( ملفوظ 333) بزرگان اسلام کے یہاں اتباع سنت کا اہتمام

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگان سلف نے اتباع سنت کا بڑا اہتمام کیا ہے ـ حضرت عثمانی ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کی حکایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ چونکہ اس طرح خلال کر کے نماز
نہیں پڑھی ـ جو سنت کے معافق ہے ـ اس لئے بیس برس کی نماز لوٹائی ـ سنت کے موافق خلال کر کے حضرت شیخ عبدالحق صاحب روولوی باوجود اس کے کہ ان پر استغراق کا ایسا غلبہ تھا کہ تیس برس تک جامع مسجد میں نماز پڑھی مگر راستہ یاد نہیں ہوا ـ پھر بھی اتباع سنت کس قدر غالب تھا کہ فرماتے کہ بچہ منصور بچہ بود ک از یک قطرہ بفر یاد آمد ایں جا مردانند کہ دریا ہا فرو برندو آروغ نہ زنند ( منصور مبتدی تھا کہ ایک قطرہ پی کر فریاد کرنے لگا ـ یہاں مرد ہیں کہ دریا کے دریا پی جاویں اور ڈکار بھی نہ لیں ) دیکھئے اس غلبہ حال میں بھی خلاف سنت پر نکیر فرمایا پھر ایک غلبہ حال کی حکایت بیان فرمائی ک ان کو ان کے بھائی نے علم درسی پڑھانا چاہا ـ نحو شروع کرائی اس میں ایک مثال آئی ضرب زید عمرا پوچھا زید نے کیوں مارا انہوں کہا مارا وارا نہیں یوں ہی ایک مثال ہے کہا کہ مارا نہیں تو کذب ہے اگر مارا تو ظلم ہے ـ میں ایسی کتاب نہیں پڑھوں گا جس میں پہلے ہی سے تعلم کذب اور ظلم کی ہو ـ

( ملفوظ 332)تعویذ کے سلسلے میں کچھ حکایات

ایک شخص نے آکر تعویذ مانگا ـ فرمایا کہ اس باب میں لوگوں کو بہت غلو ہے ـ ہر کام تعویذ ہی سے لینا چاہتے ہیں ـ مگر یہی حالت رہی تو آئندہ اولاد بھی تو تعویذ ہی سے مانگنے لگیں گے ـ نکاح کی بھی ضرورت نہ رہے گی فرمایا کہ ہر چیز کے لئے تعویذ مانگنے پر یاد آیا کہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کے پاس ایک بھنگڑا آیا کہ حضرت بھنگ نہیں بکتی ـ ایک تعویذ دیدیجئے آپ نے تعویذ لکھ کر دیدیا ـ خوب بھنگ بکنا شروع ہوگئی ـ طلبہ نے شبہ کیا کہ حضرت نے بھنگڑ کو بھی تعویذ دے دیا تو اعانت علی المعصیت ہے ـ آپ نے اس بھنگ فروش سے فرمایا کہ بھائی ذرا وہ تعویذ لے آنا تعویذ لے آیا ـ کھول کر طلبہ کو دکھلایا کہ اس میں لکھا تھا کہ اے اللہ جن لوگوں کی قسمت میں بھنگ پینا لکھا ہے ـ وہ تو بھنگ ضروری پئیں گے تو وہ اسکی ہی دکان سے پی لیا کریں ـ سب نے دیکھ لیا کیسا تعویذ ہے ـ بھلا ان حضرات ہر کیا اعتراض ہو سکتا ہے ـ خوب کہا ہے ـ
در نیا بد حال پختہ ہیچ خام پس سخن کو تاہ با ید والسلام
( کاملوں کے افعال کی حقیقت کو ناقص نہیں سمجھ سکتا ـ لہذا سکوت ہی کرنا چاہئے )
تعویذ کے سلسلہ میں بعض حکایات بھی بیان فرمائیں کہ حضرت سید صاحب بریلوی تعویذ میں یہ لکھ دیتے تھے ـ خداوند اگر منظور داری حاجتیں رابرآری حضرت میاں جی رحمتہ اللہ علیہ کی حکایت ہے کہ آپ سے ایک بیمار لڑکی پر دم کرنے کی درخواست کی گئی ـ آپ نے اس کے منہ میں تھوک دیا ـ اللہ تعالٰی نے شفاء بھی عطاء فرمادی ـ اس بی بی نے خود بیان کیا کہ اس روز سے میرا ذہن اور حافظہ اور فہم سب سے بڑھ گیا ـ پھر حضرت میاں جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی برکات کے متعلق فرمایا کہ حضرت میاں جی رحمتہ اللہ علیہ کہتے تھے کہ ہماریل موت کے بعد دیکھنا ہماری روشنی کیسے پھیلتی ہے ـ پھر حضرت میاں جی صاحب کے اخلاق کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک مولوی صاحب تھے ـ کاندہلہ کے رہنے والے جن کی تصنیف تفسیر سورۃ یوسف منظوم ہے ـ یہ کوئی باقاعدہ مولوی تو نہ تھے مگر مشہور تھے ـ اور ایک زمانہ میں حضرت میاں جی رحمتہ اللہ علیہ کی شان میں گستاخیاں کیا کرتے تھے ـ پھر تنبیہ ہوا تو توبہ کی اور مرید ہوگئے ـ حضرت نے مرید کر لیا اور برابر آتے جاتے رہے ـ مگر ایک مدت کے بعد حضرت نے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ اور کہیں رجوع کریں مجھ سے آپ کو نفع نہ ہوگا ـ میں ہر چند آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور نفع پہنچانا چاہتا ہوں ـ مگر آپ کی وہ گستاخیاں یاد آکر مانع ہو جاتی ہیں ـ وصول برکات سے ـ
22 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ

( ملفوظ 331)کھانے کے ذریعہ مناسبت کی پہچان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض حضرات کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی مرید ہونے آتا اس کو کھانا بھیجتے ـ جب برتن واپس آتے دیکھتے اگر روٹی سالن تناسب سے بچا ہوتا تو اس سے معاملہ کی گفتگو فرماتے ورنہ شروع سے جواب دیدیتے کہ ہمارا تمہارا نباہ نہ ہوگا ـ تم میں انتظام کا مادہ نہیں ـ

( ملفوظ 330)اصلاح کرنے والا نشانہ ملا مت بنتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اختلافی مسائل میں متاخرین نے بڑا جھگڑا پھلا دیا ـ دین کو اچھا خاصہ میدان جنگ بنا دیا ـ اختلاف مذاہب کو اختلاف عمل بنا لیا ـ یہ ابن مسعود کا قول سنا گیا ہے گو بڑا عالم نہیں مگر سمجھدار آدمی ہے ـ یہ اختلاف تو علوم ظارہری میں ہو رہا ہے ـ باقی علم باطن میں اختلاف سے بڑھ کر خلاف کیا جاتا ہے ـ چونکہ اکثر اس سے بے خبر ہیں ـ اس لئے اہل خبر پر بکثرت اعتراض ہوتے ہیں ـ خصوص جو شخص اصلاح کا کام اپنے ذمہ لیتا ہے اس کو تو نشانہ ملامت بننے کیلئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے ـ کیونکہ ہر شخص اس کو برا بھلا کہتا ہے ـ بدنام کرتا ہے چناچہ ایک شخص نے اس کا اقرار بھی کیا تھا مجھ کو لکھا تھا کہ میں تم کو قانون باز بلکہ قانون ساز کہا کرتا تھا میں معافی چاہتا ہوں ـ توبہ کرتا ہوں ـ

( ملفوظ 329) غیر مقلدوں کے مشرب کیا مثال

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ غیر مقلدین کے مشرب کی حقیقت ایک خواب میں مجھ پر ظاہر ہوگئی تھی جو میں نے طالب علمی میں دیکھا تھا گو خواب حجت شرعیہ نہیں لیکن اگر نصوص شرعیہ سے موید ہوجائے تو سکون ضرور ہوتا ہے ـ اسلئے کہ بروئے حدیث مبشرات میں سے ہے ـ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں دہلی ہوں اور ایک غیر مقلد مولوی صاحب کے مکان کے دروازہ میں طلبہ جمع ہیں ـ میں بھی ہوں اور اچھاچ تقسیم ہو رہی ہے ـ مجھ کو بھی دینا چاہا مگر میں نے انکار کر دیا ـ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ علم دین کی صورت مثالیہ دودھ کی سی ہے اور جچاچ مشابہ ہوتی ہے ـ دودھ کے تو خواب کے معنی یہ ہووے کہ ان کا مشرب دین کی صورت تو ہے مگر اس میں دین کے معنی نہیں ـ

( ملفوظ 328) رذائل کے ازالہ کی نہیں امالہ کی ضرورت ہے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ فطری رذائل کے ازالہ کی ضرورت نہیں ـ امالہ کی ضرورت ہے ـ وہ چیزیں اپنی ذات میں مذموم نہیں اس لئے کہ فطری ہیں ـ ان کا فطری ہونا دیک کر حکماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے ـ کہ ریاضت اور مجاہدہ سے کچھ نفع نہیں ہوتا ـ جو چیزیں جبلی ہیں وہ نہیں بدل سکتی ـ اس لئے سعی اور کوشش بیکار ہے ـ یہ حکماء سمجھے نہیں ـ مجاہدہ سے جبلی اور فطری کا ازالہ نہیں کیا جاتا ـ اس میں تو حکمتیں ہیں ـ اس لئے ااس کو باقی رکھا جاتا ہے ـ البتہ وہ کبھی اپنے اختیار سے اعتدال سے بڑھ جاتی ہیں ـ ریاضت اور مجاہدہ سے وہ اعتدال پر آجاتی ہیں ـ

( ملفوظ 327) توسل کی حقیقت کا انکشاف

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھ کو توسل کی حقیقت معلوم نہ تھی ـ سوال کرنے سے بھی مقصود حاصل نہ ہوا ـ ایک روز دفعتا قلب پر اس حقیقت وارد ہوگئی اور وہ یہ کہ حدیث میں ہے ـ ” المرء مع من احب ” جب اس سے معلوم ہوا کہ مقبولین کی ساتھ محبت اور تعلق رکھنے سے رحمت خاص کا وعدہ ہے ـ پس کسی صالح سے توسل کا حاصل یہ ہوا کہ اے اللہ مجھ کو فلاں شخص سے تلبس ہے اور اس تلبس پر آپ کا رحمت خاص کا وعدہ ہے پس میں اس رحمت خاص کا سوال کرتا ہوں اور جس جگہ یہ بات سمجھ میں آئی تھی وہ جگہ بھی یاد ہے اس وقت اس قدر خوشی ہوئی تھی کہ اگر دس ہزار روپیہ بھی ملتا تو اتنی خوشی نہ ہوتی اور توسل بالاعمال می بھی ذرا تغیر الفاظ کے ساتھ یہی حقیقت ہے کہ فلاں عمل سے آپ کو محبت ہے اور اس عمل پر رحمت خاص کا وعدہ ہے ـ اور ہم کو اس عمل سے صدور کا تلبس ہے ـ اب ہم اس رحمت خاص کا سوال کرتے ہیں ـ

( ملفوظ 326)حضرت تھانوی پر حضرت گنگوہی کی شفقت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ایک مرتبہ گنگوہ حاضر ہوا ـ حضرت کی شفقت کی یہ حالت تھی یہ فرمایا کہ تم جب آجاتے ہو ـ دل تازہ ہو جاتا ہے ـ میں نے واپسی کی اجازت چاہی کہ حضرت جاؤں فرمایا کہ اتنی جلدی میں نے کہا کہ کپڑے میلے ہوگئے ہیں ـ زیادہ ٹھرنے کے ارادہ سے نہیں آیا تھا ـ فرمایا کہ کپڑے تو ہم دیدیں گے میں نے عرض کیا کہ حضرت اور بھی کام ہے ـ پھر حضرت نے کچھ نہیں فرمایا ـ حضرت کے کپڑے پہننے کو جی نہیں چاہا ـ بے ادبی معلوم ہوئی ـ

( ملفوظ 325)مولویوں کو مالیات سے بچنا چاہئے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولویوں کو مالیات سے بچنا چاہئے ـ اس معاملہ میں ان کو پڑنا ہی نہیں چاہئے ـ میں ایک مرتبہ نواب صاحب ڈھاکہ کو مدعو کیا ہوا ڈھاکہ گیا ـ نواب صاحب نے بدون میری تحریک کے مدرسہ دیوبند کے لئے روپیہ دینا چاہا ـ مجھے لیتے ہوئے بھی غیرت آئی لیکن اگر انکار کرتا ہوں تو خواہ مخواہ کا تقوی بگھاڑنا تھا ـ اور ان کی دل شکنی کی بھی خیال تھا اور مدرسہ کا بھی نقصان ـ میں نے کہا کہ میرا سفر ہوگا اور سفر میں اتنی بڑی رقم کا پاس ہونا خطرہ سے خالی نہیں ـ ہر وقت یہ ہی کھٹک رہے گی کہ کہیں گم نہ ہو جائے ـ کوئی نکال نہ لے ـ اسلئے مناسب یہ ہے کہ آپ بیمہ کر کے روانہ کر دیجئے وہ سمجھ گئے کہا کہ بہت اچھا ـ آپ مہتمم صاحب کو رقعہ تو لکھ دیں میں بیمہ کر دوں گا ـ میں نے کہا کہ بہت اچھا ـ میں لکھ دوں گا ـ تو مالیات میں مولویوں کا پڑنا ہی برا ہے ـ

( ملفوظ 324)حضرت گنگوہی اور حضرت حاجی صاحب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا با کمال ہونا اس سے ظاہر ہے کہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ جیسے شخص کا تعلق عقیدت حضرت سے تھا ـ حضرت مولانا قاسم رحمتہ اللہ علیہ کا معتقد ہونا تو اس درجہ کی حجت نہیں ـ اس لئے کہ وہ خود ہی اخلاق میں اور عشق میں مغلوب تھے ـ البتہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ میں ایک خاص انتظامی شان تھی ـ جیسے انبیاء علیہم السلام کے ورثاء میں ہونا چاہئے ـ وہی شان تھی ـ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی جس کا اثر تھا ـ لا یخافون فی اللہ لومۃ لائم حق میں ذرہ برابر کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے ـ اگر حضرت حاجی صاحب میں ذرا بھی کمی ہوتی تو مولانا علی الاعلان تعلق قطع فرمادیتے ـ