ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس بدفہمی اور بدعقلی کا میرے پاس کیا علاج ہے کہ ہرایک شخص کو اس کے کام سے میرے جلد فارغ کردینے پربھی سمجھتے ہیں کہ یہ روکھا پن ہے کیونکہ زیادہ باتیں کیوں نہیں کیں جس کی وجہ یہ ہے کہ میں کسی سے فضول تعلقات بڑھانا محض مجلس کی وزینت ہے سویہ کام کون کیا کرے بعض طالبان جاہ آنے والوں کے کام میں اس وجہ سے بھی دیرکیا کرتے ہیں کہ تھوڑی دیرمجلس آرائی توہوگی رونق بڑھیگی مگر مجھ کو ان باتوں سے طبعی نفرت ہے ۔ ظاہری رونق نہ ہونے کی حالت میں جوباطنی رونق ہوتی ہے اس سے ان لوگوں کا قلب خالی ہے جب ہی توایسی باتیں سوجھتی ہیں میں توبڑی رونق یہ جانتا ہوں اوریہی چاہتا ہوں کہ ایک دوسرے کوکوئی تکلیف نہ ہو اور یہ مذہب ہو۔
بہشت آنجاکہ آزارے نباشد کسے را با کسے کارے نباشد
( وہی جگہ بہشت سے جہاں کسی کوکسی سے کوئی تکلیف نہ ہو اور کسی کوکسی کی احتیاج نہ ہو)
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 191)تعویذ منگوانے والے کی بدفہمی :
فرمایا کہ آج ایک خط آیا تھا دوپہرہی جواب لکھ کرروانہ کرچکا ہوں اس میں لکھا تھا کہ ایک آسیب کا تعویذ چاہئے لیکن لفافہ پرنہ خود پتہ لکھا نہ اس پرٹکٹ چسپاں کیا اس بدفہمی کو ملا حظہ فرمایئے اب کہاں تک بیٹھا ہوا ان کی کوتاہیوں کی تاویلیں کیا کروں کوئی حد بھی ہے پتہ لکھنا اور ٹکٹ چسپاں کرنا یہ میرے ذمہ رکھا میں نے یہ لکھ دیا ہے کہ تم پرخود آسیب ہے جس نے تمہارے دماغ کو محبوط کررکھا ہے پہلے اپنا علاج کرو تمہیں ااتنی تمیز نہ ہوئی کہ جب تم لفافہ پر پتہ لکھ سکتے تھے ٹکٹ چسپاں کرسکتے تھے تو ایسا کیوں نہیں کیا جب تم نے اپنے کرنے کا کام نہیں کیا تومجھ سے کسی کام کی امید کرنا یہ کم عقلی اور ندفہمی نہیں تواور کیا ہے اس کے بعد فرمایا کہ گالیاں توبہت دیں گے خیردیا کریں آخرایسی حماقت کرتے کیوں ان بیفکروں کو ذرا حقیقت کا پتہ توچلے اور یہ تومعلوم ہوکہ جس سے خدمت کیا کرتے ہیں اس کی بھی کچھ رعایت کیا کرتے ہیں اور اس کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں ۔
(ملفوظ 190)مشورہ دینے سے معذوری کا سبب:
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مشورہ دینے کے متعلق میرا یہ معمول ہے کہ اکثر لوگوں کے سوال کے جواب میں لکھ دیتا ہوں کہ مصالح کا استیعاب (احاطہ ) نہیں جومدار ہوتے ہیں مشورہ کے اس لئے دینے سے معذور ہوں ۔
(ملفوظ 189)خواب کے بارے میں لوگوں کا غلو:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگوں کو بڑا مرض ہے ان میں سے ایک خواب ہی کا سلسلہ ہے اس میں اکثر لوگوں کو غلو ہے میں تواکثر جواب میں لکھ دیتا ہوں کہ مجھ کو اس فن سے مناسبت نہیں اس لئے تعبیرسمجھ میں نہیں آئی خواب کی باتیں پوچھتے ہیں بیداری کی کوئی بات ہی نہیں رہی جواصل چیز ہے کیا خبط ہے ۔
(ملفوظ 188)مشورہ لینے والوں کی دو قسمیں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل بزرگوں سے مشورہ لینے والے اکثر دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جن کے عقیدہ میں غلو ہے وہ ان کے مشورہ کو قضاء مبرم سمجھتے ہیں کہ جوبزرگ کی زبان سے نکلے گا وہی ہوگا گو اس کو برکت کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں مگر عقیدہ برگت سے بہت آگے بڑھا ہوا ہے اورایک وہ ہیں کہ پہلے سے اس بات کو طے کرچکتے ہیں اورمشورہ محض اس وجہ سے لیتے ہیں تاکہ رائے تو اپنی رہے مگر کسی مصلحت سے ان کی طرف منسوب ہو اس لئے میں نے مشورہ دینا ہی چھوڑدیا ۔
(ملفوظ 187)چشتیہ کا پہلا قدم فنا ہے :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اکثرلوگوں کی عادت ہے کہ سفرکے وقت عمدہ کپڑے بدل کرچلتے ہیں اور بعض گھرپہنچ کر بدلتے ہیں فرمایا کہ جس طرح جی چاہے کرلے مگردونوں صورتوں میں منشا تفاخرو کبرنہ ہو اور بھائی ہم تو چشتی ہیں ہمارا تو پہلا قدم فناء ہے اوروں کے یہاں تو پہلے اور چیزیں ہیں بعد میں فنا ہے اور ہمارے یہاں پہلے فنا ہے بعد میں اور چیزیں ہیں ۔
(ملفوظ 186) یورپ کی تقلید اور تہذیب اختیار کرنے پراظہار افسوس :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زیادہ زیب وزینت کا صدور مرد سے برا ہے یہ عورتوں ہی کے لئے اچھی معلوم ہے اور اب تو وہ زمانہ ہے کہ عورتوں نے یورپ کی تقلید میں زیور اور لباس میں مردانہ طرز اختیار کرلیا اورمردوں نے زینت میں عورتوں کا طرزاختیار کرلیا عورت اگر آدھ گھنٹہ میں سنگار سے فراغ حاصل کرسکتی ہے تو مرد صاحب فیشن کی درستی سے ایک گھنٹہ میں فراغ حاصل کر سکیں گے پھر کہتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں ہزاروں زنجیروں میں توجکڑے ہوئے فیشن کے دلدادہ اور آزادی کا دعوی شرم آنا چاہئے اتنی بڑی تو قید کہ سرسے پیر تک قیود ہی قیود اور دعوٰی یہ کہ آزاد ہیں ہاں اللہ رسول کے احکام سے آزادی کا اگر دعوی کریں تو بلکل صحیح ہے دوسرے خوش لباسی میں غلو کا ادنی اثریہ ہے کہ عالی مرتبہ لوگوں کی نظر میں موجب تحقیر ہوجاتی ہے ایسی فضولیات اور عبث میں وہی شخص مبتلا ہوسکتا ہے جوکمالات سے کورا ہو بس اسی سے تحقیر ہوتی ہے میں جس وقت کسی کو ایسے تکلفات میں منہمک دیکھتا ہوں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ عالی خیالات سے خالی ہے جب ہی توان ادنی باتوں کی طرف اس کا میلان ہوا مگرآج کل یہ مرض اچھے لوگوں تک میں ہوگیا ۔
(ملفوظ 185)لوگوں کی بے پرواہی کا سبب :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس پرقدرت توہے کہ میں نئے آنے والوں سے خود اہتمام کرکے پوچھ لیا کروں کہ کس کام کوآئے ہیں مگر بعض اوقات غیرت آتی ہے کہ صاحب حاجت تو نواب بنا بیٹھا رہے اور میں محتاجوں کی طرح ان سے التجا کروں اور لوگوں کی اس بے پرواہی کا سبب ان کے دلوں میں ملانوں کی بے وقعتی ہے بات توبظاہر چھوٹی سی ہے مگر منشاء اس کا برا ہے اور منکربات کے چھوٹی ہونے کی مثال ایسی ہے کوئی شخص چھوٹا سا پرانی جوتی کا ٹکڑا اٹھا کر کسی دوسرے شخص کے سرپر رکھ دے اور وہ اس پربگڑے تو اس کو کوئی کہے کہ یہ چھوٹی سی چیز ہے اس قدر کیوں بھگڑتے ہو وہ شخص جواب دے گا وہی ہماری طرف سے سمجھ لیا جائے اور میں پوچھتا ہوں کہ اچھا چھوٹی ہی بات سہی مگر آخر پیدا ہی کیوں ہوئی اور حق ہی کیا ہے ان بیہودوں کو مسکینوں غریبوں ملانوں کو حقیر سمجھنے کا ۔
(ملفوظ 184)قنوت نازلہ ایک ماہ تک پڑھنے کا جواز :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں مدت سے خود اس مسئلہ کی تلاش میں تھا کہ قنوت نازلہ اگرپڑھے توکب تک پڑھا کرے بہت سے علماء سے دریافت کیا کسی نے شافی جواب نہیں دیا اب بحمداللہ حدیث سے سمجھ میں آگیا کہ حضورﷺ سے ایک ماہ سے زائد منقول نہیں حالانکہ حوادث بعد میں بھی باقی رہتے تھے اس سے زیادت زیادت علی المنقول ہے رہا یہ شبہ کہ جب حوادث رفع نہ ہوں تو دعاء کیسے منقطع کردی جاوے اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ہی مہینہ تک پڑھنے کی برکت سے ان شاءاللہ رحمت ہوجائے گی نیز عقلا اس کو اس طرح سمجھ لیجئے کہ اگر کسی پرکوئی حادثہ آجائے تو کیا جب تک وہ حادثہ رہے برابر ہاتھ پھیلائے بیٹھا رہے یہ تکلیف مالایطاق کیسے ہوسکتی ہے آخر انقطاع گواوقاب خاصہ کے لئے یہاں بھی پایا گیا تو نفس انقطاع کی مشروعیہ ثابت ہوگئی باقی ویسے مثل دوسری دعاؤں کے دعاء کرتے رہنا مسنونہ ہے کلام دعا بضمن قنوت میں ہے ۔
14/ ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چارشنبہ
(ملفوظ 183)زمانہ تحریکات وفودتھا نہ بھون سے سکوت لے کرگئے :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بہت لوگوں نے اس زمانہ تحریک میں تبادلہ خیالات کے لئے یہاں پرآنا چاہا اوربعضے آئے بھی مگر بحمداللہ کچھ دے کرتوگئے نہیں ( یعنی تحقیق ) لے کرہی گئے ( یعنی سکوت ) بعض وفود بھی آنے کیلئے تیارہوئے چنانچہ میرٹھ سے ایک وفد آنے والا تھا بیرسڑ وغیرہ اس کے ارکان تھے کسی نے ان سے کہ دیا کہ جاتورہے ہو دوسرے کو جذب کرنے کے لئے مگر ذرا اپنی خیرمنانا کہیں وہاں جا کرتم ہی ویسے نہ ہوجاؤ نہ معلوم اس مشورہ کا کیا اثر ہوا پھر نہیں آئے ایک سندھی مولوی صاحب نے جوان سے مرید تھے ان سے کہا کہ حضرت کبھی آپ ہی ویسے نہ ہوجائیں وہ بھی نہ آئے ایک اور مولوی صاحب نے ایک مجمع کی طرف سے آئے آنے کے قبل بواسطہ ان سے یہ گفتگو ہوچکی تھی کہ اپنے کی تین غرضیں ہوسکتی ہیں ایک افادہ ایک استفادہ ایک مناظرہ ۔ اگرافادہ مقصود ہے تومیرے ذمہ اس کا جواب نہ ہوگا وہ تبلیغ ہوگی اپنا فرض ادا کرکےتشریف لے جایئے عمل کرنا نہ کرنا میری توفیق پرہے اور اگر استفادہ مقصود ہے تو اس کے لئے پہلے سے تردد لازم ہے اور تردد آپ کوہے نہیں اس لئے کہ شرکت کرچکے شرکت کا اعلان کرچکے یہ شق قایل کو تسلیم نہیں رہا مناظرہ اس میں بے تکلفی شرط ہے سو مجھ میں اورآپ میں پہلے سے بے تکلفی نہی وہاں سے جواب آیا جو چاہو سمجھو آنے کی اجازت دیدو میں نے اجازت دے دی وہ آئے اور درخواست کی کہ مجھ کو تنہائی میں کچھ کہنا ہے میں نے کہا کہ جلوت میں گفتگو کرنے میں تو آپ کے لئے خطرہ ہے کہ آپ کے اسرار ظاہر ہوں گے مگر آپ اس خطرہ کیلئے تیار ہیں اور خلوت میں میرے لئے خطرہ ہے کہ مجھ پراشتباہ ہوگا مگر میں اس کے لئے تیار نہیں پس آپ کے لئے خلوت اور جلوت دونوں برابرہے کیونکہ آپ اعلان کرچکے ہیں توپوں فوجوں بندقوں مشین گنوں اور جیل خانوں کیلئے تیار ہوچکے ہیں مگر میرے لئے خطرہ ہے وہ یہ کہ سمجھا جائے گا کہ گورنمنٹ کے خلاف کوئی سازش کرنے کا ارادہ ہے اس لئے جوکہنا ہو مجمع میں کہئے بس بیچارہ رہ گئے اگے طویل قصہ ہے میں نے اس کا خلاصہ عرض کیا ہے اللہ کا شکر ہے کہ اپنے فضل سے عین وقت پردل میں ضرورت کی چیز ڈال دیتے ہیں اس میں میرا کوئی کمال نہیں جس سے چاہے اپنا کام لے لیں اس ہی زمانہ تحریک میں ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ اگر مسڑمحمدعلی صاحب یہاں پر آئیں توکیا ان کو اجازت ہوسکتی ہے میں نے کہا کرآنکھوں پرآئیں مگر چند شرائط ہیں پہلے سے اس لئے ظاہر کئے دیتا ہوں کبھی آنے کے بعد ان کو خیال ہوکہ کس دیہاتی سے پالا پڑا اس لئے جوباتیں ضروری ہیں صاف صاف کہے دیتا ہوں اول شرط یہ ہے کہ آنے سے پہلے مجھ کو یہ بتلادیں کہ کس غرض سے آرہے ہیں آیا مطلق ملاقات مقصود ہے یا کہ اور کچھ اگر مطلق ملاقات مقصود ہے تو شرائط میں کمی ہوگی ورنہ شرائط زائد ہونگی اور میں اسی وقت وہ بھی بیان کئے دیتا ہوں تاکہ وہ غور کرسکیں پھر جیسے رائے ہو عمل کریں سو اول شرط ہے کہ آنے سے قبل آنے کی غرض بتلادیں ، دوئم یہ کہ جس وقت وہ یہاں پر آئیں گے میں ان کےلئے بجز اول بارکے باربار کھڑا نہ ہونگا اس لئے کہ اس طرح سے کھڑا ہونا اعتقاد تقدس کی بناء پرہوتا ہے اور میں اس میں ان کا معتقد نہیں سوئم یہ کہ زمانہ قیام خانقاہ میں ان کو اور کسی سے گفتگو کی اجازت نہ ہوگی جو کچھ بھی تعلق ہوگا وہ مجھ سے ہوگا یہ ہیں شرائط اگر یہ منظور ہوں بسم اللہ ان کا گھر ہے تشریف لے آویں اس کے بعد پھر کوئی بات نہیں معلوم ہوئی ۔

You must be logged in to post a comment.