ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نری عقل سے کیا کام پن سکتا ہے جب تک کہ تائید غیبی نہ ہو بڑے بڑے فلاسفر یونان منزل مقصود پر نہ پہنچ سک ویسے ہی ٹکریں مار کر اور ٹھوکر یں کھا کر مرگئے اور بہت سے بھولے بھاگے لوگ منزل مقصود پر نہ پہنچ گئے تو جوبے عقلی محبوب تک رسائی کا سبب ہو وہ مبارک ہے اس کہ وہ موصل الی اللہ بن گئی اور وہ عقل نامبارک ہے جو محبوب کے راستہ سے دور لے جائے اور محبوب سے مفارقت پیدا کرادے ایسی ہی عقل کو فرماتے ہیں ۔
آزمودم عقل دور اندیش را بعد ازاں دیوانہ سازم خویش را
یعنی جب عقل سے کام نہ چلا تو اپنے کو دیوانہ بنادیا یہ مطلب نہیں کہ عقل سے کام نہیں لیا یہ تو اعلی درجے کی عقل ہے کہ اپنے مقصود کو ہاتھ سے نہ چھوڑا بلکہ مقصود یہ ہے کہ عقل کے اتباع میں غلو کو پسند نہیں کیا ہرچیز کو اس کی حد پررکھا جہاں تک عقل کا کام ہے وہاں تک اس سے کام لیتے ہیں اور جہاں اس کا کام نہیں وہاں اس سے کام لینے کی نسبت کہا جاتا ہے
فکر خودو رائے خود دور عالم رندی نیست کفر است دریں مذہب خود بیتی وخود رائی
تکیہ بر تقوی و دانش ور طریقت کافری است راہر و گر صد ھنر دار و توکل بایدش
(اپنی فکر اور خود رائی عالم ندی میں بے کار ہے ( بلکہ ) اس مذہب میں خود اور خود رائی ( بمنزلہ ) کفر (کے) ہے اپنی عقل اور تقویٰ پر بھروسہ کرنا ، بمنزلہ انکار کے ہے سالک کو اگر ہزاروں ہنر بھی حاصل ہوں توں تو اس کو خدا پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے ۔
(ملفوظ15)بزرگوں کی شان میں گستاخی سے سوخاتمہ کا اندیشہ :
ایک صاحب کے سوال کےجواب میں فرمایا کہ جی ہاں ایسے ہی اکثر غیر مقلد ہیں حدیث کا تو نام ہی نام ہے محض قیاسات ہی قیاسات میں اپنے ہی مقلد ہیں حدیث کی تو ہوا بھی نہیں لگی اور ایک چیز کا تو ان میں نام ونشان نہیں وہ ادب ہے نہایت ہی گستاخی اور بے ادب ہوتے ہیں جوجس کو چاہتے ہیں کہہ ڈالتے ہیں بڑے جری ہیں اس باب میں بزرگوں کی شان میں گستاخی کرنے والا بڑے ہی خطرہ میں ہوتا ہے اندیشہ ہوتا ہے سوخاتمہ کا حق تعالی رحم فرمائیں اور فہم سلیم عطا فرمائیں ۔
2/ربیع الاول 1351 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
(ملفوظ 14 ) خوشامد اور مکاری سے نفرت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ وہ چیزیں نفرت کی ہیں ایک پالیسی فارسی کی یعنی خوشامد اور ایک پالیسی انگریزی کی یعنی مکاری اور چالاکی میں تو ہمشہ ان سے نفرت رکھتا ہوں ۔
(ملفوظ 13)علماء کو مجاہدہ کم کیوں کرنا ہڑتا ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدوں صحبت کامل اور مجاہدہ کے کام نہیں بن سکتا اس حکم کے عموم پر ایک شبہ یہ ہوسکتا ہے جو مشاہدہ ہے کہ علماء کو مجاہدہ کم کرنا پڑتا ہے اور وہ مقصود میں جلد کامیاب ہوجاتے ہیں اس کے متعلق میں نے ایک بزرگ سے پوچھا تھا کہ یہ کیا بات ہے علماء کو سلوک میں بہت کم مجاہدہ کرنا پڑتا ہے ان بزرگ نے نہایت ہی اچھا جواب دیا کہ یہ سب سے زیادہ مجاہدہ کرتے ہیں یہ طالب علمی مجاہدہ ہی تو ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ جس دیا سلائی کو برسوں دھوپ دے چکے ہوں وہ ذرا گرمی پاتے ہی روشن ہوجائے گی اورجس نے ہمیشہ نمی ہی دیکھی ہو اور دھوپ سے واسطہ ہی نہ پڑا ہو وہ بڑی ہی وقت سے جلے گی حضرت سلطان نظام الدین قدس سرہ کے پاس ایک شخص آیا آپ نے مختصر سا کام لیا اور خلافت دے کر رخصت کردیا اس پراہل خانقاہ کو
بڑا رشک ہوا کہ ہم تو برسوں سے پڑے ہیں اب تک کچھ بھی نہ ہوا اور یہ شخص ابھی آیا اور سب کچھ ہوکر چل دیا اس پر سلطان جہ مطلع ہوئے یہ حضرات بڑے ظرف والے ہوتے ہیں وقت کوٹال کر ایک روز فرمایا کہ بھائی جنگل سے کچھ سوکھی لکڑیاں لاو اور کچھ گیلی خدام لے آئے فرمایا کہ دونوں میں آگ لگا دو جو لکڑیاں سوکھی تھیں فورا جلنے لگیں جو گیلی تھیں وہ باوجود کو شش کے نہ جلیں شیخ کو اطلاع کی گئی کہ گیلی لکڑیاں نہیں جلتیں فرمایا کہ میرا کیا قصور ہے کہ میں تم کو نہ روشن کرسکا اور ایک دن کے آئے ہوئے شخص کو روشن کردیا بات یہ ہے کہ وہ سوکھا سکھایا آیا تھا محض دیا سلائی کھینچ کرلگا دینے کی ضرورت تھی اور تم گیلے ہوپھر کیسے آگ پکڑ سکتے ہو واقع ہی کام کی بات ہے غرض کہ جو کام کررہے ہو اس کو بیکار نہ سمجھو اسی کی برکت سے ان شاءاللہ تعالی ایک روز مراد تک پہنچ جاو گے ۔
(ملفوظٖ 12)کوپن میں انگریزی لکھنے سے منی آرڈر واپس :
فرمایا کہ آج ایک منی آرڈر آیا تھا جو تمام انگریزی میں تھا یعنی پتہ کے ساتھ کو پن بھی انگریزی میں لکھا ہوا تھا میں نے اس وجہ سے واپس کردیا کہ میں کس سے بڑھواتا پھروں یہاں ایک معمول یہ ہے کہ مدختم کی جو وقم آتی ہے اس کا پورا پتہ لکھا جاتا ہے اس خیال سے کہ اگر اس درمیان میں وہ شخص مرگیا تو وہ رقم ورثہ کا ترکہ ہوگی اس کو اس پتہ پر واپس کرسکیں اس لئے پوپن پر پورے پتہ کی ضرورت ہے اسی طرح ایک صاحب نے لکھا تھا کہ میں تھانہ بھون فلاں تاریخ تک حاضر ہونا چاہتا ہوں اجازت فرمائی جائے اصل عبارت تو اردو میں تھی مگر آمد کی تاریخ کے ھند سے انگریزی میں لکھے تھے میں نے لکھ دیا کہ میں انگریزی پڑھ نہیں سکا اس لئے آنے کے متعلق کوئی جواب نہیں دیا گیا پھر دوبارہ خط آیا معافی چاہی اور سب اردو میں لکھا جب وہ ہمیں اس وقت سے بچاسکتے ہیں تو کیوں نہیں بچاتے ایک شخص کا خط آیا انگریزی میں نے جواب لکھا عربی بھی میں نے معلق لکھی اس خیال سے کوئی شاید وہاں پر کوئی طالب علم عربی کے ہون ان سے پڑھوا لیں سیدھے ہوگئے پھر عربی میں خط آیا میں نے اردو میں جواب دیا یہ ہوسکتا تھا کہ آئندہ بھی اگر انگریزی میں آتاتو کسی سے پڑھو الیا جاتا مگر ان دماغ کس طرح درست ہوتا ۔
(ملفوظ اا)تارک الدنیا کون ہیں ؟
ایک صاحب نے ایک درویش کی مدح بیان کرتے ہوئے ذکر کیا وہ تارک الدینا ہیں آبادی میں رہمنا پسند نہیں کرتے جنگل میں رہتے ہیں فرمایا کہ تادک الدنیا ہونے کے ساتھ جنگل میں رہنا تو لازم نہیں پھر جب دل دنیا سے بیزار ہے تو اس کو پہاڑ اور جنگل ہی کی کیوں سوجھتی ہے یہ بھی تو دنیا ہی میں ہیں ارے بندہ خدا شہر میں رہو کوئی پھاڑتا ہے کاٹتا ہے اور کثر احوال میں اصل سبب اس کا ایک اور چیز ہے وہ نفس کا کید ہے جس کو ہرایک شخص نہیں سمجھ سکتا یہ نفس بڑاچالاک اور مکار ہے سوجھاتا ہے ایسی باتیں کہ ایسا کرنے سے شہرت ہوگی نام ہوگا لوگ تارک الدنیا سمجھیں گے تواس نے دنیا ہی کے واسطے دنیا کو ترک کیا پھر دنیا کہاں ترک ہوئی ۔
(ملفوظ 10 )ایک عالم کو دوسرے عالم پر قیاس کرنا غلطلی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس عالم کو دوسرے عالم قیاس کرنا ہی سخت غلطی ہے یہاں پر ہی دیکھ لیجئے کہ ایک اقلیم کو دوسری اقلیم کو دوسری اقلیم سے زیادہ تفاوت نہیں ہوتا مگر دونو ں کے خواص میں بڑا فرق ہوتا ہے اور وہ تو عالم ہی دوسرا ہے وہاں کی زندگی اور بے وہاں کی نعمتیں اور ہیں وہاں کی چیزوں کو یہاں کی چیزوں سے کیا نسبت ۔
(ملفوظ 9)شیخ کامل کی پہچان :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اس کی بڑی ضرورت ہے کہ جس سے دین کا تعلق پیدا کیا جائے اور پنے کو اس کے سپرد کیا جائے اس کے اعمال ظاہرہ پر بھی نظر کرلی جائے اس زمانہ میں عجیب حالت ہے لوگوں کی کہ ہرشخص کے معقد ہوجاتے ہیں ۔ بہت سے سیاح پھرتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے اور پھانستے ہیں اور کہتے ہیں کہ اہل وطن ہونے کی ضرورت ہے نماز روزہ سے کیا غرض خدا کی یاد کا قلب میں ہونا کافی ہے یہ بالکل گمراہی ہے اس دھوکہ میں نہ آنا اسی کو مولانا فرماتے ہیں
گرانا رے میخری خنداں بخرد تادہد خندہ اش او خبر
(اگر انار خرید و تو کھلا خرید و تاکہ اس کا کھلا ہونا اس کے اندر کی حالت پر بھی مطلع کردے )
دیکھئے کیسا عجیب طریقہ تعلم فرمایا ارو کیوں نہ فرماتے بڑے عارف ہیں محقق ہیں فرماتے ہیں کہ انار خرید و تو بندمت خرید وکھلا ہو ا خرید یعنی نری باطنی صلاح کو کافی نہ سمجھو صلاح ظاہری بھی دیکھو نامبارک خندہ آں لالہ بود کہ زخندہ و سواد دل نمود
(گل لالہ کا کھلنا نا مبارک تھا کہ اس کے کھلنے ہی سے اس کے دل کی سیاسی ظاہر ہوئی )
ہرشخص اللہ والا نہیں ہے اس روپ میں ہزاروں راہ زن اور ڈاکو پھرتے ہیں جنکا پیشہ ہی یہ ہے بالخصوص اس زمانہ میں تو ایسے راہ زنوں کی کوئی کمی ہی نہیں اپنے دین کی حفاظت ضروری ہے۔
2 /ربیع الاول 1351 ہجری مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ
(ملفوظ 8)مختصر جامع دعاء :
ایک دیہاتی شخص نے حضرت والا سے دعا ء کیلئے عرض کیا عرض کیا حضرت والانے ان لفظوں میں دعا ء فرمائی کہ اللہ بھلا کر ے اس پر اس شخص نے نہایت ہی افسردہ لہجے میں عرض کیا کہ جی بس یہ بھی کافی ہے فرمایا کہ ایسے بولتے ہو کہ جیسے مجبوری میں کہا جاتا ہے کہ خیر جو کچھ ہوگیا یہ ہی سہی بھائی تم نے ہی میرے سے کونسی تفصیل بیان کی تھی وہی رسوم کی خرابی دل میں تو ہے مفصل اور زبان پر ہے مجمل اور دعا ء چاہتے ہیں مفصل کی جودل میں ہے اسے کہتے نہیں بندہ خدا اگر زبان سے اور کچھ کہتا اور زیادہ دعا کردیتا اور یہ بھی کیا تھوڑی دعاء ہے کہ اللہ بھلا کرے یہ سب کو شامل ہے ۔
(ملفوظ 7) ادب اور تکلف میں فرق :
ایک صاحب مجلس میں بہت ہی زیادہ ادب کی صورت بنائے بیٹھے تھے حضرت والا نے دیکھ کر فرمایا کہ آپ جس ہیت سے بیٹھے ہیں اور بھی کوئی اس طرح بیٹھا ہے یا آپ ہی سب سے زائد ادب کا غلبہ ہے مجھکو اس هيت ادب سے ايسامعلوم هوتا ہےکہ جیسےمجھ کوبناتے ہوآدمی کو کچھ تو عقل سے کام لینا چاہئے مجھے ایسی نشست سے تنگی ہوتی ہے کہ ایک مسلمان بندھا ہوا ہو بیٹھا ہے صحابہ کرام حضور ﷺ کی خدمت میں نہایت ہی بے تکلفی کے ساتھ رہتے تھے میں یہ نہیں کہتا کہ بے ادب بنو ادب نہایت ضروری چیز ہے مطلب یہ ہے کہ تکلف نہ ہو ادب اورچیز ہے تکلف اور چیز ہےاور اصل ادب نام ہے راحت رسانی کا ادب کہتے ہیں حفظ حدود کو اورکو اور یہ بڑوں کے حقوق ادا کرنے کا نام ادب خلاصہ یہ کہ بڑوں کے ذمہ چھوٹوں کا ادب ہے اور چھوٹوں کے ذمہ بڑوں کا ادب ہے خاوند کے ذمہ بیوی کا ادب ہے بیوی کے ذمہ خاوند کا ادب استاد کے ذمہ شاگرد کا ادب ہے شاگرد کے ذمہ استاد کا ادب پیر کے ذمہ مرید کا ادب ہے مرید کے ذمہ پیر کا ادب باپ کے ذمہ بیٹے کا ادب ہے بیٹے کے ذمہ باپ کا ادب یہاں پر ادب سے مراد حقوق کا اد اکرنا اور راحت رسانی ہے جس کا یہ حاصل ہےکہ کسی کو ایذا نہ پہنچاویں یہ ہے صحیح تفسیر ادب کی یعنی حفظ حدود جس کا خلاصہ ہے کہ سب کو راحت پہنچائیں ادب تو رہا ہی نہیں محض تکلف ہی تکلف رہ گیا ہے ظاہر اتعظیم وتکریم کو ادب سمجھتے ہیں یہ ایسا ہے جیسا کسی نے کہا ہے
ہے شرافت تو کہاں بس شروآفت ہے فقط ست سیاست سے گیا صرف سیا باقی ہے
اور کہتے ہیں
میم و واو میم نون تشریف نیست لفظ مومن پئے تعریف نیست (صرف میم اور واو اور میم اور نون جس کا مجموعہ لفظ مومن ہے قابل عزت چیز اور صرف لفظ مومن تعریف کے قابل چیز نہیں جب تک حقیقت ایما ن حاصل نہ ہو )
تو اس ظاہری اور بناوٹی ادب سے مجھ کو طبعی نفرت ہے اس پر ان صاحب نے معافی کی درخواست کی فرمایا معاف ہے خدا نخواستہ کوئی انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں مگر کیا آگاہ بھی نہ کروں میں ایسے موقع پر خاموش رہنے کو خیانت سمجھتا ہوں یہ للوپتو اور جگہ ہیں یہاں پر بحمد اللہ صاف معاملہ ہے چاہے کسی کو اچھا معلوم ہو یا برا کوئی معتقد رہے یا غیر معتقد غضب کی بات ہے کہ میں تو اصلاح کروں دین کو نفع پہنچاوں اور میرے ساتھ یہ برتاو کریں کہ مجھ کو فرعون بنانے کی کوشش کریں انسان ہے بشریت ہے اس طرز سے کبھی نہ کبھی قلب میں اپنی بڑائی کا خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ لوگ ہماری اتنی تعظیم وادب کرتے ہیں تو واقع ہم بھی کچھ ہونگے جب ہی تو لوگ ایسا سمجھتے ہیں نفس کا کیا اعتبار ہمیشہ یہ بات یا د رکھنے کی ہے کہ نفس کو کبھی ایسا موقع ملے نہ نہایت ہی کام کی بات ہے جس کو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں یہ نفس ہی وہ بلا ہے کہ جس نے بڑوں بڑوں کے زہد اور تقوی اور تقدس کو ذراسی دیر میں ملا دیا اس کو کبھی مردہ مت سمجھو بعض اوقات یہ اسباب نہ ہونے کی وجہ سے دباہوا رہتا ہے مگرموقع اور اسباب کا منتظر رہتا ہے اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
نفس اژدر باست او کے مردہ است از غم بے آلتی افسردہ است
(نفس ایک اژدھا ہے جہ مردہ نہیں ہے بلکہ کس وجہ سے ٹھڑا ہوا ہے )
اور فرماتے ہیں
نفس از بس مدحہا فرعون شد کن ذلیل النفس ہونا لاتسد
(زیادہ تعریفیں سن کر فرعون ہوگیا ہے لہذا اس کو کبھی کبھی ذلیل کرلیا کرو)
اس کی چالاکیاں اور مکان کسی شیخ کامل ہی کی صحبت سے محسوس ہوسکتی ہیں اور ان کا علاج ہوسکتا ہے صحبت کامل ہی اس زہر کا تریاق ہے ویسے یہ کہاں قبضہ میں آتا ہے شیطان کو اسی نے مردود بنوایا اسکی تمام عبادت کو ایک لمحہ کے اندر خراب اور برباد کرادیا یہ ایسا دشمن جان بلکہ ایمان ہے ۔

You must be logged in to post a comment.