ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تعمیر کے کام سے مجھ کو بہت تنگی ہوتی ہے اس میں کوئی صرفہ کی انتہا ہی نہیں رہتی اندازہ کرو سو روپیہ کا اور صرف ہو جائیں دو سو ، اڑھائی سو ، گو ضرورت کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے مگر دل گھبراتا ہے بزرگوں کو تو اس سے بڑی نفرت تھی اس میں بڑے خرچ کی ضرورت ہے ، مسلمانوں کے پاس اس مد میں روپیہ صرف کرنے کو کہاں اور اگر ہو بھی تو اس زمانہ میں پیسہ کی حفاظت کی ضرورت ہے اس کی حفاظت کرنی چاہیے اور سوچ سمجھ کر صرف کرنا چاہیے بڑا ہی نازک زمانہ ہے ۔
