ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جس طرح مرتشی حکام کو پسند کیا جاتا ہے کہ وہ لے کر ہمارا کام کر دے گا اور غیر مرتشی سے امید نہیں ہوتی ۔ اسی طرح پیروں کو سمجھتے ہیں کہ اگر لیتے رہیں بلکہ مانگتے رہیں تو بہت خوش ہیں کہ حضرت کو بڑی عنایت بڑی توجہ ہے خدا جانے کیا دے دیں گے ۔ واقعی بڑی توجہ ہے کہ لوٹ رہے ہیں یہ بدفہم لوگ ایسوں ہی سے خوش رہتے ہیں کہ پیر یہ کہتا رہے کہ فلاں جگہ کے انگور بھیج دینا اور فلاں جگہ کی چائے اور فلاں جگہ کے امرود اور پانچ روپیہ ششماہی بھیج دیا کرنا یہ تو عنایت اور توجہ کی حقیقت ہے ۔ اب خوش اخلاقی کی حقیقت سمجھ لیجئے وہ یہ ہے کہ خوش اخلاقی کے معنی یہ ہیں کہ ایک تو اس کا ہر کام کر دیا جائے گو حدود سے باہر ہی ہو اور اگر یہ بھی نہ ہو تو جھوٹی امیدیں دلا کر گوڈر سے پیٹ بھر دے اور اگر پھر بھی کامیابی نہ ہو تو معتقد کہتا ہے کہ خوش اخلاق تو بڑے ہیں کوشش تو بہت کی مگر میری قسمت مزاحا تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر صاف بات کہہ دے تو پھر پیر کی قسمت ہے مرید کی نہیں ۔
