ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک تحصیلدار صاحب میرے پاس آئے ، کہنے لگے کہ طاعون سے بھاگنا کیوں ناجائز ہے ؟ میں نے کہا کہ پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیں ، وہ یہ کہ سپاہی کا میدان جنگ سے بھاگنا کیوں جرم ہے ؟ حالانکہ وہاں پر جان کا خوف ، طاعون سے بھی زیادہ ہے تو میدان میں رہنا تو خلاف عقل نہیں اور طاعون میں رہنا خلاف عقل ہے وہ سمجھ گئے میں نے کہا کہ بادشاہ مجازی کو 30 روپیہ تنخواہ دے کر حق حاصل ہے کہ وہ جان کا مالک بن جائے اور حق تعالی کو پیدا کر کے بھی یہ حق نہ ہو اس جواب پر بہت مسرور ہوئے ، پوری تسلی ہو گئی اور بہت ہی خوش ہوئے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ وہاں تو احتمال بہت ضعیف ہوتا ہے کہ جان بچا کر آ جاؤں گا بلکہ اگر یقینا معلوم ہو جائے کہ گولی سے مار دیا جائے گا تب بھی کوئی نہ سنے گا کہ مجھ کو یقین ہو گیا کہ مارا جاؤں گا ، بھاگ جانے کو جرم ہی قرار دیا جائے گا اور طاعون میں تو یہ یقین بھی نہیں ۔
صفات باری تعالی میں افعال مراد ہے ،
