روزے کا بیان

حدیث شریف میں روزہ کا بڑا ثواب آیا ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک روزہ دار کا بڑا رتبہ ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جس نے رمضان کے روزے محض اللہ تعالی کے واسطے ثواب سمجھ کر رکھے تو اس کے سب اگلے گناہ صغیرہ بخش دیئے جائیں گے اور نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پیاری ہے قیامت کے دن روزہ کا بے حد ثواب ملے گا۔ روایت ہے کہ روزہ داروں کے واسطے قیامت کے دن عرش کے تلے دستر خوان چنا جائے گا وہ لوگ اس پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے اور سب لوگ ابھی حساب ہی میں پھنسے ہوں گے۔ اس پر وہ لوگ کہیں گے کہ یہ لوگ کیسے ہیں کہ کھانا کھا پی رہے ہیں اور ہم ابھی حساب ہی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کو جواب ملے گا کہ یہ لوگ روزہ رکھا کرتے تھے اور تم لوگ روزہ نہ رکھتے تھے۔ یہ روزہ بھی دین اسلام کا بڑا رکن ہے جو کوئی رمضان کے روزے نہ رکھے گا بڑا گناہ ہو گا اور اس کا دین کمزور ہو جائے گا۔

مسئلہ۔ رمضان شریف کے روزے ہر مسلمان پر جو مجنون اور نابالغ نہ ہو فرض ہیں جب تک کوئی عذر نہ ہو روزہ چھوڑنا درست نہیں ہے۔ اور اگر کوئی روزہ کی نذر کر لے تو نذر کر لینے سے روزہ فرض ہو جاتا ہے۔ اور قضا اور کفارے کے روزے بھی فرض ہیں اور اس کے سوا اور سب روزے نفل ہیں رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کوئی گناہ نہیں البتہ عید اور بقر عید کے دن اور بقر عید سے بعد تین دن روزہ رکھنا حرام ہے۔

مسئلہ۔ جب سے فجر کی نماز کا وقت آتا ہے اس وقت سے لے کر سورج ڈوبنے تک روزے کی نیت سے سب کھانا اور پینا چھوڑ دے اور مرد سے ہمبستری بھی نہ ہو۔ شرع میں اس کو روزہ کہتے ہیں۔

مسئلہ۔ زبان سے نیت کرنا اور کچھ کہنا ضرور نہیں ہے بلکہ جب دل میں یہ دھیان ہے کہ آج میرا روزہ ہے اور دن بھر نہ کچھ کھایا نہ پیا نہ ہمبستری ہوئی تو اس کا روزہ ہو گیا۔ اور اگر کوئی زبان سے بھی کہہ دے کہ یا اللہ میں کل تیرا روزہ رکھوں گی یا عربی میں یہ کہہ دے کہ بصوم غد نویت تو بھی کچھ حرج نہیں یہ بھی بہتر ہے۔

مسئلہ۔ اگر کسی نے دن بھر نہ تو کچھ کھایا نہ پیا صبح سے شام تک بھوکی پیاسی رہی لیکن دل میں روزہ کا ارادہ نہ تھا بلکہ بھوک نہیں لگی یا کسی اور وجہ سے کچھ کھانے پینے کی نوبت نہیں آئی تو اس کا روزہ نہیں ہوا۔ اگر دل میں روزہ کا ارادہ کر لیتی تو روزہ ہو جاتا۔

مسئلہ۔ شرع سے روزہ کا وقت صبح صادق کے وقت سے شروع ہوتا ہے اس لیے جب تک صبح نہ ہو کھانا پینا وغیرہ سب کچھ جائز ہے۔ بعضی عورتیں پچھلے کو سحری کھا کر نیت کی دعا پڑھ کر لیٹی رہتی ہیں اور یہ سمجھتی ہیں کہ اب نیت کر لینے کے بعد کچھ کھانا پینا نہ چاہیے یہ خیال غلط ہے۔ جب تک صبح نہ ہو برابر کھا پی سکتی ہے چاہے نیت کر چکی ہو یا ابھی نہ کی ہو۔

غسل اور کفنانے کا طریقہ

ایک گھڑے میں دو مٹھی بیری کے پتے ڈال کر پانی جوش دے لو اور اس کے دو گھڑے بنا لو۔ اور ایک گڑھا شمالاً جنوباً لمبا کھودو یہ ضروری نہیں کہ اگر کوئی ایسا موقع ہو کہ پانی کسی نالی وغیرہ کے ذریعہ سے بہہ جائے تو اس کے قریب تختہ رکھ لینا کافی ہے اور اس پر تختہ اسی رخ سے بچھا کر تین دفعہ لوبان کی دھونی دے لو اور مردے کو اس پر لٹاؤ اور کرتہ انگرکھا وغیرہ کو چاک کر کے نکال لو۔ اور تہبند ستر پر ڈال کر استعمالی پارچہ اندر ہی اندر اتار لو۔ اور پیٹ پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرو نجاست خارج ہو یا نہ ہو دونوں صورت میں مٹی کے تین یا پانچ ڈھیلوں سے استنجا کرو۔ پھر پانی سے استنجا کرو مگر ہاتھ میں دستانہ یعنی تھیلی پہن لو۔ بلا تھیلی کے ستر پر ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔ پھر روئی کا پھایہ تر کر کے ہونٹوں اور دانتوں پر پھیر کر پھینک دو اسی طرح تین مرتبہ کرو۔ اسی صورت سے تین مرتبہ ناک اور رخساروں پر پھیرو پھر منہ اور ناک اور کانوں میں روئی رکھ دو کہ پانی نہ جائے پھر سر اور داڑھی کو گل کیرو یا صابن سے دھو دو۔ پھر وضو کراؤ۔ اول میت کا منہ دھوؤ پھر کہنیوں تک دونوں ہاتھ پھر سر کا مسح پھر دونوں پاؤں دھو دو۔ پھر سارے بدن پر پانی بہاؤ پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر پانی بہا دو۔ پھر داہنی کروٹ پر ایسا ہی کرو۔ پھر دوسرا دستانہ پہن کر بدن کو صاف کر دو اور تہبند دوسرا بدل دو۔

پھر چارپائی بچھا کر اس پر اول لفافہ اس پر ازار پھر اس پر نیچے کا حصہ کفنی کا بچھا کر باقی حصہ بالائی کو سمیٹ کر سرہانے کی طرف رکھ دو پھر مردے کے تختہ سے بہتگی اٹھا کر اس پر لٹاؤ اور کفنی کے حصہ کو سر کی طرف الٹ دو کہ گلے میں جائے اور پیروں کی طرف بڑھا دو اور تہبند نکال دو اور کافور سر اور ڈاڑھی اور سجدہ کے موقعوں پر پیشانی ناک دونوں ہتھیلی دونوں کہنی دونوں پنجے مل دو پھر ازار کا بایاں پلہ لوٹ کر اس پر دایاں پلہ لوٹ دو اور لفافہ کو بھی ایسے ہی کرو اور ایک کتر لے کر سرہانے اور پائنتی چادر کے گوشہ چن کر باندھ دو۔ سینہ بند سے عورت کی چھاتیاں لپیٹ دو۔ سربند کا ذکر نقشہ میں ہو گیا۔ عورت کے گہوارے پر چادر ڈالی جاتی ہے جس کا ذکر اوپر ہو لیا۔

تنبیہ بعض کپڑے لوگوں نے کفن کے ساتھ ضرور سمجھ رکھا ہے حالانکہ وہ کفن مسنون سے خارج ہے۔ ترکہ میت سے ان کا خریدنا جائز نہیں وہ یہ ہیں جائے نماز طول سوا گز عرض چودہ گرہ پٹکا طول ڈیڑھ گز عرض چودہ گرہ یہ مردہ کو قبر میں اتارنے کے لیے ہوتا ہے۔ بچھونا طول اڑھائی گز عرض سوا گز یہ چار پائی پر بچھانے کے لیے ہوتا ہے۔ دامنی طول دو گز عرض سوا گز بقدر استطاعت چار سے سات تک محتاجیں کو دیتے ہیں جو محض عورت کے لیے مخصوص ہیں۔ چادر کلاں مرد کے جنازے پر طول تین گز عرض پونے دو گز جو چارپائی کو ڈھانک لیتی ہے البتہ عورت کے لیے ضروری ہے مگر ہے کفن سے خارج اس لیے اس کا ہمرنگ کفن ہونا ضروری نہیں۔ پردہ کے لیے کوئی سا کپڑا ہو کافی ہے۔

تنبیہ اگر جائے نماز وغیرہ کی ضرورت کبھی خیال میں آئے تو گھر کے کپڑے کار آمد ہو سکتے ہیں۔ ترکہ میت سے ضرورت نہیں یا کوئی عزیز اپنے مال سے خرید دے۔

مسئلہ۔ سامان غسل و کفن میں سے اگر کوئی چیز گھر موجود ہو اور پاک صاف ہو تو اس کے استعمال میں حرج نہیں

مسئلہ۔ کپڑا کفن کا اسی حیثیت کا ہونا چاہیے جیسا مردہ اکثر زندگی میں استعمال کرتا تھا تکلفات فضول ہیں۔

مسئلہ جو بچہ علامت زندگی کی ظاہر ہو کر مر گیا تو اس کا نام اور غسل اور نماز سب ہو گی اور اگر کوئی علامت نہ پائی گئی تو غسل دے کر اور ایک کپڑا میں لپیٹ کر بدون نماز دفن کر دیں گے۔

قبر میں مردے کو قبلہ رخ اس طرح کہ تمام جسم کو کروٹ دی جائے لٹائیں اور کفن کی گرہ کھول دیں اور سلف صالحین کے موافق ایصال ثواب کریں۔ وہ اس طرح کہ کسی رسم کی قید اور کسی دن کی تخصیص نہ کریں اپنی ہمت کے موافق حلال مال سے مساکین کی خفیہ مدد کریں اور جس قدر توفیق ہو بطور خود قرآن شریف وغیرہ پڑھ کر اس کو ثواب پہنچا دیں اور قبل دفن قبرستان میں جو فضول وقت خرافات باتوں میں گزارتے ہیں اس وقت کلمہ پڑھتے اور ثواب بخشتے رہا کریں۔ فقط تمت

مرنے کا شرعی دستور العمل

نزع کے وقت سورہ یسین پڑھو اور قریب موت داہنی کروٹ پر قبلہ رخ لٹاؤ کہ مسنون ہے جبکہ مریض کو تکلیف نہ ہو ورنہ اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اور چت لٹانا بھی جائز ہے کہ پاؤں قبلہ کی طرف ہوں اور سر کسی قدر اونچا کر دیا جائے اور پاس بیٹھنے والے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کسی قدر بلند آواز سے پڑھتے رہیں۔ میت کو کلمہ پڑھنے کے لیے کہیں نہیں۔ کھں ہ وہ ضد میں منع کر دے۔ مرنے پر ایک چوڑی پٹی لے کر اور تھوڑی کے نیچے کو نکال کر سر پر لا کر گرہ دے دو اور آنکھیں بند کر دو۔ اور پیروں کے انگوٹھے ملا کر دھجی سے باندہ دو۔ اور ہاتھ داہنے بائیں رکھو۔ سینے پر نہ رہیں۔ اور لوگوں کو مرنے کی خبر کر دو۔ اور دفن میں بہت جلدی کرو۔ سب سے پہلے قبر کا بندوبست کرو اور کفن دفن کے لیے سامان ذیل کی فراہمی کر لو جس کو اپنے اپنے موقعہ پر صرف کرو۔ تفصیل اس کی یہ ہے۔ گھڑے دو عدد اگر گھر میں برتن موجود ہوں تو کورے کی حاجت نہیں لوٹا اگر موجود ہو تو حاجت نہیں تختہ غسل کا اکثر مساجد میں رہتا ہے۔ لوبان ایک تولہ۔ روئی آدھی چھٹانک۔ گل خیرو ایک چھٹانک کافور چھ ماشہ۔ تختہ یا لکڑی برائے پٹا و قبر۔ بقدر پیمائش قبر۔ بوریا ایک عدد بقدر قبر۔ کفن جس کی ترکیب مرد کے لیے یہ ہے کہ مردے کے قد کے برابر ایک لکڑی لو۔ اور اس میں ایک نشان کندھے کے مقابل لگا لو اور ایک تاگہ سینے کے مقابل رکھ کر جسم کی گولائی میں کو نکالو کہ دونوں سرے اس تاگے کے دونوں طرف کی پسلیوں پر پہنچ جائیں اور اس کو وہاں سے توڑ کر رکھ لو پھر ایک کپڑا لو جس کا عرض اسی تاگے کے برابر یا قریب برابر کے ہو۔ اگر عرض اس قدر نہ ہو تو اس میں جوڑ لگا کر پورا کر لو۔ اور اس لکڑی کے برابر ایک چادر پھاڑ لو۔ اس کو ازار کہتے ہیں۔

اسی طرح دوسری چادر پھاڑو جو عرض میں تو اسی قدر ہو البتہ طول میں ازار سے چار گرہ زیادہ ہو اس کو لفافہ کہتے ہیں پھر ایک کپڑا لو جس کا عرض بقدر چوڑائی جسم مردہ کے ہو اور لکڑی کے نشان سے اخیر تک جس قدر طول ہے اس کا دوگنا پھاڑ لو اور دونوں سرے کپڑے کے ملا کر اتنا چاک کھولو کہ سر کی طرف سے گلے میں جائے اس کو قمیص یا کفنی کہتے ہیں عورت کے لیے یہ کپڑے تو ہیں ہی اس کے علاوہ دو اور ہیں ایک سینہ بند دوسرے سربند جسے اوڑھنی کہتے ہیں۔ سینہ بند زیر بغل سے گھٹنے تک اور تاگے مذکور کے بقدر چوڑا۔ سربند نصف ازار سے تین گرہ زیادہ لمبا اور بارہ گرہ چوڑا۔ یہ تو کفن ہوا۔ اور کفن مسنون اسی قدر ہے اور بعض چیزیں ان کے متعلقات سے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں ہے

تہبند بدن کی موٹائی سے تین گرہ زیادہ۔ بڑے آدمی کے لیے سوا گز طول کافی ہے اور عرض میں ناف سے پنڈلی تک چودہ گرہ عرض کافی ہے۔ یہ دو ہونے چاہئیں۔ دستانہ چھ گرہ طول اور تین گرہ عرض ہو بقدر پنجہ دست بنا لیں یہ بھی دو عدد ہوں۔ چادر عورت کے گہوارہ کی جو بڑی عورت کے لیے ساڈھے تین گز طول اور دو گز عرض کافی ہے۔

تنبیہ: کفن اور اس کے متعلقات کا بندوبست بھی گھڑوں وغیرہ کے ساتھ کر دیں

تنبیہ: اب مناسب ہے کہ بڑے شخص کے کفن کو یکجائی طور پر لکھ دیا جائے تاکہ اور آسانی ہو

کیفیت

اندازہ پیمایش

عرض

طول

نام پارچہ

نمبرشمار

چودہ یا پندرہ یا سولہ گرہ عرض کا کپڑا ہو تو ڈیڑھ پاٹ میں ہو گا سر سے پاؤں تک سوا گزر سے ڈیڑھ گز تک اڑھائی گز ازار

1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ازار سے چار گرہ زیادہ

//

پونے تین گز

لفافہ

2

چودہ گرہ یا ایک گز کے عرض کی تیار ہوتی ہے دو برابر حصہ کر کے اور چاک طول کر گلے میں ڈالتے ہیں کندھے سے نصف ساق تک ایک گز اڑھائی گز تا پونے تین گز قمیص یا کفنی 3 بغل سے پنڈلیوں تک باندھا جاتا ہے زیر بغل سے سلق تک سوا گز دو گز سینہ بند 4

سر کے بال کے دو حصے کر کے اور اس میں لپیٹ کر دائیں یا بائیں جانب سینہ پر رکھے جاتے ہیں جہاں تک جائے بارہ گرہ ڈیڑھ گز سربند 5

تنبیہ : تخمیناً مرد کے کفن مسنون میں ایک گز عرض کا کپڑا دس گز صرف ہوتا ہے اور عورت کے لیے مع چادر گہوارہ ساڑھے اکیس گز اور تہبند اور دستانہ اس سے جدا ہیں۔ اور بچہ کا کفن اس کے مناسب حال مثل سابق لے لو۔ فقط

نماز کے مسئلے

آدمی کے بال اگر اکھاڑے جائیں تو ان بالوں کا سر ناپاک ہوتا ہے بوجہ اس چکنائی کے جو اس میں لگی ہوتی ہے۔ (شامی) عیدین کی نماز جہاں واجب ہے وہاں کے سب مرد و عورت کو قبل نماز عیدین کے نماز فجر کے بعد کوئی نفل وغیرہ پڑھنا مکروہ ہے۔ (بحر(رالرائق)

حالت جنابت میں ناخن کاٹنا اور ناف کے نیچے کے یا اور کسی مقام کے بال دور کرنا مکروہ ہے (عالمگیری مصطفائی جلد ص)

نابالغ بچوں کو نماز وغیرہ ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جو ان کی تعلیم کرے اسے تعلیم کا ثواب ملتا ہے۔

جن اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ان وقتوں میں اگر قرآن مجید کی تلاوت کرے تو مکروہ نہیں ہے۔ یا بجائے تلاوت کے درود شریف پڑھے یا ذکر کرے۔ (صغیری مجتبائی ص)

اگر نماز میں پہلی رکعت میں کسی سورت کا کچھ حصہ پڑھے اور دوسری رکعت میں اس سورۃ کا باقی حصہ پڑھے تو بلا کراہت درست ہے۔ اور اسی طرح اگر اول رکعت میں کسی سورت کا درمیانی حصہ یا ابتدائی حصہ پڑھے پھر دوسری رکعت میں کسی دوسری سورۃ کا درمیانی یا ابتدائی حصہ یا کوئی پوری چھوٹی سورت پڑھے تو بلا کراہت درست ہے۔ ( صغیری ص) مگر اس عادت کا ڈالنا خلاف اولی ہے بہتر ہے کہ ہر رکعت میں مستقل سورت پڑھے۔

تراویح میں قرآن پڑھتے وقت کوئی آیت یا سورت غلطی سے چھوٹ جائے اور اس آیت یا سورت کے آگے پڑھنے لگے اور پھر یاد آئے کہ فلاں آیت یا سورت چھوٹ گئی تو مستحب یہ ہے کہ چھوٹی ہوئی آیت یا سورت کو پڑھے۔ پھر جس قدر قرآن شریف چھوٹ جانے کے بعد پڑھ لیا تھا اس کو دوبارہ پڑھے تاکہ قرآن مجید با ترتیب ختم ہو ( عالمگیری مصطفائی آج ص) اور چونکہ ایسا کرنا مستحب ہی ہے لہذا اگر کسی شخص نے بوجہ اس کے کہ بہت زیادہ پڑھنے کے بعد یاد آیا تھا کہ فلاں جگہ کچھ رہ گیا۔ اور اس وجہ سے وہاں سے یہاں تک کل کا پڑھنا گراں ہے۔ اس لیے فقط اسی رہے ہوئے کو پڑھ کر پھر آگے سے پڑھنا شروع کر دیا تب بھی کچھ مضائقہ نہیں۔

مرے وقت پیشانی پر پسینہ آنا اور آنکھوں سے پانی بہنا اور ناک کے نتھنوں کے پردہ کا کشادہ ہو جانا اچھی موت کی علامت ہے اور فقط پیشانی پر پسینہ آنا بھی اچھی موت کی نشانی ہے( تذکرۃ الموتی والقبور از جامع ترمذی ) وغیرہ

راستوں کی کیچڑ اور ناپاک پانی معاف ہے بشرطیکہ اس میں نجاست کا اثر معلوم نہ ہو۔ (مراقی الفلاح۔)

مستعمل پانی یعنی ایسا پانی کہ جس سے کسی بے وضو نے وضو کیا ہو یا جس سے کسی نہانے کی حاجت والے نے غسل کیا ہو یا جس سے کسی باوضو شخص نے ثواب کے لیے پھر وضو کیا ہو یا جس سے کوئی شخص بلا غسل واجب ہونے کے نہایا ہو ثواب کے لیے مثلاً جمعہ کے دن محض ثواب کے لیے نہایا ہو حالانکہ اسے نہانے کی حاجت نہ تھی سو ایسے پانی سے وضو غسل جائز نہیں۔ اور ایسے پانی کا پینا اور کھانے کی چیزوں میں استعمال کرنا مکروہ ہے(شامی) یہ جو بیان ہوا کہ نہانے کی حاجت والے نے غسل کیا ہو یہ جب ہے کہ نہانے والے کے بدن پر نجاست حقیقیہ نہ لگی ہو اور جو لگی ہو تو اس کا دھوون ناپاک ہے اور اس کا پینا اور کھانے کی چیزوں میں استعمال حرام ہے۔

نماز کی فضیلت کا بیان

اللہ تعالی فرماتا ہے ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر یعنی بے شک نماز روک دیتی ہے بے حیائی اور گناہ سے۔ غرض یہ ہے کہ نماز باقاعدہ پڑھنے سے ایسی برکت ہوتی ہے جس سے نمازی تمام گناہوں سے باز رہتا ہے۔ اگرچہ اور بھی بعض عبادتیں ایسی ہیں جن سے یہ برکت حاصل ہوتی ہے مگر نماز کو اس میں خاص دخل ہے اور نماز کو اس باب میں اعلی درجہ کی تاثیر ہے۔ مگر یہ ضرور ہے کہ نماز سنت کے موافق عمدہ طور سے ادا کی جائے۔ نمازی کے دل میں اللہ پاک کی عظمت پائی جائے ظاہر اور باطن سکون و عاجزی سے بھرا ہو۔ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ جس درجہ نماز کو کامل ادا کرے گا اسی درجہ کی برکت حاصل ہو گی۔ کوئی عبادت نماز سے زیادہ محبوب حق تعالی کو نہیں ہے پس مسلمان کو ضرور ہے کہ ایسی عبادت جو تمام گناہوں سے روک دے اور دوزخ سے نجات دلادے اس کو نہایت التزام سے ادا کرے اور کبھی قضا نہ کرے۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضرت امام حسن بصری بڑے درجہ کے عالم اور درویش ہیں اور صحابہ کے دیکھنے والے ہیں۔ حافظ محدث ذہبی نے ان کے حالات میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس شخص نے ایسی نماز پڑھی کہ اس نماز نے اس نمازی کو بے حیائی کے کاموں اور گناہ کی باتوں سے نہ روکا تو وہ شخص اللہ تعالی سے دوری کے سوا اور کسی بات میں نہ بڑھا۔ اس نماز کے سبب یعنی اس کو نماز کے سبب قرب خداوندی اور ثواب میسر نہ ہو گا۔ بلکہ اللہ میاں سے دوری بڑھے گی اور یہ سزا ہے اس بات کی کہ اس نے ایسی پیاری عبادت کی قدر نہ کی اور اس کا حق ادا نہ کیا۔ پس معلوم ہوا کہ نماز قبول ہونے کی کسوٹی اور پہچان یہ ہے کہ نمازی نماز پڑھنے کے سبب گناہوں سے باز رہے اور اگر کبھی اتفاق سے کوئی گناہ ہو جائے تو فورا توبہ کر لے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود یہ بڑے درجہ کے صحابی اور بڑے عالم اور متقی ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک حال یہ ہے کہ اس نمازی کی نماز مقبول نہیں ہوتی اور اس کو ثواب نہیں ملتا گو بعضی صورتوں میں فرض سر سے اتر جاتا ہے اور کچھ ثواب بھی مل جاتا ہے جو نماز کی تابعداری نہ کرے اور نماز کی تابعداری کی پہچان یا اس کا اثر یہ ہے کہ نماز نمازی کو بے حیائی کے کاموں اور گناہ کی باتوں سے روک دے۔ اور حدیث میں ہے کہ ایک مرد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ تحقیق فلاں شخص رات کو نماز پڑھتا ہے یعنی شب بیدار اور عبادت گزار ہے پھر جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا بے شک عنقریب نماز اس کو اس کام سے روک دے گی جسے تو بیان کرتا ہے۔ یعنی چوری کرنا چھوڑ دے گا اور گناہ سے باز آئے گا اخرجہ احمد وابن حبان والبیہقی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ بلفظ قال ای ابوہریرۃ جاء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال ان فلانا یصلی باللیل فاذا اصبح سرق قال انہ سینہاہ ماتقول اوردہ الامام السیوطی فی الدر المنثور۔

حضرت عبادۃ بن الصامت یہ صحابی ہیں سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت بندہ وضو کرتا ہے پس عمدہ وضو کرتا ہے یعنی سنت کے موافق اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے پس پورے طور پر نماز کا رکوع کرتا ہے اور پورے طور پر نماز کا سجدہ کرتا ہے اور پورے طور پر نماز میں قرآن پڑھتا ہے یعنی رکوع سجدہ قرات اچھی طرح ادا کرتا ہے تو نماز کہتی ہے اللہ تعالی تیری حفاظت کرے جیسی تو نے میری حفاظت کی یعنی میرا حق ادا کیا مجھے ضائع نہ کیا پھر وہ نماز آنکھوں کی طرف چڑھائی جاتی ہے اس حال میں کہ اس میں چمک اور روشنی ہوتی ہے اور اس کے لیے آنکھوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تاکہ اندر پہنچ جائے اور مقبول ہو جائے اور جبکہ بندہ اچھی طرح وضو نہیں کرتا اور رکوع اور سجدہ اور قرات اچھی طرح ادا نہیں کرتا تو وہ نماز کہتی ہے خدا تجھے ضائع کرے جیسا کہ تو نے مجھے ضائع کیا۔ پھر وہ آنکھوں کی طرف چڑھائی جاتی ہے اس حال میں کہ اس پر اندھیرا ہوتا ہے اور دروازے آنکھوں کے بند کر دیئے جاتے ہیں تاکہ وہاں نہ پہنچے اور مقبول نہ ہو پھر لپیٹ دی جاتی ہے جیسے کہ پرانا کپڑا جو بیکار ہوتے ہی لپیٹ دیا جاتا ہے۔ پھر وہ نمازی کے منہ پر ماری جاتی ہے۔ یعنی قبول نہیں ہوتی اور اس کا ثواب نہیں ملتا حضرت عبداللہ بن مغفل صحابی سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوروں میں بڑا چور وہ ہے جو اپنی نماز چراتا ہے۔ عرض کای گیا یا رسول اللہ کس طرح اپنی نماز چراتا ہے۔ فرمایا پورے طور سے اس کا رکوع اور اس کا سجدہ نہیں ادا کرتا۔ اور بخیلوں میں بڑا بخیل وہ شخص ہے جو سلام سے بخل کرے رواہ الطبرانی فی الثلثۃ ورجالہ ثقات کذا فی مجمع الزوائد غرض یہ ہے کہ نماز جیسی سہل اور عمدہ عبادات کا حق ادا نہ کرنا بڑی چوری ہے جس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے۔

مسلمانوں کو غیرت چاہیے کہ نماز پورے طور ادا نہ کرنے سے ان کو ایسا برا خطاب دیا گیا حضرت انس بن مالک یہ صحابی ہیں جن کا ذکر ضمیمہ حصہ اول میں گزر چکا ہے ان سے روایت ہے کہ باہر تشریف لائے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پس دیکھا ایک مرد کو مسجد میں کہ اپنا رکوع اور سجدہ پورے طور سے ادا نہیں کرتا۔ سو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں قبول کی جاتی نماز اس مرد کی جو پورے طور سے اپنا رکوع اور اپنا سجدہ نہیں ادا کرتا۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر وفیہ ابراہیم بن عبداد الکرمانی ولم اجد من ذکرہ کذا فی مجمع الزوائد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے درجے کے عالم اور بڑے عبادت گزار اور بڑے ذکر کرنے والے اور صحابی ہیں۔ صحابہ میں حضرت ابن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان سے زیادہ حدیث کے جاننے والے تھے اور کوئی صحابی ابوہریرہ سے زیادہ حدیث کا جاننے والا نہ تھا۔ ان کا نام عبدالرحمن ہے ابوہریرہ کنیت ہے اور ابتدائے حال میں یہ تنگدست تھے یہاں تک کہ فاقوں اور بھوک کی تکلیف بھی اٹھائی۔ ان کے اسلام لانے کا قصہ طویل ہے۔ ابتداء میں باوجود ضرورت کے بوجہ تنگدستی کے نکاح بھی نہ کر سکے۔

پھر بعد وفات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کی دنیاوی حالت درست ہو گئی اور مال میں ترقی ہوئی اور مدینہ منورہ کے حاکم مقرر کیے گئے۔ حاکم ہونے کی حالت میں لکڑیوں کا گٹھہ لے کر بازار میں گزرتے تھے اور فرماتے تھے کہ راستہ کشادہ کر دو حاکم کے لیے یعنی میرے نکلنے کے لیے راستہ چھوڑ دو۔ دیکھو باوجود اتنے بڑے عہدے دار ہونے کے اپنا کام اور وہ بھی اس طرح کہ معمولی عزت دار آدمی اس طرح کام کرنے سے اپنی ذلت سمجھتا ہے۔ خود کرتے تھے اور ذرا بڑائی کا خیال نہ تھا کہ میں  کلکٹر ہوں کسی ماتحت یا نوکر سے یہ کام لے لوں۔ یہ طریقہ ہے ان حضرات کا جنہوں نے سالار انبیاء احمد مجتبیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم پائی تھی اور آپ کی صحبت اٹھائی تھی۔ ہر شخص اپنے کو ذرا سا رتبہ حاصل ہونے پر بہت بڑا سمجھنے لگتا ہے اور پھر دعوی محبت رسول مقبول کرتا ہے۔ مگر حقیقت میں محبت رسول اسی کو ہے جو آپ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور آپ کی سنت کی ہر کام میں تابعداری کرتا ہے خوب کہا ہے

وکل یدعی وصلا بلیلی

ولیلی لا تقرلہم بذاک

یعنی ہر شخص دعوی کرتا ہے کہ مجھے لیلے کا وصال ہو گیا۔ اور لیلی اس بات کا ان لوگوں کے لیے اقرار نہیں کرتی۔ سو ان لوگوں کا دعوی کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ و رسول کی محبت کا مدعی ہو۔ اور حدیث و قرآن کے خلاف عمل کرے۔ اور اللہ و رسول اس کے دعوی کی تکذیب کریں تو اس کا دعوی کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ حدیث میں صاف مذکور ہے کہ طریق حق وہ ہے جس پر میں یعنی رسول اللہ اور میرے صحابہ ہیں۔ اس حدیث سے خوب واضح ہے کہ جو طریقہ خلاف طریق رسول ہو وہ گمراہی ہے اور اس پر عمل کرنے والے سے رسول اللہ سخت ناخوش ہیں اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے پرورش پائی اس حال میں کہ میں یتیم تھا۔ اور میں نے ہجرت کی مدینہ کو اس حال میں کہ میں مسکین تھا اور میں غزوان کی بیٹی کا نوکر تھا۔ کھانے کی عوض اور اس شرط پر کہ کبھی سفر میں پیدل چلوں اور کبھی سوار ہو لوں۔ میں ان کے اونٹ ہانکتا تھا شعر پڑھ کر عرب میں اشعار پڑھ کر اونٹوں کو چلاتے ہیں جس سے اونٹ بسہولت چلے جاتے ہیں اور میں لکڑیاں لاتا تھا ان کے یعنی اپنے مالک کے گھر والوں کے لیے جب وہ اترتے تھے یعنی کہیں پڑاؤ ڈالتے تھے پس شکر ہے اس اللہ کا جس نے دین کو مضبوط کیا۔ اور ابوہریرہ کو امام اور پیشوا بنایا۔ یعنی دین اسلام قبول کر کے یہ دولت حاصل ہوئی کہ امامت دین میسر ہوئی اور یہ خدا کی نعمت کا شکر ادا فرمایا۔ بطور تکبر اور فخر کے اپنے کو پیشوا نہیں کہا۔ اور خدا کی نعمت کا اظہار کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کو جتنا درجہ انسان کو حاصل ہوا س کا ظاہر کرنا ثواب ہے اور با اعتبار فخر و تکبر منع اور حرام ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم ان غنیمتوں کے مال میں سے ہم سے کیوں نہیں مانگتے۔

پس میں نے عرض کیا میں آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے علم سکھلائیں اس علم میں سے جو اللہ تعالی نے آپ کو سکھلایا ہے۔ سو اتار لیا آپ نے اس کملی کو جو میری پشت پر تھی یعنی میں اس کو اوڑھے ہوئے تھا پھر اسے بچھایا میرے اور اپنے درمیان یہاں تک کہ گویا کہ تحقیق میں دیکھتا ہوں جوؤں کی طرف جو چلتی تھیں اس پر پھر آپ نے مجھ سے کچھ کلمات فرمائے تبرکاً یہاں تک کہ جب آپ وہ کلمات پورے فرما چکے تو فرمایا کہ اس کو اکٹھا کر لے سمیٹ لے پھر اس کو اپنے سینے سے لگا لے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ میں ایسا ہو گیا کہ میں ایک حرف نہیں ساقط کرتا ہوں اس علم سے جو مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا یعنی حافظہ بہت عمدہ ہو گیا اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ تعالی سے توبہ استغفار بارہ ہزار بار روز کرتا ہوں یعنی استغفراللہ واتوب الیہ یا اس کی مثل کچھ اور الفاظ بارہ ہزار بار روز پڑھتے تھے۔ اور ان کے پاس ایک ڈورا تھا جس میں دو ہزار گرہ لگی تھیں سوتے نہیں تھے جب تک کہ اس قدر یعنی دوہزار بار سبحان اللہ نہ پڑھ لیتے۔ یعنی سونے سے پہلے اس قدر سبحان اللہ پڑھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو بڑے درجہ کے صحابی اور عالم ہیں اور سنت کی تابعداری کا اس قدر شوق تھا کہ آپ نے طریقہ سنت کا اس قدر تلاش کیا کہ لوگوں کو یہ اندیشہ تھا کہ اس محنت میں شاید ان کی عقل جاتی رہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نعم الرجل عبداللہ لوکان یصلی من اللیل یعنی اچھا مرد ہے عبداللہ ابن عمر کاش کہ نماز پڑھتا تہجد کی۔ جب سے آپ نے تہجد کی نماز کبھی نہیں چھوڑی اور رات کو کم سوتے تھے سو وہ فرماتے ہیں کہ اے ابوہریرہ تم بے شک زیادہ رہنے والے تھے ہم لوگوں یعنی صحابہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور زیادہ جاننے والے تھے ہم لوگوں میں آپ کی حدیث کے۔

حضرت طفاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں چھ ماہ تک ابوہریرہ کا مہمان رہا سو نہ دیکھا میں نے کسی مرد کو صحابہ میں سے کہ بہت مستعد ہو اور بہت خدمت کرے مہمان کی ابوہریرہ سے زیادہ۔ اور حضرت ابو عثمان نہدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں سات روز تک حضرت ابوہریرہ کا مہمان رہا۔ سو ابوہریرہ اور آپ کی بیوی اور آپ کا خادم یکے بعد دیگرے رات کے تین حصوں میں نوبت بنوبت جاگتے تھے یعنی ایک شخص نماز پڑھتا تھا پھر دوسرے کو جگاتا تھا اور خود آرام کرتا تھا پس وہ نماز پڑھتا تھا دوسرا آرام کرتا تھا اور تیسرے کو جگاتا تھا اور وہ نماز پڑھتا تھا یہ قصے تذکرۃ الحفاظ بخاری وغیرہ سے لکھے گئے ہیں سو ان سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تم میں کسی کی یہ ستون ملک ہوتا تو وہ شخص اس بات کو برا جانتا کہ وہ ستون خراب کر دیا جائے سو کیونکر تم میں سے کوئی ایسا کام کرتا ہے کہ اپنی نماز خراب کرتا ہے ایسی نماز کہ وہ اللہ کے لیے ہے پس تم پورے طور پر باقاعدہ اپنی نماز ادا کرو اس لیے کہ بے شک اللہ نہیں قبول کرتا مگر کامل کو یعنی ناقص نماز اور تمام ناقص عبادتیں مقبول نہیں ہوتیں رواہ الطبرانی فی الاوسط حضرت عبداللہ بن عمرو سے جو صحابی ہیں روایت ہے کہ تحقیق ایک مرد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا افضل اعمال سے یعنی افضل عمل دین میں کون سا ہے بعد ایمان کے سو فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فرض

اس نے عرض کیا پھر اس کے بعد کونسا عمل افضل ہے فرمایا کہ نماز۔ اس نے عرض کیا پھر کون سا عمل افضل ہے فرمایا نماز یہ ارشاد تین بار فرمایا نماز کی فضیلت اس قدر تاکید سے نماز کے عظیم الشان ہونے کی وجہ سے آپ نے بیان فرمائی تاکہ لوگ اس کا خوب اہتمام کریں اور ضائع نہ ہونے دیں پھر جب غلبہ کیا اس نے آپ پر یعنی بار بار پوچھا کہ اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے۔ اور یہ سوال بظاہر چوتھی بار ہو گا تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد اللہ کے راستہ میں یعنی نماز کے بعد کافروں سے لڑنا اس لیے کہ خدا کا دین غالب ہو نہ اس لیے کہ مجھے کچھ نفع مال تعریف وغیرہ حاصل ہو اگرچہ مال وغیرہ مل جائے لیکن نیت یہ نہ ہونی چاہیے۔ سو یہ سب اعمال سے بعد فرض نماز کے افضل ہے اس مرد نے عرض کیا پھر یہ گذارش ہے کہ میرے والدین زندہ ہیں ان کے بارے میں کیا ارشاد ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں تجھے والدین سے بھلائی کرنے کا حکم کرتا ہوں یعنی ان سے نیکی کر اور ان کو تکلیف نہ پہنچا کہ ان کو تکلیف دینا حرام ہے اس قدر حق والدین کا فرض اور ضروری ہے کہ جس کام میں ان کو تکلیف ہو وہ نہ کرے۔ بشرطیکہ وہ کوئی ایسا کام نہ ہو جس کا درجہ والدین کے حق ادا کرنے سے بڑا ہو اور اس میں حق تعالی کی نافرمانی نہ ہو اور تکلیف سے مراد وہ تکلیف ہے جس کو شریعت نے تکلیف شمار کیا ہے۔ اور اس سے زیادہ حق ادا کرنا مستحب ہے ضرور نہیں خوب سمجھ لو۔ اس مسئلہ میں عام لوگ بڑی غلطی کرتے ہیں۔

اور اس کو مفصل طور پر رسالہ ازالۃ الرین عن حقوق الوالدین میں بیان کیا ہے اس مرد نے عرض کیا کہ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے میں البتہ ضرور جہاد کروں گا اور بے شک ضرور ان دونوں والد اور والدہ کو چھوڑ جاؤں گا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خوب جاننے والا ہے یعنی والدین کے ساتھ نیکی کرنے اور جہاد کرنے میں سے جس طرف تیری طبیعت راغب ہو اس کو کر۔ اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جہاد کا درجہ والدین کے ساتھ نیکی کرنے سے بڑھ کر ہے۔ اور بعضی حدیثوں میں بعد نماز فرض کے حقوق والدین کے ادا کرنے کا بڑا درجہ وارد ہوا ہے۔ اس کے بعد جہاد کا مرتبہ۔ سو جواب یہ ہے کہ یہاں جہاد سے حقوق والدین کے افضل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حقوق والدین چونکہ بندوں کے حق ہیں جو بغیر معافی بندوں کے معاف نہیں ہو سکتے۔ اس اعتبار سے ان کا مرتبہ جہاد سے بڑھ کر ہے کہ اگر کوئی فرض جہاد ادا نہ کرے اور اس کا وقت نکل جائے تو توبہ کر لینے سے یہ گناہ معاف ہو جائے گا مگر حقوق العباد فقط توبہ سے معاف نہیں ہوتے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جناب رسول مقبول کی خدمت میں مختلف قسم کے سائل حاضر ہوتے تھے اور آپ ہر شخص کو اس کی حالت کے موافق جواب دیتے تھے رواہ احمد و فیہ ابن لہیعۃ زنۃ فعیلۃ وہو ضعیف وقد حسن لہ الترمذی و بقیۃ رجالہ رجال الصحیح کذا فی مجمع الزوائد حضرت ابو ایوب انصاری  یہ صحابی ہیں مدینہ میں اول ان ہی کے مکان میں حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول فرمایا تھا جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تھے سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلعم فرماتے تھے کہ بے شک ہر نماز نمازی کے ان گناہوں کو جو اس نماز کے آگے ہیں ( رواہ احمد باسناد حسن) مطلب یہ ہے کہ ہر نماز پڑھنے سے وہ گناہ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں جو اس نماز سے دوسری نماز پڑھنے تک کرے۔

حضرت ابوامامہ باہلی صحابی سے روایت ہے کہ میں نے سنا ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے ایک فرض نماز دوسری نماز کے ساتھ مل کر مٹا دیتی ہے ان گناہوں کو جو اس نماز سے پہلے ہوئے یعنی اس نماز سے پہلے جو گناہ صغیرہ ہوئے وہ معاف ہو گئے۔ اسی طرح اور دوسری نماز تک جو گناہ صغیرہ ہوئے وہ اس سے معاف ہو گئے اور نماز جمعہ مٹا دیتی ہے ان گناہوں کو جو اس جمعہ سے پہلے ہوئے یہاں تک کہ دوسرا جمعہ پڑھے۔ اور بعضی حدیثوں میں اس سے آگے تین دن آگے تک گناہ معاف ہو جانا وارد ہے یعنی جمعہ کی نماز سے تین دن آگے کے گناہ صغیرہ معاف کیے جاتے ہیں اور روزہ ماہ رمضان کا مٹا دیتا ہے ان گناہوں کو جو اس رمضان سے پہلے ہوئے۔ یہاں تک کہ دوسرے رمضان کے روزے رکھے اور حج مٹا دیتا ہے ان گناہوں کو جو اس سے پہلے ہوئے یہاں تک کہ دوسرا حج کرے۔ پھر کہا راوی نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں جائز ہے کسی مسلمان عورت کو حج کرنا مگر ہمراہ خاوند کے یا ذی محرم کے (رواہ الطبرانی فی الکبیر وفیہ المفضل بن صدقۃ وہو متروک الحدیث) اگر کوئی کہے جس شخص سے گناہ صغیرہ نہ ہوں تو اس کو کیا فضیلت حاصل ہو گی۔ دوسرے یہ کہ نمازوں کے ادھر ادھر کے سب گناہ معاف ہوئے تو جمعہ وغیرہ سے کون سے گناہ معاف ہوں گے اب تو کوئی گناہ ہی نہ رہا جو صغیرہ ہو۔ جواب یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں درجے بلند ہوں گے۔

حضرت ابوامامۃ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال پانچوں نمازوں کی ایسی ہے جیسے میٹھے غیر کھاری پانی کی نہر جو جاری ہو تم میں سے کسی کے دروازے پر اور وہ نہائے اس میں روز مرہ پانچ بار سو کیا باقی رہے گا اس پر کچھ میل (رواہ الطبرانی فی الکبیر وفیہ عفیر بن معد ان وہو ضعیف جدا کذا فی مجمع الزوائد )حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شک اول وہ چیز کہ اس کا بندہ سے حساب لیا جائے گا روز قیامت وہ اس کی نماز ہے۔ پس اگر درست ہو گی حساب میں درست ہوں گے اس کے باقی اعمال اس لیے کہ نمازی کے نماز کے سوا باقی اعمال بھی نماز کی برکت سے درست ہو جاتے ہیں اور اگر خراب ہو گی تو خراب ہوں گے اس کے باقی اعمال پھر فرمائے گا حق تعالی دیکھو اے فرشتوں کیا میرے بندہ کی کچھ نفل نمازیں بھی نامہ اعمال میں ہیں۔ سو اگر ہوں گی اس کی کچھ نفل نمازیں تو ان نفلوں سے فرض نماز کی خرابی کو پور اکیا جائے گا۔ پھر باقی فرائض بھی اسی طرح حساب لیے جائیں گے اور نوافل سے کمی پوری کی جائے گی جیسے فرض روزہ نفل روزہ فرض صدقہ نفل صدقہ وغیرہ بسبب مہربانی اور رحمت اللہ کے یعنی یہ خدا کی رحمت ہے کہ فرض کو نفل سے پورا کیا جائے گا۔ ورنہ قاعدہ تو یہی چاہتا ہے کہ فرض نفل سے پورا نہ ہو۔ اور جب پورا نہ ہو تو عذاب دیا جائے۔ مگر سبحان اللہ کیا رحمت خداوندی ہے۔ اور جس کے فرائض درست نہ ہوں گے اور نوافل بھی نہ ہوں گے تو اسے عذاب دیا جائے گا۔ ہاں اگر خدائے تعالی رحم کر دے تو یہ دوسری بات ہے۔

(رواہ ابن عساکر بسند حسن کذا فی کنزالعمال آج )حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز افضل ان عبادتوں کی ہے جن کو اللہ نے بندوں پر مقرر فرمایا ہے۔ سو جو طاقت رکھے بڑھانے کی سو چاہیے کہ بڑھا دے یعنی کثرت سے پڑھے تاکہ ثواب کثرت سے ملے۔ حضرت عبادۃ بن الصامت سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس جبرئیل اللہ تبارک و تعالی کے پاس سے آئے پس کہا اے محمد تحقیق اللہ عزوجل فرماتا ہے بے شک میں نے تیری امت پر پانچ نمازیں فرض کر دیں جس شخص نے ان کو پورا ادا کیا ان کے وضو کے ساتھ اور ان کے وقتوں کے ساتھ اور ان کے رکوع کے ساتھ اور ان کے سجدہ کے ساتھ ہو گیا اس کے لیے ذمہ بسبب ان نمازوں کے اس بات کا کہ میں اس کو داخل کروں بسبب ان نمازوں کے جنت میں اور جو ملا مجھ سے اس حال میں کہ بے شک کمی کی ہے اس نے اس میں سے کچھ سو نہیں ہے اس کے لیے میرے پاس ذمہ اگر چاہوں اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں اس پر رحم کروں۔ کنزالعمال حدیث میں ہے کہ جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا۔ پھر نماز پڑھی دو رکعت اس طرح کہ نہ بھولے اور سہو نہ ہو۔ ان دونوں میں بخش دے گا اللہ اس کے گذشتہ گناہ ( رواہ احمد و ابو داود  و الحاکم عن زید بن خالد الجہنی کذا فی الکنز) دو رکعت نماز پڑھنی اس اہتمام سے کہ اس میں سہو نہ ہو ممکن ہے اور سہولت سے ادا ہو سکتی ہے۔ غرض یہ ہے کہ غفلت سے نہ ہو۔ اکثر سہو غفلت سے ہی ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے مرد و عورت کی نماز نور پیدا کرتی ہے سو جو چاہے تم میں سے روشن کرے اپنے دل کو حدیث میں ہے کہ بے شک اللہ تعالی نے نہیں فرض کی کوئی چیز زیادہ بزرگ توحید یعنی خدا کو اس کی ذات و صفات و افعال میں یکتا ماننا اور نماز سے اور اگر اس مذکور سے افضل کوئی چیز ہوتی۔

البتہ فرض کرتا اس کو اپنے فرشتوں پر کوئی ان فرشتوں میں سے رکوع کر رہا ہے اور کوئی ان میں سے سجدہ کر رہا ہے۔ یعنی فرشتے چونکہ پاکیزہ اور اللہ کے مقرب بندے ہیں اور ان میں عبادت ہی کا مادہ رکھا گیا ہے جس سے ان کو عبادت سے بہت بڑا تعلق ہے سو اگر کوئی عبادت نماز سے افضل ہوتی تو ان پر فرض کی جاتی اور یہ بھی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجموعی ہیئت سے نماز جس طرح ہم پر فرض ہے اس طرح ملائکہ پر نہیں بلکہ اس نماز کے بعض اجزاء بعض ملائکہ پر فرض ہیں۔ سو ہماری کیسی خوش نصیبی ہے کہ وہ اجزاء نفیسہ عبادت کے جو ملائکہ کو تقسیم کیے گئے مجموعی ہیئت سے ہم کو عطا ہوئے سو اس نعمت کی بڑی قدر کرنی چاہیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اپنی نماز میں موت کو یاد کر اس لیے کہ بے شک مرد یا عورت جب موت کو یاد کرے گا اپنی نماز میں البتہ لائق ہے وہ اس بات کے کہ اچھی نماز ادا کرے اور نماز پڑھ اس مرد کی جیسی نماز جو نہیں گمان کرتا ہے نماز پڑھنے کا سو اس نماز کے جسے ادا کر رہا ہے اور بچا تو اپنی ذات کو ایسے کام سے معذرت کی جاتی ہے یعنی ایسا کام نہ کر جس سے ندامت ہو اور معذرت کرنی پڑے( رواہ الدیلمی عن انس مرفوعا وحسنہ الحافظ ابن حجر ) حدیث میں ہے کہ افضل نماز وہ ہے کہ جس میں قیام طویل ہو یعنی قیام زیادہ ہو اور قرآن زیادہ پڑھا جائے( رواہ الطحاوی و سعید بن منصور ) حدیث میں ہے کہ اس کی نماز کامل نہیں ہوتی جو اپنی نماز میں عاجزی نہیں کرتا۔ تخشع کا لفظ جو حدیث میں ہے جس کا ترجمہ عاجزی سے کیا گیا۔ اصل یہ ہے کہ اس کے معنی سکون کے ہیں مگر چونکہ سکون کے ساتھ نماز پڑھنا بغیر عاجزی کے میسر نہیں ہو سکتا اس لیے عاجزی سے ترجمہ کیا گیا۔

کیونکہ یہ زیادہ مشہور ہے اور سکون بغیر عاجزی اس لیے میسر نہیں ہو سکتا کہ جب آدمی بے دھڑک اور بیباکی سے اٹھے بیٹھے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ ادھر ادھر نہ دیکھے بلا ضرورت ہلے جلے نہیں بلکہ زیادہ رہے گا اور جب عاجزی ہو گی تو ادب کے ساتھ بغیر ادھر ادھر دیکھے اچھی طرح نماز ادا کرے گا۔ حضرت علی سے بسند صحیح روایت ہے کہ آخر کلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ اہتمام رکھو نماز کا اور خدا س ڈرو لونڈی غلاموں کے بارے میں (کنزل العمال) یہ دونوں باتیں اس قدر اہتمام کے لائق تھیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے روانگی کے وقت بھی اس کا اہتمام فرمایا اس لیے کہ نماز میں لوگ کوتاہی زیادہ کرتے ہیں۔ نیز لونڈی غلاموں نوکر بیوی بچوں کے تکلفاً دینے اور ان کو حقیر سمجھنے کو بھی معمولی بات خیال کرتے ہیں۔ پس مسلمانوں کو اس طرح بڑا اہتمام کرنا چاہیے اللہ پاک کے بعضے نیک اور بزرگ بندوں کو تو نماز سے اس قدر شوق تھا کہ حضرت منصور بن زاذان تابعی رضی اللہ تعالی عنہ کے حال میں لکھا ہے کہ آیت نکلنے سے عصر تک برابر نماز پڑھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ فرض تو اس درمیان میں فقط دو نمازیں تھیں۔ ظہر اور عصر باقی نفل پڑھتے تھے۔ پر بعد عصر مغرب تک سبحان اللہ پڑھتے رہتے تھے۔ پھر مغرب پڑھتے تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ اگر ان سے کہا جاتا کہ ملک الموت دروازے پر ہیں تو اپنے عمل میں کچھ زیادتی نہ فرما سکتے تھے یعنی اپنے دینی کاموں کو موت کے قریب ہونے سے بڑھا نہیں سکتے تھے اس لیے کہ بڑھا وہ سکتا ہے جو موت سے غافل ہو اور تمام وقت یاد الٰہی میں صرف نہ کرتا ہو۔ تو جب وہ موت کا نزدیک آنا سنے گا عمل میں ترقی کرے گا۔ اور جس کا کوئی وقت ہی خالی نہیں اور ہر وقت یاد حق میں مصروف ہے اور موت کو ہر وقت پاس ہی سمجھتا ہے سو وہ کس طرح ترقی کرے اور یہ عالم بھی بڑے تھے اور بڑے بڑے علماء نے ان سے حدیث حاصل کی ہے۔

اور حضرت مخصور بن المعتمر یہ بھی تابعی اور بڑے عالم اور پارسا ہیں۔ ان کے حال میں لکھا ہے کہ چالیس سال تک ان کا یہ حال رہا ہے کہ یہ دن کو روزہ رکھتے اور رات کو جاگتے تھے یعنی عبادت کرتے تھے اور تمام رات گناہوں کے عذاب کے خوف سے روتے تھے۔ اگر ان کو کوئی نماز پڑھتے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ ابھی مر جائیں گے یعنی اس قدر آہ و زاری و اہتمام سے نماز ادا کرتے تھے اور جب صبح ہوتی تو دونوں آنکھوں میں سرمہ لگاتے اور دونوں ہونٹوں کو آبدار یعنی تر کر لیتے اور سر میں تیل ڈالتے پس ان کی ماں ان سے فرماتیں کہ کیا تم نے کسی کو مار ڈالا ہے جو ایسی صورت بناتے ہو کہ رات کو عبادت کرنے اور رونے سے جو صورت ہو گئی اس کو بدلتے ہو سو عرض کرتے میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو میرے نفس نے کیا ہے یعنی نفس کو خواہش ہے یا اس کا احتمال ہے کہ یہ خواہش کرے کہ میری شہرت ہو۔ لوگوں میں عبادت کا چرچا ہو بزرگ سمجھیں اور صورت سے عبادت کرنا ثابت ہو جائے یا یہ مطلب کہ میرے نفس نے کچھ عبادت اچھی نہیں کی سو وہ کس شمار میں ہے اور میری صورت سے عبادت گزاری معلوم ہوتی ہے سو لوگ دیکھ کر دھوکہ میں پڑیں گے اور مجھے بزرگ سمجھیں گے۔ حالانکہ میں ایسا نہیں اس لیے صورت بدلتا ہوں اور یہ روتے روتے اندھے ہو گئے تھے۔ امیر عراق نے ان کو بلایا کہ ان کو کوفہ ایک شہر کا نام ہے ملک شام میں اس کا قاضی بنا دے انہوں نے انکار کیا تو ان کے بیڑیاں ڈالی گئیں پھر چھوڑ دیا گیا۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ دو مہینے مجبوری کو قاضی رہے یہ دونوں قصے تذکرۃ الحفاظ جلد اول میں ہیں صاحبو ذرا غور کرو کہ ان بزرگ کو خدا کی عبادت سے کیسی کچھ رغبت تھی اور دنیا سے کیسی نفرت تھی کہ حکومت کا عہدہ ان کو بغیر طلب اور بغیر کوشش کیے ملتا تھا جس میں بہت بڑی عزت اور آمدنی تھی اور جس کے لیے لوگ بڑی بڑی کوشش کرتے ہیں۔ مگر انہوں نے پرواہ نہ کی اور بیڑیاں ڈلوانی گوارہ کیں۔

مسلمان کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ بقدر ضرورت کھانے پہننے کا بندوبست کرے باقی وقت یاد الٰہی میں صرف کرے۔ حدیث میں ہے کہ جس نے بارہ رکعت نماز دن رات میں ایسی پڑھی جو فرض نہیں ہے یہاں سنت موکدہ مراد ہیں دو فجر کی چھ ظہر کی یعنی چار قبل ظہر اور دو بعد ظہر اور دو بعد مغرب اور دو بعد عشاء تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک مکان جنت میں تیار کریں گے (رواہ فی الجامع الصغیر بسند صحیح) حدیث میں ہے جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان چھ رکعت پڑھیں اس طرح کہ ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی تو وہ بارہ برس کی نفل عبادت کی برابر ثواب میں کی جائیں گی۔ (رواہ فی الجامع الصغیر بسند ضعیف) یعنی ان چھ رکعات پڑھنے کا ثواب بارہ سال کی نفل عبادت کے برابر ہو گا۔ حدیث میں ہے کہ جس نے دو رکعت نماز پڑھی تنہا جگہ میں جہاں نمازی کو اللہ کے سوا اور ان فرشتوں کے جو ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اور پیشاب و پاخانہ و جماع کے وقت جدا ہو جاتے ہیں ان کے سوا کوئی اس نمازی کو نہیں دیکھتا لکھی جائے گی اس کے لیے نجات دوزخ سے۔ (رواہ الامام السیوطی بسند ضعیف) یعنی گناہ سے بچنے کی توفیق ہو جائے گی جس سے جہنم میں نہ جائے گا مگر پڑھتا رہے جب یہ برکت حاصل ہو گی۔ حدیث میں ہے جس نے چار رکعت چاشت اور چار رکعت سوائے سنت موکدہ کے قبل ظہر پڑھیں اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا۔ ( رواہ الطبرانی باسناد حسن) حدیث میں ہے جو مغرب اور عشاء کے درمیان میں بیس رکعت نفل پڑھے تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک مکان جنت میں بنائیں گے۔ ( رواہ الامام السیوطی باسناد ضعیف) حدیث میں ہے من صلی قبل العصر اربعا حرمہ اللہ علی النار یعنی جس نے نماز نفل پڑھی عصر سے پہلے چار رکعت حرام کر دے گا اس کو اللہ تعالی دوزخ پر (رواہ الطبرانی عن ابن عمرو مرفوعا باسناد حسن) مطلب یہ ہے کہ اس نماز کو ہمیشہ پڑھنے سے نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کی توفیق ہو گی جس کی برکت سے جہنم سے نجات ملے گی۔

مگر یہ ضرور ہے کہ عبادت اس قدر کرے جس کا نباہ ہمیشہ ہو سکے اگرچہ تھوڑی ہی ہو۔ یوں کبھی کسی مجبوری سے ناغہ ہو جائے وہ دوسری بات ہے۔ سو جب نوافل پڑھنا شروع کرے تو ہمیشہ اس کو نباہنا ضروری ہے۔ شروع کر کے چھوڑ دینا بہت بری بات ہے۔ اور شروع نہ کرنے سے یہ فعل زیادہ برا ہے۔ حدیث میں ہے رحم اللہ امرا صلے قبل العصر اربعا یعنی رحم کرے اللہ اس مرد عورت پر جس نے نماز پڑھی قبل عصر کے چار رکعت (رواہ الامام السیوطی باسناد صحیح) اے مسلمان بھائیو اور اے دینی بہنو اس حدیث کے مضمون پر فدا ہو جاؤ۔ دیکھو تھوڑی سی محنت میں کس قدر درجہ ملتا ہے کہ حضور سرور عالم کی دعا کی برکت اور گناہوں سے بچنے کی توفیق۔ اس کی جو کچھ بھی قدر کی جائے اور جس قدر بھی ایسی عبادت مقرر کرنے پر حق تعالی کا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کسی خوش نصیب ہی کو میسر ہوتی ہے۔ دونوں وقت یعنی صبح و شام ہمارے نامہ اعمال حضرت رسول مکرم نبی معظم احمد مجتبے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں جو شخص نیکی کرتا ہے اور آپ کی رغبت دلائی ہوئی عبادت بجا لاتا ہے اس سے آپ بہت خوش ہوتے ہیں اور آپ کی خوشنودی اور رضا مندی سے دونوں جہان میں رحمت اور چین میسر ہوتا ہے خوب کہا ہے

فان من جودک الدنیا وضرتہا

ومن علومک علم اللوح والقلم

یعنی آپ کی سخاوت اور بخشش میں تو دنیا اور اس کے مقابل یعنی آخرت موجود ہے اور آپ کے علوم میں لوح محفوظ یعنی جس میں قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ لکھا ہوا ہے اس کا علم موجود ہے۔ غرض یہ ہے کہ آپ کی توجہ اور سخاوت سے دین و دنیا کی نعمتیں میسر آ سکتی ہیں۔ اور آپ کی تعلیم سے لوح محفوظ کا علم میسر ہو سکتا ہے اور اس علم کے میسر ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی فرمائی ہوئی حدیثوں میں غیبی اسرار موجود ہیں اور اللہ کے خاص بندوں کو منکشف ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ علاوہ ان اسرار کے حق تعالی کی عنایت اور آپ کی احادیث پڑھنے کی برکت اور اس پر عمل کرنے کے سبب اور غیبی بھید بھی طالبان حق پر کھل جاتے ہیں۔ خوب سمجھ لو اور عمل کرو۔ فقط پڑھنے سے بغیر عمل کچھ زیادہ فائدہ نہیں۔ اصل فائدہ تو پڑھنے سے اس پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رات کی نماز یعنی تہجد کی اپنے اوپر لازم کر لو۔ اگرچہ ایک ہی رکعت ہو ( رواہ الامام السیوطی بسند صحیح) مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز اگرچہ تھوڑی ہی ہو مگر ضرور پڑھ لیا کرو اس لیے کہ اس کا ثواب بہت ہے گو فرض نہیں ہے اور یہ غرض نہیں کہ ایک رکعت پڑھ لو۔ اس لیے کہ ایک رکعت نماز کا پڑھنا درست نہیں کم ازکم دو رکعت پڑھے۔ حدیث میں ہے کہ رات کے قیام کو یعنی نماز تہجد کو اپنے ذمہ لازم کر لو اس لیے کہ وہ عادت ان نیکوں کی ہے جو تم سے پہلے تھے اور نزدیکی کرنے والی ہے اللہ تعالی کی طرف اور گناہ سے روکنے کا ذریعہ ہے اور مٹاتی ہے گناہوں (صغیرہ) کو ہٹانے والی ہے مرض کو جسم سے (رواہ السیوطی بسند صحیح) ذرا غور کرو کہ کس قدر نفع ہے اس نماز کے پڑھنے میں کہ ثواب بھی گناہوں کی معافی اور گناہوں سے روک دینا بھی اور جسمانی مرض کی شفا بھی۔ اور باطنی بیماریوں کی تو شفا ہے ہی۔

اس لیے کہ حدیث میں ہے خدا کا ذکر دلوں کی بیماری کے لیے شفا ہے اور نماز اعلی درجہ کا ذکر ہے اور کچھ دشوار بھی نہیں۔ تہجد کے وقت خاص طور پر دعا قبول ہوتی ہے ضرور پڑھنا چاہیے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی ہے۔ رات بھر خدا کی عبادت کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پاک سے روایت فرماتے ہیں کہ حق تعالی فرماتے ہیں کہ اے ابن دم تو چار رکعت نفل پڑھ میرے لیے یعنی اخلاص سے اول دن میں تو میں تجھے تیرے کاموں میں کفایت کروں گا آخر تک ( رواہ الترمذی) وغیرہ یہ اشراق کی نماز کی فضیلت ہے اور اس کے پڑھنے کا طریقہ اصل کتاب بہشتی زیور میں تحریر ہو چکا ہے۔ دیکھو ثواب بھی ملتا ہے اور اللہ تعالی سب کاموں کو پورا بھی فرماتے ہیں۔ دین و دنیا کی نعمتیں میسر آتی ہیں۔ لوگ مصیبت میں ادھر ادھر مارے پھرتے ہیں۔ مخلوق کی خوشامد کرتے ہیں کاش کہ وہ حق تعالی کی طرف توجہ کریں اور اس کے بتلائے ہوئے وظیفے اور نمازیں پڑھیں تو دنیا کے کام بھی خوب درست ہو جائیں اور ثواب بھی میسر ہو اور مخلوق کی خوشامد کی ذلت سے بھی نجات ملے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ہر قوم کا ایک پیشہ ہے جس سے وہ لوگ معاش حاصل کرتے ہیں اور ہمارے پیشہ تقوی اور توکل ہے۔ تقوی پرہیز گاری اور اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کو کہتے ہیں۔ اور توکل کے معنے ہیں خدا پر بھروسہ کرنا اور اس کا مفصل بیان ساتویں حصہ کے ضمیمہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالی۔ غرض یہ ہے کہ دینداری سے دنیا کی مشقتیں اور مصیبتیں جاتی رہتی ہیں۔

جوان ہونے کا بیان

مسئلہ۔ جب کسی لڑکی کو حیض آ گیا یا ابھی تک کوئی حیض تو نہیں آیا لیکن اس کے پیٹ رہ آ گیا یا پیٹ بھی نہیں آرہا لیکن خواب میں مرد سے صحبت کراتے دیکھا اور اس سے مزہ آیا اور منی نکل آئی۔ ان تینوں صورتوں میں وہ جوان ہو گئی۔ روزہ نماز وغیرہ شریعت کے سب حکم احکام اس پر لگائے جائیں گے اور اگر ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات نہیں پائی گئی لیکن اس کی عمر پورے پندرہ برس کی ہو چکی ہے تب بھی وہ جوان سمجھی جائے گی اور جو حکم ان پر لگائے جاتے ہیں اب اس پر لگائے جائیں گے۔

مسئلہ۔ جوان ہونے کو شریعت میں بالغ ہونا کہتے ہیں۔ نو برس سے پہلے کوئی عورت جوان نہیں ہو سکتی۔ اگر اس کو خون بھی آئے تو وہ حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہے جس کا حکم اوپر بیان ہو چکا ہے۔

نماز کا بیان

مسئلہ۔ کسی کے لڑکا پیدا ہو رہا ہے لیکن ابھی سب نہیں نکلا کچھ باہر ہے اور کچھ نہیں نکلا ایسے وقت بھی اگر ہوش و حواس باقی ہوں تو نماز پڑھنا فرض ہے قضا کر دینا درست نہیں البتہ اگر نماز پڑھنے سے بچہ کی جان کا خوف ہو تو نماز قضا کر دینا درست ہے۔ اسی طرح دائی جنائی کو اگر یہ خوف ہو کہ اگر میں نماز پڑھنے لگوں گی تو بچہ کو صدمہ پہنچے گا تو ایسے وقت دائی کو بھی نماز کا قضا کر دینا درست ہے لیکن ان سب کو پھر جلدی قضا پڑھ لینا چاہیے۔

نجاست کے پاک کرنے کا بیان

مسئلہ۔ بدن میں یا کپڑے میں منی لگ کر سوکھ گئی تو کھرچ کر خوب مل ڈالنے سے پاک ہو جائے گا اور اگر ابھی سوکھی نہ ہو تو فقط دھونے سے پاک ہو گا لیکن اگر کسی نے پیشاب کر کے استنجا نہیں کیا تھا ایسے وقت منی نکلی تو وہ ملنے سے پاک نہ ہو گی اس کو دھونا چاہیے۔

نفاس کا بیان

مسئلہ۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد آگے کی راہ سے جو خون آتا ہے اس کو نفاس کہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ نفاس کے چالیس دن ہیں اور کم کی کوئی حد نہیں۔ اگر کسی کو ایک آدھ گھڑی آ کر خون بند ہو جائے تو وہ بھی نفاس ہے۔

مسئلہ۔ اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد بالکل خون نہ آئے تب بھی جننے کے بعد نہانا واجب ہے۔

مسئلہ۔ آدھے سے زیادہ بچہ نکل آیا لیکن ابھی پورا نہیں نکلا۔ اس وقت جو خون آئے وہ بھی نفاس ہے اور اگر آدھے سے کم نکلا تھا اس وقت خون آیا تو وہ استحاضہ ہے اگر ہوش و حواس باقی ہوں تو اس وقت بھی نماز پڑھے نہیں گنہگار ہو گی نہ ہو سکے تو اشارہ ہی سے پڑھے قضا نہ کرے۔ لیکن اگر نماز پڑھنے سے بچہ کا ضائع ہو جانے کا ڈر ہو تو نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ۔ کسی کا حمل گر گیا تو اگر بچہ کا ایک آدھ عضو بن گیا ہو تو گرنے کے بعد خون آئے گا وہ بھی نفاس ہے اور اگر بالکل نہیں بنا بس گوشت ہی گوشت ہے تو یہ نفاس نہیں پس اگر وہ خون حیض بن سکے تو حیض ہے اور اگر حیض بھی نہ بن سکے مثلاً تین دن سے کم آئے یا پاکی کا زمانہ ابھی پورے پندرہ دن نہیں ہوا تو وہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ اگر خون چالیس دن سے بڑھ گیا تو اگر پہلے پہل یہی بچہ ہوا تو چالیس دن نفاس کے ہیں اور جتنا زیادہ آیا ہے وہ استحاضہ ہے پس چالیس دن کے بعد نہا لے اور نماز پڑھنا شروع کرے خون بند ہونے کا انتظار نہ کرے اور اگر یہ پہلا بچہ نہیں بلکہ اس سے پہلے جن چکی ہے اور اس کی عادت معلوم ہے کہ اتنے دن نفاس آتا ہے تو جتنے دن نفاس کی عادت ہو اتنے دن نفاس کے ہیں اور جو اس سے زیادہ ہے وہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۔ کسی کی عادت تیس دن نفاس آنے کی ہے لیکن تیس دن گزر گئے اور ابھی خون بند نہیں ہوا تو ابھی نہ نہائے۔ اگر پورے چالیس دن پر خون بند ہو گیا تو یہ سب نفاس ہے اور اگر چالیس دن سے زیادہ ہو جائے تو فقط تیس دن نفاس کے ہیں اور باقی سب استحاضہ ہے اس لیے اب فورا غسل کر ڈالے اور دس دن کی نمازیں قضا پڑھے۔

مسئلہ۔ اگر چالیس دن سے پہلے خون نفاس کا بند ہو جائے تو فورا غسل کر کے نماز پڑھنا شروع کرے اور اگر غسل نقصان کرے تو تیمم کر کے نماز شروع کرے ہرگز کوئی نماز قضا نہ ہونے دے۔

مسئلہ۔ نفاس میں بھی نماز بالکل معاف ہے اور روزہ معاف نہیں بلکہ اس کی قضا رکھنا چاہیے اور روزہ نماز اور صحبت کرنے کے یہاں بھی وہی مسئلے ہیں جو اوپر بیان ہو چکے ہیں۔

مسئلہ۔ اگر چھ مہینے کے اندر اندر آگے پیچھے دو بچے ہوں تو نفاس کی مدت پہلے بچہ سے لی جائے گی۔ اگر دوسرا بچہ دس بیس دن یا دو ایک مہینے کے بعد ہوا تو دوسرے بچہ سے نفاس کا حساب نہ کریں گے۔

نفاس اور حیض وغیرہ کے احکام کا بیان

مسئلہ۔ جو عورت حیض سے ہو یا نفاس سے ہو اور جس پر نہانا واجب ہو اس کو مسجد میں جانا اور کعبہ شریف کا طواف کرنا اور کلام مجید کا چھونا درست نہیں۔ البتہ اگر اگر کلام مجید جزدان میں یا رومال میں لپٹا ہو یا اس پر کپڑے وغیرہ کی چولی چڑھی ہوئی ہو اور جلد کے ساتھ سلی ہوئی نہ ہو بلکہ الگ ہو کہ اتارے سے اتر سکے تو اس حال میں قرآن مجید کا چھونا اور اٹھانا درست ہے۔

مسئلہ۔ جس کا وضو نہ ہو اس کو بھی کلام مجید کا چھونا درست نہیں البتہ زبانی پڑھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ جس روپیہ یا پیسہ میں یا طشتری میں یا تعویز میں یا اور کسی چیز میں قرآن شریف کی کوئی آیت لکھی ہو اس کو بھی چھونا ان لوگوں کے لیے درست نہیں البتہ اگر کسی تھیلی میں یا برتن وغیرہ میں رکھے ہوں تو اس تھیلی اور برتن کو چھونا اور اٹھا درست ہے۔

مسئلہ۔ کرتے کے دامن اور دوپٹہ کے آنچل سے بھی قرآن مجید کو پکڑنا اور اٹھانا درست نہیں البتہ اگر بدن سے الگ کوئی کپڑا ہو جیسے رومال وغیرہ اس سے پکڑ کے اٹھانا جائز ہے۔

مسئلہ۔ اگر پوری آیت نہ پڑھے بلکہ آیت کا ذرا سا لفظ یا آدھی آیت پڑھے تو درست ہے لیکن وہ آدھی آیت اتنی بڑی نہ ہو کہ کسی چھوٹی سی آیت کے برابر ہو جائے۔

مسئلہ۔ اگر الحمد کی پوری سورت دعا کی نیت سے پڑھے یا اور دعائیں جو قرآن میں آئی ہیں ان کو دعا کی نیت سے پڑھے تلاوت کے ارادہ سے نہ پڑھے تو درست ہے اس میں کچھ گناہ نہیں ہے جیسے یہ دعا ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ اور یہ دعا ربنا لا تواخذنا ان نسینا اواخطانا آخر تک جو سورہ بقرہ کے آخر میں لکھی ہے۔ یا اور کوئی دعا جو قرآن شریف میں آئی ہو دعا کی نیت سے سب کا پڑھنا درست ہے۔

مسئلہ۔ دعاء قنوت کا پڑھنا بھی درست ہے۔

مسئلہ۔ اگر کوئی عورت لڑکیوں کو قرآن شریف پڑھاتی ہو تو ایسی حالت میں ہجے لگوانا درست ہے اور رواں پڑھاتے وقت پوری آیت نہ پڑھے بلکہ ایک ایک دو دو لفظ کے بعد سانس توڑ دے اور کاٹ کاٹ کر کے آیت کا رواں کہلائے۔

مسئلہ۔ کلمہ اور درود شریف پڑھنا اور خدا تعالی کا نام لینا استغفار پڑھنا یا اور کوئی وظیفہ پڑھنا جیسے لا حول ولا قوۃ الا باللہ اعلی العظیم۔ پڑھنا منع نہیں ہے۔ یہ سب درست ہے۔

مسئلہ۔ حیض کے زمانہ میں مستحب ہے کہ نماز سے جی گھبرائے نہیں۔

مسئلہ۔ کسی کو نہانے کی ضرورت تھی اور ابھی نہانے نہ پائی تھی کہ حیض آ گیا تو اب اس پر نہانا واجب نہیں بلکہ جب حیض سے پاک ہو تب نہائے ایک ہی غسل دونوں باتوں کی طرف سے ہو جائے گا۔

استحاضہ کے احکام کا بیان

مسئلہ۔ استحاضہ کا حکم ایسا ہے جیسے کسی کے نکسیر پھوٹے اور بند نہ ہو ایسی عورت نماز بھی پڑھے روزہ بھی رکھے قضا نہ کرنا چاہیے اور اس سے صحبت کرنا بھی درست ہے۔

نوٹ:استحاضہ کے احکام بالکل معذور کے احکام کی طرح ہیں۔