(ملفوظ 320)عورتوں کی عدم احتیاط پراظہار افسوس

ایک صاحب نے اپنی عزیزہ کے جل جانے کی اطلاع حضرت والا کوکی حضرت والا نے سن کرافسوس آمیز لہجہ میں ان کوتسلی کی اور دعاء عافیت فرمائی اور فرمایا کہ یہ خرابیاں اس کی ہیں کہ عورتوں میں احتیاط بالکل نہیں ہوتی ۔ پانی پت میں ایک لڑکی اسی بداحتیاطی کی بدولت جل کر حتم ہوگئی فرمایا کہ میں نے تو آج تک آگ سے سینکا تک نہیں اگرزیادہ سردی معلوم ہوئی کپڑے زیادہ پہن لئے یہ سینکنا بھی خطرہ سے خالی نہیں اور یہ عورتیں تو ایسا غضب کرتی ہیں کہ انگیٹھی میں آگ بھرکرچار پائی کے نیچے رکھ لیتی ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بان لٹکا ہوا ہے اس ذریعہ سے آگ چار پائی تک پہنچ گئی یا زیادہ تپ جانے سے خود آگ گئی بڑے ہی خطرہ کی بات ہے آدمی کو اپنی طرف سے تو احتیاط کرناچاہے باوجود احتیاط کے اگر پھر بھی کوئی حادثہ پیش آجائے تو مجبوری ہے ارمان تونہ ہوگا اور اپنی بد احتیاطی کی وجہ سے جو حادثہ آتا ہے اس میں ارمان ہوتا ہے کہ اگرایسا کرتے تو محفوظ رہ سکتے ۔
16 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہارم شنبہ

(ملفوظ 319) حکایات حلم مامون الرشید :

ایک چھوٹی بچی کی ذہانت کا ذکر فرماتے تھے فرمایا کہ جی چاہتا ہے کہ ایسی لڑکیوں کو عالم بنایا جائے خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت پہلے بھی عورتیں اہل علم گذری ہیں فرمایا کہ بڑی بڑی عالم گذری ہیں اکثر کو مردوں کے برابر تفقہ حاصل نہیں ہوتا کچھ کمی سی رہتی ہے مگر گذری ہیں اہل علم ، احقر جامع نے عرض کیا کہ ایک عورت نے پنجاب میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا ۔ فرمایا کہ پہلے بھی ایسی عورتیں گذری ہیں مامون رشید کے زمانہ میں ایک عورت نے نبوت کا دعوٰی کیا تھا اس سے کہا گیا کہ حضوﷺ فرماتے ہیں لانبی بعدی اس نے جواب دیا لانبی بعدی ہی تو فرماتے ہیں لا نبیۃ بعدی تو نہیں فرمایا میں نبی تھوڑا ہی ہوں میں تو نبیہ ہوں ۔ شرارت ہے کچھ بھی نہیں ۔
اسی طرح مامون رشید ہی کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا عویٰ کیا مامون رشید نے بلاکر پوچھا کہ نبی ہونے کا دعوٰی تو کیا ہے مگر یہ بتاؤ کہ کون سے نبی ہوکہا کہ موسیٰ ۔ مامون رشید نے کہا کہ انہوں نے تو عصاء کا معجزہ دکھایا تھا تم بھی دکھاؤ اس نے جواب دیا کہ فرعون کے مقابلہ میں ایسا ہوا تھا اس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا آپ نے معجزہ دکھایا اگر تم بھی خدائی کا دعوٰی کرو تو میں بھی معجزہ دکھاؤں لوگ بڑے ہی شریر ہوتے ہیں بعد میں مامون رشید کو معلوم ہوا کہ حاجت مند ہے اس کی حاجت پوری کرکے اس سے توبہ کرادی ۔ فرمایا کہ مامون رشید کو معلوم ہوا کہ حاجت مند ہے اس کی حاجت پوری کرکے اس سے توبہ کرادی ۔ فرمایا کہ مامون رشید کے مخاطبت میں لوگوں میں آزادی بہت تھی باوجود اس کے کہ نہایت جاہ جلال کا بادشاہ تھا مگر تھا نہایت حلیم ۔ اسی وجہ سے لوگ ایسی بے باکیان کرتے تھے اور مامون رشید ہی کا ایک اور قصہ ہے : ایک شخص اس کے پاس آیا اور سوال کیا کہ میں حج کوجارہا ہوں خرچ کی ضرورت ہے ، مامون رشید نے کہا کہ اگر تمہارے پاس ہے تو مانگتے کیوں ہواور اگر نہیں ہے تو حج ہی فرض نہیں ، پھرسوال کیوں کرتے ہوں ، اس نے جواب دیا کہ میں آپ کے پاس جوآیا ہوں بادشاہ سمجھ کر ہی آیا ہوں مفتی سمجھ کر نہیں آیا اس کام کے لئے شہرمیں علماء اور مفتی موجود ہیں اگر فتوے کی مجھ کو ضرورت ہوگی تو ان سے استفتاء کروں گا آپ زیادہ فتوے نہ بگھاریئے ، یہ مفتی نہیں اگر خرچ دینا ہے دیجئے ورنہ صاف انکار کردیجئے اس پر مامون رشید ہنس پڑا اور کافی خرچ حج کے لئے دیا ۔
فرمایا کہ مامون رشید کی حلم کی یہ حالت تھی کہ غلام تک د با لیتے تھے مگر افسوس کہ تھا معتزلی نے بہکا بہکا کر اس کو خراب کیا تھا اس قسم کے علماء ہرزمانہ میں ہوئے ہیں خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ معتزلیوں کا عقیدہ کیا ہے فرمایا ایسا ہی عقیدہ ہے جیسے آج کل کے نیچریوں کا عقیدہ ہے کہ جو بات عقل میں آگئی اس کومان لیا جو نہ آئی انکار کردیا یہ انگریزی کے نیچری ہیں اور معتزلی عربی کے نیچری تھے جیسے آج کل بھی بعضے عربی کے نیچری پید اہوئے ہیں ۔ پہلے معتزلی اپنے کو معتزلی نہ کہتے تھے اس لئے کہ یہ اہل حق علماء کا بطریق خدمت کے خطاب دیا ہوا ہے اس لیے معتزلی پہلے اپنے کو اہل عدل اور اہل توحید کہتے تھے یہ معتزلی لقب ایسا ہے جیسے رافضی مگر کوئی رافضی اپنے کو رافضی نہیں کہتا نہ لکھتا ہے ۔ مگر ایک نیچری کی کتا ب پرمیں نے لکھا دیکھا ہے کہ اپنے نام کے ساتھ معتزلی لکھا تھا اس نے یہ لکھ کر اپنی بے وقوفی اور حماقت کا اظہار کیا ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ہارون رشید بادشاہ کی حالت کیا تھی فرمایا کہ وہ دیندار شخص تھا اس کی ایسی حالت نہ تھی ۔

(ملفوظ 318) مرمت مسجد سے بقیہ رقم واپس کرنے پراظہار مسرت :

فرمایا کہ ایک بات کہنا چاہتا تھا کہ اس میں سبق ہے مگر بھول بھول جاتا تھا وہ یہ ہے کہ یہاں پرایک محلہ ہے اس میں جولا ہے آباد ہیں اور بچپن میں ہم لوگ بھی اس میں رہ چکے ہیں غریب لوگ ہیں بے چاروں کو ہم سے محبت ہے بچپن کے زمانہ میں ہم ان کے گھروں میں اکثر جاتے تھے وہ محبت اب تک چلی جاتی ہے اس محلہ میں ایک مسجد ہے اس مسجد میں کچھ مرمت کی ضرورت تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کبھی ایسی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ مجھکو اطلاع کردیتے ہیں ۔ میں بقدر گنجائش امداد کردیتا ہوں لہذا اب کی مرتبہ بھی اس مسجد کے مہتمم نے کہ جو وہ بھی جولاہہ ہیں بزریعہ پرچہ اطلاع دی کہ دس (10) روپیہ ضرورت ہے میں نے آٹھ روپیہ بھیجے اوراس پرچہ پریہ بھی لکھ دیا کہ بقیہ کا کوئی اور انتظام کرلو اس نے اس سات روپیہ رکھ لئے اورایک روپیہ واپس کردیا کہ اس وقت سات ہی روپیہ کی ضرورت تھی بقیہ کا انتظام ہوگیا مجھ کو بڑی حیرت ہوئی اس لئے کہ آج کل مدارس اور انجمنوں میں بھی اس کا خیال جواس غریب کو ہوا باوجود اس کے کہ وہاں پرمنتظمین اور مہتمم اہل علم اورعلماء ہوتے ہیں مگر پھربھی ان مدارس اور انجمنوں میں یہ ہوتا ہے کہ جوآگیا سب داخل خزانہ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا ، اگر یہ رقم کسی مدرسہ یا انجمن میں جاتی تو قیامت تک بھی واپس نہ ہوتی ۔ اب اس شخص کی اس خوش فہمی سے اس قدر اطمینان ہوگیا کہ کبھی اس طرف سے خلاف واقع کوئی بات نہ کہی جاوے گی اورنہ بلاضرورت رقم لی جائےگی کیسی پیاری بات ہے ایک جاہل بے لکھے پڑھے نے لکھوں پڑھوں کی آنکھیں نیچی کردیں اس لئے کہ یہ باتیں تو آج کل اکثر علماء میں بھی نہیں میرا تو اس بات سے بے حد جی خوش ہوا اگر مسلمان ان باتوں کا خیال رکھیں تو کوئی بھی کا ر خیربند نہ ہو ۔

(مفلوظ 317 )فضول گوئی سے قلب پربار:

ایک صاحب کی فضول گوئی پرمتنبہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ آپ زیادہ نہ بولا کریں اور ایک تجویزیں زیادہ نہ کیا کریں اور تجویز تو بڑی چیز ہے میں تو کسی کو مشورہ بھی دینا نہیں چاہتا خواہ مخواہ دوسرے پربارہورائے میں کیا ہے لاؤ میں ہزاروں رائے بیان کردوں مثلا رائے تو میری یہ ہے کہ مجھ کو سلطنت مل جائے پھرتمام انتظامات شریعت کے موافق کروں مگر کہیں توقع بھی ہے مل جانے کی ۔ فضول باتوں سے قلب پربارہوتا ہے ایسی باتوں سے آپ کو اجتناب رکھنا چاہئے ۔
16 شوال المکرم 1350 ھ بوقت صبح 8بجے یوم چہارم شنبہ

(ملفوظ 316)عوام کے عقائد میں غلو :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اجکل عاملین کی بدولت عوام کے عقائد بہت ہی خراب اور برباد ہوگئے خصوص تعویز کے متعلق تو بہت ہی غلو ہوگیا ہے جس سے دین کا غلو معلوم ہوتا ہے ایک پہلوان نے بمبئی سے خط لکھا تھا کہ کشتی کے لیے ایک تعویذ دیدو تاکہ میں غالب رہا کروں میں نے لکھا کہ اگر دوسرا بھی ایسا ہی تعویذ لکوالائے پھر تعویذوں میں کشتی ہوگی اگر عوام کے عقائد کی یہی حالت رہی تو غالبا چند روز میں لوگوں کے ذہن میں نکاح کی بھی ضرورت نہ رہے گی اس لئے نکاح میں تو بکھیڑا ہے وقت صرف ہوتا ہے قسم قسم کی سعی اور کوشش میں تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں مال صرف ہوتا ہے پھر آنے والی کا نان ونفقہ غرض بڑے بکھیڑے ہیں یہ درخواست کیا کریں گے کہ ایسا تعویذ دیدو کہ بدوں عورت کے اولاد ہوجایا کرے کرے بھلا کس طرح اولاد ہوجایا کرے گی آدم علیہ السلام کی تو پسلی سے حضرت حوا پیدا ہوگئی مگر پھر ایسا نہیں ہوا یہ اب بھی چاہتے ہیں کہ خلاف معمول اولاد پیدا ہوجایا کرے ۔ اگرمیں تعویذ پرپانچ روپیہ مقررکردوں تو پھر کوئی ایک بھی تعویذ نہ مانگے ۔ غرض تعویذ کے متعلق عقیدے اچھے نہیں ۔

(ملفوظ 315 )لوگ رنج دے کرجاتے ہیں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ لوگ یہاں سے رنجیدہ ہوکر جاتے ہیں میں نے کہا یہ کیوں نہیں کہا کہ رنجن دے کرجاتے ہیں، گالیاں میں نہیں دیتا ، مارتا میں نہیں ، لیتا میں کچھ نہیں ، مجھ کو ستاتے ہیں ، ظلم کرتے ہیں کہ تعجب ہے کہ ظلم تو ظلم نہ ہواور اظہار مظلومیت ظلم ہو حق تعالیٰ فرماتے ہیں : لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم وکان اللہ سمیعا علیما ۔ ( اللہ تعالٰی بری بات زبان پرلانے کو پسند نہیں کرتے بجزمظلوم کے ۔ اور اللہ تعالٰی خوب سنتے ہیں خوب جانتے ہیں ) اس شکایت کے معنی تو یہ یوئے کہ سب کا غلام بن جائے وہ کچھ کریں کچھ نہ کہا جائے تو اصلاح کی بھرکیا صورت ہواور آنے ہی سے کیا حاصل ہوا ۔

(ملفوظ 314) احکام طریق بالکل مفقود ہوگئے

ایک صاحب کی غلطی پرتنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ پہلے بذریعہ خط آنے کے متعلق دریافت کرلیں تاکہ میں طے کرسکوں کہ کس لئے آئے ہو تاکہ بعد میں کسی قسم کی بے لطفی بے مزگی نہ ہو یہاں آکر گڑبڑ کرتے ہیں سمجھانے پربھی نہیں سمجھتے اس پر مجھ کو تغیر ہوتا ہے اور جب میں متنبہ کرتا ہوں تو مخاطب کو تکلیف ہوتی ہے پھر شکایت کرتے ہیں افسوس ! اس زمانہ میں طریق کے احکام بالکل مسدود بلکہ مفقود ہوگئے آکروہ احکام کانوں میں پڑتے ہیں لیے وحشت ہوتی ہے اور مجھے متشدد کہتے ہیں حالانکہ میں اتنی رعایتیں اور سہولتیں کرتا ہوں کہ حقیقت شنا سوں کو اس کی ضد کا شبہ ہوجاتا ہے چنانچہ خورجہ میں ایک بزرگ ولائتی ہیں میں ان سے ملا بھی ہوں میرے متعلق ان کی یہ رائے ہے کہ ساری باتیں اچھی ہیں مگر مزاج میں مداہنت ( ڈھیلا پن ) ہے سو یہ شبہ توکسی درجہ میں ہو بھی سکتا ہے مگرلوگوں کی رائے میں طریق کا تھوڑا سا بھی حق ادا کرنا تشدد ہے اور میں تو اس طریق کا کیا حق ادا کرتا ذرا شیخ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ کا رسالہ آداب الشیخ والمرید دیکھنا چاہئے کہ کیا کچھ لکھا ہے میرے یہاں تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو انہوں نے مرید اورشیخ کے اداب اور طرز تعلیم کو لکھا ہے اور یہ راہ تو عشاق کے لیے ہے جس کی اول شرط وہ ہے جس کو فرماتے ہیں
دررہ منزل لیلے کہ خطرہا ست بجاں ٭ شرط اول قدم آنست کہ مجنون باشی
( لیلی کے وصال کے راہ میں جان کو نہت خطرات ہیں ۔ مگر اول شرط یہ ہے کہ مجنون بنو 12۔) ہر مطلوب کے لیے شرائط ہونے پرایک حکایت یاد آگئی ایک خان صاحب کسی درویش کے پاس کیمیا سیکھنے گئے اور ان کو بہت پریشان کیا آخر انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے کہا کہ مولوی غوث علی شاہ صاحب جانتے ہیں اس خیال کے کہ مولوی صاحب ذہین ہیں خان صاحب کا ان کے یہاں علاج جائے گا خان صاحب نے وہاں جاکر کہا کہ کیمیا بتلا دو فرمایا نہیں بتلاتے کوئی تمہارے باوا کے نوکر ہیں کیا کیمیایوں ہی بتلادی جاتی ہے ۔ خدمتیں کرو بھی کبھی مزاج درست ہوگا بتلادین گے خان صاحب ڈھیلے ہوئے شام کو گھا نس پات ابال کرخان صاحب کے سامنے رکھوا دیا کہ کھائیے کہا کہ منہ میں چلتا نہیں شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر اسی برتے پرچلے تھے کیمیا سیکھنے ابھی تو اسکی یہ منزل ہے کسی نے خوب کہا ہے
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ٭ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
خاں صاحب کہتے ہیں کہ اگر کیمیائی اس طرح حاصل ہوتی ہے تولعنت ہے ایسی کیمیا پر
شاہ صاحب نے فرمایا کہ بے شک قابل لعنت تو ہے ہی حضرت کیمیا کیسی ادنی درجہ کی سی چیز ہے مگر بڑے بڑے شان والے لگونٹ بندوں کے پیچھے پھرتے ہیں اور وہ منہ بھی نہیں لگاتے جس کو وجہ یہ ہے اہل کمال میں ایک استغناء ہوتا ہے وقارالامراء زیارت کرنے کے لیے حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں گئے تھے مولانا نے ان کے نکلوادینے کا حکم دیا کہ نکالو صاحب زادے نے کہا کہ وزیرہیں فرمایا کہ ہوگا وزیرہمیں ان سے کیا کچھ لینا ہے بہت سفارش کے بعد دیکھا ہے کہ بڑے بڑے رئیسوں کو جھڑک دیتے تھے اور وہ خاموش بھیگی بلی کی طرح سرجھکانے سنتے رہتے تھے محض اپنی غرض سے کہ صحبت جسمانی کے لیے جاتے تھے اور جہاں صحت نفس کے لیے جاتے ہیں وہاں انقیاد اور فنا کی کیسی حالت ہونا چاہئے ظاہرہے ۔

(ملفوظ 313)طلب صادق کی شان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کام کرنے والوں کی اور طلب صادق کی شان ہی جدا ہوتی ہے ایک سلطنت کے وزیر ایک بزرگ سے ملنے گئے بزرگ نے بادشاہ کا مزاج دریافت کیا وزیر نے عرض کیا کہ حضور بادشاہ کا مزاج تحقیق کرتے کرتے تو ساری عمر گذرگی میں تو یہاں اپنا مزاج معلوم کرنے آیا بزرگ نے فرمایا کہ میں نے تو تمہاری دل جوئی کی غرض سے پوچھ لیا تھا ۔ دیکھئے وزیر میں طلب صادق تھی کیسی کام کی بات کی ، بعض لوگ زمانہ طاعون میں خطوط سے پوچھتے ہیں کہ طاعون وہاں تو نہیں میں یہ شعرلکھ دیتا ہوں
ماقصہ سکندر و دارا نخواند ایم ٭ از ما بجز حکایت مہر و وفا مپرس
( ہم نے سکندرودار کے قصے نہیں پڑھے پڑھے ہم سے محبت کی باتوں کے سوااور کچھ مت پوچھو ۔ 12) ان فضولیات میں لوگ مبتلا ہیں جو وقت کا صائع کرنا ہے دیکھئے اگر کوئی شخص طبیب کے پاس جاکر بجائے نسخہ لکھوانے کے طبیب سے پوچھے کہ تمہارے کس قدر اولاد ہے کس قدر جائیداد ہے کس قدر آمدنی ہے یہ فضولیات ہیں یا نہیں کیوں اپنا اور اس کا ضائع جس غرض سے اور مقصود لے کر طبیب کے پاس گیا ہے اس کے متعلق پوچھ گن کرنا چاہئے حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ دیوبندی میرے استاد ہیں قبلہ ہیں کعبہ ہیں مگر مجھے اج تک معلوم نہیں کہ مولانا کے کس قدر اولاد ہیں نہ ہمارے بزرگوں کا یہ طرق ہے ۔

(ملفوظ 312)کام شروع کرکے چھوڑنا بے برکتی کا سبب ہے۔

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں طلبہ کو ذکر وشغل نہیں بتلاتا اس لئے کہ تجربہ ہے کہ ایک وقت میں دو کام نہیں سوسکتے تو شروع کرکے چھوڑنا پڑے گا شروع کرکے چھوڑنا یہ نہایت بے برکتی کا سبب ہے بخاری کی حدیث اسکی دلیل ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ِ،، یا عبداللہ لا تکن مثل فلاں کان یصلی باللیل ثم ترکہ ِ،، ( اے عبداللہ اس شخص کی طرح نہ ہونا جورات کو نماز پڑھا کرتا تھا اس کو چھوڑدیا ۔ 12) اور جونہ بھی چھوڑا تواس میں کمی ہوگی جو اہم ہے اور سلف کے مجمع پر قیاس نہ کیا جاوے اس وقت ویسی قوت نہیں ہے البتہ علم سے فارغ ہوکر ذکر وشغل کرے اور ایسے وقت شروع کرے کہ پھر کرتا ہی رہے چھوڑے نہیں کہ بے برکتی سے محفوظ رہے ۔

ملفوظ (311)بے فکری کا نتیجہ :

ایک نو وارد مولوی صاحب نے سوال کیا کہ حضرت نماز عید میں اگر واجب ترک ہوجائے اتنا ہی کہنے پائے تھے حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ میں نے پہنچانا نہیں کون صاحب ہیں عرض کیا کہ فلان ہون اور صبح حاضر ہوا ہوں فرمایا کہ مجھے مسائل جزئیہ یا د نہیں ہیں میں خود اپنی ضرورت کے وقت دوسرے علماء سے پوچھ پوچھ کرعمل کرتا ہوں دوسرے یہ کہ فقہ کے مسائل کی تحقیق کی جگہ نہیں یہ ایک مستقل کام ہے الحمداللہ دیوبند اور سہارنپور میں بڑے پیمانہ پر ہورہاہے اور کیا آپ کے آنے کا مقصد ان مسائل کی تحقیق ہے عرض کیا کہ ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا ہوں فرمایا پھر یہ زیادتی کیوں کی ہرشے کا محل اور موقع ہوتا ہے اور میں اپنی حالت سے آپ مطلع کئے دیتا ہوں کبھی آپ دھوکے میں رہیں وہ یہ کہ میں ایک طالب علم ہوں ادھورا سا جو کچھ پہلے ٹوٹا پھوٹا پڑھا تھا آپ وہ بھی بھول بھال گیا اور اس کام کے کرنے والے ماشاء اللہ بہت ہیں پھر یہ کہ کیا سارے مقاصد کی مشق کے لیے میں ہوں اس کی بلکل ایسی مثال ہے کہ آپ لوہا ر کے پاس جاکر کہیں پازیب اور چھاگل بنادے وہ کہے گا کہ میں اس خدمت سے قاصر ہوں معذور ہوں ہاں ! کھرپہ پھاوڑا کوئی چاہے توکوٹ چھیت پیٹ کرہاتھ دوں ۔
اسی طرح مسائل فقہیہ کی تحقیق میرا کام نہیں جہاں یہ کام ہوتا ہو وہاں جاؤ اگر خاموش بیٹھنے کی برداشت نہیں ہوسکتی تو خود بیٹھنے ہی کی کیا ضرورت ہے بس ہیٹھے بیٹھے جوش اٹھتا ہے کہ لاؤ بے کار بیٹھے مسائل ہی پوچھ لیں بے کار سے تواچھا ہے آپ نے مجلس کی یہ قدر کی ۔ میں پوچھتا ہوں کہ دیوانی کے حاکم کے یہاں کوئی فوجداری کا مقدمہ لیجائے بے جوڑ بات ہے یا نہیں خدا معلوم لوگوں کا فہم کہاں گیا اور فہم تو بدنام ہے اصل چیز وہی بے فکری ہے اگر فکر ہوتی تو پہلے مجھ سے دریافت کرلیتے کہ میں فلاں شخص ہوں صبح آیا ہوں مجھ کو ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے اجازت چاہتا ہوں مگر کچھ نہیں جو جی آیا کہنا شروع کردیا کوئی اصول ہی نہیں بولنے کے موقع پرخاموش اور خاموشی کے موقعہ پر بولنا ۔
اب میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں آپ کو بولنے کا بڑا شوق ہے اب دیکھتا ہوں کیسے بولنے والے ہیں وہ پوچھنے کی بات یہ بات ہے کہ اگر میں کام سے فارغ ہوتا جو میں نے اپنے ذمہ لیا ہے تو کیا پڑھنے پڑھانے کا مشغلہ نہ رکھتا جب یہ مشغلہ نہیں تو سمجھ لیجئے کہ میں فارغ نہیں پھر مشغول آدمی کو دوسرے شغل میں لگانا کیا بے موقع نہیں اس کا جواب دیجئے اس پروہ خاموش رہے ۔ فرمایا جواب دیجئے آپ کو تو بولنے بلانے کا مشغلہ پسند ہے اب وہ بسندیدگی کہاں گئی ۔
افسوس ہے کیوں آپ لوگ آکر خود بھی پریشان ہوتے ہیں اور مجھ کو بھی پریشان کرتے ہیں میں اپنے اس طرز کے متعلق آپ سے کیا عرض کروں مگر کچھ عرض کرتا ہوں پہلے جس زمانے میں سفر کرتا تھا اس وقت کی خدمت میں اور جب سے سفر بند ہوا ہے اس وقت کی خدمت میں زمین آسمان کا فرق ہے الحمداللہ جب سے نکما ہوکر پڑگیا ہوں اور اکثر اصلاح کے باب میں لوگوں سے لڑائی بھڑائی رہتی ہے میں تو کھلی آنکھوں مشاہدہ کرتا ہوں کہ لوگوں کو بے حد نفع ہے اس لئے میں خیر خواہی سے آپ سے کہتا ہوں کہ مجلس میں خاموش بیٹھے رہا کیجئے اس کا نفع اس وقت آپ کو محسوس نہ ہوگا مگر یہاں سے جانے کے بعد آپ محسوس کریں گے تب اس بولنے پرخاموشی کو ترجیح دیں گے ۔ ایک اور ضرورت بات عرض کرتا ہوں کہ اگر یہاں قیام طویل ہوتب تو تعلیم کی درخواست کا مضائقہ نہیں اور اگر قیصر ہوتو صرف ملاقات اور مجلس میں بیٹھنے پر اکتفا کرنا چاہئے یہ ضروری اصول ہیں مگر آپ کو یہ اصول معلوم نہ تھے تویہ کیا مشکل ہے کہ آپ مجھ سے دریافت کر لیتے مگر نہیں دریافت کیا اس بے فکری کو خدا غارت کرے باستثناء قلیل قریب سب ہی کو اس بلاء میں ابتلاء ہے یا تو اس طریق کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے اوراگر اس طرف متوجہ ہوئے بھی تو یہ نور برسایا خوب کہا ہے
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی ٭ تلافی کی بھی ظلم نے تو کیا کی حضرت یہ راہ بڑی ہی نازک ہے قدم قدم پرغور اور فکر کی ضرورت ہے اس کی نزاکت پرایک حکایت یاد آئی ایک مرید کو جو شیخ کی خدمت میں رہتے تھے وسوسہ ہوا کہ دنیا میں بڑے بڑے مشائخ ہیں اوروں کو بھی چل کردیکھنا چاہئے شاید وہاں نفع زیادہ ہو۔ شیخ کو اطلاع ہوگئی قرائن سے یا کشف سے کہ مرید کو دوسری طرف میلان ہے کہ دنیا میں دوسرے مشائخ بھی ہیں مگر شیخ نے ظاہر نہیں فرمایا اور اس خاص لطیف عنوان سے فرمایا کہ بھائی بزرگوں نے سیاحت بھی کی ہے فامشوا فی مناکبھا ( سوتم اس کے رستوں میں چلو 12) کے اقتضاء سے سنت بھی اگر جی چاہے تم بھی سیاحت کر آؤ یہ مرید بہت خوش ہوا کہ میرانام بھی نہ ہوا اور کام بھی ہوگیا ۔ سیاحت میں چلا جاکر دیکھا کہ سب جگہ اندھیرا ہے مطلب یہ کہ اسے کچھ نظر نہیں آیا یہ ضروری نہیں کہ دوسری جگہ واقع میں بھی کچھ نہ تھا مگر حصوصیت استعداد سے مناسبت کے موقع کا اثر قلب پراس کا مصداق ہوتا ہے ۔
آفا قہا گردیدہ ام مہر بتاں و رزیدہ ام ٭ بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیز ے دیگری
( تمام جہاں چھان ڈالے بہت مجبوبوں سے محبت کرکے آزمایا ، ہزاروں حسینوں کو دیکھا لیکن تم تو کچھ چیز ہی اور ہو ، جس کا بیان مین لانا ہی مشکل ہے )
شیخ کی خدمت میں واپس آگئے دیکھ کرفرمایا کہ ہو آئے جی بھرگیا ، ارمان نکل گیا اب تو گھٹنے توڑ کر بیٹھو گے تب مرید کو معلوم ہوا کہ شیخ کو میرے خیال پراطلاع ہے دیکھئے کیسا سخت مریض تھا کیسا نازک علاج کیا ۔