( ملفوظ 468 ) تحریک خلافت کے بعد سب نے آ کر معافی مانگی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب معافی کے لیے آئے تھے یہ کہتے تھے کہ میں نے زمانہ خلافت میں کچھ کہا تھا معاف کر دیجئے ، میرا آخری وقت ہے میں نے کہا کہ میں تو پہلے ہی سب کو معاف کر چکا ہوں اور اب بھی معاف کرتا ہوں آپ بھی معاف فرمائیں ، اس پر بہت خوش ہوئے ، مجھ کو معافی دینے میں کیا عذر تھا اس لیے کہ کسی کے برا کہنے سے میرا نقصان ہی کیا خصوصا جبکہ ان تحریکات میں جو بعضے ایسے لوگ شریک تھے جن کی نیت شرارت کی نہ تھی صرف حرارت تھی جس میں خیساندہ پینے کی ضرورت تھی ۔ چنانچہ فہم و انصاف کے خیساندہ سے وہ حرارت جاتی رہتی اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ میں ہر بات میں سب سے کم مگر مجھ کو کسی کے سامنے جھکنا نہیں پڑا وہی آ کر جھکے ۔