ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ احکام میں جو شبہات پیدا ہوتے ہیں بجائے جزئی جوابوں کے اس کا جو اصلی سبب ہے اس کا علاج کرنا چاہئے اور وہ سبب خدا کی محبت اور عظمت کا نہ ہونا ہے پس اس کا علاج یہ ہے کہ کسی کی جوتیوں میں جا کر پڑ جائے انشاء اللہ تعالی اس سے وہ عظمت و محبت پیدا ہو گی اور اس سے تمام شبہات کا ازالہ خود بخود ہو جائے گا مولانا رومی اسی کو فرماتے ہیں :
قال را بگذار مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
پھر تو یہ حالت ہو گی ۔
ما اگر قلاش و گر دیوانہ ایم مست آں ساقی و آں پیمانہ ایم
اوست دیوانہ کو دیوانہ نشد مرعسس رادید و درخانہ نشد
غرض طریقہ یہ ہے کہ نہ کہ قیل و قال اور خود تو قال و قیل بہت بعید ہے ان حضرات کی تو یہ حالت ہے کہ دوسرے کی قیل و قال کا بھی جواب نہیں دیتے ۔
بامدعی مگوئید اسرار عشق و مستی بگذار تا بمیرددر رنج خود پرستی
اور اپنے لئے وہ طریق عمل اختیار کرتے ہیں جیسی ایک حکایت ہے کہ ایک شخص بانسری بجا رہا تھا اس کا گوز نکل گیا تو اس نے منہ پر سے بانسری ہٹا کر اسفل کی طرف لگا دی کہ لے بی تو ہی بجا لے اگر تو ہی اچھا بجانا جانتی ہے اس میں ایک لطیفہ بھی ہے کہ مدعی کو ایک گندی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے ۔
