( ملفوظ 232) اپنے کو بڑا سمجھ کر دوسروں سے رعایت نہ کرنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ اپنے کو ایسا بڑا سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی بالکل رعایت نہیں کرتے جس سے دوسروں کو ایذا پہنچتی ہے اور اس میں بڑے بڑے لوگوں کو ابتلاء ہے اس سے بہت بچنا چاہیئے ـ

( ملفوظ 231)کھانا کھاتے وقت کس قسم کی بات کی جائے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کھانے کے وقت اگر کھانیوالے سے ایسی بات کی جاوے جس میں قوت فکر یہ صرف نہ ہو تو مضائقہ نہیں یہ کھانے کے آداب میں سے ہے اور جس میں قوت فکر یہ صرف ہو ایسی گفتگو نہ کرنی چاہیئے ورنہ کھانے کا لطف جاتا رہتا ہے ـ برباد ہوجاتا ہے ـ

( ملفوظ 230) صوفیہ کے کشفیات کا حکم

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صوفیا کے کشفیات میں اور احکام وحی میں نسبت ہی نہیں اسی طرح نصوص جس حالت پر ہیں انکو ایسے ہی رہنے دینا چاہیئے حضرت عمر کا قول ہے فرماتے ہیں ـ
ابھموا ما ابھمہ اللہ یعنی جس چیز کو خدا تعالٰی نے مبہم رکھا ہو تم بھی مبہم رکھو بڑی حکمت کی بات فرمائی ـ

( ملفوظ 229)متعدد مہمانوں کو کھانا کھلانے کا اصول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرا ایک یہ بھی معمول ہے کہ اگر متعدد مہمان ہوں اور ان میں پہلے سے کوئی تعلق نہ تو ان کو ایک جگہ جمع کر کے کھانا نہیں کھلاتا اگر خود بھی ساتھ کھاتا ہوں تب جمع کر لیتا کیونکہ اس وقت میں خود ان سب کے لئے واسطہ ہو جاتا ہوں اور مجھ سے سب کو واسطہ ہوتا ہے یہ بات کبھی نہ سنی ہوگی مہمانوں کے باب میں اسقدر رعایتیں کرتا ہوں اور پھر سخت مشہور ہوں یہ معمول اس لئے ہے کہ کھانے پینے میں مختلف لوگوں کے جمع ہونے کی وجہ سے آپس میں بے تکلفی نہ ہونے کی وجہ سے انقباض ہوتا ہے ـ دل کھول کر فراغت سے کھانا نہیں کھایا جاتا مختلف طبائع مختلف رنگ کی ہوتی ہے بعض طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب تک بے تکلفی نہ ہو کھانے میں حجاب ہوتا ہے ـ

( ملفوظ 228)ایک عسائی سے مناظرہ :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک بہت بڑے عالم مناظر بھی ہیں وہ میری نسبت کہتے تھے کہ تجھ سے اتنا بڑا مناظر میں نہیں دیکھا اور یہ بھی کہتے تھے ـ کہ چاہے خصم عناد کی وجہ سے ساکت نہ ہو مگر ایسی ہوتی ہے کہ اس سے ٹھکانے کی بات نکل آتی ہے اور حق واضح ہوجاتا ہے میں نے جواب میں کہا کہ تم نے یہ بات سمجھی ہوگی مجھے تو واقعی یہ بھی معلوم نہیں کہ مجھ مناظر سے کچھ مناسبت بھی ہے البتہ شروع طالب علمی کے زمانے میں تو تجھ کو اس سے بہت زیادہ دلچسپی تھی مگر اب تو نفرت ہے ایک مرتبہ طالب علمی کے زمانہ میں ایک عیسائی مناظر انگریز دیوبند کے اسٹیشن کے قریب ایک باغ ہے وہاں اسکا قیام ہوا میں خبر پاکر مناظرہ کے لئے وہاں پہنچا اور مناظرہ شروع ہوا اسی اثنا میں حضرت مولانا دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کو علم ہوا خیال ہوا کہ یہ نا تجربہ کار ہے اور عیسائی کہنہ مشق اس لئے مناظرہ کے دوران میں تشریف لے آئے اسوقت عیسائی مناظر تقریر کر رہا تھا میرے جواب دینے کی نوبت نہ آئی تھی مولانا نے مجھ سے فرمایا کہ میں گفتگو کرونگا میں الگ ہو گیا اور عیسائی مناظر یہ کہہ رہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اللہ گھے مولانا نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ کلمہ کسے کہتے ہیں اور اسکی کتنی قسمیں ہیں اور عیسی علیہ السلام کونسی قسم میں داخل تھے بس اسکے ہوش و حواس گم ہو گئے بار بار یہی کہتا جاتا تھا کہ کلمہ تھے مولانا فرماتے کونسا کلمہ کلمہ تو بہت قسم کا ہوتا ہے تو کلمہ کی تعریف اقسام بیان کرو اور یہ بتاؤ کہ عیسیٰ علیہ السلام کس قسم کے کلمہ ہیں جب نہیں بتلا سکا تو اسکی میم نے خیمہ میں دیکھا کہ یہ جواب نہیں دے سکتا تو ایک پرچہ لکھ کر مناظرہ بند کر دیا یہ عورتوں کے تابع ہوتے ہیں ـ مناظرہ چھوڑ کر چلدیا مزاحا فرمایا کہ یہ لوگ مادیات میں ہی چلتے ہیں نریات میں خاک بھی نہیں چلتے دوسرے واقعہ دیوبند ہی میں مدرسہ کے قریب ایک عیسائی آکر بیان کرنے لگا خبر سن کر مناظرہ کے لئے تیار ہو گیا اس نے انجیل ہاتھ میں لیکر مجھ سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے اس کامطلب یہ تھا کہ یہ کہے گا کہ انجیل ہے پھر وہ کہتا کہ قرآن مجید بھی انجیل کو آسمانی کتاب کہتا ہے پھر میں اسکا محرف ہونا ثابت کرتا ایک بکھیڑا تھا ایک صاحب آگے حکیم مشتاق احمد وہ کہنے لگے کہ ایسے جاہلوں سے تم کیوں مناظرہ کرتے ہو ان سے جاہل ہی نبٹتے ہیں اور صاحب خود مناظرہ کو تیار ہوگئے وہ انجیل ہاتھ میں لئے ہوئے تھا ہی ان سے بھی یہ ہی سوال کیا کہ یہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ ہے کدو بے حد جھلایا کہ تم گستاخی کرتا ہے کہ تم تو توہین کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اس میں گستاخی اور توہین کی کیا بات ہے ہم اپنی علم سے یہی کہتے ہیں کہ یہ کدو ہے غالبا مقصود یہ ہوگا کہ جب منسوخ ہونیکے علاوہ ممسوخ ہے تو معطل ہے مثل کدو کے خیر یہ تو ایک لطیفہ تھا باقی تتبع سے محض ہوچکا ہے کہ علوم حقیقیہ مسلمانوں ہی کا حق ہے دوسروں کو ان سے مس بھی نہیں ہوتا مزاحا فرمایا ہاں مس سے مس ہوتا ہے ـ

( ملفوظ 227)تقلید کی تعریف اور اس کی فطری ضرورت

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں یہ خود بینی اور خودرائی بڑی ہی مذموم چیز ہے حق تعالٰی ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھیں یک غیر مقلد نے حضرت مولانا قاسم صاحب کی تقریر سن کر کہ آپ مجتہد ہو کر تعجب ہے کہ تقلید کرتے ہیں مولانا نے فرمایا کہ مجھ کو اس سے زیادہ تعجب ہے کہ آپ غیر مجتہد ہو کر تقلید نہیں کرتے اور میں کہتا ہوں کہ ان بزرگ نے اس سے تقلید کی ضرورت سمجھ لی ہوتی کہ جب اتنا بڑا شخص مقلد ہے تو ہم کس شمار میں حضرت جس قدر علم بڑھتا جاتا ہے تقلید کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی جاتی ہے اس لئے کہ اس کے سامنے ایسے مواقع بہت آتے ہیں جہاں اپنی رائے کام نہیں دیتی امام محمد امام ابو یوسف مجتہد مطلق ہیں مگر اصول میں وہ امام صاحب کی تقلید کرتے ہیں فروع میں تقلید نہیں کرتے وہ بھی ضرورت سمجھتے ہیں تقلید کی تقلید سے کوئی بچ نہیں سکتا ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ تقلید کی حقیقت کیا ہے اور تقلید کس کو کہتے ہیں فرمایا تقلید کہتے ہیں امتی کا قول ماننا بلا دلیل عرض کیا کہ کیا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو ماننا بھی تقلید کہلائیگا فرمایا کہ اللہ اور رسول کا حکم ماننا تقلید نہ کہلائیگا وہ اتباع کہلاتا ہے ـ

( ملفوظ 226) بد فہمی کے متعدد دلچسپ واقعات :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کا ایک وعظ ہے تقویم الزیغ اس کو جو تسہیل المواعظ کے سلسلہ میں سہل کیا گیا ہے تو اس میں تقویم الزیغ کا ترجمہ مترجم نے کیا ہے کجی کی درستی ایک شخص نے وعظ منگایا اس پر بہت برا بھلا لکھا کہ تم لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو وعظ اور لکھا ہے کجی کی درستی اس میں کجی کے نسخے کہاں ہیں خدا کے بندہ نے بجائے قلب کی کجی کے عضو کی کجی کو سمجھ لیا یہ سنکر حضرت والا نے تبسم فرماتے ہوئے کئی واقعے کم فہموں کے بیان فرمائے کہ حق السماع میری ایک کتاب ہے ایک پیرزادے بیان کرتے تھے کہ گنگوہ میں عرس کے موقع پر وہی پیرزادے مختلف کتابیں فروخت کر رہے تھے اس میں سے یہ رسالہ بھی تھا ایک شخص نے رسالہ کی لوح دیکھ کر پوچھا کہ یہ کس کی تصنیف سے ہے اس نے میرا نام لیا تو وہ شخص بہت خوش ہوا کہ سماع کو اس نے بھی حق کہا ہے اور اسکی قیمت دریافت کی اور اس نے قیمت بتلادی شائد ایک ہی دو جلد باقی تھی فورا خرید لی اس خیال سے کہ کوئی اور نہ خرید لے اور پھر نہ ملے خرید کر جو دیکھا تو اس میں سماع کی حقیقت کو ظاہر کیا گیا ہے بہت خفا ہوا کہ لوگوں کو دھوکا دیا جاتا ہے ایسا نام رکھا ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سماع کوحق کہا ہے اور لکھا ہے اسکے خلاف اس بھلے مانس سے کوئی پوچھتا کہ حق السماع کے نام سے سماع کا حق ہونا لازم آیا ایک اور شخص نے لکھا تھا کہ تم نام رکھنے میں بہت دھوکا دیتے ہو تم نے نام تو رکھا ہے اصلاح الرسوم اور اس میں ہے رسوم کا ابطال میں نے کہا کہ مرض کا اصلاح تو اسکے ازالہ ہی سے ہو سکتی ہے اسی طرح بہشتی زیور میں ایک نسخہ ہے نمک سلیمانی کا اس میں مزید آسانی اورسہولت کے لئے نمک کا وزن عبارت میں لکھ دیا گیا ہے کہ نمک سرسٹھ تولہ تو میرے پاس چند خطوط اس مضمون کے آئے کہ ایک تو تم نے نمک کا وزن نہیں لکھا اور دوسرے سڑسٹھ کیا دوا ہے بہت تلاش کی کہیں نہیں ملتی ایک مضمون میں لفظ حضرت سلمہ لکھا تھا تو ایک لکھے پڑھے صاحب پوچھتے ہیں کہ یہ حضرت سلمہ کون ہیں جن سے روایت ہے یہ آفت ہے اس بد فہمی کا کیا علاج اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک صاحب مجھ سے فرمانے لگے کہ آپ کے وعظوں میں بعض مضامین سخت بہت ہیں اگر ہیں انکو سہل کر دیا جائے تو مناسب ہے میں نے کہا کہ کیا ان میں ایسے مضامین بھی ہیں جو آپکے نزدیک سہل ہیں اور گاؤں والوں کے نزدیک سخت ہیں کہنے لگے ہاں میں نے کہا تو انکو آپ اول سہل کر دیجئے کیونکہ انکو آپ سمجھ چکے ہیں سہل کرنا آسان ہوگا مگر اس تسہیل کا امتحان کرا دیجئے وہ امتحان یہ ہے کہ گاؤں والے سنکر یہ کہدیں کہ ہم سمجھ گئے تو اس سے تسہیل کا طریقہ مجھ کو معلوم ہو جاویگا پھر جو مضامین آپکے نزدیک سخت ہیں اسی طریقہ سے میں انکو سہل کر دونگا پس کھوئے گے مشورہ دے دینا کون مشکل ہے زبان ہی تو ہلانا پڑتی ہے مگر جب کرنیکا نام آتا ہے تو پھر سب ترکی تمام ہو جاتی ہے یہ بھی آجکل لوگوں میں ایک مرض پیدا ہو گیا ہے اور یہ سبق بھی لوگوں نے نیچریوں سے حاصل کیا ہے سمجھتے سمجھاتے خاک نہیں مگر معاملہ میں رائے دینے کو تیار ان لوگوں کی سمجھ کی وہ حالت ہے جیسے ایک شخص نے شیخ سعدی علیہ الرحمتہ کے نذدیک ایک شعر کو سمجھا تھا قصہ یہ ہوا کہ کسی کے ایک دوست کی کسی شخص سے لڑائی ہو رہی تھی وہ دوست بھی ہاتھ پاؤ چلا رہے تھے مگر ان بزرگ نے جاکر دوست کے دونوں ہاتھ پکڑ لئے دوست بیچارے کی خوب مرمت ہوئی یعنی خوب پٹائی ہوئی لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا حرکت تھی کہا کہ میں نے حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمتہ کے فرمان پر عمل کیا ہے فرماتے ہیں ـ
دوست آن باشد کہ گیر دوست دوست در پریشاں حالی ودر ماندگی
( دوست وہ ہے جو پریشانی اور عاجزی کی حالت میں دوست کی دستگیری اور امداد کرے ـ 12 ـ )
ایک عالم غیر مقلد کی حکایت بیان کرتے تھے کہ کسی کتاب میں ایک حدیث کا اردو ترجمہ دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص امامت کرے وہ ہلکی نماز پڑھے تو آپ جب امامت کرتے تو نماز میں کھڑے ہوئے ھلا کرتے ایک شخص نے بعد نماز کے دریافت کیا کہ نماز میں یہ حرکت کیسی کہتا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ ہلکے نماز پڑھو انہوں نے کہا کہ بھائی ہم نے تو ایسی حدیث نہ سنی نہ پڑھی لاؤ ہمکو بھی دکھلاؤ وہ کونسی حدیث ہے اور کونسی کتاب میں ہے آجکل بڑی بڑی کتابوں کے ترجمہ اردو میں ہو ہی گئے ہیں ایک کتاب اٹھا کر لایا اور لاکر سامنے رکھدی اس شخص نے کتاب دیکھ کر کہا کہ میاں اس میں تو یہ حدیث کہ : من ام منکم فلیخفف یعنی امام کو چاہیئے کہ وہ خفیف یعنی ہلکی نماز پڑھے تاکہ مقتدیوں کو گرنی نہ ہو آپ نے ہلکی بیائے معروف کو ہلکے بیائے مجہول معنی حرکت سمجھا تب میاں کو اپنی غلطی کا علم ہوا یہ حالت ہے آجکل کے چودہویں صدی کے مجتہدوں کی اسپر دعویٰ ہے حدیث دانی کا حق تعالٰی فقہا کو جزاء خیر عطا فرمائیں وہ ہم کو گمراہی سے بچا کر راہ پر لگا گئے جزا ہم اللہ تعالٰی احسن الجزاء

( ملفوظ 225) درویشی اور مولویت میں ایک فرق

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ درویشی کا رنگ ڈھیلا ہے ( بیائی معروف ) اور مولویت کا رنگ ڈھیلا ہے ( بیائے مجہول اس لئے لوگ مولویوں سے گھبراتے ہیں اور درویشوں کو چمٹتے ہیں ـ

( ملفوظ 224) کیفیت نفسانی و رحانی میں فرق

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ کیسے معلوم ہو کہ یہ کیفیت نفسانی ہے اور یہ روحانی فرمایا جس کیفیت میں مادہ شرط ہو وہ نفسانی ہے اور جس میں مادہ شرط نہ ہو وہ روحانی ہے اور اسکا پورا پتہ تو مرنے کے بعد چلے گا جب مادہ سے تجرد ہو جائیگا باقی یہاں پتہ چلنا تو یہ محض تبرع ہے کہ یہاں بھی کسی پر ظاہر کردیا جاتا ہے کہ لیکن ظہور کا منتظر نہ رہے اصل چیز تو اعمال ہیں انکے اہتمام میں مشغول رہنا چاہیئے کیفیات کے پیچھے ہی نہ پڑنا چاہیئے لوگ اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ اعمال کی روح کیفیات کو سمجھتے ہیں حالانکہ روح کی کیفیات نہیں بلکہ روح اعمال کی اخلاص ہے خصوص کیفیات نفسانیہ تو کسی درجہ میں مقصود ہی نہیں بلکہ بعض حالتوں میں مضر ہو جاتی ہیں اور کیفیات روحانیہ گو محل التفات تو نہ ہونا چاہیئے مگر وہ مضر کسی حال میں نہیں اسکو ایک مثال سے سمجھ لیجئے کہ ڈاکخانہ کے ذریعہ سے ایک پارسل آیا اسکو کھولا گیا تو اس میں سے ایک بم کا گولا نکلا اور ایک دم پھٹ گیا تمام جسم کو ذخمی کر دیا ہاتھ جل گیا منہ جھلس گیا اور ایک پارسل آیا جس میں سیب انگور انار امرود نکلے تو پہلی صورت تو کیفیات نفسانیہ کی حالت ہے اور دوسری صورت رحانی کیفیت ہے اور یہ جتنے دعویٰ حدود کے باہر ہوئے ہیں اناالحق وغیرہ یہ سب کیفیات نفسانی ہی سے تو ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ کاملین کو ایسی حالت پیش نہیں آتی حضرت شیخ عبدالحق روددلوی رحمتہ اللہ علیہ نے جامع مسجد میں تیس برس نماز پڑھی اور استغراق کی یہ کیفیت تھی کہ اتنے زمانہ تک راستہ جامع مسجد کا نہ معلوم ہوا بختیار خادم کی حق حق کی آواز پر تشریف لیجاتے تھے مگر نماز کسی وقت کی قضاء نہیں ہوئی ان ہی بزرگ کا مقولہ ہے منصور بچہ بود کہ از یک قطرہ بفر یاد آمد ایں جا مردانند کہ دریا ہا فرد برند آردغ زنند پس اناالحق نتیجہ تھا کیفیات نفسانیہ کے غلبہ کا اور یہ مقولہ نتیجہ تھا کیفیات روحانیہ کے غلبہ کا اور اس جوش خروش سے رونق تو ہو جاتی ہے خانقاہ کی کوئی ہو حق کر رہا ہے اور کوئی رو رہا ہے اور کوئی چلا رہا ہے اور کوئی کود رہا ہے کوئی پھاند رہا ہے کوئی امنڈ رہا ہے کوئی ابل رہا ہے مگر ایسی حانقاہ مجانین کی ہوگی عقلا کی نہیں ہوگی حضرات صحابہ کرام کی طرح رہنا چاہیئے یہ ہی شان محبوبیت کی ہے مگر آجکل ہو حق کا کرنا ہی بڑا بھاری کمال سمجھا جاتا ہے ـ

( ملفوظ 223) اعمال مقصود کی کیفیات بہت پختہ ہوتی ہیں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اعمال مقصود کی اتباع پر جو روحانی کیفیات ہوتی ہیں ـ وہ اس قدر لطیف ہوتی ہیں کہ ان کا ادراک ہر شخص نہیں کر سکتا ـ اس لئے اکثر کیفیات نفسانیہ کے طالب رہتے ہیں ـ کیفیات روحانیہ کی قدر نہیں کرتے ایسے شخص کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے دیوبند میں ایک رئیس کے یہاں شادی تھی ـ اس میں کچھ بیگاری چمار بھی بلائے گئے تھے اور ان کو علاوہ اور کھانوں کے فیرینی کی رکابیاں بھی دیدی گئیں تھی تو ان کو چکھ کر ایک چمار کیا کہتا ہے کہ سمجھ میں نہیں آیا ـ یہ تھوک سا کے ہے ( کیا ہے ) یہ قدر کی فیرینی کی ایسے ہی ان کیفیات کی قدر جو کہ اعمال مقصودہ سے ہوتی ہیں ـ ان ناواقفوں کے نزدیک ایسی جیسے چمار نے فیرینی کی قدر کی تھی لبتہ اگر ایک سیر بھر گڑ کا ڈالا اس کو دیدیا جاتا تو خوش ہو جاتا اسی طرح کیفیات روحانیہ کو نا واقف لوگ کیفیات ہی نہیں سمجھتے ـ حالانکہ اصلی کیفیات یہی ہیں ـ دیکھئے اس کے متعلق میں عرض کرتا ہوں ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور کوئی شخص اس سے یہ کہے کہ مثلا عصر کی نماز چھوڑ دے ایک لاکھ روپیہ لے لے مگر وہ نماز نہیں چھوڑیگا اور ایک لاکھ روپیہ نہ لے گا بلکہ یہ کہے گا کہ اگر ہفت اقلیم کی سلطنت بھی دو تب بھی نماز نہ چھوڑوں گا ایک شخص ہے کہ حق تعالٰی کی راہ میں جان دینی پڑ جائے وہ اس سے دریغ نہیں کرتا اگر یہ کیفیات نہیں تو اور کیا ہیں کہ جس کے سامنے جان و مال کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتا یہ تقاضا یہ پختگی یہ عزم کس چیز کا اثر ہے حتی کہ ساری دنیا بھی اگر اس کے خلاف پر مجبور کرے وہ نہیں ہوتا ـ اس حالت میں اس کو ایک خط ہوتا ہے لذت ہوتی ہے ہفت اقلیم کی سلطنت اس کے سامنے گرد ہوتی ہے ـ یہ سب کیفیت ہی کے تو کرشمے ہیں اور یہ نعمت بعض احکام کے اعتبار سے ہر ادنی سے ادنی مسلمان میں موجود ہے ـ اس کی قدر کرنی چاہئے ـ یہ ہی حالت ہر حکم میں ہو جاوے یہی کمال مقصود ہے جو کاملین کو عطا ہوتی ہے ـ