( ملفوظ 614) ایک صاحب کی مکتوبات اشرفیہ جمع کرنے کی خواہش

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے تمام مکتوبات ایک جگہ جمع ہو جائیں تو بہتر ہے اگر مصلحت کے خلاف نہ ہو فرمایا کہ مصلحت کے خلاف تو نہیں مگر ان کاموں کے لئے ضرورت ہے پیسہ کی اور روپیہ اتنا ہے نہیں اور مانگنے سے غیرت آتی ہے اور میں تو حق تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ جس قدر کام یہاں پر بدون مانگے ہو رہا ہے دوسری جگہ مانگنے پر بھی نہیں ہوتا یہ ان کا فضل ہے ۔

( ملفوظ 613)رذائل پر عمل کرنے سے مؤاخذہ ہوتا ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس پر مؤاخذہ نہ ہو گا کہ تمہارے اندر رذائل مثلا بخل کیوں تھا اس کے اقتضاء پر عمل کرنے پر مواخذہ ہو گا یہی وجہ ہے کہ محققین کے نزدیک ان رذائل کے ازالہ کی ضرورت نہیں امالہ کی ضرورت ہے یعنی صرف بدل دیا جائے محقق بزرگ نے اسی امالہ کے لئے یہ کوشش کی ہے کہ ان رذائل کو مضمحل کر دیا جائے کہ امالہ کے وقت مقاومت سہل ہو اور یہ بھی اکثر ہی ہے ورنہ اگر بالکل بھی سہولت نہ ہو تب بھی ضرر نہیں کیونکہ اصل مامور بہ تحصیل ہے اعمال کی اور تسہیل تبرع ہے اس باب میں میرا ایک وعظ ہے التحصیل و التسہیل یہ وعظ قابل دید ہے اس میں الحمد للہ اس مبحث کے متعلق قریب قریب سب ضروری ضروی باتیں بیان میں آ گئی ہیں یہ میں نہیں کہتا کہ اس میں کوئی نقص نہیں وہ ایک پکی ہوئی روٹی ہے ممکن ہے کہ کہیں سے جل بھی گئی ہو مگر انشاء اللہ تعالی زیادہ حصہ کارآمد ہے ۔

( ملفوظ 612) رسمیں اخلاق نہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اخلاق اور چیز ہے رسم اور چیز ہے بعض افعال رسمیہ کو سمجھتے ہیں کہ یہ اخلاق ہیں ۔

( ملفوظ 611) فہم کی ضرورت ہے صرف تعلیم کافی نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہر معاملہ میں فہم کی ضرورت ہے محض تعلیم کافی نہیں اگر یہ نہ ہو تو بڑی مشکل کا سامنا ہوتا ہے ۔ ایک شخص کا واقعہ ہے کہ میں نے اس سے کہا کہ تجھ میں بے فکری کا مرض زیادہ ہے اس لئے اکثر غلطیاں ہوتی ہیں اس کی تدبیر یہ ہے کہ جو کام کیا کرو سوچ کر کیا کرو اب سنئے ایک اسٹیشن پر پہنچے بیوی کو اور اسباب کو ریل میں سوار کرا دیا اور بھنے ہوئے چنے ایک پیسہ کے خریدنے کا ارادہ کیا ادھر تو ریل سیٹی دے رہی ہے چلنے کو تیار ہے اور آپ مراقبہ میں ہیں کہ یہ چنے ضرورت میں خرید رہا ہوں یا بلا ضرورت محض حظ نفس کے لئے ریل چھوٹ گئی اور پھر جو مصیبتیں پیش آئیں ان بزرگ کو بھی اور بیوی کو بھی ان کی داستان طویل ہے مجھ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا میں نے کہا اس کو بھی تو سوچنا چاہئے تھا کہ کہاں سوچنا چاہئے اور کہاں نہیں اور اگر سوچنا ہی ضرور تھا تو ریل میں بیٹھ کر مراقبہ کر لیا ہوتا اگر یہ معلوم ہوتا کہ ضرورت میں خریدنے ہیں تب تو کھا لیتے اور اگر یہ معلوم ہوتا کہ بلا ضرورت خریدنے ہیں تو بیوی کو یا کسی غریب کو دے دیتے خود نہ کھاتے تو نفس کا علاج اس صورت میں بھی تو ہو جاتا بد فہمی سے بھی اللہ بچائے جیسے ایک نوکر نے آقا کے سامنے گھوڑے کی لید پیش کر دی تھی آقا کی کوئی چیز راستہ میں گر گئی تھی نوکر نے نہیں اٹھائی تھی آقا نے تعلیم کیا تھا کہ جو چیز راستہ میں گرے اٹھا لو اور اس پر یہ عمل ہوا کیونکہ لید بھی تو راستہ میں گری تھی تعلیم بھی جب ہی کارآمد ہوتی ہے جب خداداد فہم ہو اس وقت تعلیم معین ہو جاتی ہے ۔

( ملفوظ 610) اہل مدرسہ کو توکل چاہئے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل مدارس امراء کے دروازوں پر جاتے ہیں یہ طرز نہایت ہی نا پسندیدہ ہے علماء کو اس سے اجتناب سخت ضروری ہے اس میں دین اور اہل دین سب کی تحقیر ہے خدا کی ذات پر بھروسہ ہونا چاہئے بقول ایک بزرگ کے جن سے میں نے اپنے مدرسہ کی بے سروسامانی کا ذکر کیا تھا انہوں نے فرمایا تھا کہ جس قدرت نے تمام عالم دنیا کو سنبھال رکھا ہے وہ آپ کی ذرا سی مدرسی کو نہ سنبھال سکے گی کیا کم ہمتی کا خیال ہے ۔
12 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ

(ملفوظ 609) ” وہابی ” کے لفظ سے برا ماننا

ایک سلسلہ گفتگو میں بریلی کے دو شخصوں کا مکالمہ بیان فرمایا کہ ایک بدعتی مولوی نے دوسرے خوش عقیدہ عالم سے کہا کہ وہابی کے نام سے کیوں برا مانتے ہو وہاب تو اللہ کا نام ہے انہوں نے جواب دیا کہ : ” من یکفر بالطاغوت ”
میں بت کے منکر کو کافر کہا ہے تو میں آپ کو کافر کہا کروں آپ بھی برا نہ مانیں اس لئے کہ قرآن میں اس کی مدح ہے ۔

( ملفوظ 608)معاصی سے نفرت کریں عاصی سے نہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر معاصی سے نفرت ہو اور عاصی سے نہ ہو یہ ہو سکتا ہے کیونکہ فعل سے نفرت واجب ہے اور فاعل کی ذات سے ممنوع اس کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے کہ ایک حسین نے اپنے منہ کو توے کی سیاہی مل لی ، یہاں حسن و قبح دونوں جمع ہیں تو اس وقت سیاہی سے تو نفرت ہو گی مگر حسین چہرہ سے نفرت نہ ہو گی ان باتوں کے حاصل ہونے کے لئے بڑی شرط صحبت ہے قیل و قال اور نری تحقیق مسائل سے کچھ نہیں ہوتا ۔

( ملفوظ 607) حضرت حاجی صاحب کا اصلی کمال اور کرامات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کوئی حضرت حاجی صاحب کی تمام کرامتوں کی نفی کرے ہم اس کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں اس لئے کہ حاجی صاحب کے اصلی کمال کے سامنے یہ کرامتیں ایسی ہیں جیسے بچپن کے زمانہ میں بچے مٹی کا گھر بنا کر اس کا نام محل رکھ لیتے ہیں اگر کسی بچہ کے پاس عالی شان محل بھی ہو تو اس مٹی کے محل کے بگڑ جانے سے اس بچہ کو اگر وہ سمجھ دار ہے کچھ بھی رنج نہ ہو گا جبکہ اصل محل موجود ہے ۔

( ملفوظ 606)مشائخ کے ذکر سے دل میں آگ پیدا ہو

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان حضرات کا ذکر کرنے سے میری حالت دگرگوں ہو جاتی ہے قلب کے اندر ایک آگ سی لگ جاتی ہے علماء کا ذکر کرنے میں ایسی حیات نہیں پیدا ہوتی جو مشائخ کے ذکر میں حیات پیدا ہوتی ہے گو عظمت علماء کی زیادہ ہے مگر وہ خاص کیفیت کہاں پھر ہم کو وہابی اور خشک اور بزرگوں کا مخالف بتاتے ہیں بڑے ہی ظالم ہیں ۔

( ملفوظ 605) حضرت گنگوہی کو حضرت حاجی صاحب کی طرف سے اجازت بیعت

اوپر ہی کے سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی کو اجازت دی تھی یوں بھی فرما دیا تھا کہ اگر کوئی بیعت ہونا چاہے تو انکار مت کرنا مولانا نے عرض کیا کہ میں بیعت کے قابل نہیں حضرت نے فرمایا کہ تم کیا جانو ہم جو کہتے ہیں وہ کرنا جب مولانا گنگوہ پہنچے گنگوہ میں ایک بی بی تھی انہوں نے حضرت گنگوہی سے بیعت کی درخواست کی حضرت نے بیعت فرمانے سے انکار کر دیا اتفاق سے حضرت صاحب بھی گنگوہ تشریف لے گئے ان بی بی نے حضرت سے بیعت نہ کرنے کی شکایت کی ، حضرت نے مولانا سے فرمایا کہ ان کو بیعت کیوں نہیں کر لیتے مولانا نے عرض کیا کہ اب تو حضرت خود تشریف رکھتے ہیں حضرت ہی بیعت فرما لیں فرمایا کہ یہ کیا ضرور ہے ایک شخص کو تم سے عقیدت ہے مجھ سے نہیں تم ہی کرو غرض یہ کہ حضرت نے ان بی بی کو اپنے سامنے مولانا سے بیعت کرایا یہاں ایک مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ مدار اس طریق میں مناسبت پر ہے سو اگر پیر سے مناسبت ہو اور پیر کے پیر سے مناسبت نہ ہو تو پیر ہی کی طرف توجہ کرے اس کے پیر کی طرف نہ کرے گو ادب اور تعظیم اس کی بھی ضروری ہے حضرت گنگوہی فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجلس میں حضرت جنید اور حضرت حاجی صاحب دونوں ہوں تو ہم جنید کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں وہ حضرت حاجی صاحب کے پیر ہوں گے ہمارا تعلق تو حضرت حاجی صاحب سے ہے افسوس پھر بھی ان حضرات کو وہابی اور خشک کہتے ہیں بڑا ظلم کرتے ہیں ۔