ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان کی حقیقت ہی کیا ہے اور کیا اپنی کسی چیز پر یا اپنے کمال پر ناز کر سکتا ہے جبکہ حسیات تک میں غلطیاں کرتا ہے ایک مرتبہ رنگون میں تماشہ ہوا جس کمرے میں ہم لوگ ٹھرے ہوئے تھے اس میں ایک شیشہ قد آدم سے بھی اونچا لگا ہوا تھا عشاء کی نماز پڑھ کر جو میں آیا اور ساتھی بھی ہمراہ تھے تو یہ معلوم ہوا کہ ادھر سے ایک مجمع چلا آ رہا ہے میں نے کہا کہ دیکھئے آرام کے وقت بھی لوگ پیچھا نہیں چھوڑتے چلے آ رہے ہیں ایک ساتھی نے کہا کہ صاحب سامنے شیشہ ہے اس میں ہم ہی لوگوں کا عکس پڑ رہا ہے اس وقت میرا اعتراض اس کا مصداق ہو گیا ۔
حملہ برخود میکنی اے سادہ مرد ہمچو آں شیرے کہ بر خود حملہ کرد ۔
9 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ
