ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیخ تو وہ ہے جس کا فیض سارے عالم میں محیط ہو جب تک جسم میں قوت ہو جسم سے بھی ورنہ پھر قلب سے اور توجہ سے ایک شخص مجھ سے کہتے تھے کہ فلاں شیخ چالیس برس تک خانقاہ سے نہیں نکلے میں نے کہا کہ واقعی عفیف عورت ہیں کسی نا محرم کے سامنے نہیں آئے ـ یہ شیخ ہیں شیخ تو وہ ہے کہ اپنے فیض سے تمام عالم کو محیط ہو نہ کسی کوٹھری کا مقید ہو جاوے ـ
( ملفوظ 221) کامل ، عوام کا مشابہ ہونا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیخ کامل کا حالت مشابہ عوام کے ہوتی ہے وہ سب میں ملا جلا رہتا ہے اسکی کوئی خاص امتیازی شان نہیں ہوتی اور یہ ہی حالت حضرات انبیاء علیہم السلام کی تھی اور اس ہی حالت کو دیکھ کر لوگوں نے کہا ان انتم الا بشر مثلھا انبیاء علیہم السلام نے اسکی نفی نہیں کی بلکہ اثبات میں جواب فرمایا : ان نحن الا بشر مثلکم ( تم ہمارے ہی جیسے ہو )
بیشک ہم بشر ہیں ہمیں اس سے انکار نہیں مگر اس کے ساتھ ہی یہ فرمایا کہ
ولکن اللہ یمن علی من یشاء من عبادہ ( لیکن اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرمادے ( چناچہ ہم پر احسان فرمایا کہ ہم کو نبوت عطا فرمائی )
البتہ اولیاء متوسطین میں امتیازی شان ہوتی ہے جن کو عوام بھی امتیازی شان سمجھتے ہیں مگر انبیاء اور اولیاء کاملین مشابہ عوام کے اپنی حالت رکھتے ہیں انکی تو بس یہ شان ہوتی ہے ـ
دلفریباں نباتی ہمہ زیور بستند دلبر ماست کہ با حسن خدا داد آمد
مجازی سب زیور کے محتاج ہیں اور ہمارے محبوب کو حسن خدا دلواد حاصل ہے ـ
غرض شیخ کامل اپنی شان میں مشابہ ہوتا ہے انبیاء علیہم السلام کے جہاں اور کمالات اسپر مشکوۃ ( شمع ) نبوت سے فائض ہوتے ہیں اسپر یہ بھی انبیاء کا ہی فیض ہوتا ہے کہ اسکا چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا نشت و برخاست رفتار گفتار سب سنت ہی کے تابع ہوتا ہے ـ
( ملفوظ 220)گفتگو کا ہر جز واضح کر کے آگے چلنا چاہئے :
ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی معاملہ پر گفتگو ہو اور اسکے چند اجزا جدا جدا ہوں تو خلط ملط نہ کرنا چاہیئے اول ایک بات ہو وہ صاف ہو جائے تب دوسری بات ہو یہ ادب گفتگو کا پہلی بات نفیا یا اثباتا عدما یا وجودا جسطرح بھی طے ہو جائے پھر دوسری بات شروع کرنا چاہیئے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کی تو ہر بات صاف اور بے غبار ہوتی ہے ذرا الجھن نہیں ہوتی فرمایا کہ تفصیلی تعلیم جس کی آپ قدر کرتے ہیں میری بدنامی کا سبب ہے میں طالبین کے لئے یہ چاہتا ہوں کہ انکو اپنا مقصود معلوم ہو جہل سے نجات ہو ـ حقائق منکشف ہوں مگر یہ معاملہ بھی ہر شخص کے ساتھ نہیں صرف اسی کے ساتھ ہے جو اپنے کو میرے سپرد کرتا ہے اور تعلیم چاہتا ہے اور محبت کا دعویٰ کرتا ہے میں اسکو چھوٹی سے چھوٹی بات پر تنبیہ کرتا ہوں اس لئے کہ کہ اپنے مقصود کو سمجھ لے ـ
( ملفوظ 219) صرف تصانیف اور وعظ سے معتقد نہ ہونا چاہیئے
فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا لکھا ہے کہ فلاں شخص سے آپکی باتیں سنکر دل کو بیحد اطمنان ہوتا ہے جواب یہ دیا گیا سنی سنائی روایت کا کوئی اعتبار نہیں اسپر یہ بھی فرمایا کہ تصانیف دیکھ کر یا وعظ سنکر یا زبانی تعریف سن کر اکثر دھوکہ ہو جاتا ہے اس سے ایک خاص نقشہ ذہن میں ایسا جمالیتے ہیں جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نقشہ رافضیوں کے ذہن میں ہے لیکن اگر لوگ انکی اصلی حقیقت کو دیکھ لیں تو سب سے پہلے حضرت علی کے یہ شیعی ہی دشمن ہوں یہ دیکھ کر یوں کہیں کہ یہ کیسے حضرت علی ہیں یہ تو حضرت ابوبکر ہیں یہ عثمان ہیں ایسے کسی جاہل نے ایک مسجد کی محراب میں لکھا تھا ـ
چراغ و مسجد و محراب منبر ابوبکر و عمر عثمان و حیدر
وہ جاہل چھری لیکر حضرت علی کے نام پر چڑھ گیا کہ ہم تو تمہاری وجہ سے لڑتے مرتے پھرتے ہیں اور تم کو جب دیکھتے ہیں ان ہی کے پاس بیٹھا دیکھتے ہیں ان سے جدا ہی نہیں ہوتے یہ کہہ کر حضرت علی کا نام چھری سے چھیل ڈالا ـ جہل ایسی چیز ہے غرض خیالات کا کیا اعتبار حقائق کو دیکھنا چاہیئے ـ
( ملفوظ 218)حق تعالٰی کی رضا اور انکی یاد مقصود بالذات ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جو کچھ تنبیہ کرتا ہوں یا کھود کرید کرتا ہوں صرف اس واسطے کہ مخاطب کو جہل سے نجات ہو اور مقصود سے قریب ہو لوگ اکثر بیعت کو یا متعارف ذکر و شغل کو یا جوش خروش کو مقصود سمجھتے ہیں جو سخت دھوکہ ہے حقیقت پر پردہ پڑا ہوا ہے حق تعالٰی کی رضا اور انکی یہ دو چیزیں ظاہر میں پھیکی پھیکی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی مقصود بالذات ہیں گو ان کے ساتھ شورش نہ ہو جوش و خروش نہ ہو ـ
( ملفوظ 217) غلبہ کیفیات اور موت کے وقت دنیا سے بے التفاتی
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کیفیت کے غلبہ کے وقت بیوی بچوں سے بھی قدرے بے التفاتی ہو جاتی ہے اسپر ایک واقعہ بیان فرمایا کہ غلام مرتضی صاحب مجذوب پانی پتی جنہوں نے بطور پیشین گوئی میرا نام رکھا تھا نانا صاحب سے انکی خاص بے تکلفی تھی نانا صاحب پر اسوقت غلبہ تھا ابتداء میں اکثر ایسا غلبہ ہوتا ہے تعلقات سے وحشت ہوتی ہے بیوی بچوں سے بھی قدرے بے التفاتی تھی حافظ صاحب نے اس غلبہ کیفیت کو اپنے تصرف سے سلب کر لیا نانا صاحب پر اس قدر قلق طاری ہوا حافظ کے پیچھے اینٹ لے کر دوڑے بھاگے ارے ڈاکو یہ کیا کر چلا مگر حافظ صاحب نے پیچھا پھیر کر بھی نہ دیکھا چل ہی دیئے پھر جب نانا صاحب کی وفات کا وقت آیا ہے تو حافظ صاحب اس روز پھر تشریف لے آئے اور اسوقت کیفیت کو واپس کر دیا یہ تصرف تھا حافظ صاحب کا اس وقت نانا صاحب پر بیحد مسرت کے آثار نمایا تھے اور بڑے جوش کی باتیں کرتے تھے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ موت کے وقت مناسب ہے کہ ایک دو عاقل میت کے پاس ہوں زیادہ بھیڑ کی ضرورت نہیں وہ ذکراللہ میں مشغول ہونے کا وقت ہے نہ کہ دنیوی خرافات کا اب تو یہ حالت ہے کہ بچوں کو لاکر کھڑا کیا جاتا ہے انکے واسطے کیا کر چلا بیوی آکر کہتی ہے مجھ کو کس پر چھوڑ چلا یہ وقت باتوں کا نہیں نہ معلوم اس پر کیا گزری رہی ہے تم کو اپنی پڑی ہے ایسے موقع پر ایک دو عاقل کے پاس ہونے کی ضرورت ہے کہ وہ اسکو ذکراللہ میں مشغول رکھیں بس ـ
( ملفوظ 216) اپنی بیماری کی اخباری اطلاع سے انقباض :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کی طبیعت کا نا ساز ہونا ایک اخبار نے چھاپا ہے فرمایا کہ کس نے یہ حرکت کی ہے خواہ مخواہ اہل تعلق کو پریشانی میں ڈالنا ہے میں اس کو پسند نہیں کرتا میں تو اخباروں میں کسی کے متعلق مضمون کا چھپنا اسکی نہایت نفرت کی چیز ہے اکثر اس میں صدق خالص کا احتمال بھی نہیں اور اخبار تو اخبار ایسے تذکرہ کو تو میں خطوط میں بھی پسند نہیں کرتا اگر خود کوئی خیریت دریافت کرے تو خیر علالت کی خبر کا بھی مضائقہ نہیں مگر از خود دوسروں کو اطلاع دینا نہایت نا مناسب بات ہے ہوگوں کو نہ معلوم ایسی باتوں میں کیا مزہ آتا ہے یہ بھی کوئی مشغلہ کی چیز ہے دوسرے حالت میں طبعی طور پر تغیر تبدل ہوتا رہتا ہے پس اگر ایک حالت کی مثلا ناسازی کی تو عام خبر ہوگئی اور دوسری حالت یعنی صحت کی خبر نہ ہوئی تو اس سے محبت رکھنے والوں کو ظاہر ہے کہ پریشانی ہوگی اس میں ایک بات خلاف مذاق یہ ہے کہ کسی کی حیات کا یا کسی کے مرض کا یا کسی کی موت کا ایک ہنگامہ بنانا نہایت لغو حرکت ہے اہل ذوق تو خود گھر والوں کے لئے ایسے مشغلہ کو پسند نہیں کرتے میرے نانا صاحب حال تھے جب بیمار ہوئے اور حالت زیادہ نازک ہوئی تو بیوی بچوں کو الگ الگ بلا کر سب کو رخصت کیا پھر چادر سے منہ ڈھانک کر لیٹ گئے گھر والے رونے لگے چادر کھول کر فرمایا کہ ارے ظالموں مرنے بھی نہیں دیتے ـ
( ملفوظ 215) اسراف اوربخل کا علاج
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل اسکی شکایت عام ہے کہ مسلمانوں میں فضول خرچی کا مادہ بہت زیادہ ہے اسکا اصلی سبب بد انتظامی ہے انتظام ضروری چیز ہے اور تجربہ ہے کہ بدون تھوڑے سے بخل کے انتظام مشکل ہے اور فضول خرچی بند نہیں ہو سکتی اس لئے کسی قدر بخل کی بھی ضرورت ہے اور یہ درجہ بخل کا چونکہ ضرورت کا ہے اس لئے مذموم نہیں غرض وہ بخل لغوی ہے شرعی نہیں اور انتظام کا ایک گڑ ہے اسکو اپنے اصول میں داخل کرے تو بہت نافع ہے وہ اگر یہ ہے کہ سوچ کر خرچ کرے اور سوچنے کا بھی طریقہ ہے وہ یہ ہے کہ تین مرتبہ سوچے اور درمیان میں آدھ آدھ گھنٹہ کا فصل ہو چند روز تک تو گرانی ہوگی مگر پھر عادت ہو جائے گی مگر غلو اس میں بھی ممنوع ہے اگر ہر شے اپنے درجہ پر رہے تب ممنوع نہیں اور اس بخل کے مشورہ کی ایک مثال ہے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے عجیب مثال ہے کہ اکثر لوگ ایسا کرتے ہیں کہ کاغز کو موڑ کر لپیٹ دیتے ہیں اس میں خم پڑ جاتا ہے اور جب سیدھا کرنا چاہتے ہیں تو اسکا عکس کرتے ہیں یعنی اس کو الٹا موڑتے ہیں تاکہ اس کا بل اورخم نکل کر سیدھا ہو جائے اگر بدون دوسری طرف موڑے سیدھا کرنا چاہیں سیدھا نہیں ہوتا اسی طرح اگر کسی میں اسراف کا مرض ہو تو وہاں صورت بخل کا حکم کرنا چاہیئے اور بخل کا مرض ہو تو صورت اسراف کا مگر یہ تجویز تجربہ کار ہی کر سکتا ہے وہی مرض کو سمجھتا ہے ایک بزرگ کے پاس ایک شخص مرید ہونے آیا آپ نے دریافت فرمایا کہ کچھ مال بھی تیرے پاس ہے عرض کیا ہے دریافت فرمایا کہ کسقدر عرض کیا کہ سو درہم فرمایا کہ انکو خرچ کر کے آو جب مرید کریں گے ـ عرض کیا بہت اچھا پھر دریافت فرمایا کہ کسطرح خرچ کرو گے عرض کیا کہ اللہ کے واسطے کسی کو دے دونگا فرمایا نہیں دریا میں پھینک کر آو عرض کیا بہت اچھا دریافت فرمایا کہ کسطرح پھینکو گے عرض کیا کہ دریا پر لیجا کر ایکدم دریا کے اندر پھینک دونگا فرمایا اسطرح نہیں بلکہ ایک درہم ہر روز جا کر پھینکو مطلب یہ تھا کہ نفس پر روزانہ آرہ چلے وہ بزرگ شیخ تھے کہتے تھے کہ اس میں حب مال کا مرض ہے اور محبت ایک ہی چیز کی قلب میں رہ سکتی ہے اس لئے شیخ قلب کے خالی کرنے کی فکر کرتا ہے اسکے موقع محل کو وہی سمجھتا ہے اس لئے اسکی تجویز میں چون و چرا جائز نہیں کیونکہ وہ اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ وہ وہی کہتا ہے جو اسکے دل میں ڈالا جاتا ہے بعضے طالب علم دریا میں پھینکنے پر شبہ کرتے ہیں کہ یہ تو اضاعت ہوئی مال کی جواب یہ ہے کہ اضاعت وہ ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو یہاں نفس کے ایک خاص درجہ کے علاج کے مصلحت تھی جو شیخ کے اجتہاد میں دوسری صورت سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی اور معالجہ کا زیادہ مدار اجتہاد پے ہے لہزا شبہ کی کوئی وجہ نہیں ـ
( ملفوظ 214)”” نہ ستانے والوں کا خادم ہوں “
ایک صاحب کی غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں تو خادم ہوں اگر کوئی ڈھنگ سے خدمت لینا چاہئے مجھے خدمت سے عزر نہیں لائق مخدوم کا خادم بن سکتا ہوں نالائق مخدوم کا خادم نہیں بن سکتا مخدوم کا خادم ہوں مجزوم کا نہیں اگر کوئی مجھ سے سلیقہ سے خدمت لے انشاءاللہ تعالٰی مجھ کو وفادار کا کارگزار خادم پائیگا اور اگر کوئی بے طریقہ بد سلیقہ بے اصول ہو تو اسکی ایسی تیسی کہ وہ خدمت لے سکے یہ میرے کہنے کی تو بات نہیں مگر دیکھنے والے بتا سکتے ہیں کہ کیا کسی وقت مجھ کو فرصت ہوتی ہے ہر وقت کام میں لگا رہتا ہوں تو جو شخص اسقدر خدمت میں مشغول ہو گیا وہ خدمت سے گھبرائے گا پھر اس خدمت کا نفع عاجل تو دوسرے ہی کو پہنچتا ہے باقی مجھ کو اگر کچھ اجر ملتا ہے تو وہ نفع آجل ہے مگر محتمل ہے نہ معلوم مقبول بھی ہے یا نہیں بہر حال اسکا نفع یقینی اور میرا محتمل غرض میرا خادم ہونا ظاہر ہے مگر جب کوئی ستائے میں اسکا خادم نہیں بن سکتا اصول صحیحہ کا تابع ہو کر تو خدمت آسان بے اصول خدمت مشکل ہے کس کس کی ایسی خدمت کرے اور کس کس کو کوش رکھے یہ ہیں وہ باتیں جنکی بناء پر مجھ کوبدنام کیا جاتا ہے ـ
( ملفوظ 213)ہندوؤں کا اذان سے بد کنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اسلام احکام اسلام دونوں چیز فطری ہیں البتہ فطرت سلیم ہونا چاہیئے ایک ریاست میں ایک ہندو راجہ نے اذان کہنے پر فیصلہ کیا تھا ہندو اذان دینے سے تمہارا کیا حرج ہے عرض کیا کہ اذان سے ہمارے دیوتا بھا گتے ہیں راجہ نے وزیر کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ ایک گھوڑا تھا تمہارے یہاں وہ توپ کی آواز سے چونکتا تھا ہم نے اسکو میدان میں بندھوا کر اور اسکے پاس توپ لگا کر گولے چلوائے تو اس کی بدک نکل گئی تھی اسی طرح اگر دیوتا اذان سے بھا گتے ہیں تو اسکی بھی یہی ایک صورت ہے اذان کہلوائی جائے تاکہ انکی بدک نکلے اس لئے کہ کسی موقع پر اگر دیوتا ان کی امداد کی ضرورت ہوئی اور مسلمانوں نے پڑھ دی اذان تو سب بھاگ جائیں گے اس وقت ہم کو شکست ہوگی یہ فیصلہ دیا راجہ نے واقع میں اسلام کی طرف فطری کشش ہے اگر کوئی منع نہ ہو تو کافر بھی اسکو ہی قبول کرے پہلے ہندو اسقدر متشدد نہ تھے یہ ان آریوں نے عداوت کا بیج بویا ہے یہ آریہ جماعت مذہبی جماعت نہیں ہے بلکہ سیاسی جماعت ہے یہ ہندوں کے نیچری ہیں ـ

You must be logged in to post a comment.