ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تعظیم و تکریم کی تو زیادہ رعایت کرتا نہیں البتہ راحت کا خاص اہتمام کرتا ہوں آپ کو سن کر تعجب ہوگا میں نے آج تک دونوں گھروں میں اس کی فرمائش نہیں کی فلاں چیز پکا لو یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید انتظام میں کوئی الجھن ہو البتہ خود ان کے پوچھنے پر بتلا دیتا ہوں وہ بھی محض ان کی دلجوئی کی وجہ سے کہ یہ گمان نہ ہو کہ ہم سے اجنبیت برتتے ہیں پھر وہ بتلانا بھی اس صورت سے ہوتا ہے کہ میں ان سے یہ کہتا ہوں کہ تم بسہولت جوجو پکا سکتی ہو اس میں دو چار چیزوں کے نام لو وہ نام لیتی ہیں تو میں اس میں سے ایک کو منتخب کر دیتا ہوں اور اب تو اسکی پروا ہی نہیں کہ دوسروں کو کوئی تکلیف نہ ہو تعظیم و تکریم کا تو اہتمام کرتے ہیں مگر راحت کا کوئی سامان نہیں کرتا ـ
