(ملفوظ 127)بزرگوں کے مسلک چھوڑنے کی خرابیاں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ ساری خرابیاں اپنے بزرگوں کے مسلک اور طرز کوچھوڑ دینے کی ہیں عاقبت اور خیریت اسی طرزمیں ہے جوہمیشہ اپنے بزرگوں کا رہا ہے یہ نئی نئی باتیں انگریزیت اور نیچریت کی بدولت لوگوں کی گلوگیرہوگئیں اب ان چیزوں کا قلب سے مٹنا آسان نہیں البتہ ایک چیز ہے جوان کا انسداد کرسکتی ہے وہ صحبت ہے کسی کامل کی اور وہی مقصود ہے اور ایک اس کی ہی کیا شکایت کی جائے تمام دین ہی کی حقیقت بدل گئی اسی دین کے لباس میں ہزاروں راہ زن اور ڈاکو بنے پھرتے ہیں ان بدینوں کی بدولت لوگوں کے عقائد تک خراب ہو گئے بدعت اورشرک میں عام مبتلاء ہوگیا اور ذرا قلب میں خدا کا خوف نہیں رہا زیادہ تر گمراہی کا دروازہ ان ہی کی بدولت کھلاہے اورلوگ دوسری طرف متوجہ ہوگئے چنانچہ تحریک گزشتہ می علماء کی شرکت سے عوام پرزیادہ اثرہوا اور لوگ راہ سے بے راہ ہوگئے اور ایسے لوگوں کی حالت زیادہ خطرناک ہے جودوسرون کی گمراہی کا سبب بنیں ۔
11/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ

(ملفوظ 126)سادگی حضرت حاجی صاحب :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہمارے بزرگوں کی تو ظاہری وضع بھی سادی رہتی تھی کوئی پہنچانتا بھی نہ تھا ایک مرتبہ حضرت حاجی رحمہ اللہ دہلی تشریف رکھتے تھے دیکھا ایک جگہ مجمع ہے اور دردنامہ غمناک جوکہ حضرت کی تصنیف پڑھا جارہا ہے حضرت بھی مستمعین ( سننے والوں ) میں شریک ہوگئے اورکسی نے پہچانا بھی نہیں ایک بارپانی پت تشریف لے جارہے تھے راستہ میں دیکھا کوئی عاشق یہی دردنامہ پڑھتا جارہا ہے فرماتے تھے کہ میں نے کہا کیوں بک بک لگا رہاہے اس نے حضرت کوسختی سے جواب دیا کہ توکیا جانے حضرت کے پانی پت پہنچنے کے بعد شہرت ہوئی یہ شخص بھی ملاقات کو آیا حضرت کو پہچان کر بہت شرمندہ ہوا اور حضرت سے معافی چاہی حضرت نے فرمایا کہ بھائی تم نے کوئی بری بات تو نہیں کہی تھی یہی توکہا تھا کہ توکیا جانے واقعی میں تمہاری حالت کو کیا جانوں ، یہ حالت تھی سادگی کی اپنے بزرگوں کی اور ادب تورنگ ہی بدل گیا ڈھنگ ہی نرالے ہیں مجھ کوتودیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ایک دم کایا پلٹ ہوگئی ۔

(ملفوظ 125) تفسیر عجیب از مولانا محمد یعقوب صاحب :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے بزرگ بحمداللہ بے نظیر جامع کمالات تھے چنانچہ باوجود اس کے مولانا فیض الحسن صاحب بہت بڑے ادیب ہیں جلالین پران کا حاشیہ بھی مشہور ہے وہ چھپا ہوا میرے پاس بہت دنوں تک رہا بھی ہے مگر اس میں کوئی خاص عجیب تحقیق نظرآئی اور مولانا محمدیعقوب صاحب رحمہ اللہ ایسے ادیب مشہورنہ تھے مگرمولانا کی تقریرات سے جوبہت سے مقامات مجھ کومنضبط بھی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ عربیت سے اس قدرمناسبت تھی کہ دیکھنے والا پھڑک جاتا ہے اس وقت ایک مقام یاد آگیا آیت الزانیۃ والزانی اور آیت السارق والسارقۃ کے متعلق ( پہلی آیت میں ) الزانیتہ کی تقدیم اور دوسری آیت میں السارق کی تقدیم کے بارہ میں مشہورسوال ہے جس کا سب سے لطیف جواب منقول ہے کہ سرقہ کی بنا جرات ہے اور وہ مرد میں زیادہ ہے اور زناء کی بناء شہوت ہے جوعورت میں زیادہ ہے مگر اس جواب میں یہ خدشہ ہے کہ اس فرق کو بناء کہتے ہیں تو مجرم کی ایک قسم معذوری کا اظہار ہے اور مقام یہ ہے تقیح کا اب مولانا کی توجیہ سنئے فرماتے تھے کہ سرقہ کا صدور مرد سے زیادہ عجیب اور قبیح ہے کہ وہ کما کرکھا سکتا ہے اورعورت میں عفت وشرم وحیا زیادہ ہوتی ہے اس سے زنا کا صدور زیادہ عجیب وقبیح ہے میں نے کسی تفسیر میں یہ بات نہیں دیکھی جوحضرت مولانا محمدیعقوب صاحب رحمہ اللہ سے سنی مولانا سے میں نے جلالین کے بیس پارے پڑھے ہیں اکثر مقامات میں ایک عجیب بات ارشاد ہوتی تھی گواب سب زیادہ رہا مگر کچھ کچھ یاد ہے اور پھر باوجود ان کمالات کے یہ حالت تھی کہ اپنے کو بلکل مٹائے ہوئے اور فنا کئے ہوئے تھے اورآج کل اکثروں کی یہ حالت ہے کہ نہ علوم ہیں نہ عمل نہ کوئی تحقیق ہے نہ کوئی تدقیق ہے مگر ویسے ہی جامے سے باہر ہوئے جاتے ہیں دیکھئے ہمارے بزرگ جوہرطرح پرصاحب مال تھے ان کو جو بھی خطابات دیئے جاتے اور جن القاب سے یاد کیاجاتا تھوڑا تھا مگر ان حضرات کا انتہائی لقب مولانا تھا ورنہ اکثر مولوی صاحب کہلاتے تھے اورآج کل جن لوگوں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں وہ شیخ الحدیث شیخ التفسیر، امیرالہند امام الہند کہلانے لگے یہ سب نئی ایجاد ہے البتہ شیخ الاسلام پرانا لقب ہے اس سے طبیعت میں انقباض نہیں ہوتا اور خیریہ القاب تو پھربھی علم سے تعلق رکھتے ہیں مگرآج کل تو جانوروں تک کے خطابات باعث فخر اور پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں یہی حوانیت کا غلبہ اس زمانہ میں ہوگیا ہے ، مثلا طوطی ہند، بلبل ہند، شیرپنجاب معلوم ہوتا ہے اب کچھ دنوں کے بعد فیل ہند ، اسپ ہند ، پیدا ہونگے کیا خرافات ہے خدا بھلاکر لے اس جاہ کا اس نے اندھا بنارکھا ہے اور سنئیے کہ ان میں لکھے پڑھے بھی نہیں مگرامام التفسیر شمس العلماء یہ خطابات اورالقاب یہ سب نیچریت کے ماتحت ہیں لوگوں کو ان باتوں میں کچھ مزہ آتا ہے استغفراللہ ۔

(ملفوظ 123)تبرکات میں زیادہ کاوش کرنا خلاف محبت ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عالم نہ ہوتو کم ازکم عاشق توہو شاہ عبدالعزیز صاحب رحمہ اللہ نے اسی عشق سے متاثر ہوکر لکھا ہوا دیکھا ہے اب یاد نہی رہاکہ کہاں لکھا ہے کہ یہ جوجابجا تبرکات ہیں ان میں زیادہ کاوش نہ کرے کہ خلاف ہے ۔

(ملفوظ 122)مخالفین کا بھی امدادیہ کی تعریف کرنا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعضے بدعتی اپنے مجمع میںاقرار کرتے ہیں کہ یہ تواللہ کو معلوم ہے کہ نفع ہوتا ہے اورکہاں نہیں مگر تسلی جس چیز کا نام ہے وہ خانقاہ امداد یہ ہی میں ہوتی ہے اور کہیں بعضے پکے مخالف ہیں جن شخصوں نے یہ بات کہی ہے سب اللہ کا فضل ہے احسان ہے ۔

(ملفوظ 121)تنخواہ دارملازم سے غلطی پرمواخذہ :

حضرت والا کہ ایک تنخواہ دارملازم نے ایک مہمان سے جوحج کرکے آئے تھے سے سوال کیا کہ کچھ تبرکات بھی لائے ہو اس کی اطلاع کسی ذریعہ سے حضرت والا کو ہوگئی اس پرملازم سے سخت مواخذہ فرمایا کہ تم کوکیا حق تھا اس سوال کا جبکہ میں ہرقسم کا تمہارا خیال رکھتا ہوں اور کسی قسم کی حتی الامکان تکلیت نہیں ہونے دیتا علاوہ تنخواہ کے ویسے بھی تمہاری خبر گیری کرتا رہتا ہوں پھر یہ حرص اورطمع اورمہمان سے سوال کیا معنی عرض کیا کہ محض دریافت کرنا مقصود تھا فرمایا کہ عذر گناہ بدتر ازگناہ اگرمانگتا مقصود نہ تھا فعل عبث ہوا جومانگنے اور سوال کرنے سے بھی زیادہ براہے نیزتمہارے اس سوال سے مہمان کو تکلیف ہوئی وہ محجوب ہوا اس کے بعد تووہ ضرورہی دے گا چاہے جی چاہے یا نہ چاہے اور یہاں تویہ بات ضروری قواعد میں داخل ہے کہ کوئی کسی سے سوال نہ کرے یہاں پررہنے والوں کو تو اس کے ماتحت رہنا چاہئے
بہشت آنجاکہ آزارئے نباشد ، کسے رابا کسے کارے نباشد
( وہی جگہ بہشت ہے جہاں کوئی تکلیف نہ ہو ، اور کسی کو کسی سے کوئی حاجت نہ ہو )
اب بتلائیے باوجود اس کے کہ میں دوسروں کی اس قدر خدمت کرتا ہوں بھر بھی اس طرح میں ستایا جاتا ہوں اور اس قسم کے بارمجھ ڈالے جاتے ہیں انصاف فرمائیے کہ جس شخص کے قلب میں اس قدررعایتیں رکھی ہوں کیا وہ خود ابتداء کسی سے سختی کرے گا میں فخرا بیان نہیں کرتا بلکہ اللہ کی نعمت ہے اس کا اظہارکرتا ہوں کہ میرے کسی فعل سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچتی اور یہ جوکچھ اللہ کی نعمت ہے ، اس کا ا ظہار کرتا ہون کہ میرے کسی فعل سے کبھی کسی کوتکلیف نہیں پہنچتی اوریہ جوکچھ قواعد اورضوابط میرے یہاں ہیں ان سے مقصود احکام کی حفاظت اور حدود کی رعایت ہے اپنے برزرگوں کا یہ ہی طرز دیکھا ہے اور یہ ہی پسند بھی ہے اب اگر ان حرکات پر دواروگیر اور محاسبہ نہ کروں تو پھر اس سے آگے درجہ بڑھے گا مثلا تو محض حرص وطمع ہے پھر مانگنا شروع کردینگے اور دینے والے بھی پہلے تو اور نیت سے خدمت کرتے ہیں مگر پھر مختلف نیت ہوجاتی ہے مثلا یہ کہ مقرب ہیں ان کے ذریعہ سے سلام وپیام پہچنے گا اورحاجت ہوگی وہ پوری ہوجائے گی اوراس کا فساد ظاہرہے میں ایسی فساد کے انسداد کےلئے ان لوگوں کی اس قدر رعایت کرتا ہوں کہ ان سے کہہ رکھا ہے جب کہیں کھانے کا سامان نہ ہو گھر سے کھانا منگا لو پلاؤ قورمہ تو ہوگا نہیں ڈال روٹی ہو گی مگر وہی کھالیا کرنا ۔

(ملفوظ 120)ایک انگریزی خواں کا دن میں کئی لباس تبدیل کرنا :

ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ کلیہ تونہیں مگراکثریہ ہے کہ یہاں جوجس کے لئے تجویزکیا جاتا ہے وہ اسی کا اہل ہوتا ہے اور یہ میں پھر کہے دیتا ہوں کہ یہ کلیہ نہیں کبھی کوئی شبہ ودار کرے ایک صاحب یہاں انگریزی کی تعلیم یافتہ آئے تھے صبح سے شام تک کئی لباس بدلتے تھے وطن پہنچ کراپنے حالات کا خط لکھا میں نے علاوہ ان باتوں کے جواب کے ایک حالت یہ بھی لکھی کہ آپ جس وقت تک یہاں پرمقیم رہے آپ غزل کے مصداق رہے کہ
گہے درکسوت لیلیٰ فر شد ، گہے در صورت مجنون برآمد
( کبھی لیلٰی کے لباس میں چھپ گئے کبھی مجنون کی صورت میں نکلے ۔ 12)
اقرار کیا اور لکھا کہ میں خود محجوب ہوں آئندہ ان شاءاللہ ایسا نہ ہوگا ۔
11/ربیع الاول 1531ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ

( ملفوظ 119)غوائل نفس کا نہ سمجھنا بے فکری ہے :

ایک سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت بہت سے غوائل نفس کے ایسے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتے اگر کوئی کہے کہ پھر یہ ان کا مکلف ہی نہیں ہوگا سویہ بالکل غلط ہے کیونکہ فکر کرنے سے یہ سمجھ سکتا ہے مگر فکر نہیں کرتا اس لئے نہیں سمجھتا اور بے سمجھی کا انسداد کرسکتاہے مگرنہیں کرتا پس اس کا سبب بے فکری ہے اگر فکر ہو سب کچھ کرسکتا ہے ، اورفکر کا مکلف ہے ۔

(ملفوظ 118)العون النفس فی الصون عن التلبیس:

(ماقب بہ العون النفیس فی الصون عن التلبیس ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا بجز اسلام کے آج کل ہرمذہب میں تلبیس سے کام لیا جارہا ہے ایک ہندو نومسلم جوپہلے مستقل مہنت تھا کانپورمیں میرے پاس آیا اور یہ کہا کہ میں دنیا میں خدا کا دیدار کرنا چاہتا ہوں اور اس کی تلاش میں میں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ صرف کردیا مگرناکام رہا ہندو ہونے کے زمانہ میں ایک پوجاری نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تجھ کو پرمیشور کی جوت دکھلادوں گا مگر اس نے چالاکی یہ کی کہ شب کے وقت ایک کچھوے کی پشت پربہت سا گارا رکھ کر جما کر اس پر ایک چراغ جلاکر مجھ کواس سے ذرا فاصلہ پرلے گیا اور اس اشارہ کیا سووہ چل رہاتھا دور سے کہا کہ دیکھ وہ ہے پرمیشور کی جوت میں نے جواس کو دیکھا تواس کودیکھا تواس کی حرکت سے شبہ ہوا کہ اس میں وقار کیوں نہیں جب اطمینان نہ ہوا تو میں پاس پہنچا اس پوجاری نے ہرچند مجھ کو روکا ہاتھ بھی پکڑلیا کہ بچہ وہاں مت جا جل جائے گا مگر میں نہ رکا پہنچ ہی گیا جاکردیکھا تو یہ کاروائی ہے میں نے اس سے کہا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہا کہ بس میرے پاس تو یہی ہے باقی پوری حلوے کی کمی نہیں اگردل چاہے رہو اور عیش کرو میں نے کہا یہ چیزیں تو میں خود چھوڑ کر آیا ہوں پھرخیال ہوا کہ مسلمان ہونا چاہئے شاید وہاں یہ چیز نصیب ہوجائے یہ سب سن کر میں نے اس شخص سے کہا کہ تم دھوکے میں ہو اور تمہارے اسلام لانے کی یہ بناء ہے تو ہم صاف کہے دیتے ہیں کہ اسلام میں بھی دنیا میں خدا کا دیدار نہیں ہو سکتا ہاں آخرت میں وعدہ ہے پھرمیں کہا کہ جب تم اس میں ناکام رہوگے اورتمہارے اسلام کی یہ ہی بناء ہے تو شبہ ہوتا ہے کہ تم اسلام کو بھی چھوڑدوگے کہنے لگا کہ اسلام میں توحید ایسی کامل ہے کہ کہیں اورکسی مذہب میں نہیں اس لئے اسلام کو نہیں چھوڑسکتا میں نے کہا کہ اسلام میں کیا توحید کامل ہے مجھ کو یہ انتظارتھا کہ دیکھو کیا دلیل بیان کرتا ہے جس پراطمینان ہے کہنے لگا کہ اگرکوئی مسلمان ہوجاتا ہے اس کوسب مسلمان اپنے برابر سمجھنے لگتے ہیں یہ دلیل تھی اس کے پاس اسلام میں توحید کامل ہونے کی جوظاہرا کوئی بڑی برہانی بات نہیں مگر حق تعالیٰ کا جس پر فضل ہوتا ہے اور اس کو رحمت سے نوازتے ہیں وہاں کسی مانع کا دخل نہیں ہوتا ظاہرا تو جب وہ اسلام لاکر بھی اپنے مقصد میں ناکام ہوا توجواسلام کا داعی تھا وہ رخصت ہوجانا چاہئے تھا مگر یہ برکت اس کے خلوص نیت کی تھی چونکہ وہ ان کی ملاقات کا متلاشی تھا اس پریہ فضل ہوا کہ اس کو اسلام لانے کی توفیق نصیب فرمادی ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذو فضل العظیم اس قصہ میں جو اس نو مسلم سے بلا تلبیس حق بات صاف کہہ دی تھی اس پر ایک دوسرا قصہ بیان کیا کہ ایک ہندو جلال آباد میں تھا معزز رئیس تھا اس نے اتفاق سے ایک وعظ میں شرکت کی تھی اس کے سننے کے بعد اس نے چاہا تھا کہ میں اس تصوف کی تعلیم دوں کئی باررفعے پرچے چلے اورمیں نے اس کو خاص خاص عنوانات سےحق کی دعوت دی مگر سمجھا نہیں ایک رقعہ میں میں نے اس کو صاف لکھ دیا اگر ہم سے تصوف لینا ہے تو ایک شرط کی ضرورت ہے ہرطریق میں کچھ شرائط ہوتے ہیں جو تصوف ہم کو پہنچا ہے اس میں اسلام شرط ہے بس مایوس ہوکر بیٹھ گیا اسی عدم تلبیس کے سلسلہ میں فرمایا کہ جیسے میرے یہاں اپنے نقائض کے اخفا کا اہتمام نہیں ایسے ہی اپنے محاسن کے خفا کا بھی اہتمام نہیں جو بھی حالت ہے کھلی ہوئی ہے اب خواہ کوئی نقائض سے غیر معتقد ہوجائے خواہ محاسن پر معتقد مجموعہ پر نظر کرکے اعتقاد میں بھی کسی کو غلونہ ہوگا وہ وسط رہے گا پالیسی بمعنی فریب اور پالیسی بمعنی خوشامد دونوں سے بحمد اللہ مجھ کو ہمیشہ سے نفرت ہے میں توکہا کرتا ہوں کہ انگریزی کی پالیسی اورفارسی کی پالیسی دونوں قابل نفرت ہیں اور بناوٹ پرمعتقد ہونے والے کا اعتبار ہی کیا آخر انسان ہے کہا تک بنے گا ہمیشہ بنتے رہنا بڑا مشکل کام ہے اورجس طرح مصلح کو ضرورت ہے طالبین کو تلبیس سے بچاوے اسی طرح طالبین کو بھی سخت ضرورت ہے کہ تعیین مصلح میں نہایت احتیاط سے کام لیں اور تلبیس سے بچیں اور یہ سب احتیاطیں حالت موجودہ کے متعلق ہوسکتی ہیں باقی انجام کے متعلق جوکہ اس وقت محض مخفی ہے کوئی انتظام نہیں ہوسکتا بجزاس کے کہ جس وقت اس کا ظہور ہو اس سے قطع تعلق کروے کسی کو دلائل صحیحہ سے صاحب کمال سمجھا گیا مگر باوجود اس کے پھر اس کو رجعت ہوئی تواس وقت یہی حکم کیا جائے گا کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ پہلی ظاہری حالت واقع میں ولایت ہی نہ تھی جیسے طب کا مسئلہ ہے کہ دق کا مریض اگراچھا ہوگیا تو کہاں جاتا ہے کہ وہ دق ہی نہ تھی طبیب کی تشخیص میں غلطی ہوئی ایسے ہی ایسی حالت میں کسی کو صاحب کمال سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ پہلے ہی سے صاحب کمال نہ تھا بعض صورتیں اشتباہ کی ایسی بھی ہوتی ہے کہ غیر حقائق پرحقائق کا دھوکہ ہوجاتا ہے جیسے صبح کا ذب پرصبح صادق کا دھوکہ ہوجاتا ہے اسی کومولانا فرماتے ہیں
اے شدہ تو صبح کاذب رار ہیں صبح صادق راز کاذب ہم ببیں
( توجوصبح کاذب کا متبع ہورہاہے ، صبح صادق اور صبح کاذب میں امتیاز ۔ 12)
دیکھئے ابلیس کو اپنے متعلق ہی دھوکہ ہو اور نہ واقع میں اس کو کبھی نسبت اور قریب میسر نہیں ہوا اور آسمان پرچلا جانا یہ کیسی دلیل سے علامت مقبولیت کی نہیں البتہ مکان کو مطہرکہیں گے اس سے آگے کوئی بات اس کے کامل ہونے کی دلیل نہیں باقی یہ اعمال صالحہ ابلیس کے تھے وہ محض صورۃ تھے حقیقتہ نہ تھے مگر فتوے کے درجہ میں حقیقت معتبرنہیں اس لئے کبھی کسی آدمی کو بھروسہ نہیں کرنا چاہئے کہ میری حالت اخیرتک مامون ہی رہے گی میرے ابتدائی عربی کتابوں کے استاد نے جومکہ کے ایک ثقہ عالم تھے ایک حکایت بیان فرمائی کہ اتفاق سے مکہ سیلاب آیا جس سے ایک عالم کی قبر کھل گئی مگر دیکھا کہ بجائے اس میت کے ایک عورت نہایت حسین اس قبر میں ہے تعجب ہوا کہ وہ شخص جواس قبر میں دفن ہوا تھا اس کے بجائے یہ عورت قبرمیں کیسے ہے ایک آفاقی حاجی شخص نے بیان کیا کہ میں اس کو پہچانتا ہوں یہ ایک لندن کے انگریز کی بیٹی ہے جومجھ سے تعلیم حاصل کرتی تھی اورخفیہ مسلمان ہوکرمرگئی لوگوں نے یہ انتطام کیا کہ اس شخص کو مع دومکی لوگوں کے لندن بھیجا کہ وہاں اس کی قبر کھول کر دیکھو چنانچہ اس قبر میں اس مکی عالم کی میت کی نعش دیکھی گئی جس کوان دومکی ہمراہیوں نے پہچانا یہ سب واپس آئے اور بیان کیا اورحیرت بڑھی لوگوں نے اس کی مکھی شخص کے مکان پرپہنچ کر اس کی بیوی سے پوچھا کہ یہ شخص ایسا کیا یہ برا عمل کرتا تھا جس کی یہ سزادی گئی بیوی نے کہا کہ یہ جب مجھ سے مقاربت کرتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ جنابت کے مسئلہ میں عیسائیت کا مذہب بڑے آرام کا ہے کہ جنابت کا غسل نہیں ایسی حالت میں اپنی حالت کے پرکیا ناز کرے کسی کو کیا حقیر سمجھتے اس لئے کہ کیا خبرہے کسی کوخدا کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے بعض فساق فجار میں بھی خود فسق وفجور کے زمانہ میں ایسی بات ہوتی ہے کہ وہ بیڑا پار کردیتی ہے لکھنؤمیں ایک خان صاحب تھے رند مشرب بڑے آزاد دنیا بھر کے عیوب ان میں تھے عمر ڈھل چلی تھی اہل محلہ سمجھاتے کہ میاں ضعیفی کا زمانہ ہے اب توتوبہ کرلو نماز شروع کردووہ کہتے کہ اس سے کیا ملے گا لوگ کہتے ہیں کہ جنت ملے گی وہ کہتے کہ میاں جنت کے واسطے اس قدر محنت اور مشقت کون کرے جنت چلی جائے گی اور جنت میں جا کھڑے ہوں گے جس وقت مولانا امیرعلی صاحب نے ہنومان گڈی پربت پرستوں کے مقابلہ میں جہاد شروع کیا خان صاحب کو معلوم ہوا مولانا کے پاس پہنچے اورعرض کیا کہ مولانا کیا ہم جیسے گنہگاروں کو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں گے مولانا نے فرمایا کہ کون امرمانعی ہے خان صاحب ہاتھ میں تلوار لے کر میدان میں پہنچ گئے واقعی ایک ہاتھ سے خان صاحب شہید ہوگئے اور جنت میں داخل ہوگئے تویہ بات دین کی حمیت خاں صاحب میں عین جہاد کے وقت تھوڑا ہی پیدائش ہوئی تھی یہ پہلے ہی سے قلب میں تھی جس کی کسی کو خبر بھی نہ تھی اور بات یہ ہے علم علٰی شانہ کے ساتھ تعلق اورمحبت یہ بھی ایک عمل مخفی ہے جس کی بدولت خان صاحب کو یہ دولت نصیب ہوئی ، ایک شخص مار ہرہ میں تھا نہایت ہی اوباش لا اوبالی لوگ کہتے کہ میاں خدا کوبھی مبہ دکھلانا ہے ان حرکات سے توبہ کرلو جواب میں کہتا کہ میاں ہم جانیں ہمارے اللہ میاں تم کون دخل دینے والے ایک دن دفعتہ بیٹھے بیٹھے بیساختہ اس کے منہ سے نکلا کہ میاں میرا کیا حال ہوگا پھر اور کوئی کلمہ دنیا کا زبان سے نہیں نکلا اور رونا شروع کیا اسی حالت میں دو تین روز کے بعد اسی پرختم ہوگیا اورجان دیدی اب یہ شخص قتیل محبت وہیت ہونے کی وجہ سے شہداء میں سے ہے توکیا کسی کو حقیر اورذلیل سمجھا جا سکتا ہے اسی فرماتے ہیں
گناہ آئینہ عفو و رحمت ست اے شیخ مبیں بچشم حقارت گناہ گاراں را ،
(اے شیخ گناہ ( جس کے بعد توبہ نصیب ہوجاوے ) عفوو رحمت کا آئینہ ہے ( کیونکہ اگرگناہ نہ ہوتا تو توبہ کس چیز سے ہوتی اور توبہ نہ ہوتی تو عفود رحمت کا ظہور کیسے ہوتا ) لہذا گناہگاروں کو (اس حیثیث سے کہ وہ مظہر نہیں رحمت و عفو الہی کے ) چشم حقارت سے مت دیکھو ۔ 12)

(ملفوظ 117)عوام کا مصلح اور مبلغ سے خوش رہنا مشکل ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جن بزرگوں کے ہم معتقد ہیں اللہ کا شکر ہے کہ ان کی کوئی بات بھی ہم کو ناگوار نہیں ہوتی وجہ یہ کہ ان کی صرف ایک ہی چیز لوگوں کو ناگوار ہے وہ اظہار حق ہے جس کووہ بدون خوف لومۃ لائم (کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ) کے ظاہر کرتے ہیں اورحق ہمیشہ کڑوا ہوتاہے ، الحق مر،، مشہور ہےاور یہی چیز ہم کو محبوب ہے پھرنا گواری کی
کیا گنجائش رہی بقول سعدی رحمہ اللہ معشوق من ست آنکہ بنزدیک توزشت ست
( میرا وہی محبوب ہےجوتمہارے نزدیک برا ہے ۔ 12)
باقی اس پرعوام کا مخالف ہونا لازمی امرہے ان دونوں میں تو لزوم ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ کسی سے اظہار حق کریں اور وہ مخالف نہ ہو ان کے ساتھ تو بہت زیادہ مخالفت لازمی ہوگی اور ان کی مخالفت توجاہل لوگ کریں ہی گے اس لئے کہ مصلح اور مبلغ سے خوش رہنا مشکل بات ہے ۔