(ملفوظ5 )راہ سلوک میں تدقیق کی ممانعت

ملقب بہ مشی الطریق مع نفی التدقیق ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان کو کام میں لگنا چاہیئے اس کی ضرورت نہیں کہ نفع کا ہو نا بھی اس کو معلوم ہو اس کی ایسی مثال ہے کہ بچہ کم سن ہے اور باپ اس کی طرف سے بنک میں روپیہ جمع کردے تو وہ بچہ مالک ہو جاوے گا ـ مگر مالک ہونے کے لئے اس کا معلوم ہونا شرط نہیں جب آمدنی تقسیم ہونے لگے گی اس وقت معلوم ہو جاوے گا اس طرح عمل کا نفع یہاں اگر سمجھ میں نہیں آیا وہاں آخرت میں سمجھ لو گے یہاں تو کام میں لگے رہو نفع برابر واقع ہو رہا ہے وہاں دیکھو گے اور تم یہاں ہی نفع کو معلوم کرنا چاہتے ہو تو دنیا کے نفع کے واسطے کام کر رہے ہو جو دنیا میں نفع کے طالب ہو جہاں کے لئے کام کر رہے ہو وہاں اس کا نفع دیکھنا انشاءاللہ تعالی خزانہ بھرپور ملے گا یہاں کے نفع کے متلاشی تو کفار ہوتے ہیں جن کو آخرت میں کوئی امید نہیں ان کی مطلوبہ اور آخرت کے لئے محض معطل اور مومن اس کے برعکس مولانا اسی کو فرماتے ہیں

انبیاء درکار دنیا جبری اند کافران درکار عقبی جبری اند

انبیاء راکار عقبی اختیار کافران را کار دنیا اختیار

( حضرات انبیاء علیم السلام دنیا کے کامعں میں جبری ہوتے ہیں اور کافر لوگ آخرت کے کاموں میں جبری ہوتے ہیں انبیاء علیم السلام آخرت کے کاموں میں اپنے کو مختار سمجھ کر ان کاموں کی کوشش فرماتے ہیں اور کافر لوگ دنیا کے کاموں کو اپنے اختیار میں سمجھ کر اس کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ـ ) ان کی مرغوب آخرت ہے ان کی مرغوب دنیا ہے اپنی اپنی مرغوب پر زور لگا رہے ہیں بس اپنے مقصود کے لئے کام کرتے رہو ثمرہ کو نہ دیکھو ورنہ اگر ساتھ ساتھ اسکو بھی دیکھو گے کہ کچھ ثمرہ مرتب ہوا یا نہیں تو بس کام ہو چکا پھر تو وہ مثال ہوگی جیسے چکی پیسنے والی ہر چکر گھمانے والی کے بعد یہ دیکھا کرے کی کس قدر آٹا نکلا تو بس ہو چکا کام اور پیس چکا آٹا کام کرنے والوں کی تو شان ہی اور ہوتی ہے ان کو تو والہانہ کام ہی کرنا چاہیئے اسی کو فرماتے ہیں

گر چہ رخنہ نیست عالم را پدید خیر یوسف وار مے باید دوید

(اگرچہ ظاہر میں کوئی راستہ معلوم نہیں ہوتا مگر یوسف علیہ السلام کی طرح بھاگنا چاہیئے )

یوسف علیہ السلام نے یہ نہیں دیکھا کہ دروازہ بھی کھلا ہے یا نہیں اٹھکر دوڑ پڑے اپنا کام کیا بس اس ارادہ اور نیت کی برکت سے دروازے خود بخود کھل گئے اور آپ صاف باہر نکل آئے اسی طرح تم چلو تو جو کچھ برے بھلے ہو آگے تو بڑھو خریداروں میں تو نام لکھا ہی جائے گا اور وہاں خریدار نام کا بھی محروم نہیں رہتا ایک بڑھیا سوت کی انٹی لے کر یوسف علیہ السلام کو خرید نے چلی کسی نے پوچھا کہاں جارہی ہو کہا کہ یوسف کو خریدنے اس نے کہا کہ ان کی قیمت کے لئے تو شاید عزیز مصر کا خزانہ بھی کافی نہ تم کیا ایک سوت کی انٹی لے کر چلی ہو بڑھیا کہتی ہے کہ یوسف کے خریداروں میں تو نام لکھا ہی جائے گا آپ ہی بتلائیے کہ کونسا زر ثمن اس کے پاس تھا مگر نیت اوراردہ تو تھا تو تم بھی نیت اور ارادہ کیساتھ کام لگو سوال جواب میں مت پڑو زیادہ تدقیق و تعمق کی ضرورت نہیں اتباع کی ضرورت ہے افسوس ہے کہ دو وقت کھانا کھانے میں باورچی پر تو اعتماد کریں کہ اس نے کھانے میں زہر نہیں ملایا اور اپنے خیر خواہوں پر اعتماد نہ ہو ان سے قیل و قال کی جاوے اس تدقیق میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کو دیکھا جاوے کہ ہمارا عمل کامل ہے یا ناقص اگر ناقص ہوا تو بد دل ہو کر ہمت ہاردی صاحبو معلوم بھی ہے ـ کہ عمل میں جس کمال کے تم منتظر ہو کہ کوئی نقص نہ ہو وہ کمال تو صرف ذات پاک ہی کے ساتھ خاص ہے ورنہ اس ذات کے سامنے تو انبیاء بھی کامل نہیں اور کسی کا تو کیا منہ ہے کہ کامل ہونے کا دعوی کرے یا منتظر ہو اس کے سامنے تو جو کامل بھی ہوگا وہ ناقص ہی ہوگا یہ ہی بڑی رحمت ہے کہ ہم ناقص ہی ہیں محروم تو نہیں اور اگر کمال