صحیح اللہ کی یاد وہ ہے جو فکر اصلاح کیساتھ ہو فرمایا ! کہ بعض لوگ انا جلیس من ذکرنی سے استدلال کرتے ہیں کہ صرف اذکار ہی اصلاح کیلئے کافی ہیں کیونکہ ذکر سے قرب ہو گا اور قرب سے معاصی سے نفرت و اجتناب ہو گا اور تدابیر کی ضرورت نہیں ـ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ ذکرنی میں خود تدابیر اصلاح بھی داخل ہیں تو بدوں معالجہ امراض کے ذکر ہی محقق نہیں ـ دیکھو حص حصین میں ہے بل کل مطیع اللہ فھو ذاکر ( جو اللہ تعالی کی اطاعت کرتا ہے وہی ذکر کرنے والا ہے ) سنئے ذکر کے معنی ہیں یاد ـ تو یاد تو سب طریقہ سے ہوتی ہے نہ کہ محض زبان ہی سے نام لے لے ـ کیا یہ یاد ہے کہ جس کی یاد کا دعوی ہے نہ اس سے بات کرے نہ اس کے خط کا جواب دے نہ اس سے ملے نہ اس کا کہنا مانے ـ یہ ہرگز یاد نہیں ـ تو جو ذکر بدوں اصلاح کے ہو وہ ایسی ہی یاد کی طرح سے ہے ـ
