فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ تہجد کے وقت کبھی آنکھ کھلتی ہے اور کبھی نہیں میں نے لکھ دیا کہ پھر دینی ضرر کیا ہے ـ
( ملفوظ 513)مجلس میں صحیح طریقہ سے بیٹھنا
ایک صاحب کو مجلس میں بے طریقہ بیٹھنے پرتنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ مقصود بیٹھنے اور غرض کے لئے بیھٹنے میں فرق ہوتا ہے صاحب غرض تو ایسا بیٹھتا ہے جیسا اٹھاؤ چولہہ اور مقصودا بیٹھنے کی ہیت میں اطمنان اور سکون ہوتا ہے اور غرض والوں کی صورت بنا کر بیٹھنے سے قلب پر بار ہوتا ہے اگر کسی غرض سے بیٹھے ہو تو اس غرض کو فورا ظاہر کر دو کہ گرانی دفع ہو ـ
( ملفوظ 512)راستے میں چیز کھا لینا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں دروازہ پر کھڑے ہو کر یا راستے میں چلتے ہوئے کسی چیز کے کھانے سے پرہیز نہیں کرتا اگر کبھی اسلامی سلطنت ہو جائے تو زائد سے زائد میری شہادت قبول نہ ہوگی عدالت میں جانے سے بچ جاؤں گا کوئی گناہ تو ہے نہیں ـ
28 صفرالمظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
(ملفوظ 511)انا للہ کے معنی اور دعوت کی تین قسمیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انا للہ کے معنی ہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اس لئے اللہ تعالی کو ہم میں ہر وقت تصرف کا حق ہے اور انا الیہ راجعون کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص مرا ہے اور جس پر رو رہے ہیں وہ اور ہم سب وہاں ہی جائیں گے وہاں ہی ملیں گے پس ان دونوں جملوں کا حاصل یہ ہوا کہ جب تم ان دونوں مضمون کا مراقبہ کرو گے تو تمہاری کلفت جاتی رہے گی راحت ہو گی اور تعزیت کے بھی یہی معنی ہیں کہ رنج والے کو تسلی دی جائے سو یہ آج کل عرف میں رواج ہے کہ جا کر کہتے ہیں کہ ہائے ایسی عمر نہ تھی چھوٹے چھوٹے بچے رہ گئے وغیرہ وغیرہ یہ تعزیت نہیں یہ تو اور رنج کو بڑھانا ہے اس سے تو تعزیت کو نہ ہی جاتے تو اچھا تھا معاشرت کے باب میں شریعت کی جتنی تعلیمات ہیں سب کا حاصل یہ ہے کہ دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حاجی محمد یوسف صاحب رنگونی نے مجھ سے ایک مرتبہ یہ فرمایا تھا کہ مولانا کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں بھی راحت سے رہو فرمایا کہ حاجی یوسف صاحب نے ٹھیک کہا شریعت کی تعلیم کا یہ ہی حاصل ہے کہ یہاں بھی راحت سے رہو وہاں بھی راحت سے رہو اب دیکھ لیجئے دعوت ہی ہے یہ محبت اور خلوص کی بناء پر ہوتی ہے مگر اصول چھوڑ دینے کی بدولت کس قدر اس میں تکلیف ہوتی ہے شیخ اصغر علی صاحب لکھنوی کہا کرتے تھے کہ عوت کی تین قسمیں ہیں اعلی ادنی اوسط اعلی تو یہ کہ دام دے دو جو چیز چاہے خرید کر پکا کر پکوا کر کھا لے ـ اوسط یہ کہ خشک جنس دے دو اس میں بھی ایک درجہ آزادی ہے اور ادنی یہ کہ پکا کر کھلاؤ اور پکا کر کھلانے کو جو ادنی کہا واقعی حقیقت ہے اس میں عادۃ وقت سے بے وقت معمول سے غیر معمول گھی زائد یا کم مرچ زائد یا کم ـ نمک زائد یا کم ـ پھر بلایا بڑے اہتمام سے احترام سے اور رخصت کے وقت بتلا دیا کہ یہ راستہ ہے سیدھا نہ سواری ہے نہ کوئی ساتھ ہے چلے جاؤ ـ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک بزرگ نے مجھ کو وصیت کی تھی کہ کسی کی دعوت نہ کرنا اسکو بھی تکلیف تم کو بھی تکلیف وقت سے بے وقت معمول سے غیر معمول اس باب میں حاجی صاحب کی بھی یہی رائے تھی البتہ یہ تکلفات نہ ہوں تو وہ اس میں داخل نہیں ـ
( ملفوظ 510)راحت کا اہتمام ضروری ہے تعظیم ضروری نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تعظیم و تکریم کی تو زیادہ رعایت کرتا نہیں البتہ راحت کا خاص اہتمام کرتا ہوں آپ کو سن کر تعجب ہوگا میں نے آج تک دونوں گھروں میں اس کی فرمائش نہیں کی فلاں چیز پکا لو یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید انتظام میں کوئی الجھن ہو البتہ خود ان کے پوچھنے پر بتلا دیتا ہوں وہ بھی محض ان کی دلجوئی کی وجہ سے کہ یہ گمان نہ ہو کہ ہم سے اجنبیت برتتے ہیں پھر وہ بتلانا بھی اس صورت سے ہوتا ہے کہ میں ان سے یہ کہتا ہوں کہ تم بسہولت جوجو پکا سکتی ہو اس میں دو چار چیزوں کے نام لو وہ نام لیتی ہیں تو میں اس میں سے ایک کو منتخب کر دیتا ہوں اور اب تو اسکی پروا ہی نہیں کہ دوسروں کو کوئی تکلیف نہ ہو تعظیم و تکریم کا تو اہتمام کرتے ہیں مگر راحت کا کوئی سامان نہیں کرتا ـ
( ملفوظ 509 )نا معقول سوال پر حضرت حاجی صاحب کا جواب
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے کوئی شخص فن کو بے سمجھے سوال کرتا تو فرماتے کہ بھائی یہ قیل و قال کے لئے مدرسہ نہیں ـ
( ملفوظ 509)مولانا احمد حسن امروہی اور ختم قرآن کی تقریب
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا احمد حسن صاحب امروہی نے ایک مرتبہ اپنے لڑکے کے ختم قرآن کا نشرہ کیا سب کو بلایا مگر مجھ کو نہ بلایا میں اس لئے خوش ہوا کہ شاید رسم کے شبہ سے مجھ کو کرنا پڑتا مگر جب ملاقات ہوئی تو نہ بلانے کا یہی عذر فرمایا کہ شاید تیری طبیعت کے خلاف ہوتا دیکھئے کتنی رعایت فرمائی ـ
( ملفوظ 507)حضرت نانوتوی کا طریقہ اصلاح
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ مقلولہ سنا ہے کہ جس کا پیر ٹرا نہ ہو اس مرید کی اصلاح ہو نہیں سکتی ـ مولانا احمد حسن صاحب امروہی بڑے نازک مزاج تھے عالی خاندان تھے دیوبند پڑھنے آئے مولانا نے دیکھا کہ صلاحیت ہے ان میں ، عالی وماغ ہیں اب تربیت بھی ساتھ ساتھ شروع فرمادی حضرت ان کو چاہتے بہت تھے مگر اصلاح میں ذرا رعایت نہ فرماتے تھے کہ کوئی جولاہہ آتا دعوت کرنے فرماتے کہ ایک لڑکا بھی ساتھ ہوتا وہ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ مقلولہ سنا ہے کہ جس کا پیر ٹرا نہ ہو اس مرید کی اصلاح ہو نہیں سکتی ـ مولانا احمد حسن صاحب امروہی بڑے نازک مزاج تھے عالی خاندان تھے دیوبند پڑھنے آئے مولانا نے دیکھا کہ صلاحیت ہے ان میں ، عالی وماغ ہیں اب تربیت بھی ساتھ ساتھ شروع فرمادی حضرت ان کو چاہتے بہت تھے مگر اصلاح میں ذرا رعایت نہ فرماتے تھے کہ کوئی جولاہہ آتا دعوت کرنے فرماتے کہ ایک لڑکا بھی ساتھ ہوتا وہ خوشی سے قبول کر لیتے کہیں چٹائی پربیٹھ کر اور کہیں کمبل پر بیٹھ کر روٹی کھانی پڑتی اس میں ترک تکلف کی عادت ڈالنا مقصود تھا ایک گاؤں والا ایک گاڑھے کا تھان حضرت مولانا کے واسطے لایا حضرت نے درزی کو بلا کر فرمایا کہ اس میں سے لڑکے کے واسطے کرتہ پاجامہ قطع کر کے سی دو ان کو معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی نے بندوق ماری ہو مگر پھر پہننا پڑا اور سب تکلف طبیعت سے رخصت ہوا گو لطافت اس وقت بھی رہی لطافت تو فطری چیز ہے مگر کبر کا نام و نشان نہ تھا غرض اصلاح اس طرح ہوتی ہے اور گو اس متشدد طریق سے اصلاح کرنے کی ہمارے بزرگوں میں کثرت نہ تھی مگر اس وقت اس کی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ پہلے طالبوں کی طبیعتوں میں سلامتی تھی اور اب نہیں فرق کی وجہ یہ ہے ـ
( ملفوظ 506)بیل اور قصائی کی تمثیل
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگ میرے مواخذات کو دیکھ کر کہتے ہوں گے کہ کس قصائی سے پالا پڑا اور میں ان کی بدتمیزی کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ کن بیلوں سے پالا پڑا بیل و قصائی میں ایک تقابل بھی ہے بات یہ ہے طبیعتوں میں آزادی کی زہریلی ہوا گھسی ہوئی ہے چاہتے ہیں کہ ہو تو جائیں سب کچھ مگر نہ ہم کو کوئی کچھ کہے اور نہ کرنا پڑے یہ کیسے ہو سکتا ہے کسی کو اولاد کی تو تمنا ہو مگر نہ رشتہ بھیجے نہ کہیں آنا جانا پڑے نہ نکاح ہوا اور اولاد ہو جائے ـ ایں خیال ست و محال ست و جنوں ـ
28 صفرالمظفر 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ
( ملفوظ 505) کثرت مکاتبت کا فائدہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں کثرت مکاتبت کو جو مشورہ دیا کرتا ہوں اس سے یہ مقصود نہیں کہ ولی بنا دیا جاتا ہے بلکہ وہ بڑا ذریعہ ہے مناسبت کا جو شرط اعظم ہے نفع کی ـ

You must be logged in to post a comment.