فرمایا کہ ایک ریاست ہے وہاں سے کئی روز ہوئے ایک صاحب کا خط آیا تھا جواب کے لیے نہ ٹکٹ تھا نہ کارڈ اس میں لکھا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ عامل ہیں ، میرا ایک کام ہے وہ آپ کر دیں اور میں اپنے آدمی کو آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں ۔ میں نے اس خیال سے کہ کارڈ پر جواب دینے میں میرے تو تین ہی پیسے خرچ ہوں گے ان کا اگر آدمی آیا تو نہ معلوم کس قدر روپیہ صرف ہو جائے گا اس لیے کارڈ لکھ دیا کہ آپ آدمی بھیجنے کی ہر گز تکلیف نہ فرمائیں اور نہ کوئی خط اس سلسلہ میں روانہ کریں مجھ کو عملیات نہیں آتے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ مقام سرحد پر ہے اور یہ نواب ہیں جن کا خط ہے فرمایا کہ واقعی نواب ہیں اور ہیں بھی بے تکلف ، جی میں آ گیا تو گالیاں ہی دے دیں ۔ چنانچہ آج پھر ان کا خط آیا ہے سلسلہ قطع نہیں کیا وہی اصرار ہے کہ ہمارا کام کرو اگر ہمارا کام کر دیتے تو کیا جہنم میں چلے جاتے ۔ اب بتلائیے میں نے اس میں کون سا زہر ملا دیا تھا ، تین پیسے خرچ کیے اور گالیاں کھائیں ۔ میں نے جب کبھی بھی اپنے اصول کے خلاف کیا جبھی تکلیف پہنچی ، میں نے تو یہ خیال کیا کہ بے چاروں کا نقصان نہ ہو بلا وجہ روپیہ صرف ہو جائے گا لفافہ پر پتہ میں میرے نام پر لکھا ہے کہ فلاں ( یعنی اشرف علی ) عامل بھلا میرے کون سے اشتہار شائع ہو رہے ہیں ، بد تہذیب آدمی کوڑ معز بس اب جواب نہ دوں گا ، کیوں اپنے پیسے خراب کیے اور ماشاء اللہ اب کی مرتبہ بھی ٹکٹ ندارد بہت ہی اچھا ہو جو آ جائیں اور میں یوں کہوں دور ہو نالائق سرائے میں جا کر ٹھر مگر بحمد اللہ اس واقعہ سے عقلا کوئی ناگواری نہیں ، گو طبعا ناگواری ضرور ہے اور عقلا اس لیے نہیں کہ اس سے کوئی تعلق نہیں جس سے رعایت کی توقع ہوتی ایک اجنبی شخص ہے اس لیے کچھ بھی گرانی نہیں یہ بھی لکھا ہے کہ کب تم نے اپنے آپ کو ولی مشہور کیا ہے بڑا ہی کوئی بد فہم اور کوڑ مغز معلوم ہوتا ہے بھلا میں نے کب اپنے کو ولی مشہور کیا ہو گا ۔ اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ لکھے ہیں اگر میں سچی بات بتلا دیتا ہوں جیسا اب بتلا دیا تھا کہ میں عامل نہیں تو لوگ یہ معاملہ کرتے ہیں ، میں نے تو نقصان سے بچانا چاہا کہ آنے میں بہت روپیہ برباد ہو گا ، وہاں سے یہ تبرکات ملے ، اللہ بچائے بد فہمی سے اگر ان سے کچھ اینٹھ لینا چاہے پھر کام بھی نہ ہوتا درست ہو جاتے اور خوش اور معتقد رہتے بلکہ اس وقت کام نہ ہونے پر یہی کہتے کہ جی ہماری قسمت کام نہ ہوا ان کے عامل ولی ہونے میں تو کچھ شبہ نہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ ہمارا کام کرنا پڑے گا تم کو تکبر ہے فرمایا کہ ایسے بد فہموں کو کسی کو دق کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے ۔ ان لوگوں میں بد تمیزی بہت ہی بڑھ گئی ہے ، نالائق نے لکھا ہے کہ رجسٹری کیوں نہیں پہنچی ، میں امراء کی خاطر تو کرتا ہوں مگر وقعت نہیں کرتا ، میرے قلب میں ان کی عظمت ہی نہیں ہاں دل آزاری یا تحقیر بھی نہیں کرتا ۔ اب بھلا ایسے بد فہموں کا کیا کوئی علاج کرے اور کیا ایسے لوگوں کی کوئی اصلاح کر سکتا ہے ، ایک سیدھی اور سچی بات پر کس قدر طیش میں ہے ، کوئی اس نالائق سے پوچھے کہ کام بھی کرانا چاہتا ہے ، غرض مند بھی ہے اور اس قدر نخرے جیسے کوئی اس کے باوا کا نوکر ہے ، آ جائے ذرا جب بتلاؤں گا چھٹی کا کھایا پیا سب ہی اگل کر نہ جائے ۔
