ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ زمانہ تحریک بوجہ اہمال احکام کے بڑے فتنہ کا زمانہ تھا میں نے توصاف بزریعہ اشتہاراعلان کردیا تھا کہ یہ تحریک فتنہ ہے اس اعلان ہی کی وجہ سے زیادہ دشمنی لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگئی تھی اس لئے کہ وہ اس کو دین سمجھ رہے تھے میں نے فتنہ کہہ دیا بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ معترضین یوں کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے لاکھوں مخلوق بیٹھی ہوئی ہے میں نے سن کر کہا کہ بلکل غلط ہے میں ہی لاکھوں مخلوق کی مصلحت کی وجہ سے بیٹھا ہوا ہوں اور اس کی شرح یہ ہے کہ اگر بروز قیامت حق تعالٰٰی نے مجھ سے سوال فرمایا کہ جس مسئلہ کوتو سمجھا نہ تھا اس میں کیوں شرکت کی جس کی وجہ سے ہماری لاکھوں مخلوق تباہ اور پریشان ہوئی تو میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں باقی ان عوام شرکاء میں زیادہ وہ لوگ ہیں جن کو نہ عاقبت کی فکر نہ خدا کا دل میں خوف نہ اللہ رسول سے محبت بس ایک ہی چیز دل میں بسی ہوئی ہے یعنی دنیا اور اس کی ترقی ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ترقی کے کچھ حدود بھی ہیں یا نہیں کیونکہ ایسی ترقی کہ جس میں نہ حدود کے تحفظ کا خیال ہو نہ احکام پرعمل کرنے کی کوئی پرواہ ہو ایسی ترقی کیا ترقی ہے میں نے ایک مرتبہ لکھنؤ ایک وعظ میں جس میں نئے تعلیم یافتہ اور بیرسڑ اور وکلاء کا زیادہ مجمع تھا بیان کیا تھا کہ ترقی ترقی گاتے ہو آخراس کے کچھ حدود بھی ہیں اوراس کا کوئی معیار بھی ہے یا نہیں کیا ہرترقی کوگو اس کے نہ اصول ہوں نہ قواعد سب ہی کو محمود سمجھتے ہواگر یہ بات ہے تو پھر مرض کی وجہ سے جو مریض کے جسم پر ورم ہوجاتا ہے جس سے وہ فربہ نظرآنے لگتا ہے ڈاکٹروں اور طبیبوں سے اسکا علاج کیوں کراتے ہو اور اس کو کیوں مذموم سمجھتے ہو وہ بھی تو ایک ترقی کی قسم ہے اس بیان کا ان لوگوں پربڑا اثر ہوا۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 181 ) زمانہ تحریکات میں رحمت خداوندی کا مشاہدہ :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زمانہ تحریک خلافت میں نے توکھلی آنکھوں حق تعالٰٰی کی رحمت اور فضل کا مشاہدہ کیا ہے مجھ کوتو کنکریوں کے بدلے جواہرات عطاء فرمائے گئے ہیں نماز کوئی پڑھے روزہ کوئی رکھے تہجد کوئی پڑھے تلاوت قرآن کوئی کرے اورثواب سب کا ملے اشرف علی کو اس لئے کہ بلاوجہ مجھ کو سب وشتم کیا گیا بہتان باندھے گئے اس کے عوض میں ان کی نیکیاں حق تعالٰی نے مجھ کوعطاء فرمائیں یہی وجہ ہے کہ میں نے سب کومعاف کردیا کیونکہ یہ تو سب میرے محسن ہیں اپنی عبادات کاثوات مجھ کو دیدیتے ہیں لوگوں نے میرا کچھ نقصان نہیں کیا نفع ہی پہنچایا اس کے مناسب ایک بزرگ کی حکایت یاد آئی کہ ان کو ایک شخص گالیاں دیا کرتا تھا یہ بزرگ اس کی مالی اعانت کیا کرتے تھے ایک روز اس نے یہ سمجھ کریہ تومیرے محسن ہیں بری بات ہے کہ میں ان کوگالیاں دوں گالیاں دینی بند کردیں اسی روز سے ان بزرگ نے اس کوجو روپیہ پیسہ دیا کرتے تھے بند کردیا اس نے سبب دریافت کیا آپ نے فرمایا کہ بھائی یہ تو تجارت ہے لینا دینا ہے تم ہم کودیتے تھے ہم تم کو دیتے تھے یعنی تم گالیاں دیتے تھے جس سے تہماری عبادت کا ثواب مجھ کو ملتا تھا تم نے میرے دین کا نفع بند کرلیا میں تمہاری دنیا کا نفع تم سے روک لیا اسی نکتہ کی وجہ سے مجھ پران برا کہنے والوں کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ان کو محسن سمجھتا ہوں صاحب ویسے تو کوئی عمل میرے پاس ہے نہیں یوں ہی دوسروں کے چندہ سے کچھ ذخیرہ آخرت جمع ہوجائے گا دنیوی زندگی بھی اسی طرح پوری ہوئی یعنی مفت خوری میں پہلے تو والد صاحب کی حیات میں ان کی کفالت کی وجہ سے کما کرنہ کھایا پھر معتقدین پیدا ہوگئے اب یہ کھلارہے ہیں میرے پاس کرنا دہرنا کچھ بھی ایسےہی آخرت کے لئے نہ کچھ کرانہ دہرا وہاں بھی مفت ہی کام بن جائےگا ۔
(ملفوظ 180)معصیت کی ظلمت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہتا ہوں کہ معصیت وہ چیزہے کہ اگراس کوکوئ چھپ کربھی کرے تواسکا ضمیرخود اس پرلعنت کرتا ہے اور اس سے اس کو جس قدر تکلیف ہوتی ہے وہ اس کے لئے سوہانے روح ہوتی ہے البتہ اگرکثرت کی وجہ سے کسی کے اندر بے حسی پیدا ہوگئی ہوتو اس کا کوئی ذکر نہیں ورنہ نوراورظلمت میں آنکھیون والے کے لئے امتیاز کرنا کوئی مشکل بات نہیں ۔
(ملفوظ 179) زمانہ تحریکات میں حضرت کو قتل کی دھمکیاں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زمانہ تحریک میں لوگوں نے ستانے میں کون سی کسراٹھا رکھی تھی جوکچھ نہ کہنا تھا کہا جوکچھ نہ کرنا تھا کیا میں تو خدا کے سپرد کرکے مطمئن ہو چکا تھا ایک روز مسلمانوں کی موجودہ حالت کا مجھ پراس قدراثر ہوا کہ کھانا تک تلخ معلوم ہونے لگا اسی روز اپنی ایک حالت کا غلبہ ہوا کہ تمام دنیا ایک طرف جارہی ہے اور اس میں علماء بھی بکثرت شریک ہیں کہٰیں میں ہی تو غلطی پرنہیں اس حالت کا اس قدر غلبہ تھا کہ اس روز کھانا بھی نہیں کھایا گیا عشاء کی نماز پڑھ کرمکان پرپہنچا چارپائی پر بیٹھ کرلیٹنے کا ارادہ تھا کہ دفعتہ زبان پریہ جاری ہوگیا اب چاہے اس کو وارد سے تعبیر کرلیاجائے ۔ امنت بااللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالٰی والبعث بعدالموت ( ایمان لایا میں اللہ پراوراس فرشتوں پر،اور اس کی کتابوں پر،اوراس کے رسولوں پر، اورقیامت پرتقدیر کی ہربھلائی اور برائی پر، کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بعد موت کے اٹھائے جانے پر۔ 12) پرقلب میں ڈالا گیا کہ تم تو بعدالموت کے لئے تیاری کررہے ہوان دنیا کے ذرا سے فتنوں سے کیوں ڈرتے ہو اور مشوش ہوتے بعدالموت جو واقعات پیش آنے والے ہیں ان کے سامنے ان کی حقیقت ہی کیا ہے مثلا جان کندنی ہے قبر ہے ، میدان حشرہے ، میزان عدل ہے ،پل صراط ہے بس اسی وقت قلب کو سکون ہوگیا پھرتوچین سے کھاتا تھا چین سے سوتا تھا یہاں تک لوگوں نے ستانے اور ایذا پہنچانے کی کوشش کی کہ بھنگن تک سے کہا گیا کہ تو اس گھرکمانا چھوڑدے اس نے جواب دیا کہ چاہے تمام قصبہ چھوڑ جائے مگر یہ گھر نہیں چھوٹ سکتا یہ سب خدا کی طرف سے فضل تھا ورنہ عنایت فرماؤں کی عنایتوں کا کوئی حددود حساب ہی نہ تھا اب کیا کہا جائے وہ قصہ ہی ختم ہوچکا غالب نے خوب کہا ہے
سفینہ جبکہ کنارے پہ آلگا غالب خدا سے کیا ستم وجور ناخدا کہئے
میں توسب کو دل سے معاف کرچکا ہوں ہاں جن لوگوں نے ستایا سب وشتم کیا بہتان باندھے ان سے خصوصیت کے تعلقات نہیں رکھ سکتا عام مسلمانوں کا ساتعلق رہے گا دل ملنا مشکل ہے ایک بات ہوتو عرض کی جائے قتل کی دھمکیاں الگ تھی خانقاہ خالی کرانے پرزور دینے کے الگ منصوبے ہورہے تھے نماز پیچھے نہ پڑھنے کا اعلان الگ تھا سی آئی ڈی سے تنخواہ پانے کی شہرت الگ دی جارہی تھی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھ کوکسی کے دروازہ پرجانے کی ضرورت پیش نہیں آئی ان ہی لوگوں کو یہاں پربھیج دیا اور قریب قریب سب نے معافی کی درخواستیں کیں میں نے اس نیت سے سب کو معاف کریا کہ میں بھی اللہ کا قصوروار ہوں شاید وہ بھی مجھ کو معا ف کردیں ۔
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں مخالفین کے متعلق فرمایا کہ بکنے بھی دو جس وقت آنکھیں کھلیں گی اس وقت سب پتہ چل جائےگا اورمجھ کوجوجی چاہے کہیں مجھ پر بحمداللہ کوئی اثر نہیں نہ ان کے جواب کی فکر کہ عبث ہے اوریہ حق تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہے کہ مجھ عبث سے طبعا نفرت ہے بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ س فکر میں پڑنا اچھی خاصی مخلوق پرستی ہے کہ ان بیہودوں کی للو پتو کیا کریں کوئی خوش رہے یا ناراض کوئی معتقد کوئی یا نہ آئے سب برابرہے
حافظ خوب کہتے ہیں
ہر کہ خواہد گو بیاؤ ہر کہ خواہد گو برو داروگیروحا جب ودربان دریں درگاہ نیست
( جس کا جی چاہے آئے اورجس کا جی چاہے چلا جاوے اس درگاہ میں نہ کوئی دربان ہے نہ داروگیر۔ 12)
اہل حق کا کوئی کام مخلوق کے راضی کرنے یا ناراض کرنے کی بناء پرنہیں ہوتا بلکہ ہرکام کی بناء رضا حق ہوتی ہے نہ ان کو مخلوق سے طمع ہوتی ہے نہ ان پرمخلوق کا خوف ہوتا ہے کہ جس کوجہ سے وہ کتمان حق کریں بلکہ اس بارہ میں خود ان کی یہ شان ہوتی ہے جس کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
ہیت حق است ایں ازخلق نیست ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست
( یہ ہیبت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے مخلوق کی نہیں ۔ نہ اس گڑری والے کی ہے ۔ 12)
ان کی نظروں میں مخلوق کی وقعت ہو ان کے دل میں ان کے خوف کیا ہوسکتا ہے اور ان کے دکھلانے یا راضی کرنے کے واسطے ان کیا کام ہوسکتا ہے وہ بدون کس خوف کے لایخافون لومتہ لائم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے ، پرعمل کرتے ہوئے صاف اظہار حق کرتے ہیں اور وہ خدا سے کام رکھتے ہیں مخلوق کے جھاڑو مارتے ہیں اور ان کی یہ شان ہوتی ہے
خلق میگوید کہ خسرو بت پرستی میکند آرے آرے باخلق و عالم کارنیست
(مخلوق کہتی ہے کہ خسروبت پرستی کرتا ہے ، ہاں ہاں کرتے ہیں کرے کوئی کیا کرے ہمارا معاملہ اللہ تعالٰی سے ہے ، مخلوق وغیرہ سے نہیں کوئی کام نہیں ۔ 12)
(ملفوظ 178)تھانہ بھون میں بہت سے صاحب کمال پیدا ہوئے :
ایک سلسلہ گفتگو میں حضرت والا نے چند مہمانوں کو جوپورپ کی طرف کے رہنے والے تھے اپنی طرف متوجہ کرکے فرمایا کہ دیکھئے یہ توہماری حالت ہے کہ الحمداللہ اپنے بزرگوں کا نہایت درجہ کا ادب احترام کرتے ہیں مگر پھر بھی کانپور میں مخالفین نے یہ مشہور کیا ہے کہ میں نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حجرہ کا پاخانہ بنوایا میں نے سن کرکہا کہ یہ صغری ہے اور کبری کیا ہوا وہ یہ کہ جوحجرہ کا پاخانہ بنوائے وہ عاصی ہے سو اس کبری کی کیا دلیل ہے شریعت میں اس میں کیا قباحت ہے محبت اورادب تو اور چیز ہے میں تو یہ پوچھتا ہوں کہ شیریعت کا کیا حکم ہے یہ بتلاؤ فتویٰ دو اور واقعہ یہ ہے کہ میں نے پاخانہ کا حجرہ بنوایا ہے حجرہ کا پاخانہ نہیں بنوایا پہلے آدمی تحقیق کرلے یہ فرمایا کہ حضرت والا ان مہمانوں کو ہمراہ لے کر اس مقام پرتشریف لے گئے اور اس مقام کا نقشہ سمجھا یا کہ یہ ہے وہ مقام یہ جگہ پاخانہ کی حد میں تھی مگر اس جگہ کونجاست سے کوئی تعلق نہ تھا اس لئے قد مچوں کی جگہ پراتنی کرسی دیدی گئی کہ وہ جگہ دفن ہوگئی اب اس کو داخل حجرہ لرلیا گیا ہے جس کو آپ لوگ دیکھ رہے ہیں یہ حقیقت ہے اس واقعہ کی جس کو اس طرح مسخ کیا ہے اسی واسطے میں کہا کرتا ہوں کہ بدعتیوں میں دین نہیں ہوتا اور دین کی باتوں کی وہابیت کہتے ہیں اسی بناء پرمولانا فیض الحسن صاحب مرحوم نے وہابی بدعتی کی عجیب تفسیر کی تھی کہ وہابی کے معنی ہیں بے ادب باایمان اور بدعتی کے معنی ہیں با ادب بے ایمان ۔
(ملفوظ 177)حضرت حکیم الامت کا بزرگوں کا بے حد احترام فرمانا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تھانہ بھون ہے چھوٹی جگہ مگر اس میں بڑے بڑے صاحب کمال گذرے ہیں دین کے اعتبار سے بھی اور دنیاوی فنون کے اعتبار سے بھی وہ لوگ جنہوں نے یہان کی تعمیرات بنوائیں یہ سب مقربان شاہی میں سے تھے اس لئے تعمیرات بھی شاہی نمونہ کی بنوائی گو جگہ تویہ ہمیشہ چھوٹی ہی رہی گی مگر طرزوہی رہا جو شاہی تعمیرات کا تھا چنانچہ شہر پناہ کی فیصل بھی تھی دروازے بھی تھے ان دروازوں کے الگ الگ نام تھے بعض بزرگوں نے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں آبادی اس کی اڑتالیس ہزار تھی مگرعذر سے قبل بھی چھتیس ہزار رہ گئ تھی اور گھٹتے گھٹتے اب قریب سات ہزارکے ہے آبادی کا طریق پرہے ہندو الگ مسلمان الگ پھرہندوں بھی قانون کو الگ بنئے الگ پرہمن اسی طرح چھوٹی قومیں بھی الگ گگ اور اسی طرح کی مسلمانوں کی آبادی ہے کہ شیوخ الگ سادات الگ راجپوت الگ البتہ اب کچھ گڑبڑ ہوگئی ہے یہاں پرایسے ایسے اہل کمال لوگ تھے ایک شخص تھے عبدالرحمن چابک سواری کا کام کرتے تھے ایک بنئے سے اس گھوڑا سیدھانے پرپانچ سو ورپیہ ٹھرے مگر اس نے براہ عہدی صرف تین سوہ روپیہ دینا چاہا انہوں نے مجبور ہوکر تین سو ہی روپیہ ٹھرے مگر اس نے براہ عہدی صرف تین سوہ روپیہ دینا چاہا انہوں نے مجبورہوکر تین سو ہی روپیہ کے کر دعاء دی اور کہا کہ لالہ جی آپ نے بڑی قدردانی کی گووعدہ خلافی کی مگر خیر اچھا لاؤ کیا یاد رکھو گے گھوڑے میں ایک ہنر رہ گیا ہے لاؤ وہ بھی سکھلادوں لالہ جی بہت خوش ہوئے کہ بڑا سستا کام ہوگیا اورمکمل ہوگیا اور گھوڑا سپرد کردیا یہ لے کرچلے آئے اور وہ ہنر سکھا کرسپردکر آئے وہ ہنر کیا تھا جوسکھایا کہ جس وقت لالہ سوارہوکر کہیں کوجائیں تو گھوڑا سیدھا گاؤں قصاب کی دکان پرپہنچاتا اور جب تک لالہ گوشت نہ خیرید لیں دکان سے نہ ہٹتا آخر مجبور ہوکر لالہ جی نے کہا کہ میاں صاحب وہ دوسو بھی لے لو اور چاہے دس بیس اوپرلے لو مہربانی کرو بڑا عجیب ہنرسکھایا ہے اس ہنرکو نکالو کہا کہ لاؤ بقیہ دوسوروپیہ گن دو لالہ جی نے ادا کردیئے انہوں نے ایک ہی دن میں یہ عادت گھوڑے کی چھوڑا دی ایک اور حکایت ہے کہ ایک شہسوار کہیں باہر سے آیا اپنے فن میں بڑاکمال رکھتا تھا ان عبدالرحمن سے اظہار کمال میں اس کا محیط 72 ہاتھ کا ہے ایک شہتیربچھوا کراس پرسے علی التعاب گھوڑوں کو گذارا جائے چنانچہ اول اس مسافر شہسوار نے اس پراپنا گھوڑا چڑھادیا اب بیچ کنویں پردونوں گھوڑے منہ ملائے اس شہتیر پرکھڑے ہیں میاں عبدالرحمن نے اس شہسوار سے کہا کہ اب دونوں کے عبور کی توکوئی صورت نہیں یہی ہوسکتا ہے کہ دونوں گھوڑوں کو لوٹاؤ مسافر نے کہا کہ میں تواتنا کمال نہیں رکھتا کہ میں گھوڑے نے فورا اپنے دونوں اگلے پیراٹھا کراور پچھلے دونوں پیرپرگھوم کرپشت کی طرف منہ کراور شہتیر سے گذر کرکنوئیں سے الگ جاکر کھڑا ہوا اس کمال پرلوگوں کو حیرت ہوگئی واقعی تھی بھی بڑے کمال کی بات ۔
(ملفوظ 176 )آنکھ بند کرکے نماز پڑھنا خلاف سنت ہے :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نماز آنکھیں بند کرکے پڑھنا جائز ہے یا نہیں فرمایا کہ اگر تحصیل خشوع کے لئے ہوجائز لکھا ہے مگرسنت یہی ہے کہ آنکھ کھول کرپڑھے گو اجتماع خواطر میں کمی ہوجو کہ غیراختیاری ہے غرض آنکھ بند کرکے نماز پڑھنا خلاف اولی ہوگا عرض کیا کہ ذکر میں تو آنکھ بند کرناخلاف اولٰی نہ ہوگا فرمایا نہیں نماز میں آنکھ بند کرنے کے متعلق ایک عجیب حکایت یاد آئی ہمارے حضرت کے مخصوصین میں سے ایک صاحب کشف نے تکمیل خشوع کے لئے آنکھ بند کرکے نماز پڑھی پھر بعد فراغ نظر کشفی سے اس طرف توجہ کی تونماز مکثوف ہوئی نہایت حسین صورت میں دیکھا کہ اندھی ہے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے اجمالا عرض کیا کہ میں نے نہایت خشوع کے ساتھ پڑھی تھی مگر یہ صورت نظرآئی حضرت نے فورا فرمایا کہ آنکھ بند کرکے نماز پڑھی ہوگی عرض کیا جی فرمایا کہ یہ فعل سنت کے خلاف کیا یہ اس کے سبب سے ہوا انہوں نے دفع خطرات کی مصلحت بیان کی اس پرفرمایا کہ اگر آنکھ کھول کے نماز پڑھتے اور اس میں خطرات کی مصلحت بیان کی اس پرفرمایا کہ اگر آنکھ کھول کے نماز پڑھتے اور اس میں خطرات آتے وہ نماز افضل واکمل ہوتی اس آنکھ بند کرکے پڑھنے سے جس میں نہ خطرات آئے اور نہ انتشار ہوا شیخ ایسا مبصرہ ہوا چاہئے اس مبصرہ ہونے پر ایک دوسرا واقعہ بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے شکایت کی کہ ذکرپورا نہیں ہوتا شروع کرنے ہی قلب پربے حد ثقل
ہوتا ہے زبان بند ہوجاتی ہے فرمایا کہ یہ ثقل وہ ثقل ہے جو حضورﷺ کووحی کے وقت ہوتا تھا اپ پرعلوم نبوت فائض ہوتے ہیں کیا عجیب اورغامض تحقیق ہے ۔
(ملفوظ 175)مدرسہ کی مادی ترقی کی مثال :
ایک سلسلہ گفتگو میں ایک مدرسہ کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ جب کوئی مریض اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کی صحت اورحیات سے مایوسی ہوجائے تو اس کو خدا کے سپرد کردیا جاتا ہے اور پرہیز توڑوادیا جاتا ہے تویہ مدرسہ اسی درجہ تک پہنچ گیاہے اس کی روح ختم ہو چکی ہے گومادی ترقی بھی ہو اسی مضمون کے متعلق میں نے فلاں بزرگ مہتمم مرحوم سے کہا تھا کہ اگر مدرسہ ان مفاسد کے ساتھ باقی بھی رہا اور مادی ترقی بھی کی اور ورح باقی نہ رہی تو اس کی ترقی اس حالت میں ایسی ترقی ہوگی جیسے مرنے کے بعد لاش پھول جاتی ہے مگر تھوڑے ہی دنوں میں پھٹ بھی جاتی ہے اس وقت تماشا ہوگا کہ محلہ بھرکو کیا بلکہ بستی تک کو اوربستی سے بھی آگے بڑھ کر قرب وجوار کو بدبو سے خراب کرے گی ہاں اگرروح باقی ہو اور ساتھ ہی مریض کا جسم کمزور اور لاغر ہوگیا ہو تو اس کا علاج ہونا بھی ممکن اور ایسا فربہ اور موٹا محمود ہے نہ کہ آماس کی فربہی ۔
(ملفوظ 174)نری عقل طریقت میں راہزن ہے :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عشاق سے عرفی عقل کو سو دور بھاگتی ہے نری عقل اس راہ میں راہزن ہے جب تک محبت نہ ہو نری عقل سے کیا کام چلتا ہے یہاں تو دیوانہ ہوکر چلنے کی ضرورت ہے اور اس دیوانہ کی یہ شان ہوتی ہے فرماتے ہیں
باز دیوانہ من اے طبیب باز سودائی شدم من اے حبیب
( سب کچھ دیکھنے کے بعد اے طبیب میں پھر دیوانہ ہوگیا ،اور اے محبوب میں پھر تیرا ہی سودائی ہوگیا ہوں )
اس عقل کو تو شریعت کے تابع رکھنا چاہئے جب تک شریعت کے تابع ہے خیر ہے ورنہ یہی وبال جان ہے ایسی ہی عقل کے متعلق فرماتے ہیں
از مودم دور اندیش را، بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را
( میں عقل دوراندیش کو آزمانے کے بعد دیوانہ بنا ہوں ۔12)
14/ ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہارم شنبہ
(ملفوظ 173) محبت اور عشق میں علم اور عدم علم کی قید نہیں:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محبت اور عشق کی شان ہی جدا گانہ ہے اس میں رسمی علم اور عدم علم کی قید نہیں مدینہ طیبہ میں ایک ترکی صاحب طریقت تھا ذاکرتھا کسی باطنی مقام پرالجھ گیا اس لئے مزار مبارک پرکھڑا ہوا عرض معروض کیا کرتا تھا مگر کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوئی اسی دوران میں ایک بدوی مزار مبارک پرحاضری ہوا اورنہایت بیبا کا نہ عرض کیا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ نبی ہیں اور امت پرشفیق ہیں اگر صحیح ہے تو ہمارے یہاں خشک سالی ہے اس کی وجہ سے پریشانی کی حالت ہے بلکل بارش نہیں آپ دعاء فرمائیں اگر بارش ہوگئی تو ایک مشکیزہ گھی کا آپ کی نذر کروں گا یہ گستاخانہ معروض مسجد شریف کے محافظ لوگ سن کرچھڑیاں لے کر مانے کودوڑے وہ بھاگ گیا جب مسجد سے باہر گیا تو وہ گاؤں کے قریب تھا اس نے دیکھا کہ بدلی کا ایک ٹکڑا اس بستی کی طرف چھایا ہوا ہے وہ بارش ہورہی ہے تو کہتا ہے کہ واقعی حضور نبی ہیں اور سچے نبی ہیں اورامت پر شفیق ہیں خود نادار تھا مگر کسی سے قرض لے کر گھی کا ایک مشکیزہ خرید کر پھر مزار شریف پراور ادھر ادھر نطر بچاکر مشکیزہ مزار مبارک پر لگا کر گھی بہا کر بھاگ گیا کیا چیز تھی اس کے قلب کے اندر اللہ اکبر یہ تواس عامی بیعلم کا حال تھا اب اس ترکی کی سنئے جو صاحب طریقت تھا کہ یہ رنگ دیکھ کر شکایت اور ناخوشی ظاہر کرکے یہ کہہ کرچل دیا کہ آپ میں بھی حمیت قومی تھی عربی کا کام ہوگیا اور ترکی کا نہ ہوا ۔

You must be logged in to post a comment.