہ و حسد وغیرہ کا علاج اور اس سے محفوظ ہونا کچھ ضروری نہیں فقط ظاہری اعمال کو واجب سمجھتے ہیں اور ان کو نجات کے لیے کافی خیال کرتے ہیں حالانکہ اصلی مقصود اصلاح قلب ہے جیسا کہ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے اور اعمال ظاہری ذریعہ ہیں قلب کے درست ہونے کا۔ اور ظاہر اور باطن میں کچھ ایسا قدرتی علاقہ ہے کہ بغیر ظاہری حالت درست کیے ہوئے باطنی حالت درست نہیں ہوتی۔ اور جب تک ظاہری اعمال پر دوام ہمیشگی اور پابندی نہ ہو اصلاح باطنی دائم نہیں رہتی۔

اور جب باطنی حالت درست ہو جاتی ہے تو ظاہری اعمال خوب اچھی طرح ادا ہوتے ہیں اور یہاں سے کوئی بے عقل یہ شبہ نہ کرے کہ ظاہری اعمال کی فقط اس وقت تک حاجت ہے جب تک کہ قلب کی حالت درست نہیں ہوتی اور جب قلب درست ہو گیا تو پھر ظاہری اعمال کی کچھ حاجت نہیں خواہ کریں یا نہ کریں اس لیے کہ یہ عقیدہ کفر ہے اور وجہ اس کے باطل ہونے کی یہ ہے کہ جب قلب درست ہو گا تو وہ حتی المقدور ہر وقت طاعت الٰہی میں مصروف رہے گا اور یہی علامت ہے اس کے درست ہونے کی کیونکہ مقصود اصلاح قلب ہے یہی ہے کہ طاعت الٰہی ہو اور اس کا شکر کیا جائے اور پروردگار کی نافرمانی اور ناشکری نہ ہو اور نماز روزہ وغیرہ کا اطاعت الٰہی میں داخل ہونا بہت ظاہر ہے تو جب یہ طاعات چھوڑ دی گئیں تو پھر قلب کہاں درست رہا اگر درست رہتا تو شب و روز مثل اولیاء کرام اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے طاعت الٰہی میں ضرور مصروف رہتا کیا نعوذ باللہ کسی بے عقل اور احمق کو یہ وسوسہ ہو سکتا ہے کہ کسی کا قلب جناب سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک سے بھی زیادہ صاف اور صالح ہے جو اس کو عبادت ظاہری کی حاجت نہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو باوجود اکمل الکاملین اور افضل المرسلین ہونے کے اس قدر ظاہری اعمال میں مصروف ہوتے تھے جس سے دیکھنے والوں کو بھی رحم آتا تھا اور تا حیات یہی حالت رہی اور آپ کی یہ کیفیت حدیث کی کتابوں میں خوب اچھی طرح مذکور اور مشہور ہے خوب سمجھ لو لہذا مسلمانوں خوب سمجھ لو کہ جس طرح اعمال ظاہریہ مثل صوم و صلوۃ وغیرہ کا ادا کرنا اور ان کے ادا کرنے کا طریقہ جاننا واجب ہے اسی طرح اعمال باطنیہ جیسے صوم و صلوۃ وغیرہ کا ریاء نمود وغیرہ سے محفوظ رکھنا یا کینہ و حسد اور غضب وغیرہ سے قلب کو صاف رکھنا اور ان اعمال کے ادا کرنے کا جاننا بھی واجب ہے جن میں بعض اعمال تو محض قلب سے تعلق رکھتے ہیں جیسے گناہ کا قصد کرنا کینہ یا حسد کرنا اور اخلاص پیدا کرنا اور بعض میں قلب اور دیگر اعضاء بھی شریک ہیں جیسے صلوۃ و صوم و حج و صدقہ وغیرہ صرح بہ الامام الغزالی واقرہ علیہ العلامۃ ابن عابدین اور حدیث میں ہے۔ رکعتان من رجل ورع ای متوقی الشبہات افضل من الف رکعۃ من مخلط ای لایتقی الشبہات والظاہر ان المراد بالالف التکثیر لا التحدید فرعن انس قال الشخ  حدیث حسن لغیرۃ کذافی العزیزی شرح الجامع الصغیر یعنی دو رکعت نماز ایسے پرہیزگار کی جو شبہ کی چیزوں سے بھی بچتا ہو اس شخص کی ہزار رکعت نماز سے افضل ہے جو شبہ کی چیزوں سے نہ بچے۔ آہ ظاہر ہے کہ یہ فضیلت بغیر صفائی قلب اور اصلاح باطن کے میسر نہیں ہو سکتی جو امراض باطنی سے تندرست نہیں وہ تو واجبات بھی ٹھیک طور سے نہیں ادا کر سکتا۔ اور جو حرام چیزوں سے بچنے پر بھی پورا قادر نہیں پھر مشتبہات چیزوں سے کیسے بچ سکتا ہے جو اس کو یہ فضیلت میسر ہو۔ تقوی اور صفائی باطن کے ساتھ جو کچھ بھی عبادت ہوتی ہے وہ باقاعدہ اور مقبول ہوتی ہے اگرچہ وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔

لہذا مسلمان کو لازم ہے کہ ظاہر و باطن کی کامل طور سے اصلاح کرے کہ یہی ذریعہ نجات کا ہے اور فقط ظاہری اعمال کو بغیر درستی باطن کے نجات کے لیے کافی نہ سمجھے۔ دیکھو اگر کوئی شخص بہت سی نمازیں پڑھے اور نیت یہ ہو کہ لوگ ہم کو بزرگ سمجھیں اور ہماری تعریف کریں تو کیا وہ عذاب سے بچ جائے گا حالانکہ نماز تو ایسی چیز ہے کہ اگر کوئی اس کو باقاعدہ اور اخلاص سے محض اللہ تعالی کے لیے ادا کرے تو اس عذاب سے بھی بچ جائے جو ترک نماز پر ہوتا ہے اور ثواب بھی حاصل ہو۔ مگر افسوس کہ اس شخص نے بوجہ مرض ریاء دکھلاوا اور حب ثناء تعریف چاہنے کے اس نماز کو برباد کر دیا۔ پس اس کو چاہیے کہ اپنے ان امراض کا علاج کرے ورنہ عنقریب سخت ہلاکی میں مبتلا ہو جائے گا کیونکہ جب مرض بڑھتا رہے گا اور علاج ہو گا نہیں ظاہر ہے کہ انجام ہلاکت ہو گا۔ بھائیو جب تم بیمار ہو اور تمہارا جسم مریض ہو تو کیا یہ گوارا کرو گے کہ مرض میں مبتلا رہو اور باوجود قدرت کے علاج نہ کرو۔ یہاں تک کہ وہ مرض تم کو ہلا کر دے ہرگز نہیں گوارا کر سکتے حالانکہ اس مرض سے جو تکلیف ہو گی وہ جسمانی تکلیف اور پھر وہ بھی چند روزہ دنیا ہی میں ہے۔ پس جب یہ گوارا نہیں تو روحانی امراض میں مبتلا رہنا جس کی وجہ سے ایسی جگہ تکلیف ہو جہاں ہمیشہ رہنا ہے گوارا کرنا عقل سلیم کے بالکل خلاف ہے۔ لہذا ہر انسان کو لازم ہے کہ جسم و قلب و ظاہر و باطن کی خوب اصلاح کرے اور عقل سلیم سے کام لے کر فلاحیت دارین کو اپنا قبلہ مقصود سمجھنے خوب کہا ہے۔

کیا وہ دنیا جس میں ہو کوشش نہ دیں کے واسطے

واسطے واں کے بھی کچھ یا سب یہیں کے واسطے

حدیث میں ہے عن النعمان بن بشیر مرفوعا فی حدیچ طویل الاوان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وہی القلب متفق علیہ یعنی فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل نے خبردار ہو اس بات سے کہ بدن میں ایک جزو اور وہ ایک بوٹی ہے۔ جب وہ درست ہوتا ہے تو تمام بدن درست ہوتا ہے اور جب وہ جزو فاسد ہو جاتا ہے تو تمام بدن فاسد اور خراب ہو جاتا ہے اور آگاہ رہو کہ وہ جزو دل ہے۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ اعضاء کی درستی اور اطاعت خداوندی بجا لانا موقوف ہے قلب کی درستی پر کیونکہ قلب سلطان البدن ہے اور رعیت کی اصلاح موقوف ہوتی ہے سلطان کے صالح ہونے پر سوا اعضاء نیک کام جب ہی کریں گے جب کہ قلب صالح ہو۔ لہذا اصلاح قلب میں کوشش کرنا واجب اقرار پایا اس طور کہ اطاعت خداوندی واجب ہے خواہ وہ اطاعت فقط قلب سے تعلق رکھتی ہو یا اس میں قلب کے ساتھ اعضا و جوارح کا بھی دخل ہو اور اطاعت کا صحیح اور مقبول ہونا موقوف ہے صلاحیت قلب پر نتیجہ یہ نکلا کہ اصلاح قلب واجب ہے خوب سمجھ لو۔ دیکھئے شریعت نے ایسی حالت میں جبکہ انسان کو بھوک کی خواہش ہو اور اس حالت میں نماز پڑھنے سے طبیعت پریشان ہو تو یہ حکم دیا ہے کہ ایسی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے بلکہ پہلے کھانا کھا لو پھر نماز پڑھو بشرطیکہ نماز کا وقت فوت نہ ہو جائے تو اس میں حکمت یہ ہے کہ مقصود عبادت سے حق تعالی کے سامنے حاضری اور اظہار عبدیت ہے اس طرح کہ ظاہری و باطن اس کے کام میں مشغول ہوں اور غیر اللہ کی طرف حتی الامکان توجہ نہ رہے اور جب بھوک لگ گی ہو تو گو ظاہر بدن نماز میں مشغول ہو گا لیکن قلب پریشان ہو گا اور یہی دل چاہے گا کہ جلدی سے نماز سے فارغ ہو جائیں تاکہ جلد کھانا مل جائے پس حق تعالی کے سامنے جس طرح حاضری چاہیے تھی اس میں بہت بڑا خلل واقع ہو گا۔

اس واسطے اسی حالت میں نماز کو مکروہ کہا گیا جس سے یہ معلوم ہو گیا کہ اصل محل نظر خداوندی قلب ہے اور شریعت مقدسہ نے اس کی اصلاح کا بہت بڑا انتظام کیا ہے بزرگان دین نے اصلاح قلب کے لئے برسوں مجاہدے اور ریاضتیں کی ہیں۔ اس مختصر رسالے میں بوجہ خوف طوالت زیادہ مضمون نہیں لکھا گیا ورنہ کتابیں کی کتابیں اس فن کی موجود ہیں۔ اگر ان کتابوں کا خلاصہ بھی لکھا جائے تو ایک بڑی ضخامت کی کتاب ہو جائے۔ اس حدیث سے قلب کی اصلاح کی بہت بڑی تاکید ثابت ہوتی ہے کہ مدار اصلاح طاعت قلب ہی پر رکھا گیا ہے۔ حدیث میں ہے عن ابن عباس مرفوعا قال رکعتان مقتصدتان خیر من قیام لیلۃ والقلب ساہ روا ابن ابی الدنیا فی التفکر کذا فی کنز العمال۔ یعنی فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دو رکعت نماز درمیانی طور پر پڑھنا بہتر ہے رات بھر نماز پڑھنے سے ایسی حالت میں کہ قلب غافل ہو۔ اس حدیث کو ابن ابی الدنیا نے تفکر میں روایت کیا ہے مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دو۔ رکعت نماز پڑھے اور درمیانی طور پر ادا کرے اس طرح کہ اس کے فرائض و واجبات اور سنن کو حضور قلب کے ساتھ ادا کرے گو طویل قرأت وغیرہ نہ ہو ایسی دو رکعتیں نہایت عمدہ اور مقبول ہیں۔ رات بھر غفلت قلب کے ساتھ نماز پڑھنے سے اس حدیث سے اہتمام قلب کی کس قدر تاکید معلوم ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فی الحقیقت فعل کی کیفیت دیکھی جاتی ہے کہ کیسا کام کیا۔ اور کمیت مطلوب نہیں ہے کہ کتنا کام کیا۔ اگرچہ تھوڑا ہی کام ہو مگر باقاعدہ اور عمدہ ہو تو وہ حق تعالی کے یہاں محبوب اور مقبول ہے۔ اور اگر بہت سا کام ہو لیکن بے قاعدہ اور بے ضابطہ غفلت سے ہو وہ ناپسند ہے خوب سمجھ لو

مانصیحت بجائے خود کردیم

روزگارے دریں بسر بردیم

گرنیاید بگوش رغبت کس

بررسولاں بلاغ باشدو بس

تھوڑا سا حال قیامت کا اور اس کی نشانیوں کا

قیامت کی چھوٹی چھوٹی نشانیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی حدیث میں یہ آئی ہیں۔ لوگ خدائی مال کو اپنی ملک سمجھنے لگیں اور زکوٰۃ کو ڈانڈ کی طرح بھاری سمجھیں اور امانت کو اپنا مال سمجھیں۔ اور مرد بیوی کی تابعداری کرے اور ماں کی نافرمانی کرے اور باپ کو غیر سمجھیں اور دوست کو اپنا سمجھیں۔ اور دین کا علم دنیا کمانے کو حاصل کریں اور سرداری اور حکومت ایسوں کو ملے جو سب میں نکمے ہوں یعنی بد ذات اور لالچی اور بدخلق اور جو جس کام کے لائق نہ ہو وہ کام اس کے سپرد ہو۔ اور لوگ ظالموں کی تعظیم اور خاطر اس خوف سے کریں کہ یہ ہم کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ اور شراب کھلم کھلا پی جانے لگے اور ناچنے گانے والی عورتوں کا رواہ ہو جائے اور ڈھولک سارنگی طبلہ اور ایسی چیزیں کثرت سے ہو جائیں اور پچھلے لوگ امت کے پہلے بزرگوں کو برا بھلا کہنے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایسے وقت میں ایسے ایسے عذابوں کے منتظر رہو کہ سرخ آندھی آئے اور بعضے لوگ زمین میں دھنس جائیں اور آسمان سے پتھر برسیں اور صورتیں بدل جائیں یعنی آدمی سور کتے ہو جائیں۔ اور بہت سی آفتیں آگے پیچھے جلدی جلدی اس طرح آنے لگیں جیسے بہت سے دانے کسی تاگے میں پرو رکھے ہوں اور وہ تاگا ٹوٹ جائے اور سب دانے اوپر تلے جھٹ جھٹ گرنے لگیں اور یہ نشانیاں بھی آئی ہیں کہ دین کا علم کم ہو جائے اور جھوٹ بولنا ہنر سمجھا جائے۔ اور امانت کا خیال دلوں میں سے جاتا رہے اور حیا شرم جاتی رہے اور سب طرف کافروں کا رد ہو جائے اور جھوٹے جھوٹے طریقے نکلنے لگیں۔ جب یہ ساری نشانیاں ہو چکیں اس وقت سب ملکوں میں نصاریٰ لوگوں عیسائیوں کی عملداری ہو جائے اور اسی زمانے میں شام کے ملک میں ایک شخص ابو سفیان کی اولاد سے ایسا پیدا ہو کہ بہت سیدوں کا خون کرے اور شام اور مصر میں اس کے حکم احکام چلنے لگیں۔

اسی عرصہ میں روم کے مسلمان بادشاہ کی نصاریٰ کی ایک جماعت سے لڑائی ہو اور نصاریٰ کی ایک جماعت سے صلح ہو جائے دشمن جماعت شہر قسطنطنیہ پر چڑھائی کر کے اپنا عمل دخل کر لیں وہ بادشاہ اپنا ملک چھوڑ کر شام کے ملک میں چلا جائے اور نصاریٰ کی جس جماعت سے صلح اور میل ہو اس جماعت کو اپنے ساتھ شامل کر کے اس دشمن جماعت سے بڑی بھاری لڑائی ہو۔ اور اسلام کے لشکر کو فتح ہو۔ ایک دن بیٹھے بٹھلائے جو نصاریٰ موافق تھے ان میں سے ایک شخص ایک مسلمان کے سامنے کہنے لگے کہ ہماری صلیب کی برکت سے فتح ہوئی مسلمان اس کے جواب میں کہے کہ اسلام کی برکت سے فتح ہوئی۔ اسی میں بات بڑھ جائے یہاں تک کہ دونوں آدمی اپنے اپنے مذہب والوں کو پکار کر جمع کر لیں اور آپس میں لڑائی ہونے لگے۔ اس میں اسلام کا بادشاہ شہید ہو جائے اور شام کے ملک میں بھی نصاریٰ کا عمل دخل ہو جائے۔ اور یہ نصاریٰ اسی دشمن جماعت سے صلح کر لیں۔ اور بچے کھچے مسلمان مدینہ کو چلے جائیں اور خیبر کے پاس تک نصاریٰ کی عملداری ہو جائے اس وقت مسلمانوں کو فکر ہو کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کو تلاش کرنا چاہیے تاکہ ان مصیبتوں سے جان چھوٹے۔ اس وقت حضرت امام مہدی علیہ السلام مدینہ منورہ میں ہوں گے اور اس ڈر سے کہ کہیں حکومت کے لیے میرے سر نہ ہوں مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کو چلے جائیں گے۔ اور اس مانے کے ولی جو ابدال کا درجہ رکھتے ہیں سب حضرت امام کی تلاش میں ہوں گے اور بعضے لوگ جھوٹ موٹ بھی دعوی مہدی ہونے کا کرنا شروع کر دیں گے۔ غرض امام خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوں گے اور حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان میں ہوں گے اور بعضے نیک لوگ ان کو پہچان لیں گے اور ان کو زبردستی گھیر گھار کر ان سے حاکم بنانے کی بیعت کر لیں گے اور اسی بیعت میں ایک آواز آسمان سے آئے گی جس کو سب لوگ جتنے وہاں موجود ہوں گے سنیں گے۔

وہ آواز یہ ہو گی کہ یہ اللہ تعالی کے خلیفہ یعنی حاکم بنائے ہوئے امام مہدی ہیں اور حضرت امام کے ظہور سے بڑی نشانیاں قیامت کی شروع ہوتی ہیں غرض جب آپ کی بیعت کا قصہ مشہور ہو گا تو مدینہ منورہ میں جو فوجیں مسلمانوں کی ہوں گی وہ مکہ چلی آئیں گی۔ اور ملک شام اور عراق اور یمن کے ابدال اور اولیاء سب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور بھی عرب کی بہت فوجیں اکٹھی ہو جائیں گی۔ جب یہ خبر مسلمانوں میں مشہور ہو گی۔

ایک شخص خراسان سے حضرت امام کی مدد کے واسطے ایک بڑی فوج لے کر چلے گا۔ جس کے لشکر کے آگے چلنے والے حصے کے سردار کا نام منصور ہو گا۔ اور راہ میں بہت سے بد دینوں کی صفائی کرتا جائے گا۔ اور جس شخص کا اوپر ذکر آیا ہے کہ ابو سفیان کی اولاد میں ہو گا۔ اور سیدوں کا دشمن ہو گا۔ چونکہ حضرت امام بھی سید ہوں گے وہ شخص حضرت امام کے لڑنے کو ایک فوج بھیجے گا جب یہ فوج مکہ مدینہ کے درمیان کے جنگل میں پہنچے گی اور ایک پہاڑ کے تلے ٹھیرے گی تو یہ سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے۔ صرف دو آدمی بچ جائیں گے جن میں سے ایک تو حضرت امام کو جا کر خبر دے گا۔ اور دوسرا اس سفیانی کو خبر پہنچائے گا اور نصاریٰ سب طرف سے فوجیں جمع کریں گے اور مسلمانوں سے لڑنے کی تیاری کریں گے۔ اس لشکر میں اس روز اسی جھنڈے میں ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ساتھ بارہ ہزار آدمی ہوں گے تو کل آدمی نو لاکھ ساٹھ ہزار ہوئے۔ حضرت امام مکہ سے چل کر مدینہ تشریف لائیں گے اور وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار شریف کی زیارت کر کے شام کے ملک کو روانہ ہوں گے اور شہر دمشق تک پہنچنے پائیں گے کہ دوسری طرف سے نصاریٰ کی فوج مقابلہ میں آ جائے گی۔ حضرت امام کی فوج تین حصے ہو جائے گی۔ ایک حصہ تو بھاگ جائے گا۔ ایک حصہ شہید ہو جائے گا۔ اور ایک حصہ کو فتح ہو گی اور اس شہادت اور فتح کا قصہ یہ ہو گا کہ حضرت امام نصاریٰ سے لڑنے کو لشکر تیار کریں گے۔ اور بہت سے مسلمان آپس میں قسم کھائیں گے کہ بے فتح کیے ہوئے نہ ہٹیں گے پس سارے آدمی شہید ہو جائیں گے۔ صرف تھوڑے سے آدمی بچیں گے جن کو لے کر حضرت امام اپنے لشکر میں چلے آئیں گے۔ اگلے دن پھر اسی طرح کا قصہ ہو گا کہ قسم کھا کر جائیں گے اور تھوڑے سے بچ کر آئیں گے۔ اور تیسرے دن بھی ایسا ہی ہو گا۔ آخر چوتھے روز یہ تھوڑے سے آدمی مقابلہ کریں گے اور اللہ تعالی فتح دیں گے۔ اور پھر کافروں کے دماغ میں حوصلہ حکومت کا نہ رہے گا۔

اب حضرت امام ملک کا بندوبست شروع کریں گے اور سب طرف فوجیں روانہ کریں گے اور خود ان سارے کاموں سے نمٹ کر قسطنطنیہ فتح کرنے کو چلیں گے جب دریائے روم کے کنارے پر پہنچیں گے بنو اسحاق کے ستر ہزار آدمیوں کو کشتیوں پر سوار کر کے اس شہر کے فتح کرنے کے واسطے تجویز کریں گے جب یہ لوگ شہر کی فصیل کے مقابل پہنچیں گے اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر بآوز بلند کہیں گے اس نام کی برکت سے شہر پناہ کے سامنے کے دیوار گر پڑے گی اور مسلمان حملہ کر کے شہر کے اندر گھس پڑیں گے اور کفار کو قتل کریں گے اور خوب انصاف اور قاعدے سے ملک کا بندوبست کریں گے۔ اور حضرت امام سے جب بتح ہوئی تھی اس وقت سے اس فتح تک چھ سال یا سات سال کی مدت گزرے گی۔ حضرت امام یہاں کے بندوبست میں لگے ہوں گے کہ ایک جھوٹی خبر مشہور ہو گی کہ یہاں کیا بیٹھے ہو وہاں شام میں دجال گیا۔ اور تمہارے خاندان میں فتنہ و فساد کر رہا ہے اس خبر پر حضرت امام شام کی طرف سفر کریں گے اور تحقیق حال کے واسطے نو یا پانچ سواروں کو آگے بھیج دیں گے۔ ان میں سے ایک شخص کر خبر دے گا کہ وہ خبر محض غلط تھی ابھی دجال نہیں نکلا حضرت امام کو اطمینان ہو جائے گا۔ اور پھر سفر میں جلدی نہ کریں گے اطمینان کے ساتھ درمیان کے ملکوں کا بندوبست دیکھتے بھالتے شام میں پہنچیں گے وہاں پہنچ کر تھوڑے ہی دن گزریں گے کہ دجال بھی نکل پڑے گا۔ اور دجال یہودیوں کی قوم میں سے ہو گا۔ اول شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا اور دعوی نبوت کا کرے گا۔ پھر اصفہان میں پہنچے گا۔ اور وہاں کے ستر ہزار یہودی اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور خدائی کا دعوی شروع کر دے گا۔ اسی طرح بہت سے ملکوں پر گزرتا ہوا یمن کی سرحد تک پہنچے گا۔ اور ہر جگہ سے بہت سے بددین ساتھ ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ مکہ معظمہ کے قریب آ کر ٹھہرے گا۔ لیکن فرشتوں کی حفاظت کی وجہ سے شہر کے اندر نہ جانے پائے گا۔

پھر وہاں سے مدینہ کا ارادہ کرے گا اور وہاں بھی فرشتوں کا پہرہ ہو گا جس سے اندر نہ جانے پائے گا۔ مگر مدینہ کو تین بار ہالن آئے گا۔ ا ور جتنے آدمی دین میں سست اور کمزور ہوں گے سب زلزلہ سے ڈر کر مدینہ سے باہر نکل کھڑے ہوں گے اور دجال کے پھندے میں پھنس جائیں گے اس وقت مدینہ میں کوئی بزرگ ہوں گے جو دجال سے خوب بحث کریں گے دجال جھنجلا کر ان کو اس وقت قتل کر دے گا اور پھر زندہ کر کے پوچھے گا اب تو میرے خدا ہونے کے قائل ہوتے ہو وہ فرمائیں گے کہ اب تو اور بھی یقین ہو گیا کہ تو دجال ہے پھر وہ ان کو مارنا چاہے گا مگر اس کا کچھ بس نہ چلے گا۔ اور ان پر کوئی چیز اثر نہ کرے کی وہاں سے دجال ملک شام کو روانہ ہو گا۔

جب دمشق کے قریب پہنچے گا اور حضرت امام وہاں پہلے سے پہنچ چکے ہوں گے اور لڑائی کے سامان میں مشغول ہوں گے کہ عصر کا وقت آ جائے گا اور مؤذن اذان کہے گا اور لوگ نماز کی تیاری میں ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسی علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اترتے نظر آئیں گے اور جامع مسجد کی مشرق کی طرف کے منارے پر آ کر ٹھیریں گے اور وہاں سے زینہ لگا کر نیچے تشریف لائیں گے۔ حضرت امام سب لڑائی کا سامان ان کے سپرد کرنا چاہیں گے۔ وہ فرمائیں گے لڑائی کا انتظام آپ ہی رکھیں میں خاص دجال کے قتل کرنے کو آیا ہوں۔ غرض جب رات گزر کر صبح ہو گی حضرت امام لشکر کو آراستہ فرمائیں گے اور حضرت عیسی علیہ السلام ایک گھوڑا ایک نیزہ منگا کر دجال کی طرف بڑھیں گے اور اہل اسلام دجال کے لشکر پر حملہ کریں گے اور بہت سخت لڑائی ہو گی اور اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام کے سانس میں یہ تاثیر ہو گی کہ جہاں تک نگاہ جائے وہاں تک سانس پہنچ سکے اور جس کافر کو سانس کی ہوا لگا دیں وہ فورا ہلاک ہو جائے دجال حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھ کر بھاگے گا۔ آپ اس کا پیچھا کریں گے۔ یہاں تک کہ باب لد ایک مقام ہے وہاں پہنچ کر نیزے سے اس کا کام تمام کریں گے اور مسلمان دجال کے لشکر کو قتل کرنا شروع کریں گے۔ پھر حضرت عیسی علیہ السلام شہروں شہروں تشریف لے جا کر جتنے لوگوں کو دجال نے ستایا تھا سب کی تسلی کریں گے اور خدائے تعالی کے فضل سے اس وقت کوئی کافر نہ رہے گا۔ پھر حضرت امام کا انتقال ہو جائے گا۔ اور سب بندوبست حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے ان کے رہنے کی جگہ شمال کی طرف آبادی ختم ہوئی ہے اس سے بھی آگے سات ولایت سے باہر ہے اور ادھر کا سمندر زیادہ سردی کی وجہ سے ایسا جما ہوا ہے کہ اس میں جہاز بھی نہیں چل سکتا۔

حضرت عیسی علیہ السلام مسلمانوں کو خدائے تعالی کے حکم کے موافق طور پہاڑ پر لے جائیں گے اور یاجوج ماجوج بڑا ادھم مچائیں گے۔ آخر کو اللہ تعالی ان کو ہلاک کریں گے اور عیسی علیہ السلام پہاڑ سے اتر آئیں گے اور چالیس برس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام وفات فرمائیں گے اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ میں دفن ہوں گے اور آپ کی گدی پر ایک شخص ملک یمن کے رہنے والے بیٹھیں گے جن کا نام جہجاج ہو گا اور قحطان کے قبیلے سے ہوں گے اور بہت دیندار اور انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے۔ ان کے بعد آگے پیچھے اور کئی بادشاہ ہوں گے پھر رفتہ رفتہ نیک باتیں کم ہونا شروع ہوں گی اور بری باتیں بڑھنے لگیں گی اس وقت آسمان پر ایک دھواں سا چھا جائے گا اور زمین پر برسے گا۔ جس سے مسلمانوں کو زکام اور کافروں کو بیہوشی ہو گی۔ چالیس روز کے بعد آسمان صاف ہو جائے گا اور اسی زمانہ کے قریب بقر عید کا مہینہ ہو گا۔ دسویں تاریخ کے بعد دفعتہ ایک رات اتنی لمبی ہو گی کہ مسافروں کا دل گھبرا جائے گا اور بچے سوتے سوتے اکتا جائیں گے اور چوپائے جنگل میں جانے کے لیے چلانے لگیں گے اور کسی طرح صبح نہ ہو گی۔ یہاں تک کہ تمام آدمی ہیبت اور گھبراہٹ سے بیقرار ہو جائیں گے۔ جب تین راتوں کی برابر وہ رات ہو چکے گی اس وقت سورج تھوڑی روشنی لیے ہوئے جیسے گہن لگنے کے وقت ہوتا ہے مغرب کی طرف سے نکلے گا اس وقت کسی کا ایمان یا توبہ قبول نہیں ہو گی۔ جب سورج اتنا اونچا ہو جائے گا جتنا دوپہر سے پہلے ہوتا ہے پھر خدائے تعالی کے حکم سے مغرب ہی کی طرف لوٹے گا اور دستور کے موافق غروب ہو گا۔

پھر ہمیشہ اپنے قدیم قاعدے کے موافق روشن اور رونق دار نکلتا رہے گا اس کے تھوڑے ہی دن کے بعد صفا پہاڑ جو مکہ میں ہے زلزلہ آ کر پھٹ جائے گا اور اس جگہ سے ایک جانور بہت عجیب شکل و صورت کا نکل کر لوگوں سے باتیں کرے گا اور بڑی تیزی سے ساری زمین میں پھر جائے گا اور ایمان والوں کی پیشانی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے نورانی لکیر کھینچ دے گا جس سے سارا چہرہ اس کا روشن ہو جائے گا اور بے ایمانوں کی ناک یا گردن پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی سے سیاہ مہر کر دے گا جس سے اس کا چہرہ میلا ہو جائے گا اور یہ کام کر کے وہ غائب ہو جائے گا۔ اس کے بعد جنوب کی طرف سے ایک ہوا نہایت فرحت دینے والی چلے گی اس سے سب ایمان والوں کی بغل میں کچھ نکل آئے گا جس سے وہ مر جائیں گے۔ جب سب مسلمان مر جائیں گے اس وقت کافر حبشیوں کا ساری دنیا میں عمل دخل ہو جائے گا اور وہ لوگ خانہ کعبہ کو شہید کریں گے اور حج بند ہو جائے گا اور قرآن شریف دلوں سے اور کاغذوں سے اٹھ جائے گا اور خدا کا خوف اور خلقت کی شرم سب اٹھ جائے گی اور کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا۔ اس وقت ملک شام میں بہت ارزانی ہو گی لوگ اونٹوں پر سواریوں پر پیدل ادھر جھک پڑیں گے اور جو رہ جائیں گے ایک آگ پیدا ہو گی اور سب کو ہانکتی ہوئی شام میں پہنچائے گی۔ اور حکمت اس میں یہ ہے کہ قیامت کے روز سب مخلوق اسی ملک میں جمع ہو گی پھر وہ آگ غائب ہو جائے گی اور اس وقت دنیا کو بڑی ترقی ہو گی۔ تین چار سال اسی حال سے گزریں گے کہ دفعۃ جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ صبح کے وقت سب لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہوں گے کہ صور پھونکا دیا جائے گا۔ اول ہلکی ہلکی آواز ہو گی پھر اس قدر بڑھے گی کہ اس کی ہیبت سے سب مر جائیں گے۔ زمین و آسمان پھٹ جائیں گے اور دنیا فنا ہو جائے گی۔ اور جب آیت مغرب سے نکلا تھا اس وقت سے صور کے پھونکنے تک ایک سو بیس برس کا زمانہ ہو گا۔

اب یہاں سے قیامت کا دن شروع ہو گیا۔

خاص قیامت کے دن کا ذکر

جب صور پھونکنے سے تمام دنیا فنا ہو جائے گی چالیس برس اسی سنسانی کی حالت میں گزر جائیں گے پھر حق تعالی کے حکم سے دوسری بار صور پھونکا جائے گا اور پھر زمین آسمان اسی طرح قائم ہو جائے گا اور مردے قبروں سے زندہ ہو کر نکل پڑیں گے اور میدان قیامت میں اکٹھے کر دیئے جائیں گے اور آیت بہت نزدیک ہو جائے گا جس کی گرمی سے دماغ لوگوں کے پکنے لگیں گے اور جیسے جیسے لوگوں کے گناہ ہوں گے اتنا ہی زیادہ پسینہ نکلے گا اور لوگ اس میدان میں بھوکے پیاسے کھڑے کھڑے پریشان ہو جائیں گے جو نیک لوگ ہوں گے ان کے لیے اس زمین کی مٹی مثل میدے کے بنائی جائے گی۔ اس کو کھا کر بھوک کا علاج کریں گے اور پیاس بجھانے کے لیے حوض کوثر پر جائیں گے۔ پھر جب میدان قیامت میں کھڑے کھڑے دق ہو جائیں گے اس وقت سب مل کر اول حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پھر اور نبیوں کے پاس اس بات کی سفارش کرانے کے لیے جائیں گے کہ ہمارا حساب و کتاب اور کچھ فیصلہ جلدی ہو جائے۔ سب پیغمبر کچھ کچھ عذر کریں گے اور سفارش کا وعدہ نہ کریں گے سب کے بعد ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وہی درخواست کریں گے آپ حق تعالی کے حکم سے قبول فرما کر مقام محمود میں ایک مقام کا نام ہے تشریف لے جا کر شفاعت فرمائیں گے۔ حق تعالی کا ارشاد ہو گا کہ ہم نے سفارش قبول کی اب ہم زمین پر اپنی تجلی فرما کر حساب کیے دیتے ہیں۔

اول آسمان سے فرشتے بہت کثرت سے اترنا شروع ہوں گے اور تمام آدمیوں کو ہر طرف سے گھیر لیں گے پھر حق تعالی کا عرش اترے گا اس پر حق تعالی کی تجلی ہو گی اور حساب کتاب شروع ہو جائے گا اور اعمال نامے اڑائے جائیں گے ایمان والوں کے داہنے ہاتھ میں اور بے ایمانوں کو بائیں ہاتھ میں وہ خود بخود آ جائیں گے اور اعمال تولنے کی ترازو کھڑی کی جائے آگ جس سے سب کی نیکیاں اور بدیاں معلوم ہو جائیں گی اور پل صراط پر چلنے کا حکم ہو گا۔ جس کی نیکیاں تول میں زیادہ ہوں گی وہ پل سے پار ہو کر بہشت میں جا پہنچے گا۔ اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے اگر خدائے تعالی نے معاف نہ کر دیئے ہوں گے وہ دوزخ میں گر جائے گا اور جس کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے ایک مقام ہے اعراف جنت دوزخ کے بیچ میں وہ وہاں رہ جائے گا اس کے بعد ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام اور عالم اور ولی اور شہید اور حافظ اور نیک بندے گنہگار لوگوں کو بخشوانے کے لیے شفاعت کریں گے ان کی شفاعت قبول ہو گی۔ اور جس کے دل میں ذرا ظہور سا بھی ایمان ہو گا وہ دوزخ سے نکال کر بہشت میں داخل کر دیا جائے گا۔ اسی طرح جو لوگ اعراف میں ہوں گے وہ بھی آ کر کو جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے اور دوزخ میں خالی وہی لوگ رہ جائیں گے جو بالکل کافر اور مشرک ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو کبھی دوزخ سے نکلنا نصیب نہ ہو گا۔ جب سب جنتی اور دوزخی اپنے اپنے ٹھکانہ ہو جائیں گے اس وقت اللہ تعالی دوزخ اور جنت کے بیچ میں موت کو ایک مینڈھے کی صورت پر ظاہر کرے گا سب جنتیوں اور دوزخیوں کو دکھلا کر اس کو ذبح کرا دیں گے اور فرمائیں گے اب نہ جنتوں کو موت آئے گی نہ دوزخیوں کو آئے گی سب کو اپنے اپنے ٹھکانہ پر ہمیشہ کے لیے رہنا ہو گا اس وقت نہ جنتیوں کی خوشی کی کوئی حد ہو گی اور نہ دوزخیوں کے صدمے اور رنج کی کوئی انتہا ہو گی۔

بہشت کی نعمتوں اور دوزخ کی مصیبتوں کا ذکر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے واسطے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی آدمی کے دل میں ان کا خیال آیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کی عمارت میں ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک اینٹ سونے کی۔ اور اینٹوں کے جوڑنے کا گارا خالص مشک کا ہے اور جنت کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور وہاں کی مٹی زعفران ہے جو شخص جنت میں چلا جائے گا چین سکھ میں رہے گا اور رنج و غم نہ دیکھے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کو اسی میں رہے گا کبھی نہ مرے گا۔ نہ ان لوگوں کے کپڑے میلے ہوں گے۔ نہ ان کی جوانی ختم ہو گی اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں دو باغ تو ایسے ہیں کہ وہاں کے برتن اور سب سامان چاندی کا ہو گا۔ اور دو باغ ایسے ہیں کہ وہاں کے برتن اور سب سامان سونے کا ہو گا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں سو درجے اوپر تلے ہیں اور ایک درجے سے دوسرے درجے تک اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان میں فاصل ہے یعنی پانچ سو برس اور سب درجوں میں بڑا درجہ فردوس کا ہے اور اسی سے جنت کی چاروں نہریں نکلی ہیں یعنی دودھ اور شہد اور شراب طہور اور پانی کی نہریں اور اس سے اوپر عرش ہے۔ تم جب اللہ سے مانگو تو فردوس مانگا کرو۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ان میں ایک ایک درجہ اتنا بڑا ہے کہ اگر تمام دنیا کے آدمی ایک میں بھر دیئے جائیں تو اچھی طرح سما جائیں۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں جتنے درخت ہیں سب کا تنہ سونے کا ہے۔

اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سب سے پہلے جو لوگ جنت میں جائیں گے ان کا چہرہ ایسا روشن ہو گا جیسے چودھویں رات کا چاند پھر جو ان سے پیچھے جائیں گے ان کا چہرہ تیز روشنی والے ستارے کی طرح ہو گا نہ وہاں پیشاب کی ضرورت ہو گی نہ پاخانے کی نہ تھوک کی نہ رینٹھ کی۔ کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہو گا۔ کسی نے پوچھا کہ پھر کھانا کہاں جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ڈکار آئے گا جس میں مشک کی خوشبو ہو گی اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت والوں میں جو سب سے ادنی درجہ ہو گا اس سے اللہ تعالی پوچھیں گے کہ اگر تجھ کو دنیا کے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر دے دیں تو تو راضی ہو جائے گا وہ کہے گا اے پروردگار میں راضی ہوں ارشاد ہو گا جا تجھ کو اس کے پانچ حصے کے برابر دے دیا وہ کہے گا اے رب میں راضی ہو گیا۔ پھر ارشاد ہو گا جا تجھ کو اتنا دیا اور اس سے دس گناہ دیا۔ اور اس کے علاوہ جس چیز کو تیرا جی چاہے گا اور جس سے تیری آنکھ کو لذت ہو گی وہ تجھ کو ملے گا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ دنیا ور اس سے دس حصے زیادہ کے برابر اس کو ملے گا۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالی جنت والوں سے پوچھیں گے کہ تم خوش بھی ہو وہ عرض کریں گے کہ بھلا خوش کیوں نہ ہوتے آپ نے تو ہم کو وہ چیزیں دی ہیں جو آج تک کسی مخلوق کو نہیں دیں۔ ارشاد ہو گا کہ ہم تم کو ایسی چیز دیں جو ان سب سے بڑھ کر ہو وہ عرض کریں گے ان سے بڑھ کر کیا چیز ہو گی۔ ارشاد ہو گا کہ وہ چیز ہے کہ میں تم سے ہمیشہ خوش رہوں گا کبھی ناراض نہ ہوں گا۔

اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب جنت والے جنت میں جا چکیں گے اللہ تعالی ان سے فرمائیں گے تم اور کچھ زیادہ چاہتے ہو میں تم کو دوں وہ عرض کریں گے کہ ہمارے چہرے آپ نے روشن کر دیئے ہم کو جنت میں داخل کر دیا ہم کو دوزخ سے نجات دے دی اور ہم کو کیا چاہیے اس وقت اللہ تعالی پردہ اٹھا دیں گے اتنی پیاری کوئی نعمت نہ ہو گی جس قدر اللہ تعالی کے دیدار میں لذت ہو گی اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دوزخ کو ہزار برس تک دھونکایا یہاں تک کہ اس کا رنگ سرخ ہو گیا۔ پھر ہزار برس تک دھونکایا یہاں تک کہ سفید ہو گئی۔ پھر ہزار برس اور دھونکایا یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی۔ اب وہ بالکل سیاہ تاریک ہے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم نے کہ تمہاری یہ آگ جس کو جلاتے ہو دوزخ کی آگ سے ستر حصے تیزی میں کم ہے۔ اور وہ ستر حصے اس سے زیادہ تیز ہیںا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر ایک بڑا بھاری پتھر دوزخ کے کنارے سے چھوڑا جائے اور ستر برس تک برابر چلا جائے تب جا کر اس کی تہ میں جا پہنچے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دوزخ کو لایا جائے گا۔ اس کی ستر ہزار باگیں ہوں گی اور ہر ایک باگ کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوں گے جس سے اس کو گھسیٹیں گے۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سب میں ہلکا عذاب دوزخ میں ایک شخص کو ہو گا کہ اس کے پاؤں میں فقط آگ کی دو جوتیاں ہیں مگر اس سے اس کا بھیجا ہنڈیا کی طرح پکتا ہے اور وہ یوں سمجھتا ہے کہ مجھ سے بڑھ کر کسی پر عذاب نہیں۔ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دوزخ میں ایسے بڑے سانپ ہیں جیسے اونٹ اگر ایک دفعہ کاٹ لیں تو چالیس برس تک زہر چڑھا رہے اور بچھو ایسے ایسے بڑے ہیں جیسے پالان کاٹھی کسا ہوا خچر۔

وہ اگر کاٹ لیں تو چالیس برس تک لہر اٹھتی رہے اور ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے آج نماز میں جنت اور دوزخ کا ہو بہو نقشہ دیکھا نہ آج تک میں نے جنت سے زیادہ کوئی اچھی چیز دیکھی اور نہ دوزخ سے زیادہ کوئی چیز تکلیف کی دیکھی۔