ایک مولوی صاحب کے سوال کے جوا ب میں تحریر فرمایا کہ یہ سوال آپ کا بے محل ہے ایسے سوالات سے مخاطب کو تنگی ہوتی ہے اور دوسروں کے اقوال کا کیا میں ذمہ دار ہوں کیا ان کا قول کس مجتہد کا قول ہے جس کا اتباع ضروری یا واجب ہو اس لئے اس وقت اس کا نقل کرنا عبث ہے اور آداب مناظرہ تو امور طبعیہ ہیں طبیعت خود بخود بتلاتی ہے تو دوسروں کا قول جو مخاطب کے مسلمات سے نہ ہو خود آداب مناظرہ کے خلاف ہے۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 329)زمانہ تحریکات میں حضرات حکیم الامت کے پیچھے نماز نہ ہونے کا فتوٰٰی
ایک سلسلہ گفتگو فرمایا کہ تحریکات کے زمانہ میں تو بعض علماء نے میرے متعلق یہ فتویٰ دیا کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں میں نے کہا کہ مجھ کو نماز پڑھانے کا ایسا شوق بھی نہیں ایک قریب کے قصبہ میں ایک مولوی صاحب نے بیان کیا تھا کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں جب میں نے سنا کہ میرے پیچھے نماز کو ناجائز کہتے ہیں تو میں نے ایک مضمون بصورت اسفتاء لکھ کرمولوی شبیر علی کو آس پاس کے مشاہیرے علماء کے پاس بھیجا ان میں وہ بزرگ بھی تھے انہوں نے جاکر وہ پرچہ دیا کہ اس کے متعلق جوشرعی حکم ہولکھ دیجئے دیکھ کرکہا کہ کون کہتا ہے کہ ان کے پیچھے نماز جائز نہیں کہنے لگے ( خلافت کے متعلق مسئلہ ) اختلافی اوراجتہادی مسئلہ ہے اس میں غلونہ کرنا چاہئے یا تو عدم جواز اقتدا کو بیان کیا تھا اور پوچھنے پریہ فرمایا کہ حالت تدین کی ہے اس کے بعد پھر تواسقدر نرم ہوئے کہ ہدیہ بھیجنے لگے اور بقیہ علماء نے اسی کے قریب لکھا ۔
(ملفوظ 328)ایک مناظر مولوی صاحب کے لئے ذوق طریق کی تمنا:
ایک مناظرمولوی صاحب کا ذکرتھا فرمایا کہ بڑے ہی تیز ہیں ایسے لوگوں کے لئے جی چاہتا ہے کہ کچھ ذوق طریق کا بھی ہوجائے تو نور علی نور ہوجائے ۔
(ملفوظ 327)بہشتی زیور پراعتراضات کا منشاء معاصرت ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو حق نا حق کو دیکھا ہی نہیں جاتا بس یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لکھا کس نے بیان کیا کس نے بس پھراگرلکھنے والا کہنے والا ان کے مزاق کے خلاف ہوا تو چاہے اس کا قول ہی ہو مگر اس کے رد کی فکر میں لگ جاتے ہیں اب بہشتی زیور ہی ہے اس میں تمام فقہ ہی کے مسائل ہیں جوفقہ کی کتابوں سے لکھتے گئے ہیں مگر چونکہ میری طرف منسوب ہیں اس لئے وہ قابل رو ہیں یہ دین ہے یہ ایسا ہی ہے کہ ایک شخص نے اپنے حقیقی بھائی کو ماں کی گالی دی کسی نے کہا کہ اس کی ماں اور تیری ماں دو تھوڑا ہی ہیں جواب میں کہتا ہے کہ اس میں دو حثیتیں ہیں ایک اس کی ماں ہونے کی اور ایک میری ماں ہونے کی اس کی ہونے کی حیثیت سے وہ ایسی ویسی ہے یہی حال ان حاسدین کا ہے معاصرت بھی بڑے غضب کی چیز ہے اس میں خواہ مخواہ بھی حسد ہوتا ہے اس حسد سے اس کوبھی مثال کا قصہ یہ ہے کہ ایام عذر میں ایک سپاہی میدان جنگ میں زخمی ہوگیا تھا یہ حکایت ماموں امداد علی صاحب نے مجھ سے بیان کی تھی وہ زخم کی وجہ سے نقل و حرکت نہ کرسکتا تھا شام قریب ہونے کو تھی خیال ہوا کہ رات تنہائی میں کیسے گذرے گی دیکھا کہ ایک لالہ جی چلے جارہے ہیں آوازدی لالہ جی گھبرائے اس لئے کہ اور لاشیں بھی مردہ پڑیں تھیں وہ سمجھا کہ کوئی مردہ بھوت ہوکر پکارا رہا ہے اس نے کہا کہ گھبراؤ نہیں میں زندہ ہوں زخموں کی وجہ سے نقل وحرکت نہیں کرسکتا اور نہ آئندہ زندگی کی توقع ہے میری کمرسے روپیوں کی ہمیانی بندھی ہے یہ یوں ہی بیکار جائے گی تم کھول کرلے جاؤ تمہارے ہی کام آئیں گے روپیہ کا نام سن کرلالہ جی کے منہ میں پانی بھرآٰیا اس کے پاس پہنچے سپاہی کے پاس سے ایک تلوار رکھی تھی تلوار کا ایک ہاتھ اس کی ٹانگوں پررسید کیا لالہ جی نے کہا کہ یہ کیا کیا سپاہی نے کہا کہ بیوقوف ہوئے ہو میدان جنگ میں بھی کوئی روپیہ لے کر آتا ہے بات یہ ہے کہ میں شب کو تنہا پڑا رہتا رحشت ہوتی ( حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ تنہا ( جمع تن )کی ضرورت تھی تنہائی کی ضرورت نہ تھی اب دونوں باتیں کریں گے شب گذر جائے گی اس پر لالہ جی کیا کہتے ہیں کہ اوت نہ آپ چلے نہ اور کوچلنے دے یہ ہی حالت آج کل لوگوں کی ہے کہ نہ آپ چلیں نہ اور کو چلنے دیں فلاں مولوی صاحب کو جو کہ محبت سے یہاں بکثرت آتے ہیں فلاں مدرسہ میں ان کے بعض معاصرین نے یہاں کے آنے پرکہا کہ میاں کہا جایا کرتے ہو وقت خراب کرنے کتب بینی کرو استعداد بڑھے گی یہ بھی وہی بات ہے کہ نہ خود کچھ حاصل کریں نہ اور کوکرنے دیں میں نے مولوی صاحب کے اس ذکرکرنے پران سے پوچھا کہ میں دعویٰ تو نہیں کرتا مگر معاملہ کی بات ہے کہ جب سے یہاں آنے لگے ہوکچھ درسی کتابوں میں بھی زائد سمجھ پیدا ہونے لگی ہے انہوں نے کہا کہ بہت کچھ جو اشکالات ساری عمر میں بھی حل نہ ہوئے تھے وہ یہاں کے آنے کی بدولت چند روز میں حل ہوگئے فرمایا کہ ان کا جواب تو یہی کافی ہے کہ میںدرسیاست ہی کی تکمیل کے لئے جاتا ہوں اور یہ جواب توان کے مذاق کے موافق کتابوں کے متعلق ہے باقی اس سے قطع نظر صحبت تو وہ چیز ہے کہ اس سے ذوق صحیح پیدا ہوکر قرآن وحدیث کا مدلول سمجھ میں آنے لگتا ہے اور معترض کے اختلاف پر میں ایک جماعت کے صدر ہیں ان تحریکات میں ان کو مجھ سے اختلاف ہے مگر خلاف نہ اس وقت تھا نہ اب ہے میں تحریک خلافت میں برابر یہی کہتا تھا کہ اختلاف کا مضائقہ نہیں مگر یہ عداوت کیسی کہ سب وشتم کرتے ہو جوشریعت کے بھی خلاف اور شرافت کے بھی خلاف ۔
(ملفوظ 326)اردو میں خطبہ کی تجویز کا نیا فتنہ :
فرمایا کہ آج کل ایک اور فتنہ شروع ہورہا ہے وہ یہ کہ اس پرزور دیا جارہا ہے کہ خطبہ اردو میں ہونا چاہئے یہ دو طبقے تو بالکل آزاد ہوگئے ہیں ایک نیچری اور ایک جاہل صوفی ان دونوں میں احکام سے بالکل ہی آزادی ہوگئی ہے خطبہ کے متعلق ایک رسالہ مولوی محمد شفیع صاحب نے لکھا ہے اس کا نام ہے الا عجوبہ فی خطبۃ العروبہ ، عروبہ کو جمعہ کہتے ہیں میں نے لکھ دیا ہے کہ یہ نام بہت فصیح تو نہیں ہے بھدا بھی نہیں اگر پسند نہ ہو تو اور جو پسند ہو اورجی چاہے وہ ہی رکھ لیں اس مسئلہ کے متعلق ایک نہایت عجیب استدلال سمجھ میں آیا وہ بھی اس رسالہ میں لکھ دیا ہے اوروہ استدلال حنفی کے لئے ہے وہ یہ کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ الحمد للہ کہنے سے خطبہ ادا ہوجائے گا اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ ذکر ہے تذکیر ( احکام پہنچانا ) نہیں اور دوسری زبان میں پڑھنے کا مشورہ دینے والے زیادہ تراسی سے استدلال کرتے ہیں کہ عربی زبان کو مخاطبین سمجھتے نہیں پھرکیا فائدہ اس کا جواب ظاہر ہوگیا کہ جب وہ تذکیر نہیں تو سمجھنے کی ضرورت نہیں اس استدلال کے ہوتے ہوئے ہم کو کسی اوراستدلال کی ضرورت بھی نہ تھی اس کے قبل یہ میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا تھا اور اس کا ذکر ہونا خود قرآن شریف سے ثابت ہے کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں فاسعوا الٰی ذکراللہ وذروا البیع ، اس کو ذکر فرمایا ہے ذکری بمعنی تذکیر نہیں فرمایا جیسے قرآن مجید کے متعلق فرمایا ہے وما ھوالا ذکریٰ للعلمیں پس خطبہ امر تعبدی ہے جیسے نماز میں قرآت اس میں قیاس کا کچھ دخل نہیں اس لیے اس میں قیاس بھی نہیں چلتا کہ مقصود اس سے تفہیم ہے سویہ مقصود جس طرح حاصل ہوجاوے اور فقہاء نے جو خطبہ کے متعلق لکھ دیا ہے کہ اس میں احکام کی تعلیم کی جاوے وہ حکمت ہے علت نہیں خود عید کے متعلق روایات میں تصریح ہے کہ زائد مقصود کے لیے آپ نے ممبر سے نزول فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ خطبہ کا معاملہ نہیں فرمایا ۔
(ملفوظ 325)بوجہ عدم مناسبت طریق سلوک نازک ہے
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ طریق سلوک بہت نازک طریق ہے بظاہر ،، وما جعل علیکم فی الدین من حرج ،، کے خلاف معلوم ہوتا ہے فرمایا کہ یہ لوگ توجہ نہیں کرتے ۔ اس واسطے نزاکت پیدا ہوجاتی ہے اگرتوجہ کریں تو آسان ہوجائے حقیقت میں کوئی نزاکت نہیں مگر چونکہ لوگوں کو اس راہ سے بوجہ عدم طلب مناسبت نہیں ۔ خدا تعالٰی اس لئے دشوار معلوم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے نازک ہونے کا حکم کیا جاتا ہے پس کوئی تعارض نہیں ۔
16 شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہارم شنبہ
(ملفوظ 324)والدہ مرحوم کے اہل حقوق کی ادائیگی :
فرمایا کہ اہل حقوق کے حقوق کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے ( اس کا واقعہ یہ ہے کہ صاحب ملفوظات نے اپنے والد صاحب مرحوم چاربیبیوں کا جن میں ایک حقیقی ماں اور تین سوتیلی مائیں ہیں مہر جتنا حصہ رسد اپنے ذمہ تھا ادا کرنا چاہا اور مناسخہ سے جس جس کا جتنا حق تھا تلاش کرکرکے پہنچایا اس کے متعلق مخاطبین سے فرمایا کہ ) دعا کیجئے کہ اللہ تعالٰی سب اہل حقوق کا حق جلد ادا کریں ۔ اہل حقوق خود کہتے ہیں بیچارے کہ صاحب اس وقت مہر کی معافی عام تھی دینے کی ضرورت نہیں ۔ میں نے کہا کہ مجھ ک بھی یہ معمول معلوم ہوگیا مگر جی گوار نہیں کرتا کہ اس معمول کو حجت سمجھا جاوے اور کسی کا حق محتمل بھی رکھا جائے ایک سال سے اہل حقوق کی تلاش ہورہی ہے اب تک بھی بعض کا پتہ نہیں چلا کوئی مکہ میں ہے کوئی مدینہ میں کوئی بمبئی میں کوئی کلکتہ میں کوئی لاہور میں کوئی حیدر آباد میں کوئی پھوپال میں غرضکہ ہرطرف پھیلے ہوئے ہیں الحمد للہ اکثر کا پتہ چل گیا ہے بعض باقی ہیں ان میں باوجود سعی اور کوشش کے جن کا پتہ نہ چلے گا ان کا حصہ اللہ کے واسطے خرچ کرکے اس کا ثواب پہنچا دیا جائے گا انشاءاللہ ایسے موقع پریہ حکم ہے شریعت کا ، مگر پھر سب کا پتہ چل گیا ۔ بعض کے حصہ میں ایک ایک پیسہ آٰیا بحمداللہ وہ بھی ادا کیا گیا ۔ 12جامع )
(ملفوظ 323)دارالعلوم کی سرپرستی سے استعفاء کے بارے میں :
ایک سلسلہ گفتگو میں ایک مدرسہ کے متعلق فرمایا کہ جب کس مشورہ پر عمل نہیں کرتے نہ خود کوئی مشورہ لیتے ہیں تو ایسی سرپرستی سے فائدہ ہی کیا ۔ اسی وجہ سرپرستی چھوڑکر ہلکی طبیعت ہوگئی اور اگرکبھی پوچھتے بھی ہیں اور مشورہ بھہ لیتے ہیں تو عمل نہیں کرتے ۔
(ملفوظ 322)اصلاح الدرس :
( ملقب نہ اصلاح الدرس ) ایک صاحب نے اپنے صاحبزادہ کی تعلیم کے متعلق حضرت والا سے مشورہ چاہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مدرس ہونے کا اہل ہوجائے تو اس کی کیا صورت اختیار کی جائے فرمایا فنون کی کتا بیں بھی پوری کرانا چاہئے اگران میں کوتاہی رہی تو استعداد کافی نہ پیدا ہوگی عرض کیا کہ اس کا خیال یہ ہے کہ امساں دورہ یہ طرزتو اچھا نہیں معلوم ہوتا بلکہ کچھ اسباق فنون کے بھی ہوجائیں اور دورہ کا بھی سلسلہ رہے یہ اچھا ہے ۔
عرض کیا کہ میرے رائے یہ ہے کہ امسال فن ہی کی کتابیں پوری ہوجائیں فرمایا کہ اس کو بھی جی گورا نہیں کرتا کہ حدیث بالکل ہی رہ جائے اگر دونوں ساتھ ساتھ ہیں ۔ یہ طریق اچھا معلوم ہوتا ہے اپنے بزرگوں کا ہمیشہ یہ ہی طرز رہا ہے یہ ہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حدیث اور فن دونوں ساتھ ساتھ ہوں ان صاحب نے کچھ خاموش رہنے کے بعد پھر اس ہی مشورہ کا اعادہ کیا فرمایا کہ آپ ایک ہی بات کو کھرل نہ کیا کیجئے میری طبیعت الجھتی ہے آپ ایک ہی بات کے پیچھے پڑجاتے ہیں یہ برا ہے آپ کو اس کا خیال رکھنا چاہئے اور اس طرز کو بالکل چھوڑ دیجئے اس سے دوسرے کا وقت فضول خراب ہوتا ہے آپ میرا وقت بھی فضول باتوں میں خراب کررہے ہیں اور اپنا بھی ایک بات کے پیچھے پڑجانا کون عقل کی بات ہے ایک بات شروع ہوئی جواب دیدیا گیا بات ختم ہوئی آپ ہیں کہ بار بار اسی کا اعادہ کررہے ہیں آخر اس سے آپ کا مقصود کیا ہے کیا یہ ہی ایک کام رہ گیا ہے کہ بیٹھے ہوئے کھرل کئے جائیں آپ کو دوسرے پربار ہونے کا مطلق خیال نہیں اور یہ بھی آپ کی خاطر سے بتلادیا ایک مرتبہ دو مرتبہ نہیں تین مرتبہ بتلادیا مشورہ دیدیا گیا دوسرے کو تو یہ بھی نہ بتلاتا کیو نکہ آج کل کسی کو مشورہ دینا میرے مذاق کے خلاف ہے آپ ساری دنیا کے اقوال پیش کریں اور میں ان کے متعلق تحقیقات کروں یہ کس قدر تکلیف مالایطاق ہے اگر مجھ کو اس پڑھنے پڑھانے سے دلچسپی ہوتی تو اب بھی خدا کا فضل ہے کہ اگر کتا ب لے کر بیٹھو تو ٹوٹا پھوٹا پڑھا سکتا ہوں مگر پھر بھی چھوڑ دینا اس کی کافی دلیل ہے کہ دلچسپی نہیں رہی اس لئے ایسی کاوش سے گرانی ہوتی ہے اور جس چیز دوسرے کو گرانی ہو اس سے احتیاط رکھنا چاہئے دوسرے یہ تو میری قدرت میں نہیں کہ ساری دنیا کے اقوال کی تو جیہ کیا کروں اور ہرایک کے جدا جدا جوابات دیا کروں یہ تو ایک سلسلہ ہوجاوے گا جو کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتا تیسرے اس حالت میں مشورہ لینے کا حاصل یہ ہوگا کہ رائے میری اور قبضہ ان کا یعنی ناظمان مدرسہ کا اور لا متناہی عمل فلاں صاحب کا یعنی طالب علم صاحب کا یہ جوڑ کیسے لگے گا پس اسلم یہی ہے چھوڑیئے ان جھگڑوں کو ہورہے گا جو ہونا ہوگا آپ کس غم میں پڑے اساتذہ موجود ہیں اور صاحب زادے خود بھی رائے رکھتے ہیں جیسا مناسب ہوگا آپ کرلیں گے ، فرمایا کہ فلاں مدرسہ کے متعلق بہت عرصہ سے درس و تدریس کے بارے میں مختلف مشورہ دے رہا ہوں مگر کوئی نہیں سنتا ان کے استحسان کے متعلق تو یہ جواب کہ بالکل ٹھیک۔ مگر عمل ندارد اب کیا جی چاہئے مشورہ دینے کو جب تجربہ سے یہ معلوم ہوگیا کہ اہل مدارس وہی کرتے ہیں جوان کے جی میں آتا ہے د ماغ سوزی کرو ایک مفید بات بتلاؤ اور عمل اس پرنہ ہو یہ بھی میرا تبرع اور احسان تھا کہ میں نے آپ کورائے بھی دیدی اور وہ بھی دیدی اور وہ بھی کئی بارورنہ جس بات پر عمل کرنے کے اور کچھ نہیں اہل علم کا طبقہ اکثر لوگوں کو رسم پرست بتلاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ علماء سب سے زیادہ رسم پرست ہیں کہ پرانے معمولات کو نہیں چھوڑتے گو ضرورت اور مصلحت واقعیہ کے خلاف ہی ہو ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے فلاں مدرسہ کے متعلق ایک مشورہ فرمایا تھا کہ فلاں فلاں کتابیں درس سے خارج کردو مگر اس پرکسی نے بھی عمل نہیں کیا حالانکہ سب جان نثار ہی تھے مگر کچھ بھی حضرت کے مشورہ کی پرواہ نہیں کی گئی تھی یہ قدرہے بزرگوں کے مشوروں کی ۔ ان اہل مدارس کی عموما یہ حالت ہے کہ جودل میں ٹھان لی وہی کریں گے کسی کی نہیں سنی گے چنانچہ میری رائے امتحان کے بارہ میں یہ ہے کہ امتحان تقریری ہونا چاہئے تقریرمیں بہت جلد قلعی کھل جاتی ہے اور اگرکسی مصلحت سے تحریری بھی ہوتو اس کی لطیف صورت یہ ہے کہ طالب علم کو کتاب دے دی جائے اوراس کے شروح اور حواشی جومانگے سب دیدئیے جائیں اور کہ دیا جائے کہ فلاں مقام حل کرکے لاؤ مگر کسی سے مدد مت لو کیونکہ مقصود تو یہ دیکھنا ہے کہ کتا ب جو پڑھی ہے اس کو سمجھ بھی گئے یہ دیکھنا نہیں کہ یہ کتا ب کا حافظ بھی ہے یا نہیں اس میں طلباء کو بھی سہولت اور امتحان کا مقصود بھی حاصل اور متعارف طریق میں پوری مصیبت ہے چنانچہ میں جس زمانہ میں دیوبند پڑھتا تھا امتحان کی تیاری تمام تمام شب جاگتے گذر جاتی نیندخراب تندرستی خراب جب تک ساری کتب حفظ نہ ہو امتحان دے ہی نہیں سکتے ان تجارت کی بناء پر میں جس زمانہ میں کانپور تھا ۔ امتحان کے متعلق نہایت سہل قواعد وضوابط مقررکردیئے تھے اس سے اعلیٰ درجہ کی قابلیت حاصل ہوتی ہے اب اپنا اختیار نہیں مشورہ ہی کیا تیرچلائے گا چنانچہ مدارس میں جو آج کل امتحان کا طرز ہے کہ ساری کتاب محفوظ ہو تب امتحان دے سکتے ہیں اس کے متعلق میں نے اہل مدراس کو رائے دی مگر ایک نے بھی نہیں سنی ایک صاحب نے میرے یہ اصول سن کر مجھ سے کہا کہ انگریزی مدارس میں بھی یہ ہی دستور ہے میں نے کہا کہ انگریزوں نے ہمارے یہاں کی مفید باتیں بعد تجربوں کے ہم ہی سے تولی ہیں ایک طریقہ میں نے یہ جاری کیا تھا کہ ختم سال پر جہاں سے کتاب چھوڑی ہے آئندہ شروع سال میں وہاں ہی سے اسباق تجویز کئے جائیں ان کے تعارضات رفع کئے جائیں بس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے جمعرات کا سبق جہاں سے چھوڑا تھا ہفتہ کے روز وہاں ہی سے شروع کرادیا گیا ایک نفع اس میں یہ تھا کہ طلبہ منتشر نہ ہوتے تھے سبق کے سلسلہ کی وجہ سے پھرضرور آتے تھے اور اگر کوئی نیاطالب علم آگیا تو اس کی وجہ جس درجہ کی قابلیت ہوئی اس کو ان کتابوں میں شریک کردیا جیسا وسط سال میں آنے والوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیاجاتا تھا اوراس طرز میں بھگدڑ بھی نہ پڑتی تھی کہ کسی طرح کتاب ختم کراؤ چاہئےطالب علم کمبخت سمجھے یا نہ سمجھے اور جس کتاب کو ختم نہ کراسکے بس وہ رہ گئی اس کوچھوڑ دیتے ہیں یہ مفاسد ہیں اس رسم متعارف میں ۔ اب تو یہ ہے کہ طالب علم اپنی ذہانت اورمحنت سے کسی قابل ہوجائے یا نہ ہوجائے ورنہ مدارس کی طرف سے نہ کوئی درس کے اصول ہیں نہ قواعد بہت ہی خراب حالت ہے ۔ بھلا یہ لوگ جن سے ایک مدرسہ کا انتظام نہیں ہوسکتا سلطنت کا کیا انتظام کرسکتے ہیں یہ تو ناظمیں کی حالت ہے پھر آگے طلباء بھی آج کل ایسے ہی ہیں وہ بھی علوم کی طرف متوجہ نہیں ضابطہ پری کرتے ہیں بڑی معراج اس کوسمجھتے ہیں کہ ایک بڑا سا پگڑ بندھ جائے اور ایک بڑا سا پروانہ چھپا ہوا مل جائے پس ہوگئے مولوی ، مولوی ۔ پھر فرمایا کہ رسم پرستی کو وجہ سے یہ جمود ہے اوربے حد جمود ہے اور اگرترقی کی طرف چلے تو خلافت میں شریک ہوگئے کا نگریس میں شریک ہوگئے علوم میں ترقی نہں کرتے جہل میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اور اگر اس سے بھی ترقی کی تو پھران کی معراج ترقی جیل کی طرف ہوتی ہے وہاں پرپہنچ کر بھی بڑے بڑے القاب مل جاتے ہیں ۔ میں سچ عرض کرتا کہ جواہل اللہ کے پاس نہیں رہے ان کے قلب حقیقت کے ادراک سے بلکل مردہ ہیں اور اس مردہ ہونے کے خاص آثار ہیں ایک اثر اس وقت بیان کرتا ہون جن کا یہ واقعہ ہے میں ان کا نام نہیں بتاؤں گا ۔ مگر بہت بڑے عالم ہیں ان کا مقولہ عرض کرتا ہوں جس وقت حضرت محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ دیوبندی حج کو تشریف لے گئے تو میرے متعلق یہ مشہور کیا گیا بعض حاسدوں کی طرف سے کہ اس نے یعنی میں نے حدیث شریف کا دور شروع کرادیا ہے تو وہ عالم صاحب فرماتے ہیں کہ کیا اس کا انتظام ہی تھا کہ مولانا نعوذ باللہ یہاں سے شروع رخصت ہوں تو ہماری دکان چمکے یہ علماء ہیں ۔ اگر مولانا ہی کے سامنے شروع کرادیتا تو کون سا گناہ تھا ۔ بلکہ حضرت مولانا ہی سب سے زیادہ خوش ہوتے تو حضرت کے رہتے ہوئے کون مانع تھا ۔ پس اہسے لوگوں میں اس کی کمی ہے کہ اہل اللہ کی جوتیاں سیدھی نہیں کیں بلکہ ترقی کرکے کہتا ہوں کہ جوتیاں نہیں کھائیں کیونکہ محض سیدھی سے کام نہیں چلتا ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ میں نے کسی کی جوتیاں سیدھی نہیں کیں فرمایا اللہ فضل ہے کہ کسی کو بغیراس کے بھی علاہ فرمادیں مگر اپنے بزرگوں کو ہمیشہ دل س غلام رہا اور غلام سے بڑھ کراپنے کو سمجھا اور خدمت ظاہری اس وجہ سے نہیں کی کہ مین سمجھتا تھا کہ میرا خدمت کرنا اپنے بزرگوں کو تکلیف کا سبب ہوگا وہ گوارا نہ کریں گے ان کو ناگوارا نہ کریں گے ان کو ناگوار ہوگا ۔ باقی ان چیزوں میں قیاس نہیں چلتا ۔ ( تمت مقالہ اصلاح الدرس )
(ملفوظ 321)حضرت والا کی زیارت کیلئے ایک صاحب کی کلکتہ سے آمد :
آج صبح دس بجے والی گاڑی سے دو صاحب حاضر ہوئے بعد مصافحہ حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آتا ہوا اور کس غرض سے ؟ عرض کیا کہ کلکتہ سے حاضری ہوئی اور بمبئی ہوکر حج کا ارادہ ہے اور یہاں پرحاضری کی غرض محض حضرت والا کی زیارت ہے دریافت فرمایا کہ یہ دوسرے صاحب کون ہیں ؟ عرض کیا کہ یہ میرے عزیزہیں فرمایا آپ کبھی اس سے قبل مجھ سے ملے ہیں ؟ عرض کیا کہ یہاں ایک مرتبہ حاضرہوا تھا فرمایا کہ بلکل یا د نہیں میرا حافظہ زیادہ قوی نہیں ۔ بعض لوگوں کا حافظہ غضب کا ہوتا ہے ایک عالم بزرگ حافظ محمد عظیم تھے پشاوری جو نابینا بھی تھے ان کے پوتے دیوبند میں درسیاست سے فارغ ہوکر یہاں پرآئے بھی تھے یہ معلوم ہوا کہ ان کے پوتے ہیں بے حد جی خوش ہوا اس لئے کہ میں پہلے سے حافظ صاحب کا معتقد تھا ایک صوبہ دار تھے میرے ہم نام کا نپور میں انہوں نے حافظ صاحب کے حافظہ کے متعلق مجھے بیان کیا تھا کھ دس برس بعد بھی اگرکوئی مصافحھ کرتا فورا لگنے سے بتلا دیتے ہیں اور ان کان بینا ہونا بھی عجیب ہی طرح پر ہوا تھا ۔
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی حضور نے فرمایا کہ کچھ مانگو عرض کیا کہ حضور ملے گا جومیں مانگو گا فرمایا ہم اللہ سے دعا کریں گے عرض کیا کہ تمنا یہ ہے کہ اب آپ کو دیکھا ہے اس کے بعد ان آنکھوں سے کسی کو نہ دیکھو اگر دیکھوں تو آپ ہی دیکھو صبح کو سوتے سے اٹھتے تو نا بینا تھے مگر اکثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی رہتی تھی ۔ اپنی آنکھوں کو نثار کردیا کتنی بڑی محبت کی بات ہے ایک صا حب نے عرض کیا کہ حافظ صاحب کے پوتے جو جہاں یہاں پرآئے تھے کیا حضرت سے بیعت بھی ہوگئے ہیں فرمایا کہ بیعت ہی ہونے آئے تھے میں نے بیعت کرلیا۔

You must be logged in to post a comment.