( ملفوظ 47 ) پروا اور پردا

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج بعض حضرات اپنے اپنے وطن کو واپس ہو رہے ہیں ۔ حضرت والا کی مفارقت کا سب کو رنج ہے ۔ فرمایا کہ مجھ کو تو دیکھئے ایک تو قلب اور اتنے قلوب کی مفارقت کا متحمل ہونا پھر دینی محبت کے ذکر کے سلسلہ میں فرمایا
کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو جب سے یہ معلوم ہوا کہ جنت میں دوستوں سے ملاقات ہو گی قلب میں جنت کی تمنا ہو
گئی ۔ حضرت امام جنت کا مقدمہ بتاتے ہیں اور اس کو مقصد بتاتے ہیں پھر مفارقت احباء کے تحمل کے متعلق فرمایا کہ مجھ کو ان دوستوں کی پروا تو ہے مگر پردا نہیں ( دا بمعنی کشادہ ) کہ اڑ کر سب کی طرف پہنچ جاؤں ۔