ایک صاحب کے لباس پر حضرت والا نے تکلفات کی مذمت بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ لباس میں کیا رکھا ہے حافظ صاحب فرماتے ہیں :
مبیں حقیر گدایان عشق را کایں قوم شہان بے کمر و خسروان بے کلہ اند
حافظ صاحب کا بھی عجیب کلام ہے موجد ہیں اس طرز کے اس قبل کسی نے یہ طرز نہیں اختیار کیا البتہ ان کے بعد لوگوں نے اس طرز کا اتباع کیا مگر ہو نہیں سکا ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک شخص خشک مزاج مدعی عمل بالحدیث کہنے لگے کہ حافظ شیرانی کو باوجود ان کے رندانہ کلام کے کیوں بزرگ مانا جاتا ہے اور کلام میں تاویل کیوں کی جاتی ہے ، ان میں کونسی حدیث ہے ؟ میں نے کہا کہ حدیث شریف میں آیا ہے : ” انتم شھداء اللہ فی الارض ” اب تم جامع مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو جاؤ اور ہر شخص سے ان کے متعلق دریافت کرنا شروع کرو ، دیکھو کہ کیا جواب ملتا ہے ، دوسرے علی سبیل التنزل اگر غیر بزرگ کو کوئی بزرگ خیال کر لے تو کوئی معصیت نہیں اور اس کے عکس میں اندیشہ ہے معصیت کا ۔
