فرمایا ! کہ سلف میں مشائخ بڑے بڑے مجاہدے اور ریاضتیں مریدین سے کراتے ہیں کتابوں میں دیکھنے سے حیرت ہوتی ہے اس وقت قوی لوگوں کے اچھے تھے عمریں بھی بڑی ہوئی تھیں اب نہ قوی ہیں اور نہ عمر ـ جو بات اس زمانہ میں معتد بہ مجاہدات کے بعد حاصل ہوتی تھی یعنی قوت بہیمیہ کا کمزور ہو جانا وہ آجکل بلا مجاہدات کے حاصل ہے مگر یہ سن کر کوئی خوش فہم صاحب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ واقع میں مجاہدہ کی ضرورت نہیں ضرورت ہے مگر اسی درجہ کی جس درجہ کی قوت بہیمیہ ہے اور بڑا مجاہدہ یہ ہے کہ کسی کامل کے سامنے اپنے کو پا مال کر دے مولانا فرماتے ہیں ؎ قال را بگذار مرد شو ٭ پیش مرد کاملے پا مال شو ( قال کو چھوڑ ـ مرد حال ہو جا ـ اور کسی کامل کے سامنے ہو جا ) اور فرماتے ہیں ؎ صحت ایں حس بجوئید از طبیب ٭ صحت آں حس بجوئید از حبیب صحت ایں حس ز معموری تن ٭ صحت آں حس ز تخریب بدن
( بدن کی صحت تو طبیب سے حاصل کرو اور باطن کی صحت محبوب ( مرشد ) سے حاصل کرو ـ صحت ظاہری تو بدن کو بنانے سنوارنے میں ہے اور باطن کی صحت بدن کی تخریب میں ہے ) مثال سے سمجھ لیجئے جیسے قلعہ کی دیوار کے نیچے خزانہ مدفون ہے اگر دیوار نہ گرائے گا خزانے سے محروم رہیگا ـ اور اگر گرا دیگا تو اس قدر خزانہ نکلے گا کہ منہدم شدہ دیوار بھی تیار ہو جائیگی اور ساری عمر کیلئے خرچ کو کافی ہو گا ـ ایسا ہی اس تن کو فنا کرنا ہے اور فنا کے بعد جو اس کو بقاء ہو گی وہ ایسی ہو گی جس کو اس شعر میں فرمایا گیا ہے ؎ خود کہ یا بد ایں چنیں بازار را ٭ کہ بیک گل مے خری گلزار را ( ایسے بازار کو کون حاصل کر سکتا ہے کہ جہاں ایک پھول کے بدلہ میں پورا گلزار جاتا ہے ) ـ
