( ملفوظ 104 ) شیخ کامل اور قلب کی صفائی

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیخ کی مثال بالکل طبیب کی سی ہے اگر طبیب اناڑی ہے تو پھر جان کی خیر نہیں ۔ جیسا کہ مقولہ مشہور ہے کہ ( نیم حکیم خطرہ جان نیم ملا خطرہ ایمان ) بعض اناڑی شیخ سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکتے ہیں ۔ اسی سبب سے لوگوں کی تربیت اور اصلاح نہیں ہوتی جیسے ایک طبیب کا قصہ ہے کہ کسی مریض کا علاج کیلئے بلائے گئے مریض کی چارپائی
کے نیچے نارنگی کے چھلکے پڑے ہوئے تھے ، حکیم صاحب نے نبض دیکھ کر فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نہ نارنگی کھائی ہے اس مریض نے اقرار کیا کہ بیشک کھائی ہے ۔ حکیم صاحب کے صاحبزادے بھی ساتھ رہتے تھے ، مکان پر آ کر حکیم صاحب سے دریافت کیا کہ آپ
نے یہ کیسے معلوم کر لیا تھا کہ اس مریض نے نارنگی کھائی ہے ۔ حکیم صاحب نے فرمایا کہ بیٹا اس کی چارپائی کے نیچے نارنگی کے چھلکے پڑے ہوئے تھے بس اب کیا تھا صاحبزادے کے ہاتھ ایک قاعدہ کلیہ آ گیا ۔ گو وہ ایک واقعہ جزئیہ تھا اب حکیم صاحب کے بعد صاحبزادہ کا زمانہ آیا ۔ ایک مریض کو دیکھنے کے لیے بلائے گئے ، اتفاق سے اس مریض کی چارپائی کے نیچے نمدہ پڑا ہوا تھا ، آپ نبض دیکھ
کر فرماتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے نمدہ کھایا ہے ، لوگوں نے اس کو وہاں سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ تمہاری دم میں نمدہ یہ تو ایک حکایت ہے جو میں نے توضیح کے لیے اس وقت بیان کی مگر آج کل حالت مشائخ کی یہ ہی ہو رہی ہے کہ سب کو ایک ہی وظیفہ ایک ہی ورد یہ سب باتیں فن سے واقف نہ ہونے کی بدولت ہو رہی ہیں ۔ تصوف کو ان لوگوں نے بدنام کر دیا ، تصوف کی جو حقیقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں تھی اس کو تو لوگوں نے مستور بلکہ مقصود ہی کر دیا ۔ شیخ کو تو ایسا حکیم ہونا چاہیے جیسے ایک بزرگ کے پاس ایک شخص مرید ہونے گئے ، بزرگ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ مال ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو مال سے محبت ہو گی ، عرض کیا کہ سو روپیہ ہیں ، فرمایا ان کو علیحدہ کر کے آؤ عرض کیا بہت اچھا ، دریافت فرمایا کہ کس طرح کرو گے ، عرض کیا کہ مسکین کو دیدونگا ، فرمایا کہ اس میں تو حظ ہو گا نفس کو کہ ہم نے بڑی سخاوت کی ، دریا میں پھینک کر آؤ عرض کیا کہ بہت اچھا دریافت فرمایا کہ دریا میں کس طرح پھینکو گے ، عرض کیا کہ ایک دم سب کو لے جا کر پھینک آؤں گا ، فرمایا کہ نہیں ایک روپیہ روز پھینک کر آؤ تاکہ نفس پر روزانہ آرا چلا کرے ۔ یہ ہے شیخ ہونے کی شان ، امراض کا علاج مثل طبیب کے کرتے ہیں ، سب کو ایک ہی لکڑی نہیں ہانکتے ، بعض سے مال جدا کراتے ہیں اور بعض کو مال جمع کرنے کو کہتے ہیں بعض مشائخ نے تو سلطنت تک ترک کرا دی جس کو آج انتہائی معراج کا زینہ لوگ سمجھتے ہیں اور جس کے پیچھے دین ایمان قربان کرنے کو تیار ہیں ۔ معلوم بھی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصل راز یہ ہے کہ وہ دنیا کو قلب سے نکالیں ، گو ہاتھ میں بقدر ضرورت رہے قلب تو بس حق تعالی ہی کے رہنے کی جگہ ہے ۔ صاحبو ! قلب کو صاف رکھو نہ معلوم کس وقت نور حق اور رحمت حق قلب پر جلوہ گر ہو جائے اس لیے ہر وقت اس کے مصداق بنے رہو ۔

یک چشم زدن غافل ازاں شاہ نباشی شاید کہ نگاہے کند آگاہ نباشی

( اس بادشاہ کی طرف ایک لمحہ کو بھی غافل نہ ہو ممکن ہے کہ وہ توجہ فرما دے اور تجھے خبر بھی نہ ہو )

ان فضولیات کو چھوڑو کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہو مسلمانوں اور کافروں میں تو یہی فرق ہے کہ مسلمان عاقبت کی فکر میں لگے ہیں اور
دنیا کو چھوڑے ہوئے ہیں اور کفار عاقبت کو چھوڑے ہوئے ہیں اور دنیا کی فکر میں لگے ہیں ان کفار کی انہماک کی بالکل یہ حالت ہے :

عاقبت سازد ترا ازدیں بری ایں تن آرائی و ایں تن پروری

( یہ بدن کے بناؤ سنگھار میں لگا رہنا انجام کار تیرے دین ہی کو برباد نہ کر دے ۔ )

اور اسی مضمون کو فرماتے ہیں جس میں مسلمانوں اور کافروں کے مقصود کا فرق معلوم ہوتا ہے ۔

انبیاء در کار دنیا جبری اند کافراں درکار عقبے جبری اند
( انبیاء علیہم السلام تو دنیا کے کاموں میں جبری ہیں کہ جب کوئی کام اپنی مرضی کے خلاف دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اللہ کی یہی مرضی تھی ہمارا اس میں کیا اختیار ہے اور کفار آخرت کے کاموں میں جبری ہیں کہ نماز نہ پڑھیں اور جب کوئی باز پرس کرے تو کہیں کہ بھائی اللہ کا حکم ہو گا جب ہی پڑھیں گے ورنہ ہمارے اختیار میں کیا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام آخرت کے کاموں میں اپنے کو مختار سمجھ کر ان کے کرنے کی کوشش فرماتے ہیں اور کافر لوگ دنیا کے کاموں میں کوشش کرتے ہیں اور ان کو اپنے اختیار میں سمجھتے ہیں ۔ 12 )

مسلمانو ! تمہاری فلاح اور بہبود اسی میں ہے کہ تم خداوند جل جلالہ کے راضی کرنے کی فکر کرو ، پھر تو دین کے ساتھ دنیا بھی تمہاری جوتیوں سے لگی پھرے گی ، تم دین اختیار کرو پھر دنیا تو تمہاری لونڈی غلام ہے تم سے پہلے بھی کر کے دکھلا گئے باوجود سلف کے نظائر کے تم ان واقعات کو نظر انداز کر رہے ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ تم مصائب و آلام کا شکار بنے ہوئے ہو کس طرح دل میں دل ڈال دو اور کس طرح اطمینان دلاؤں ، قسم سے زائد اور کوئی ذریعہ اطمینان کا اس وقت میرے پاس نہیں ، میں خدا کی قسم کھا کر عرض کرتا ہوں ، واللہ ثم واللہ ثم واللہ اگر تم خدا کے دین کی رسی کو مضبوط پکڑ لو جس کو حق تعالی فرماتے ہیں :

واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا

تو پھر تم سلف کی طرح تمام دنیا کے مالک بن جاؤ مگر مشکل تو یہ ہے کہ آج کل مسلمانوں کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اپنے سے بے خبر ہیں اس ہی لیے مسلمان تباہ حال ہیں ایسوں ہی کے متعلق کسی نے خوب کہا ہے :

گربہ میروسگ وزیر وموش را دیواں کنند ایں چنیں ارکان دولت ملک را ، یراں کنند

( بلی کو صدر اعظم ، کتے کو وزیر اعظم اور چوہے کو وزیر مملکت بنا لیں تو یہ ارکان سلطنت ملک کو ویران ہی کریں گے ۔ )

چھوڑ ان فضولیات کو مسلمانوں کا مذاق تو قرآن و حدیث کے مطابق یہ ہونا چاہیے جس کو فرماتے ہیں :

ما قصہ سکندر و دارا نخواندہ ایم از ما بجز حکایت مہرو وفا مپرس
( ہم نے سکندر دارا کے قصے نہیں پڑھے ہم سے حق تعالی کے عشق اور ان سے وفاداری کی باتوں کے سوا کچھ مت پوچھو ۔ 12 )

اس ملفوظ اور ایسے ہی اور ملفوظات سے کسی کو یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ حضرت مسلمانوں کو دنیا کے تمام کاموں کو ترک کر کے خانقاہ کے کونہ میں بیٹھنے کا تعلیم فرما رہے ہیں کیونکہ یہ تعلیم تو اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کیخلاف ہے اللہ تعالی نے انسان کو اس عالم میں اپنا خلیفہ بنا کر
بھیجا ہے تو اس عالم کے تمام انتظامات کرنا عین مرضی حق کے مطابق ہے تو اس کی تعلیم کیسے دی جاسکتی ہے ۔ حضرت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان کو دست بکار دل بیار ہونا چاہیے جس طرح مسلمانوں نے حق تعالی سے بالکل تعلق قطع کر لیا ہے اور سراپا دنیا میں منہمک ہو گئے ہیں اس کی اصلاح مقصود ہے اس کو یوں سمجھ لو کہ اگر کسی کو کوئی غم پیش آ جائے یا کوئی اور فکر مقدمہ فوجداری کی لگ جائے تو یہ شخص کھاتا بھی ہے پیتا بھی ہے ، دنیا کے سارے کام کرتا ہے ۔ مگر دل میں ہر وقت وہی غم اور فکر سوار ہے اور ایسا کوئی نہ کوئی واقعہ ہر شخص کو پیش آ ہی جاتا ہے تو جو کیفیت اس غم اور فکر کے وقت قلب اور ظاہری اعضاء کی ہوتی ہے وہی کیفیت مسلمان کی ہونا چاہیے کہ دل میں اللہ بسا ہو اور ہاتھ پیروں سے امور سلطنت انجام دیا جاتا ہو جس کو حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کے متبعین برسوں تک کر کے دکھا گئے ہیں ۔ نوکری کرو ، تجارت کرو ، زراعت کرو ، سلطنت کرو ، مگر دل میں تعلق مع اللہ ہو جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جس طرح آج ہم اپنے حاکم یا امریکہ اور لندن والوں کی رضاجوئی کے لیے اپنی مصلحتوں تک کو فوت کر دیتے ہیں دل میں اللہ سے تعلق ہونے پر ان کی مرضی کے آگے اپنی مصلحتوں اور خواہشوں کو نہایت خوشی سے چھوڑ کر حق تعالی کی مرضی پر چلیں گے اور بہت سہولت سے چلیں گے ۔ خوب سمجھ لو