(مفلوظ 263)اصلاح کرنے کا کام بہت ٹیڑھا ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اصلاح کا کام بہت ٹیڑھا ہے خود کوفت اٹھاؤ اوپر سے بدنام ہومیں اب اردہ کرچکاہوں کہ اس کام کو اس طور پرکہ خود احتساب کروں انشاءاللہ تعالٰے چھوڑدوں گا سو دفعہ کسی کی خوشی پڑے خوشامد کرے کوئی بات بتلادی ورنہ خود محاسبہ یا مواخذہ نہ کروں گا میرا جو مقصود تھا کہ طریق کا اظہار ہوجائے وہ بحمداللہ پورا ہوگیا سب کوطریق کی حقیقت معلوم ہوگئی اس کی جوگول مول حالت تھی وہ ظاہر ہوگئی اب بے غبار ہے عوام تک کومعلوم ہوگیا اور جہاں کچھ تھا بھی بس صرف یہ تھا کہ اور راد کو اور کیفیات کو طریق سمجھا جاتا تھا اس کا ثمرہ اعمال تو بلکل حذف ہی کردئے گئے تھے صاف کہتے ہیں کہ اعمال کا کیا ہے یہ تو کتابوں میں ہیں میں نے کہا کہ اوراد بھی تو کتا بوں میں ہیں تو ان ہی میں کیا رکھا ہے ۔

(ملفوظ 262) قصبہ والوں کی عقیدت اورمحبت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے قصبہ والوں کومیرے ساتھ عقیدت زیادہ ہے مگر محبت ہے اور عقیدت سے تومجھ پربوجھ ہوتا ہے ہاں محبت سے خط ہوتا ہے اور اگردونوں چیریں جمع ہوجاویں تو عقیدت پرمحبت کو غالب کرنا چاہئے ایک صاحب نے عرض کیا کہ عقیدت ہی سے تومحبت ہوتی ہے فرمایا کہ اول تو یہ غلط ہے بدون عقیدت بھی محبت ہوتی ہے دیکھئے اہل وعیال سے محبت ہوتی ہے عقیدت نہیں ہوتی پھر اگرشروع میں ایسا ہوا بھی ہومگر ترتب آثار کے وقت بناء عقیدت کی طرف التفات بھی نہیں ہوتا صرف محبت ہی موثر ہوتی ہے دیکھئے صحابہ کو حضورﷺ سے جو محبت ہوئی گو وہ رسالت ہی کی وجہ سے ہوئی مگر جب خدمت کرتے تھے اس وقت رسالت کا خیال بھی نہ آتا تھا مثلا ہدیہ وغیرہ جودیتے تھے رسالت کی بناء پرتھوڑا ہی دیتے تھے توابتداء میں محبت رسالت ہی کی وجہ سے ہوئی مگر اس کے بعد کرتے تھے وہ صرف محبت کی وجہ سے ۔

(ملفوظ 261)دین کی خدمت سب کے ذمہ ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ تو دین ہے اس کی خدمت سب کے ذمہ ہے بڑی خوشی کی بات ہے کہ دین کی خدمت کرنے والے پیدا ہوں اور موجود بھی ہیں بحمداللہ یہ کام ایک پرموقوف نہیں بہت سے دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہونے والے ہوتے رہتے ہیں ۔ واللہ ثم جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں بھی دین کی خدمت کرنے والے ہوں گے تو مسرت اورخوشی کی انتہاء نہیں رہتی ۔

(ملفوظ 260) وسعت اور سہولت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں فخریہ نہیں کہتا اللہ کا شکر ہے کہ کہیں بھی اس قدر وسعت اورسہولت نہیں جس قدر میرے یہاں ہے اس قدرتوتوسع اور پھرلوگ کہتے ہیں کہ تنگی ہے سختی ہے میں تو کہا کرتا ہوں کہ سختی اورچیزہے اور مضبوطی اورچیز ہے ریشم کارسا مضبوط تو اس قدر ہوتا ہے کہ اگر ہاتھی کو اس میں باندھ دیا جائے تووہ بھی نہیں توڑ سکتا مگر نرم اس قدرکہ جس طرح چاہو اس کو موڑ توڑ لو اور جہاں چاہے گرہ لگا لو تو میں سخت نہیں اورنہ میرا یہاں سختی ہے ہاں الحمدللہ مضبوط ہوں میرے یہاں مضبوطی ہے ۔

(ملفوظ 259)غامض بدعتیں :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شب برات کا حلوہ اگر آپ نہ کھاویں تو پکانے والے پکاویں بھی نہیں یہ بدعتیں ، ڈھیلے پن سے جاری ہوئیں مزاحا فرمایا کہ اگر دھیلے ( یعنی سخت ) بن جائیں تو سب بدعتیں ختم ہوجائیں پھرفرمایا بعض بدعتیں ایسی غامض ہوتی ہیں کہ بعض دفعہ اکابر کو تنبہ نہیں ہوتا چنانچہ مولانا شیخ محمد صاحب نے حضرت حاجی حاحب رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ دل چاہتا ہے کہ ترک حیوانات کے ساتھ ایک چلہ کھینچوں ، حضرت نے فرمایا کہ یہ توبدعت ہے تب تنبہ ہوا قصہ رامپور میں ایک تقریب تھی ختنوں کی وہاں پر مجھ کو بلایا گیا اور اپنے اورحضرت بھی تھے وہاں پہنچ کر مجھ کو معلوم ہوا کہ کہ بڑا تفاخر کا سامان کیاگیا ہے شریک نہیں ہوا اور خفیہ گھر چلا آیا اس پرایک صاحب یہاں پربزرگوں کی نصرت کے لیے مناظرہ کی نیت سے تشریف لائے وہ اب بھی زندہ ہیں اورمجھ سے کہا کہ مجھے ان رسوم کے متعلق کچھ عرض کرنا ہے میں نے کہا کہ ضرورشوق سے مگر کچھ شرائط ہیں ایک تویہ کر یہ دیکھ لیا جاوے کہ اپنے کسی معتقدفیہ کی نصرت مقصود نہیں یہ حلف سے بیان فرما کر جوشبہ فرمایئے بس سب اعتراضات ختم ہوگئے اسی سلسلہ میں حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمہ اللہ سے ایک صاحب نے دریافت کیا اسی تقریب کی شرکت اور عدم شرکت کے متعلق کہ اگریہ بات جائز تھی تو وہ کیوں نہیں شریک ہوا (مراد میں ہوں ) اور اگر ناجائز تھی تو آپ کیوں شریک ہوئے اس پرمجھ کو تومولانا نے خفیہ خط لکھا کہ اصلاح الرسوم پرنظر ثانی کی ضرورت ہے اورمجمع میں یہ جواب دیا جو میں نقل کررہاہوں کہ وہ تقوے پرعمل کرتا ہے اورہم فتوے پرعمل کرتے ہیں اس لئے بعض دفعہ ہمارا اس کا اختلاف ہوجاتا ہے میں نے مولانا خلیل الرحمن احمد صاحب رحمہ اللہ کو خط کا جواب لکھا کہ میں نظراول ثانی ثالث رابع سب کچھ کرچکا ہرنظر کا وہی نتیجہ ہے جونظر اول کا تھا ہاں اس کی اور صورت ہے وہ یہ کہ آپ نظرفرما کر اس میں غلطی نکالیں میں اس کا رد نہ کروں گا اس کوشائع کردوں گا ناظرین دونوں کو دیکھ لیں گے اب چاہے کوئی ادھرجائے یا ادھر جائے مگر جورسمیں مٹ چکی ہیں اگرآپ کی تحریرپرانہوں نے پھردوبارمدعو کیا تو اس کو آپ خود دیکھ لیں اس کے بعد حضرت مولانا نے کبھی کچھ اس کے متعلق نہیں فرمایا حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمہ اللہ سے بھی لوگوں نے پوچھا آپ نے جوواقعی بات تھی وہ فرمائی مولانا خلیل احمد صاحب رحمہ اللہ کا جواب تو تواضع بیان فرمادی اور یہ جواب دیا کہ سچ یہ ہے کہ جس قدر عوام کی حالت اسے (یعنی مجھکو) معلوم ہے ہمیں معلوم نہیں اس لئے وہ ایسی چیزوں کو روکتا ہے اور کوئی شبہ نہ کرے کہ نعوذ باللہ کیا مجھ کو اپنے اکابرسے زیادہ علم ہے اس کا جواب یہ ہے کہ عوام کی حالت کا علم یہ ایک محسوسات کا علم ہے اور محسوسات کا علم کوئی کمال نہیں بلکہ احکام کا علم کمال ہے اسی معاملہ میں ایک بزرگ نے مجھ سے کہا کہ تم نے اپنی جان توبچالی اوراگرکوئی اعتراض کرے کہ تمہارے اکابر کی شرکت کیوں ہوئی اس کا کیا جواب دوگے میں نے کہا کہ مجھ کو کسی نئے جواب کی ضرورت نہیں میں وہ جواب دوں گا جوہمارے اکابر نے حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کے مولود میں شریک ہونے کے متعلق سکھلارکھا ہے وہ جواب یہ سکھلایا ہے کہ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کو عوام کی حالت کی زیادہ خبرنہیں ہم کوخوب خبرہے بس میں بھی یہ ہی جواب دوں گا ،
اب اصلاح الرسوم بحمداللہ اپنی حالت پرہے اور یہ حضرات تواپنے بڑے ہیں مجھ کو توان بڑوں کے بڑوں کے ساتھ اختلاف رہا اوروہ سب خوش تھے ۔

(ملفوظ 258)طریق سے اجنبیت پرظہار افسوس :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل طریق سے اس قدر اجنبیت ہوچکی ہے اور یہاں تک حالت پہنچ چکی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اصلاح کا جوطریق ہے فساد دماغ کا اثر ہے اب تو اپنی ہی جماعت ان باتوں پرہنستی ہے اور بعضے اپنے بزرگوں کی نسبت بیہودہ کلمات استعمال کرتے ہیں کم ازکم ایسے کلمات تو اب بھی اکثر نکل جاتے ہیں کہ انہیں ضروریات کی خبر نہ تھی بھولے بھالے بزرگ تھے یہ بد دماغ بیدار مغز اور روشن دماغ پیدار ہوئے ہیں جن کو ابدست لینے کی بھی تمیز نہٰیں معلوم بھی ہے کہ وہ ایسے بھولے اور بے خبربھی نہ تھے اگران کو خبرنہ ہوتی توتلوار لے کرظالموں کا مقابلہ نہ کرتے اور تم نے ابھی تک اتنا کرکے بھی نہ دکھایا جتناہ کرگئے تمہارے تو کاغذی ہی گھوڑے دوڑرہے ہیں شرم نہیں آتی بزرگوں پرطعن تشنیع کرتے ہوئے چھوٹا منہ اور بڑی بات جس چیز کی تم کو خبر ہے ان حضرات کو اس کو بھی خبر تھی اور ایک بات کی اور بھی خبرتھی جس کی طرف سے تم بے خبر ہو وہ یہ کہ اگرحکم ہوا قم تو کھڑے ہوگئے حکم ہوا قعد بیٹھ گئے تمہاری طرح تھوڑا ہی تھے کہ احکام اسلام اور اسلام کو بدنامکرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اس پر کہتے ہیں کہ میدان میں آناچاہئے لعنت ہو ایسے میدان پرکہ جس میں اللہ اور رسول کی مخالفت ہو یاد رکھو میدان ہی میں رہوگے اب تو یہ ہی سبق رہ گیا ہے کہ میدان کی تعریفیں کی جاتی ہیں اورحجروں کی مذمت حالانکہ یہ میدان کی رونق وشوکت حجرہ ہی سے ہے میدان کا جوانجن ہے وہ حجروں ہی میں ہے اور تم ان کو ہی تھوڑ پھوڑ کرنے لگے اور ان کی تعمیر کوگرانے لگے تومیدان میں رہ ہی کیا جاوے گا اور یہ قوت جوہوئی ہے حرکت اور بیداری یہ انہیں بزرگوں کی بدولت ہوئی ہے جن کو تم بھولے اوربے خبر بتلاتے ہو۔

(ملفوظ 257)چھوٹوں کی صحبت کی ضرورت:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب میں سفر کیا کرتا تھا باہرجاکر یہاں کی قدرمعلوم ہوتی تھی اب تو سفرہی نہیں کرتا ایک کونہ میں پڑا ہوا ہوں اور وہ قدر کی بات یہ ہے کہ یہاں کے رہنے ولے لوگ اپنے کو چھوٹا سمجھتے ہیں لیکن اگرواقع میں چھوٹے ہی ہوں تب بھی چھوٹوں کی صحبت کی بھی تو ضرورت ہے اور امت محمدیہ میں تومن کل الوجوہ نہ کوئی چھوٹا نہ کوئی بڑا اللہ کا شکر ہے کہ میں بھی اپنے کواپنے دوستوں سے مستغنٰی نہیں سمجھتا بلکہ محتاج سمجھتا ہوں اور کچھ نہ سہی دعاء وبرکت صحبت ہی میں سہی ہرشخص کو اپنے بھائی مسلمان سے اپنے کو مستغنٰی نہیں سمجھنا چاہے اسی میں عافیت ہے کونوا مع الصدقین ارشاد ہے صادقین کی معیت حق تعالٰٰی نصیب فرمائیں اور اللہ شرور سے اپنی حفاظت میں رکھیں ۔

(ملفوظ 256) اسراف کی بدولت مسلمان تباہ ہوگئے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان فضول خرچیوں اور اسراف کی بدولت مسلمان تباہ وبرباد ہوگئے مگر اس پر بھی آنکھیں نہیں کھلتیں ایک کو ایک دیکھ کرعبرت حاصل کرسکتا ہے مگر نہیں کرتے یہ مولوی صاحب کے دادا کا گاؤں تھا فضول خرچیوں کی بدولت جاتا آتا رہا بیٹے کی شادی میں اس قدر روپیہ صرف کیا جس کی کوئی انتہا نہ تھی بعد شادی حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمہ اللہ ان کے پاس تشریف لائے اور جاکر کہا کہ بھائی صاحب ورپیہ سے کوئی جائیداد خریدتا ہے کوئی زیور خریدتا ہے اس میں یہ فایدہ ہوتا کہ اگر وقت پرکل قیمت نہ ملے تو آدھی تہائی کچھ تو قہمت اٹھ آئے مگر آپ نے جوچیز خریدی ہے یعنی نام اس کی قیمت پھوٹی کوڑی بھی نہیں مل سکتی ان کی یہ حالت تھی کہ پہلوانوں کو دعوت دیدی دور دور سے پہلوان آرہے ہیں دنگل ہورہے ہیں ان کو کھلایا پلایا جارہا ہوگئے اور نتیجہ کچھ بھی نہیں ۔

(ملفوظ 255)حضرت حکیم الامت بطور سرپرست دارالعلوم :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک بارمدرسہ دیوبند کے متعلق بعض امور ضروریہ میں مشورہ کے لیے یہاں پرمجلس شورٰی آئی تھی اس وقت میں مدرسہ کا سرپرست تھا میں نے سب سے اول یہ سوال کیا کہ اختلاف آراء کے وقت کیا سرپرست کی رائے پراخیر فیصلہ ہوگا یا کثرت رائے کا اعتبار ہوگا اور سرپرست کے اختیار کیا کیا ہیں وجہ اس سوال کی یہ تھی کہ پہلی صورت میں تو سرپرست کو مجلس ہی میں رائے ظاہر کرنیکی ضرورت ہوگی اور دوسری صورت میں وہ اپنی رائے کو محفوظ بھی رکھ سکتا ہے اس کا کوئی متفق علیہ جواب نہ ملا میں خاموش ہوگیا اس کے بعد میں یہ سمجھے ہوئے تھا کہ تنخواہ دار کا ممبر ہونا اصل کے خلاف ہے اس لئے میں نے مولوی حبیب الرحمن صاحب مہتمم اور مولانا انور شاہ صاحب صدر مدرس سے کہا کہ آپ حضرت تھوڑی دیر کو اس جگہ سے الگ ہوجائیں کیونکہ یہ دونوں حضرات تنخواہ دار تھے مگر جب ممبروں کی فہرست دکھلائی گئی تھی جس میں ان دونوں حضرات کا نام بھی تھا میں نے ان کو پھر بلاکرمجلس میں شریک کرلیا اس پرشاہ صاحب کی جماعت نے مجھ کو بے حد بدنام کیا اور ایسے الفاظ استعمال کئے کہ جس میں خود شاہ صاحب کی بھی اہانت تھی مثلا یہ کہ مجلس سے اٹھا دیا نکال دیا مگر مولوی حبیب الرحمن صاحب کی جماعت ایک کلمہ بھی زبان پرنہیں لائی البتہ خود شاہ صاحب کے متعلق کبھی بات نہیں سنی مگر اپنی جماعت پربھی کوئی روک ٹوک نہیں کی جس کی وجہ سے ان اکا بھولا پن تھا ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا عالم بھی بھولے ہوتے ہیں فرمایا بہت ، یہ تو فطری امرہے علماء بھی بھولے ہوتے ہیں بزرگ بھی بھولے ہوتے ہیں البتہ انبیاء علیہم السلام بھولے نہیں ہوتے اعلی درجہ کے عاقل ہوتے ہیں جن کا بڑے فلاسفہ کفا رلوہا مانتے تھے ورنہ وہ تو تمسخرہی اڑادیتے اور علماء میں بھی بعضے اس شان کے ہوتے ہیں چنانچہ ہماری جماعت میں مولوی حبیب الرحمن صاحب ایسے تھے کہ جس قدر یہ لیڈر پیڈر ہیں سب ان سے گھبراتے تھے حافظ احمد صاحب بھولے تھے مگر جرنیل تھے مولوی حبیب الرحمن صاحب میں صرف ایک کمی تھی وہ یہ کہ نرم تھے اور نرم آدمی سے انتظام میں گڑبڑ ہوجاتی ہے یہ تازہ فساد مدرسہ میں ان کے نرم ہونے کی وجہ سے ہوا مگر دونوں صاحب مخلص بہت تھے مدرسہ کے فساد کے زمانہ میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم کسی کی مخالفت کی پرواہ نہیں بس اس شخص سے تعلق رہے ( یعنی احقراشرف علی سے ) پھرچاہے ساری دنیا ہم سے چھوٹ جائے ہمیں پرواہ نہیں ۔
18/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نمازظہر یوم یکشنبہ

(ملفوظ 254)اصلاح الرسوم کتا ب کا الٹ استعمال :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل بدفہموں سے دنیا بھری ہوئی ہے ایک شخص مجھ سے کہتے تھے کہ ان سے ایک بدعتی نے کہا کہ ہم اصلاح الرسوم سے بڑا فائدہ ہوا اور وہ یہ کہ ہم بہت سی رسمیں بھول گئے تھے عورتوں سے پوچھنی پڑتی تھیں اب کتاب سامنے ہے دیکھ دیکھ کرسب رسمیں کرلیتے ہیں اس کی بلکل ایسی مثال ہے جیسے قرآن مجید کفار کے کلمات ہیں ۔
عزیرابن اللہ المسیح ابن اللہ ان اللہ ثالث ثلثہ ( حضرت عزیزاللہ کے بیٹے تھے ، حضرت مسح اللہ کے بیٹے تھے ، اللہ تین معبودوں میں ایک ہے ۔ 12) ان کو دیکھ کرکوئی کافرکہے کہ اس سے ہم کو بڑا نفع ہوا قرآن میں دیکھ دیکھ کر سب کفریات کا دعوٰی کرلیتے ہیں بھلا اس بدفہمی کا ۔