ایک خط کے سلسلہ میں فرمایا کہ میں نے ایک خط کے جواب میں لکھا ہے جس میں
مطلوب مبہم تھا کہ پہلے مطلوب کا متعین ہو جانا ضروری ہے ـ مطلوب سمجھ لینے کے بعد اس طریق
میں بڑی سہولت اور آسانی ہو جاتی ہے لوگ اس کو ٹالنا سمجھتے ہیں یہ ان کے قلت فہم کی دلیل ہے اور
سخت غلطی ہے یہ ضرور ہے کہ دو چار مرتبہ خط و کتابت میں وقت اور دام دونوں خرچ ہوتے ہیں مگر
ہمیشہ کیلئے راحت میسر ہو جاتی ہے اور آدمی راہ پر پڑ جاتا ہے ـ
میں نے ایک مرتبہ خواجہ صاحب سے کہا تھا کہ میں ایک ہی جلسہ میں طالب کو خدا تک
پہنچا دیتا ہوں اس کی مثال سمجھ لیجئے کہ یہاں سے چار میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں ہے ـ شب کا
وقت ہے اس گاؤں میں چراغ جل رہا ہے جو دور سے نظر آتا ہے اور ایک شخص اس گاؤں میں جاناچاہتا ہے اور وہ اس گاؤں اور اس کے راستہ سے دونوں سے بے خبر ہے ایک شخص اس کو بتاتا ہے کہ
تیرا مقصود اور مطلوب جہاں تو جانا چاہتا ہے وہ ہے جہاں چراغ جل رہا ہے گو یہ بتلانے والا اس
شخص کے ساتھ نہیں گیا اور نہ یہ ابھی تک اس گاؤں میں جو اس کا مقصود اورمطلوب ہے پہنچا مگر
ایک معنی کر کہا جا سکتا ہے کہ بتلانے والے نے گاؤں تک پہنچا دیا اس لئے کہ بڑی چیز تو راہ ہی ہے
جو اس پر مطلع ہو گیا آ گے بجز چلنے کے اور رہ ہی گیا ہے جو سالک کا فعل ہے باقی رہبر نے
تو اپنا کام پورا کر دیا اور ایک معنی کر پہنچا ہی دیا اور میں عرض کرتا ہوں سنئیے ایک شخص دہلی جانا چاہتا
ہے نہ اس شخص کو راستہ معلوم نہ کبھی دہلی دیکھی نہ اس کا نقشہ معلوم اول تو اس کا پہنچنا ہی مشکل بفرض
محال پنہچ بھی گیا مگر نقشہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے پہچانے گا نہیں اس لئے غالب یہ ہے کہ آ گے بڑھ جائے گا ـ
غرضیکہ مطلوب ہاتھ نہ آئے گا ادھر رہے گا یا ادھر بڑھے گا کسی صورت سے اطمینان
میسر نہ ہوگا ـ اس بے راہی کی حقیقت سے وہی خوب واقف ہو سکتا ہے کبھی راستہ نہ معلوم ہونے پر
سفر کر چکا ہو کہ اس وقت کیا حالت ہوتی ہے جس کا مشاہدہ مجھ کو ایک سفر میں ہوا میں اسٹیشن سہارن
پور سے لکھنو جانے کیلئے سوار ہوا دیکھا کہ میرے ہم وطن ایک جنٹلمین صاحب بھی اس ہی ڈبہ میں
بیٹھے ہوئے ہیں ـ میں ان سے پہلے سے واقف تھا ـ یہ جنٹلمین صاحب بھی میرٹھ جانے والے تھے
سردی کا زمانہ لحاف بچھونا ساتھ نہ تھا ـ یہ بھی جنٹلمین کے خواص میں سے ہے کہ ایسی چیزیں ساتھ نہ
ہوں کورے چلتے ہیں بیک بینی دو گوش کے مصداق سردی سے بغلوں میں ہاتھ ـ جب گاڑی
چھوٹ گئی تو آپس میں باتیں ہونے لگیں ـ میں نے دریافت کیا کہ کیا آپ بھی لکھنو تشریف لے
جا رہے ہیں کہنے لگے کہ نہیں میں تو میرٹھ جا رہا ہوں معلوم ہوا کہ غلطی سے بجائے میرٹھ کی گاڑی
کے اس میں بیٹھ گئے ـ میں نے ان ہی کے محاورہ میں کہا کہ ممکن ہے کہ آپ میرٹھ جا رہے ہوں
مگر افسوس ہے کہ گاڑی لکھنو جارہی ہے یہ سن کر جوان کو پریشانی ہوئی ہے وہ احاطہ بیان سے باہر ہے
اس کی دو وجہ تھیں ایک تو یہ کہ اسباب پاس نہ تھا اور سردی کا زمانہ دوسرے منزل مقصود کی وہ راہ نہ تھی جس کو وہ طے کر رہے تھے میں نے تسلی کی کہ جناب گھبرائیں نہیں پریشان نہ ہوں اب تو جو ہونا
تھا ہو چکا خواہ پریشان ہو جیئے خواہ افسوس کیجئے مگر ظاہرا یہ گاڑی رڑکی سے اس طرف تو ٹھہر نہیں سکتی
مگر ان کو کسی طرح اطمینان نہ ہوتا تھا کبھی لاحول پڑھتے اور کبھی انا للہ کبھی کھڑے ہوتے تھے
اور کبھی بیٹھتے تھے میں نے کہا پریشانی بے فائدہ ہے ـ اطمینان سے باتیں کیجئے میں ان کو باتوں
میں لگانا چاہتا تھا لیکن وہ اس سے جھنجھلاتے تھے کہ واہ صاحب تم کو ہنسی کی سوجھی ہے اور مجھ کو الجھن
لگی ہوئ ہے
اس حکایت سے میرا مقصود یہ ہے کہ میں نے اس وقت اپنی اور ان کی حالت کا موازنہ
کیا تھا میں اپنے آپ کو ایسا مطمئن پاتا تھا گو یا بادشاہ ہوں اس لۓ کہ مجھ کو اس خیال سے راحت
تھی کہ میں راہ پر ہوں اور وہ ایسے پریشان تھے کہ کوئ مجرم قید کر دیا جاۓ ان کو اس خیال سے
پریشانی تھی کہ میں بے راہی پر ہوں اگر وہ رڑ کی ہی پہنچ گۓ تو یہ ظاہر ہے میرٹھ پھر بھی اتنی دور نہ تھا
کہ جس پر ان کو اس قدر پریشانی لاحق تھی ـ
صاحبو! مقصود ان کا قریب تھا میرٹھ اور میرٹھ اور میرا بعد لکھنو مگر بے راہی کی وجہ سے وہ پریشان تھے
اور میں مطمئن ـ سبب اس کا یہ تھا کہ وہ گمراہی پر تھے اور میں راہ پر تھاـ حق سبحانہ و تعا لی اسی کو
کلام پاک میں فرماتے ہیں: اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون
(بس یہ لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ملی ہے اور یہ لوگ ہیں پور ے کامیاب)
ہدی کو فلاح سے پہلے فرمایا اصل چیز تو راہ ہی ہے جس کو صراط مسطقیم (سیدھا
رستہ)
کہتے ہیں دنیا میں مسلمان کیلۓ جس اصلی جزا کا وعدہ ہے وہ یہی ہے کہ وہ ہدایت پر ہے اور
سیدھے راستے پر چل رہا ہے اور جو اس راہ پر چلنا شروع کر دیتا ہے اس کیلۓ مفلحون(پورےکامیاب )
فرمایا گیا ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایسے بزگوں کی جو تیوں میں پہنچا دیا کہ انہوں
سیدھے راستے پر ڈال دیاـ
خلاصہ یہ ہے کہ بڑی چیز راہ پر آگاہ کر دینا اور پتہ و نشان بتلا دینا ہے یہ ہی تو ہے جس کو
میں نے کہا تھا کہ ایک ہی جلسہ میں میں طالب کو خدا تک پہنچا دیتا ہوں حضرت طریق نہ معلوم ہونا
بڑا ہی بھاری خسارہ ہے پھر طریق معلوم ہونے کے دو درجے ہیں ایک تقلید ایک تحقیق مبتدی کو
تقلید ہی کی ضرورت ہے اگر کسی کو خود رستہ نظر نہ آوے مگر تحقیق کہتا ہے کہ یہ رستہ ہے تو اپنی نظر
پر اعتماد نہ کرے اس کی خبر پر اعتماد کر کے چلنا شروع کر دے جوں جوں بڑھتا جائے گا ساتھ ساتھ
راستہ نظر آتا رہے گا گرچہ رخنہ نیست عالم راپدید ـ اس کی ایک مثال عرض کرتا ہوں ـ پشاور سے
کلکتہ تک سڑک گئی ہے ایک شخص پشاور سے کلکتہ پہنچنا چاہتا ہے مگر وہ جب نظر کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ
سڑک درختوں اور آسمانوں سے بند ہے یہ دیکھ کر مایوس ہو جاتا ہے کہ راستہ بند ہے میں منزل کو
طے نہیں کر سکتا ـ مگر جاننے والا کہتا ہے کہ چل تو سہی اپنے موٹر کو گرم کر ہمت سے کام لے چلنا
شروع کر جس وقت موٹر چلنا شروع ہو جائے گا راستہ خود بخود دکھلتا جائے گا جس قدر آگے بڑھتا
جائے گا راستہ اسی قدر کھلا ہوا نظر آئے گا مولانا اسی کو فرماتے ہیں :
گرچہ رخنہ نیست عالم رپدید ٭ خیرہ یوسف دارمی باید دوید
( اگرچہ دنیا میں طریق حق کے راستہ بند معلوم ہوتے ہیں لیکن طالب کو یوسف علیہ
السلام کی طرح بغیر اسباب ظاہری پر نظر کئے دوڑنا چاہئے ـ 11)
اس لئے ضرورت ہے ایسے رہبر کی جس کے محقق اور شفیق ہونے پر اعتماد ہو ـ آجکل
میں کھانسی کی دوا کھا رہا ہوں یہ اجزاء کتابوں میں ہیں مگر بغیر اہل فن کے بتلائے اور تجویز
کئے ہوئے اطمینان نہیں ہو سکتا ـ اب جو اہل فن سے تجویز کرا کر استعمال کر رہا ہوں اطمینان ہے
اس لئے کہ اس کے نقصان اور مضرت کا وہ ذمہ دار ہے اور محقق ہونے کی علامات میں سے یہ بھی
ہے کہ اس کی بات سے اطمینان اور قلب کو قرار ہو جائے اور جو شخص غیر محقق اور غیر مبصر ہوتا ہے اس
کی بات سے اطمینان نہیں ہوتا اگرچہ بڑی بڑی باتیں ہی کیوں نہ کرتا ہو اسی کو فرماتے ہیں ؎
وعدہ ہا باشد حقیقی دلپذیر ٭ وعدہ ہا با شد مجازی تاسکیر
( حقیقت پر مبنی باتیں دل کو لگتی ہیں اور بناوٹی باتوں سے جی اکتاتا ہے ـ )
پھر فرمایا کہ شیخ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ راستہ بتلا دے راہ پر ڈال دے پس شیخ کا ولی ہونا ضروری نہیں مقبول ہونا ضروری نہیں ہاں فن کا جاننا اور اس میں مہارت ہونا ضروری ہے اگر فن سے واقف ہے اور جانتا ہے جیسے طبیب کہ اس کا پرہیز گار ہونا ضروری نہیں ـ فن سے ماہر ہونا اور اس کا جاننا ضروری ہے ـ
اسی طرح شیخ کی مثال سمجھ لیجئے مزاح کے طور پر فرمایا کہ چاہے خود خراب ہو مگر شیخ کا
دماغ خراب نہ ہو جب شیخ اور ولی میں فرق معلوم ہو گیا تو سمجھ لیجئے کہ کسی کو شیخ کہنا تو جائز ہے لیکن
ولی کہنا جائز نہیں ـ اور یہ بات کہ کسی کو جزم ( یقین ) کے ساتھ ولی کہنا جائز نہیں مسئلہ ہے جو حدیث
لایز کی علی اللہ سے ثابت ہے اور اگر اعمال صالحہ ہوں تقوی ہو ولایت حاصل ہو جائے گی خواہ شیخ نہ ہو ـ
