( ملفوظ 517)طریق تصوف کی تکمیل اور اس کا احیاء

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگ صرف نفلیں اور وظائف کے پڑھ لینے کو انتہائی کمال سمجھتے ہیں حالانکہ کہ کوئی کمال کی چیز نہیں ہاں ثواب کی چیزیں ہیں جو کمال پر موقوف نہیں کمال پیدا ہوتا اصلاح کے بعد اور اصلاح کا ہونا عادۃ موقوف ہے صحبت کامل پر مگر نری صحبت بھی کار آمد نہیں جب تک کہ اعمال ماموربہ کا اہتمام نہ ہو یہی اعمال اصل سلوک ہیں بدون ان کے اختیار کئے ہوئے کوئی شخص منزل مقصود تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا اگرچہ وہ آسمان پر پرواز کرنے لگے یا دریا پر بدون کشتی اور جہاز کے چلنے لگے حقیقت یہ ہے مگر آج کل جاہل صوفیوں نے لوگوں کی راہ ماری ہے اور گمراہ کیا ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب طریق بالکل زندہ ہوگیا ـ مدتوں کے بعد یہ نصیب ہو اور یہ میں فخر سے نہیں کہتا بلکہ بطور نعمت کے عرض کر رہا ہوں وہ جس سے چاہے اپنا کام لے سکتے ہیں طریق سے لوگوں کو اجنبیت اور وحشت ہو چکی تھی وہ اس کو دین سے خارج سمجھ چکے تھے اب الحمد اللہ طریق کی تکمیل ہو گئی ـ
29 صفر المظفر 1351 ھ مجلس خاص بوقت خاص صبح یوم سہ شنبہ