ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جھک مارتے ہیں جو اظہار حق کو بد اخلاقی کہتے ہیں امر حق کا ظاہر کرنا بد اخلاقی نہیں بلکہ اعلی درجہ کی خوش اخلاقی ہے البتہ اس کا عکس بد اخلاقی کہلائے گی ارشاد ہے ۔
لا یخافون فی اللہ لومۃ لائم
تو کیا بد اخلاقی پر مدح کی گئی ہے لوگوں نے آج کل جس طرح تواضع کے معنی گھڑ رکھے ہیں اسی طرح اخلاق کے معنی بھی گھڑ رکھے ہیں تواضع کے معنی تو پان حقہ پیش کرنے کے سمجھتے ہیں اور اخلاق کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کو کچھ نہ کہے ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتا رہے ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 2
( ملفوظ 593)حیا اور جھجک شرافت کی علامت ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل بے پردگی کی عام زہریلی ہوا چل گئی ہے قطعا جھجک نہیں رہی حیا شرم نہیں رہی اور جھینپ بڑی صفت ہے میری طالب علمی کے زمانہ میں ایک طالب علم نے دیوبند میں مجھ سے حکایت بیان کی تھی کہ مدارس میں ایک قاضی کا انتقال ہوا ان کے لڑکے نے عید کی نماز پڑھائی بلا جھجک اس پر ایک دانشمند شخص نے کہا کہ یہ صحیح النسب معلوم نہیں ہوتا تحقیق سے معلوم ہوا کہ بالکل صحیح ہے جھینپ تو شرافت کے لوازم سے ہے مگر آج کل یہ جھجک لڑکوں میں تو کیا لڑکیوں اور عورتوں میں بھی نہیں رہی ۔
( ملفوظ 592)انگریز اور ہندو دونوں نجس ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض کفار کی ایک جماعت کو برا کہتے ہیں اور بعض دوسری جماعت کو میں کہتا ہوں کہ دونوں برے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ ایک نجاست مرئیہ ہے ایک نجاست غیر مرئیہ اور ہیں دونوں نجاست ۔
( ملفوظ 591) حاکم دفتر اور دورہ میں فیصلہ کرنا برابر نہیں
میں نے ایک حاکم سے پوچھا تھا کہ آپ لوگوں کے دورے کے فیصلوں میں اور خاص مرکز کے فیصلوں میں کچھ فرق ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ بہت بڑا فرق ہے حلانکہ دونوں مجلس حکم ہیں اور جہاں ایک مجلس ہو ایک نہ ہو وہاں تو بہت ہی بڑا تفاوت ہے حتی کہ یہ مسئلہ ہے کہ قاضی مجلس قضا میں حکم کرے وہ نافذ ہے اور غیر مجلس قضا میں حکم دے وہ نافذ نہیں ۔
( ملفوظ 590)اہل یورپ کا دماغ مادیات میں چلتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل یورپ کو لوگ بڑا عاقل سمجھتے ہیں بالکل غلط ہے مادیات میں تو بے شک دماغ کام کرتا بھی ہے باقی علوم سے بالکل بھی مناسبت نہیں ۔
( ملفوظ 589) امور کے متعلق بے احتیاطی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اموال کے متعلق احتیاط لوگوں میں بہت ہی کم رہ گئی ہے خصوص اہل مدارس میں ان کو مختلف مالیات سے سابقہ بھی زیادہ پڑتا ہے اس لئے یہ بہت کم احتیاط کرتے ہیں حضرت عمر فاروق کی بی بی کے لئے ہرقل کی بی بی نے ایک موتی نہایت قیمتی بھیجا حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ اگر یہ امیر المؤمنین کی بی بی نہ ہوتیں تب کہاں ملتا بیت المال میں داخل کر دیا ۔
( ملفوظ 588) بازار میں کھانے والے کی شہادت کیوں مقبول نہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بازار میں کھانے والے کی شہادت اس وجہ سے معتبر نہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں وقار نہیں سو احتمال ہو گیا کہ جھوٹ بولنے سے جو وقار کم ہو جاتا ہے شاید یہ اس کی بھی پرواہ نہ کرے ۔
( ملفوظ 587)مشتبہ کھانوں سے بزرگوں کی احتیاط
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں نے مال سے بچنے کا بھی بڑا اہتمام کیا ہے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کی ایک شخص نے دعوت کی کھانا مشتبہ تھا آپ نے اس کی دلجوئی کے لئے کھا تو لیا مگر گھر پر آ کر قے کر کے نکال دیا ۔ اس میں ایک طالب علمانہ شبہ ہو سکتا ہے وہ یہ کہ تناول کا ارتکاب تو ہی چکا تھا جو مذموم ہے پھر ایسا کرنے سے کیا نفع ہوا جواب یہ ہے کہ ایک تو فعل ہے یعنی کھانا وہ تو بے شک واقع ہو چکا مگر دوسری چیز ہے جزو بدن بننا جزو بدن بننے سے جو ظلمت ہوتی اس سے بچاؤ کیا جیسا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بے خبری میں اجرت کہانت کا دودھ پی لیا تھا جس پر کوئی مواخذہ نہ تھا مگر پھر بھی خبر ہونے کے بعد قے کر دی اس کا بھی یہی نفع تھا حدیث :
کل لحم نبت من السحت فالنار اولی بہ
میں اس طرف اشارہ بھی ہو سکتا ہے باقی رہا شبہ مشتبہ کھانے کا تو وہ فتوی سے حرام نہ تھا دل جوئی کی مصلحت اور اس میں بھی کراہت پر راجح تھی یہاں جزو بدن بننے کی ایک ضروری تنبیہ ہے کہ اگر حرام کا تناول بقصد نہ ہو تو محض جزو بدن بن جانا موجب نار نہیں پھر اشارہ کی حقیقت یہ ہو گی کہ گو یہ خود معصیت نہ ہو گی مگر اس سے اب مادہ پیدا ہو گا کہ وہ معصیت کی طرف داعی ہو گا سو اگر کوئی مقاوم قوی نہ ہوا تو بواسطہ صدور احتیاری کے نار کے لئے موجب ہو جائے گا ۔
( ملفوظ 586)عید الاضحی کی نماز میں تعجیل سنت ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عید الفطر کی نماز ذرا دیر سے اور عید الاضحی کی نماز اس سے سویرے ہونے میں حکمت یہ ہے کہ اس میں صدقۃ الفطر کی تقسیم کی رعایت رکھی ہے اس لئے اس میں گنجائش وقت کی رکھی اور اس میں قربانی کی رعایت کی ہے کہ تعجیل مستحب ہے ۔
( ملفوظ 585)کیر بنیاد کدام مذہب است
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک گستاخ ہندو نے فارسی میں ایک کتاب منظوم لکھی ہے اس میں فتنہ پر اعتراض کیا ہے کہ یہ مسلمانوں کے شعار سے ہے تو گویا ان کے مذاہب کی اس پر بنیاد ہے اور بدتہذیبی سے یہ مصرع لکھا ہے ” یقینم شد کہ بر کیر است بنیاد مسلمانی ” ایک صاحب نے نظم ہی میں اس کی کتاب کا جواب لکھا ہے چنانچہ اس تمسخر کا یہ جواب دیا ہے کہ کوئی اپنی بنیاد کو قطع نہیں کیا کرتا بنیاد تو اس پر تمہارے مذہب کی ہوئی کہ اس کو باقی رکھتے ہو نہایت لطیف جواب ہے وہ شعر مجھ کو یاد نہیں رہا مضمون یاد رہ گیا ۔

You must be logged in to post a comment.