ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تواہل علم میں بھی احتیاط کی شان بہت کم رہ گئی ہے ایسے واقعات سن کر سخت رنج ہوتا ہے اور بالخصوص اس تحریکات کی بدولت تو یہ بے احتیاطی بہت ہی زیادہ ہوگئی حلال وحرام کی بلکل پرواہی نہیں رہی اپنی ہوائے نفسانی کے لیے قسم قسم کے حیلے حوالے کرتے ہیں اور اب تواللہ تعالی کے ساتھ حیلے کرنے لگے ہیں اس قدر دلیری بڑھ گئ ہے بلکل وہ حالت ہوگئی ہے
زنہارازاں قوم نباشی کہ فرینبد حق رابسجودے ونبی رابدرودے
( ان لوگوں میں سے ہرگز نہ ہونا جو ایک سجدہ کرکے حق تعالٰی کو دھوکہ دینا چاہیں اورایک دورود پڑھ کرحضورﷺ کودھوکہ میں لانا چاہیں ( کہ ہم اللہ اوراس کے رسول اللہ ﷺ کے محب اور شیدائی ہیں ) ۔ 12)
باقی نفس حیلہ کا جائز یا ناجائز ہونا اسمیں تفصیل ہے وہ یہ کہ اگروہ حیلہ شریعت کی مصلحت سے ہے نفس کی مصلحت سے نہیں تب تو جائز ہے اور اگرنفس کی مصلحت سے ہے تو ناجائز ہے اور تحصیل شریعت کیلئے اس میں شریعت کا ابطال ہے مثلا اغنیاٰء کو حکم ہے مساکین کیلئے زکوۃ دینے کا جس کی غرض اغناء مساکین ( مساکین کو غنی کرنا ) ہے اب بعض لوگ یہ حیلہ کرتے ہیں کہ سال گذرنے کے قریب دوسرے کے نام ہبہ کردیا پھر اس نے واپس کردیا یہ صورت اور حیلہ جس میں اغناء مساکین ہی کا ابطال ہے کہاں تک جائزہوسکتا ہے حاصل یہ کہ جہاں حیلہ سے غرض شرعی کی تحصیل ہووہاں حیلہ جائز ہے اور جہاں غرض شرعی کا ابطال ہو وہاں ناجائز ہے۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 252) عمدہ غذائیں کھانے کی نیت :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اچھی عمدہ اورمقوی غذائیں کھانا چاہئے اور خوب کام کرنا چاہئے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ چار انگشت حریر کو جوجائز فرمایا گیا ہے اس میں بھی فقہاء نے یہی حکمت لکھی ہے جیسا بدایہ میں مذکور ہے لیکون انمرذجامن حریر الجنۃ یعنی اس کو دیکھ کرنعمائیے جنت کے نمونہ کا مشاہدہ اور اس سے رغبت ہوپھر اس رغبت سے اعمال صالحہ کی توفیق ہوگی حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کا یہ ارشاد کیسا علم عظیم ہے حضرت کی اور بھی بڑی حکیمانہ باتیں ہوئی تھیں چنانچہ ایک بات فرمایا کرتے تھے کہ جوچیز کسی کے پاس حب فی اللہ کے تعلق سے آئی ہو اس میں سے ضرور کھانا چاہئے اس میں نور ہوتا ہے یہ ہیں علوم حقیقی جوان حضرات کو عطاء ہوتے ہیں اس لئے کہ ارشاد خلق ان کے سٌپرد ہوتا ہے اس کے لیے ان علوم کی ضرور ہے اور یہ بات حضرت میں خاص درجہ میں ممتاز تھی دوسرے مشائخ معاصرین سے جس پرحضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمہ اللہ جسے قتل یہ کہا کرتے تھے کہ میں حضرت حاجی صاحب کا معتقد علم کی وجہ سے ہوں واقعی حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کی شان ہی جدا تھی ۔
آفا قہا گرویدہ ام مہربتاں ورزیدہ ام بسیارخوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
( تمام جہان چھان ڈالے بہت محبوبوں سے محبت کرکے آزمایا ہزاروں حسینوں کودیکھا
لیکن تم تو کچھ چیز ہی اورہو ۔ ( جس کا بیان میں لانا ہی مشکل ہے ) ۔12)
اور اب تو مشائخ میں علوم اورحقائق کا پتہ بھی نہیں صرف لذائد کے ترک کی ترغیب دی جاتی ہے اور حضرت کے یہاں ان کے اختیار کرنے میں ان کے ترک سے زیادہ نفع ہے جیسے ابھی مفصل بیان ہوا ۔
(ملفوظ 251)نفس کے حقوق :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نفس کے بھی حقوق ہیں ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ تم بہت ہی اپنے نفس کی رعایت کرتے ہو میں نے کہا کہ یہ صغریٰ ہے اور کبرٰی کیا ہے کہ نفس کی رعایت جائز نہیں اگرقوی کی رعایت وحفاظت نہ کی جاتی تو اتنا کام تھوڑا ہی ہوسکتا تھا ۔
(ملفوظ 250)کام کرنے والے طلب رضائے حق کی نیت کریں:
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کیا کثرت جماعت ہی سیکا ہوتا ہے کام تو قلیل جماعت سے بھی ہوسکتا ہے بشرطیکہ کام کرنے والے رضائے حق نہیں اورجب تک مسلمانوں میں یہ بات رہی یہ غالب رہے طلحہ بن خویلد نے اپنے وزیرسے پوچھا تھا کہ ہمارے پاس سب سامان ہے تلواریں ہیں جمعیت زیادہ ہے پھر بھی یہ مسلمان ہم پر غالب آتے ہیں ان میں ایسی کون چیز ہے جس کا یہ اثر ہے وزیر سمجھدار تھا عجیب جواب دیا کہ ہم میں ان میں ایک فرق ہے وہ یہ کہ ان میں کا تو ہرشخص خود تو زندہ رہنا چاہتا ہے اور دوسرے کو مردہ بنانا چاہتا ہے ان کے نزدیک مقدم موت ہے اور ان کے نزدیک مقدم حیات ہے بس یہ چیز ان لوگوں میں زیادہ ہے جوہم میں نہیں یہی وجہ ہے کہ ان پرکوئی غالب نہیں آسکتا اور یہ طلب رضاہی سے ہوسکتی ہے اسی باب کا اورایک واقعہ ہے کہ ایک بادشاہ نے چند صوفیہ کو کسی کی نمائی ( چغلی ) پرقتل کرنا چاہا اور جلادیا کو حکم دیا جلادنے ایک کی گردن مارنا چاہا دوسرا بولا کہ پہلے مجھ کو قتل کیا جائے اس کوقتل کرنا چاہا تو تیسرے نے کہا مجھ کو پہلے قتل کردو علی ہذا جلاد چکر میں آگیا اور بادشاہ کو اطلاع دی اس پراثر ہوا اور سب کچھ چھوڑدیا کہ ایسے لوگ بد دین نہیں ہوسکتے یہ تو طلب رضا کے متعلق استطراد احکایتیں تھیں اب اصلا مضمون کی طرف عود کرتا ہوں میں یہ کہہ رہا تھا کہ مدار اعظم کامیاب کا طلب رضا ہے اب میں کہتا ہوں کہ اول تو تدابیر ہیں کیا چیز مشیت کے سامنے اور اگر ہوں بھی تویہ بھی تو تدابیر ہی میں سے ہے کہ خدا کو راضی کیا جائے اس تدبیرسے کیوں جان چرائی جاتی ہے اور یہ وہ تدبیر ہے کہ اس پرتمام تدابیر قربان ہیں میں بقسم عرض کرتا ہوں کہ اگر مسلمان اللہ کو راضی کرلیں تو انہیں کو تمام عالم پرعزت اور غلبہ حاصل ہو اور تمام دنیا کے مالک ہوں میرا مقصود اس بیان کرنے سے یہ نہیں کہ تدابیر اختیار نہ کرو ضرور کرو مگر اس کے ساتھ ہی حق تعالٰی کو راضی کرنے کے لئے بھی سعی کرو اس سے بھی ایک منٹ کےلئے غفلت نہ ہو اور ان تدابیر کے اختیار کرنے کے بعد بھی حق سبحانہ تعالٰی ہی کی طرف نظر رکھواسی کو فرماتے ہیں
عقل در اسباب می وارد نظر، عشق می گوید مسبب رانگر
( عقل اسباب پرنظر رکھتی ہے اور عشق کہتا ہے کہ اسباب کے پیدا کرنے والے کو دیکھو ۔ 12)
(ملفوظ 249 ) تعلیم اور تبلیغ کے حدود اور اصول :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تبلیغ کرنے کے بھی حدود اصول ہیں ہم کو ہرچیز کی تعلیم دی گئی ہے اور تعلیم بھی وہ نہایت پاکیزہ بڑے بڑے فلاسفہ اس کی مثال پیش نہیں کرسکتے دیکھئے حضورﷺ کو قرآن پاک میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ آپ اس فکر میں نہ پڑئیے کہ یہ ایمان ہی لے آئیں آپ تو حکم پہنچا دیجئے اگر نہ مانیں تو چھوڑ دیجئے چاہے سارے دوزخ میں جائیں کس قدر مغز اور پاکیزہ تعلیم ہے اس میں راز یہ ہے کہ کہیں ثمرہ مرتب ہونے کو مقصود نہ سمجھا جائے اس صورت میں کام کرنے والے کو کبھی الجھن نہیں ہوسکتی اور نہ ہمت ٹوٹ سکتی ہے اس کے خلاف میں یہ ہوتا ہے کہ اگر ثمرات کو مرتب ہوتے دیکھا جائے تو کام کرتے رہیں اور اگرثمرات کومرتب ہوتے نہ دیکھا جائے تو ہمت توڑ کے بیٹھ جائیں تبلیغ کرنا خود مقصود مستقل ہے یہی ہمیشہ اپنے بزرگوں کا مسلک رہا اس باب میں ان کی نظر میں ایک ہی ثمرہ تھا یعنی خدا کو راضی کرنا اور یہ ہر وقت حاصل ہوسکتا ہے خواہ تبلیغ مؤثر ہو یا نہ ہو اور اصل بات یہ ہے کہ جو کام اختیاری ہے اس کو تو انسان تکمیل کرسکتا ہے اور غیر اختیاری کی فکر میں پڑکراصل مقصود سے دور جا پرڑتا ہے سو تبلیغ کرنا اختیاری ہے اور ثمرہ مرتب ہونا اختیاری کو کرے غیراختیاری کے درپے نہ ہو ورنہ وہ اختیاری بھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔
(ملفوظ 248) علماء کا اصلاح باطن کے لئے قلیل مدت تجویذ کرنا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل علم سے تعجب ہے کہ وہ بھی اس طریق سے نا واقف ہیں اہل علم اور طلباء کو سخت ضرورت ہے اس فن کے جاننے کی اور ان کی واقفیت کی وجہ سے جاہلوں اور نا اہلوں کو موقع مل گیا مخلوق کے گمراہ کرنے کا اور دوسروں کی فکر اور اصلاح تو بعد میں رہی مگر ان اہل علم کو اپنی خیر تومنانی چاہئے نہ جاننے کی وجہ سے خود انسان بہت غلطیوں میں مبتلا رہتا ہے درسی کتابوں کے پڑھنے میں تو دس برس صرف کردیں گے مگر ( اصلاح باطن کیلئے ) چھ ماہ بھی صرف کرنا مشکل ہے اور بعض تونحو صرف ہی میں تمام عمر صرف کردیتے ہیں مگرمحو کے واسطے ایک منٹ اور ایک سیکنڈ بھی صرف کرنا موت ہے معلوم بھی ہے کہ اس طریق کی حقیقت ہے کیا اسی حقیقت کے حاصل کو فرماتے ہیں
یک چشم زون غافل ازاں شاہ نباشی شاید کہ نگا ہے کند آگاہ نباشی
( ایک پل کےلئے بھی اوس شاہ سے غافل مت ہو شاید کسی وقت نظرعنایت کرے اور بوجہ غفلت کے تم کو خبربھی نہ ہو ۔ )
اوراگر اعتقاد سے نہیں کرسکتے تو بطور امتحان دیکھو اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
سالہا تو سنگ بودی دلخراش آزموں رایک زمانے خاک باش
( برسوں تک پتھر رہ چکا ، آزمائش ہی کے طور پرچندہ روز خاکساری اختیار کرکے بھی دیکھ لو،)
مگر شرط اس کی رفع موانع ہے اسی کو فرماتے ہیں
جملہ اوراق وکتب درنار کن (یعنی کتب مانعہ ) سینہ را از نور حق گلزار کن ،
( جوعلوم طریق حق میں مانع ہیں ان کو آگ لگادو ، اور سینہ کو نورحق سے گلزاربنالو ۔ 12)
اور اسی کو فرماتے ہیں چند خوانی حکمت یونیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں
( یونانیوں کی حمکت کب تک پڑھوگے ایمان والوں کی حکمت بھی پڑدیکھو ۔12)
مگر یہ بدوں کسی کامل کی صحبت کے پیدا ہونا مشکل ہے کسی کی جوتیاں سیدھی کرو اسی کو فرماتے ہیں
بے عنایات حق وخاصاں حق گر ملک باشد سیہ ہستتش ورق
( حق تعالٰی اور ان کے خاص بندوں کی عنایتوں کے بغیر اگر فرشتہ بھی ہے تو اس کا بھی نامہ اعمال سیاہ ہے ۔ 12)
جس کسی اہل محبت اختیار کرو اور اپنا کچا چٹھا اس کے سامنے رکھ دو وہ تم کو منزل مقصود پرلے جائیگا اور دشوار گھاٹیوں سے نہایت آسانی اور سہولت سے نکال لے جائے گا اسی صحبت کو مولانا فرماتے ہیں
قال رابگذراو مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
( قال کو چھوڑ کرمرد حال بن جاؤ، اور کسی مرد کامل کے آگے پامالی ہوجاؤ۔ 12)
باقی بدون راہبر کے اس طریق میں رکھنا سخت خطرہ ہے بڑی ہی نازک راہ ہے اسی کومولانا فرماتے ہیں
یا ر باید راہ راتنہا مرد بے قلاؤ زاندریں صحرا مرد
( راہ سلوک کے لئے رہبرکی ضرورت ہے ، بغیر رہبر کے اس جنگل میں تنہا مت جاؤ ۔ 12)
مگر یہ نہ سمجھا جائے کہ سب کچھ وہی کرے گا یہ بھی آج کل عام غلطی ہورہی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ تم کو تدابیر بتلائے گا اس لیے کہ وہ اس راہ کا واقف ہے وہ اس کو طے کرچکا ہے باقی کا م تم کوہی کرنا پڑے گا اوروہ کام اگرنفس کوشاق معلوم ہوتو اس کا سبب محبت کی کمی ہے ورنہ محبت وہ چیز ہے کہ بڑے سے بڑے مشکل کام کو آسان کردیتی ہے اور یہ سب دشواریاں ہم کو نظر آرہی ہیں وہ نہ ان کے نزدیک کون مشکل ہے پس اپنی قوت کو مت دیکھو ہم ان کے کرم پرنظر کرو پھر خود ہمت قوی ہوجائے گی اسی کو مولانا فرماتے ہیں
تو مگو مارا بداں باز نیست باکریماں کارہا دشوار نیست
( تم یہ مت کہو کہ اس شاہ تک رسائی نہیں ہوسکتی ( وہ کریم ہیں اور) کریموں کے لئے کام مشکل نہیں ہے ۔ ( وہ خود اپنی طرح کھینچ لیں گے ۔ 12)
خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے کرنے کا جو کام ہے وہ ہم کریں اور جوان کے کرنے کا ہے وہ کریں گے اور وہ تو کریم ہیں وہ کیوں نہ کریں گے مگر طلب بھی شرط عادی ہے ورنہ سب وہی بنادیں گے خود کرنے پر یا د آٰیا کہ ایک بزرگ سے کسی نے اولاد نہ ہونیکی شکایت کی اور گنڈا مانگا بذرگ نے کہا کہ گنڈا میں دیتا ہوں مگر پیرجی کے گنڈے ہی پرمت رہنا کچھ کمر کا زور بھی لگانا تو صاحب کم ازکم طلب صادق اور خلوص توہو بدوںن اس کے کام بننا مشکل ہے ۔
(ملفوظ 247)پیری مریدی کی اچھی خاصی دکانداری :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل پیری مریدی کا سلسلہ بھی اچھی خاصی دکانداری ہوگئی ہے میں تواسی وجہ سے بہت کم بیعت کرتا ہوں اگردیکھتا ہوں طلب صادق ہے خلوص سے بیعت کر لیتا ہوں ورنہ صاف انکار کردیتا ہوں طلب صادق ہے خلوص سے بیعت کرلیتا ہوں ورنہ صاف انکار کردیتا ہوں ان دکاندارنا اہل جاہلوں کی بدولت طریق بدنام ہوگیا اب تو خود مرید بھی ایسے پیروں کو ذلیل سمجھنے لگے میں نے ایک حیدر آباد دکن کے رئیس کے متعلق متعلق قصہ سنا ہے کہ ان کے پیر آئے نقیب تک استقبال کیا آداب بجالائے اورلاکرمسند پر، بٹھلایا مؤدب بیٹھے اور بڑی رقم خدمت میں پیش کی ظاہر میں تو یہ ٹیپ ٹلو ااور ادب احترام ، اور باطن میں یہ خیالات مگرایسے بددینوں اورجاہلوں کی یہ ہی گت بننی بھی چاہئے یہ ہی وجہ ہے کہ امراء کی نظر میں اہل دین اوراہل دین کی اوراہل علم کی بالکل تحقیر ہوگئی مگرالحمد اللہ یہاں پرآکرسب کے دماغ درست ہوجاتے ہیں میں جوبعض امراء کے ساتھ خشکی کا برتاؤ کرتا ہوں اس کی یہ ہی وجہ ہے کہ یہ دوسری جگہ کے خراب کئے ہوئے آتے ہیں سب کو ایک سا سمجھتے ہیں میں ان خردماغوں کو یہ دکھلاتا ہوں کہ اہل علم اوراہل دین میں بھی اسپ دماغ ہیں ان کی نبضیں میں اچھی طرح پہنچانتا ہوں اسی وجہ سے بدنام ہوں مگر وہ الزام رتکبر کا ہے تملق کا نہیں سو اس میں مجھ کو ایک خط اور لذت ہے ۔
(ملفوظ 246)حضرت امام ابوحنیفہ کی ذہانت (حکایت )
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امام صاحب کی ذہانت مشہور ہے ایک مرد نے اپنی بیوی سے کہا اگرتومجھ سے صبح تک نہ بولی تو تجھ پرطلاق ہے عورت مرد سے الگ ہونا چاہتی تھی دل میں بڑی خوش ہوئی اس شخص کو بھی فکرہوئی امام صاحب کے پاس جاکر واقعہ عرض کیا آپ نے فرمایا کہ گھبراؤ مت جاؤ ہم کوئی صورت نکادیں گے یہ شخص بہت پریشان تھا کہ امام صاحب نے نہ کوئی مسئلہ بتلایا اورنہ کوئی تدبیر صبح ہونے پر معاملہ ہی ختم ہوجائےگا آخرشب میں امام صاحب نے اس ہی محلہ میں آکر تہجد کے وقت اذان دی یہ عورت سمجھی کہ صبح ہوگئی خوش ہوکر مرد سے بولی پڑی کرلیجئے صبح ہوگئی خدا تعالٰی نے مجھ کو نجات دے دی ۔ مرد بیچارے کی بری حالت ہوگئ صبح کو امام صاحب کے پاس آیا اور واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا کہ یہ تہجد کی اذان تھی صبح نہیں ہوئی تھی چنانچہ اس میں الصلوۃ خیرمن النوم نہیں کہا گیا تب مرد کی جان میں جان آئی اور عورت اپنا سا منہ لے کررہ گئی ایک دوسرا واقعہ ہے ایک مرد نے اپنی بیوی سے قسم کھائی کہ اگرمیں تجھ سے پہلے بولوں تو تجھ پرطلاق ۔ عورت نے قسم کھائی کہا اگر میں پہلے بولوں تو میرا فلاں غلام آزاد اس پرتمام علماء سے رجوع کیاگیا سب نے بالاتفاق یہ ہی کہا کہ دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہوگی یا طلاق یا غلام آزاد امام صاحب سے رجوع کیا فرمایا کہ جاؤ تم بولو کچھ نہ ہوگا اس کوسن کرتمام علماء چڑھ آئے اور سب کو بڑا تعجب ہوا کہ امام صاحب نے یہ فتوٰی کیسے دیا اور آکر پوچھا امام صاحب نے فرمایا کہ مرد کے حلف کے بعد عورت نے کلام میں تقدیم کی ( یعنی جب مرد نے قسم کھائی کہ اگرمیں پہلے بولوں تو تجھ کو طلاق اس پرعورت نے مرد سے کہا کہ اگرمیں پہلے بولوں توغلام آزاد تو مرد کی قسم کے بعد پہلے عورت اس سے بات کہہ کربول چکی لہذا اب جومرد بولے گا وہ عورت سے پہلے نہ ہو لہذا طلاق نہ پڑی اور جب مرد نے بول لیا تب عورت بولے گی تو غلام بھی آزاد نہ ہو ا ) 12۔ اب جومرد بولے گا توحلف کے بعد توتقدیم نہ ہوگی سب کو حیرت ہوگئی ایک اور حکایت ایک طالب علم کی ذہانت کی لکھی ہے کہ ایک حسین جاریہ فروخت ہورہی تھی ایک طالب علم شخص اس کو دیکھ کر عاشق ہوگیا مگر بیچارہ مفلس تھا اتنی وسعت اور قوت نہ تھی کہ زردے کرخرید سکے غضب کی تدبیر کی ایک امیردوست کے پاس پہنچ کر ایک جوڑا ایک گھوڑا عاریت کےکر اور چند دوستوں کے جلوس لے کر بازار کی طرف سوار ہوکر چلا جس سے معلوم ہوا کہ کوئی بہت بڑا رئیس اعظم ہے اس سودا گر کی دکان پرپہنچا اوراس سے اس جاریہ کا سوداگر صرف زر کا مطالبہ کرسکتا ہے اس کی واپسی کی کوئی صورت ہی نہ رہی ذہانت بھی عجیب چیز ہے میں تو کہا کرتا ہوں کہ ذہانت توخدا کی نعمت ہے بشرطیکہ اس کا استعمال محل پر ہو ۔
(ملفوظ 245)ٹین کے سائبان میں نماز کا حکم :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ٹین کے سائبان میں امام کھڑا ہوتو نماز ہوسکتی ہے نمازمیں کوئی نقص تونہیں فرمایا کیوں اس میں شبہ کیوں ہوا شبہ کی وجہ بیان کیجئے عرض کیا کہ چوبی ستون کھڑے کرکے ان میں دروازے محراب کی صورت میں بنائے گئے ہیں ، فرمایا کہ کیا ستون اس قدر موٹے ہیں کہ امام مقتدیوں کو نظر آئےگا عرض کیا کہ ستون تو پتلے ہیں فرمایا کہ پاؤں اگرامام کے باہر ہوں محراب سے توجائز ہے ہاں موٹے موٹے ستون جو ساترد چھپانیوالے ہوں امام کے لئے وہاں کھڑا ہونا نہیں چاہئے ۔
(ملفوظ 244)انگریزی تعلیم کی خرابیاں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ عورتیں آج کل انگریزی پڑھتی ہیں یہ مردوں کے بھی زیادہ آزاد ہوجاتی ہیں وجہ یہ کہ کم عقلی ہوتی ہیں اس لئے زیادہ برباد ہوتی ہیں اور مرد بھی کافی پیمانہ پرانگریزی پڑھ کر خراب ہوجاتے ہیں اسی لئے میں توکہا کرتا ہوں فتویٰ دیتا ہوں کہ جہاں داماد کا حسب نسب دیکھا جاوے وہاں ایمان بھی دیکھا جاوے اب تو وہ زمانہ ہے کہ ایمان ہی لالے پڑگئے یہاں پرقصبہ میں ایک لڑکی ہے اس کا نکاح ایک شخص سے دوسرے قریب کے قصبہ میں ہوا ہے اس شخص کا وعقیدہ سنیے کہتا ہے کہ حضور کو پیغمبر کہنا یہ ایک مذہبی خیال ہے البتہ یہ میں بھی مانتا ہوں کہ وہ بہت بڑے ریفارمرتھے اور جو باتیں اس وقت کے مناسب تھیں حضور نے تعلیم فرمائیں مگر حضور لوگ نادان اب تک بھی ان ہی باتوں کے لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں اور اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں حضور کی توہیں کرتا ہوں نہیں نہیں میں آپ کی بڑی قدر کرتا ہوں مگر نبوت کا خیال یہ محض ایک مذہبی خیال ہے یہ تو خیالات ، اور لڑکی نکاح میں سمجھی جاتی ہے دھڑا دھڑ ہورہی ہے حالانکہ نکاح رخصت ہوچکا یہ ہے اس انگریزی پڑھنے والوں کا رنگ ۔

You must be logged in to post a comment.