(ملفوظ 162)مواعظ وتصانیف پرحق تعالٰٰی کاشکر :

حضرت والا کے رسائل اورمواعظ کا ذکرتھا فرمایا کہ مجموعہ مواعظ اور رسائل کی تعداد اس وقت بفضلہ تعالٰی پانچ سواکیاون (551) ہے پھر فرمایا بہشتی زیور کے گیارہ حصہ ہیں یہ سب مل کر ایک ہی رسالہ ہے اسی طرح تفسیر بیان القرآن کی بارہ جلدیں مل کرایک ہی کتاب ہیں اس طرح پر اس قدر مجموعی تعداد ہے اللہ تعالٰٰی کا فضل ہے کہ اس قدر کام لے لیا ورنہ مجھ میں اتنی قابلیت کہاں تھی اس کے بعد 1357ھ کے وسط تک پوری ساڑھے سات سوتصانیف ہوگئیں والحمداللہ )

(ملفوظ 161 ) ادائیگی قرض کے لئے وظیفہ :

ایک صاحب نے سوال کیا کہ میں قرض دار ہوں دعاء فرمادیجئے اور کچھ پڑھنے کو بتلادیجئے فرمایا کہ یا مغنی بعد نماز عشاء گیارہ سو بارپڑھا کرو اول وآخر گیارہ بار درود شریف یہ عمل حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے ۔

(ملفوظ 160)اکبر بادشاہ کوساتھی بددین ملے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکبرشاہ کو جیسے عاقل لوگ ملے اگرایسے لوگ عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ کو ملتے تو نہ معلوم ان کا ملک کہاں تک پہنچتا اب تو عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ نے خود ہی کیا جو کچھ کیا باقی اکبر کوبھی بددین ملے نیک نہ ملے اس لئے کوئی نفع نہیں ہوا ۔

(ملفوظ 159 ) تعلقات بڑھانے کی خرابیاں :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اکثر خرابیاں تعلقات بڑھانے کی ہیں ان کوکم کرنا چاہئے میں نے تو صرف ایک تعلق کو مستثنٰے کیا ہے یعنی تصنیف کے کام کو کہ اس سےخود کو بھی نفع ہے اوردوسروں کوبھی نفع پہنچتا ہے اسی لئے علماء کا قول ہے کہ طول امل (لمبی لمبی امیدیں باندھنا ) ہرچیز میں برا ہے الافی العلم ( مگرعلم میں ) یہ استثناء اس لئے ہے کہ یہ آلہ ہے دین کا اورطول امل کی ممانعت ہے آلات فی الغفلت میں نیزیہ علم معین ذکر ہے ذکراللہ میں جو کہ مقصود طریق ہے اور اپنے قوٰی کودیکھ کرکچھ روزسے یہ بھی چاہ رہا ہوں کہ تصنیف بھی بند کردوں مگرمیں اس سے بھی ڈرتا ہوں کہ کہیں ذکرکے لیے بھی قلب خالی نہ ہو اور تصنیف بھی نہ رہے اگر ایسا ہوا تواورکچھ اعمال توہیں نہیں شاید یہی عمل قبول ہوجائے کہ تصنیف سے کوئی نیک بندہ منتفع ہو اور وہی ذریعہ نجات ہوجائے اس لئے میں اس عارض کی وجہ سے اس کو ذکر سے افضل سمجھتا ہوں گو فی نفسہ افضل تو وہی ذکرہے اب رہا یہ کہ تصنیف اعمال متعدیہ میں سے ہے اور اس میں مشغول ہونا افضل ہے یا اعمال لازمہ میں سو عقل تو اعمال متعدد ہی کوترجیح دیتی ہے مگر طبیعت مذاق اعمال لازمہ کو ترجیح دیتا ہے ۔

(ملفوظ 158 )تعلقات اورمشاغل غیرضروری کو ترک فرمانا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تعلقات اور مشاغل غیرضروری کو سب کو قطع کردیا البتہ جوضروری ہیں وہ مستثنٰے ہیں اب میں اس کا لوگوں کوکس طرح یقین دلاؤں یہ وجدانی اورذوقی بات ہے کہ ان حضرات کو کسی چیزسے دنیوی محبت نہیں البتہ ضرورت کا اور شفقت کا تعلق ہے میں نے ایک تذکرہ میں دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین کو گود میں لئے بیٹھے تھے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے فرمایا ہاں کہا کہ اور بھائی سے بھی فرمایا ہاں پوچھا اوراماں سے بھی فرمایا کہ ہاں ، کہاں کہ دل کیا ہے سرائے ہے ایک کوٹھری میں ایک مسافر پھرپوچھا کہ اگرآپ کو اختیار دیا جائے کہ یا تو خدا اور رسول سے تعلق رکھا جائے یا گھروالوں سے اس وقت آپ کیا کریں گے فرمایا کہ گھروالوں کوچھوڑدوں گا کہا کہ بس تویوں فرمایئے کہ گھروالوں پرصرف شفقت ہے باقی محبت اللہ ورسول ہی سے ہے اور اس محبت کےلئے جتنے غیرضروری تعلقات کم ہوں یہ معین ہوتے ہیں حضرت حق کی محبت میں ان تحریکات میں میرے شریک نہ ہونے کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں غیر ضروری تعلقات کوخاص دخل ہے مثلا بلاضروت دوسروں کو آمادہ کرنا رغبت دلانا ارے بھائی فلاں کام کرلو سواس سے مجھ کوبڑی کلفت ہوتی ہے کیونکہ اس میں ہروقت یہ ہی خیال رہے گا کہ فلاں شخص اس کام کے کرنے پرراضی ہے یا نہیں اور اگر راضی ہوکر الگ ہوگیا توکام کیسے چلے گا سواس ضیق میں کون پڑے حق سبحانہ ، تعالیٰ ایسی ہی مشغولی اور تصدی ( پیچھے پڑنے ) کے متعلق فرماتے ہیں ، امامن استغنٰے فانت لہ تصدی وما علیک الایزکٰی وامامن جآءک یسعٰی وھو یخشٰی فانت عنہ تلھٰی کلا انھا تذکرہ فمن شاءذکرہ اور ایک مقام پرفرماتے ہیں ۔ ( توجوشخص بے پرواہی کرتا ہے آپ اس کی توفکر میں پڑھتے ہیں حالانکہ آپ پرکوئی الزام نہیں کہ وہ نہ سنورے اور جوشخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور ڈرتا ہے آپ اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں ہرگز ایسا نہ کیجئے ،قرآن نصیحت کی چیز ہے سو جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے 12۔) وان کان کبرعلیک اعراضہم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض اوسلما فی السمآء فتاتیھم بآیۃ ۔ ( اوراگر آپ کو ان کا اعراض گراں گزرتا ہے تواگر آپ کویہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈلو ، پھرکوئی معجزہ لے آؤ توکرو)
اور ایک جگہ فرماتے ہیں ۔ ولقد نعلم انک یضیق صدرک بمایقولون ( اور واقعی ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ جوباتیں کرتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں ) غرض جابجا قرآن میں مصرح ہے کہ اس کا شدید اہتمام نہ کیجئے کہ ہدایت ہوہی جائے اور اس تعلیم خداوندی میں ایک رازہے وہ یہ کہ آزادی اور اعتدال کی صورت میں ہمیشہ کرسکتا ہے اسی بناء پرحق تعالٰی فرماتے ہیں کہ اس ثمرہ کے منتظر نہ رہنا چاہئے جس کواہل ظاہرہ ثمرہ کہتے ہیں چنانچہ ارشاد ہے ، انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشآء ( آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کوچاہے ہدایت کردیتا ہے ) سبحان اللہ کیا پاکیزہ اورپرمغز تعلیم ہے چنانچہ یہ فرمایا کرکہ ولقد نعلم انک یضیق صدرک اس سے بچا دیا کہ ضیق صدرمٰیں کیوں مبتلا ہوا جائے چھوڑیئے اس کوجیسے لڑکا پڑھنا نہ چاہے اور استاد پڑھانا چاہے توسخت کوفت ہوتی ہے بس اس کا علاج یہ ہی ہے کہ ایک دوبارتقریر کردے اور کہہ دے کہ جاؤ بھاگو بلاضرورت دوسروں کی فکر میں پڑنا اس کی نسبت ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دوسروں کی جوتیوں کی حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ہندؤں کا ایک میلہ تھا وہاں کچھ عورتیں نہانے گئیں اوراپنا زیور اتار کرایک شخص کودیدیا کہ اس کو طشت کے نیچے رکھ کراس طشت پربیٹھے رہنا کسی نے دیکھ لیا اورپاس کو اس طرح گذرا کہ دوچار اشرفیاں ٹپکا کرآگے بڑھ گیا یہ محافظ ان کولینے کواٹھا اس چور کا ساتھی پیچھے تھا بس طشت کواٹھا کر سب زیور اوڑالے گیا بس یہی حالت ہوجاتی ہے اس شخص کی بھی دوسروں کی اصلاح کی فکر میں خود کو بھی خراب کرلیتے ہیں جیسے لڑکے پڑھانے کی مثال میں لڑکے پربلا ضرورت محنت ہوئی اورخود اپنا دماغ خراب کرلیا اور لڑکے کو کچھ نفع نہ ہوا ۔

(ملفوظ 157)قلب کو فارغ رکھنے کا معمول مبارک :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا میں جوسب کاموں سے تقاضے کے ساتھ فارغ ہوجاتا ہوں وجہ اس کی یہ ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ قلب غیراللہ کے ساتھ مشغول نہ ہوتا کہ اگر کبھی خدا کی یا د کی توفیق ہوجائے تو موانع تو مرتفع رہیں ۔

( ملفوظ 156)اوسط درجہ کے کپڑے پہننے کے معمول کی حکمت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک دوست حکیم صاحب نے لکھا تھا کہ میں نے تمہارے لئے چالیس روپیہ گز کا کپڑا منگایا ہے میں نے ایک لطیف عذر کے ساتھ نامنظور کردیا وہ عذر یہ لکھا کہ میرا جو فرض منصبی ہے یعنی تعلیم دین اس کا تعلق زیادہ تر مساکین سے ہے سو مجھ کو ایسی وضع سے رہنا چاہئے جس سے مساکین مرعوب نہ ہوں تاکہ بے تکلف استفادہ کرسکیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ معمولی حالت میں رہوں اور آپ حکیم ہیں جن کے لئے ظاہری شان وشوکت مناسب ہے کیونکہ ان کا تعلق اکثر امراء سے ہے اس لئے چالیس روپیہ گزکا کپڑا بہننا آپ کے لئے مناسب ہے اس کے بعد فرمایا کہ خواہ مخواہ لوگوں کو بیٹھے بٹھائے ایسی تکلف کی باتیں سوجھتی ہیں ہمارے بزرگوں کا طرزیہ رہا ہے کہ صاف تورہے کہ صاف تورہے مگر زیب وزینت اور تکلف نہ ہو بس میلا نہ ہو پسینے کی بونہ ہو اور یہ اعتدال بدوں صحبت کے میسر ہونا مشکل ہے باقی امتیاز کا قصد اگر آدمی نہ چاہے توفاخرہ لباس میں بھی امتیاز نہیں ہوسکتا اور اگر نفس امتیاز چاہے تواضع کے لباس میں بھی امتیاز ہوسکتا ہے کہ بڑے ہی بے نفس ہیں میں تواس ہی لئے اوسط درجہ کا کپڑا پہنتا ہوں کہ کسی قسم کا امتیاز نہ ہو۔

(ملفوظ 155)ہدیہ دینے سے قبل مشورہ کرنا مناسب ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے ایک بوتل شربت کی محبت سے بطورہدیہ بھیجی تھی رات میں نے اس کو پانی کے ساتھ استعمال کیا تو اس کا استعمال مناسب ثابت نہ ہوا اس لئے کہ موسم مناسب نہیں تھا پھر دودھ کے ساتھ استعمال کیا توگلے میں خراش ہوگیا کیا عرض کروں میں دوستوں کو مشورہ دیا کرتا ہوں کہ جوچیز دینا چاہیں پہلے مشورہ کرلیں مگر کچھ ایسی عادت ہوگئی ہے اورعادت بھی نہیں بلکہ رسم کا درجہ ہوگیا ہے کہ اپنی چاہتی چیزدیتے ہیں حالانکہ عقل کی بات یہ ہے کہ جس کوچیز دیجائے اس کی جی چاہتی ہونی چاہئے اب بعضی چیزیں ملک میں رہنے سے بھی قلب پربارہوتا ہے جب کوئی چیز مصرف سے زائد آجاتی ہے جب تک وہ ایک طرف نہ ہوجائے اس وقت تک قلب کویکسوئی نہیں ہوتی اوربعض لوگوں کا مذاق یہ ہے کہ ان کی ملک میں جس قدر چیزیں زائد ہوں اس کے قلب کو اطمینان اور سکون زائد ہوتاہے مجھ کو وحشت ہوتی ہے غرض سب سے اسلم اور سیدھی سادی بات یہ ہے کہ جوکچھ دین پہلے مجھ سے پوچھ لیں اس میں بڑی سہولت ہے الحمداللہ میرے یہاں رسم پرستی نہیں حقیقت پرنظرہے جس کا خلاصہ راحت رسانی ہے مگر آج کل اس کا قطعا خیال نہیں بریلی سے ایک صاحب نے پوچھا تھا کہ میں تین روپیہ کی مٹھائی لانا چاہتا ہوں اگر اجازت ہو میں نے لکھ دیا کہ اس کوتو کون کھاوے گا ایک چاقو قلم تراش کی ضرورت ہے میرے پاس ہے نہیں وہ لیتے آؤ لیکن اگر تین روپیہ سے زائد ہوگا زائد قیمت میں دوں گا وہ تین روپیہ چار آنہ کا چاقولائے میں نے لے لیا اور چارآنہ نہت خفیف رقم تھی اس لئے میں نے مع اس زیادت کے لے لیا ۔

(ملفوظ 154)برکات التوکل :

(ملقب بہ برکات التوکل ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس کام کو حق تعالٰی کرانا چاہتے ہیں اس کے اسباب ویسے ہی مہیا فرمادیتے ہیں اوراس میں کسی کی ذات کو خاص دخل نہیں ہوتا کہ فلاں ہی شخص کریگا تو یہ کام ہوگا وہ جس سے چاہیں کام لے سکتے ہیں اور کرا سکتے ہیں بڑے بڑے مظنہ خیربیٹھے منہ دیکھا کرتے ہیں اور بے گمان وہ کام لے لیتے ہیں ایک صاحب ہمارے بزرگ کی اولاد میں سے ہیں دو ہزار یا ڈھائی ہزار کے قرض دارتھے مجھ سے سفارش چاہی میں نے صاف کہہ دیا کہ خطاب خاص سے تو میں سفارش نہ کروں گا اورنہ تجربہ سے اس کا کوئی نفع خاص ہے ہاں خطاب عام سے سفارش سے عذرنہیں صورت خاص میں سفارش کرنا دوحال سے خالی نہیں ایک تو خواہ اس کا جی چاہے یا نہ چاہے مگراس کو پوراہی کرے اس میں تو دوسروں پربارہوتا ہے اور یہ خیال ہوتا ہے فلاں شخص نے لکھا ہے اگرکام نہ کیا تو اس پر ناگواری کا اثر ہوگا تو اس صورت میں دینے والے کا تو دنیا کا نقصان ہوا اس لئے کہ اس میں خلوص نہ رہا صرف فوس ہی رہا تو ثواب سے محرومی رہی اس لئے دین کا نفع نہ ہوا اورمال الگ تلف ہوا اس لئے دنیا کا نقصان ہوا اور چونکہ طیب خاطر سے نہیں دیا گیا اس لئے لینے والے کے دین کا نقصان ہوا کیونکہ بدون طیب خاطر کے کسی کا مال لینا شرعا جائز نہیں اور ایک ضررمخاطب کا اور ہے وہ یہ کہ اگر اس نے نہ دیا سفارش کرنے والے سے اس کو حجاب ہوگا خصوصی جبکہ اس سے تعلق اصلاح دین کا ہوتو یہ اس کے لئے دین کی مضرت ہوگی کیونکہ اس کو مصلح سے دین کی خدمت لیتے ہوئے حجاب ہوگا کہ اس نے ایک بات کو لکھا تھا یا کہا تھا مگرہم نے نہیں کیا اب ہمارا کیا منہ ہے کہ اس سے کسی قسم کی خدمت لی جاوے تو اس میں اس طرح اس کے دین کا نقصان ہوا غرض خطاب خاص میں یہ خرابیاں ہیں اس لئے میں نے صورت عام میں سفارش لکھ دی اور دعاء کردی ان کی کامیابی کی بہت ہی زیادہ بیچارے پریشان تھے وہ یہاں سے میرٹھ پہنچنے اور اپنے بزرگوں سے محبت اور عقیدت رکھنے والے ایک سودا گر صاحب سے ملے اور واقعہ بیان کرکے میری تحریر سفارشی جو عنوان عام میں لکھدی تھی دکھلائی ان سودا گرصاحب نے دیکھ کریہ کہا کہ میاں اتنی بڑی رقم کہیں چندؤں سے ادا ہوا کرتی ہے اور بھی بعض تلخ کہے ان صاحب کو جوش آگیا اور یہ قسم کھا لی کہ یہ کہہ کروہاں سے اٹھ چل دیئے اس کے بعد ان سوداگر نے کوشش کی کہ میں کچھ خدمت کروں انہوں نے قبولکر نے سے انکار کردیا اور یہ میرٹھ سے سیدھے دہلی بہنچے وہاں پرایک حکیم صاحب ہیں (جن کا انتقال ہوگیا )ان سے ملاقات کی اور یہ کہا کہ کہ میں اتنا قرضدارہوں اور ساتھ ہی عہد بھی ہے کہ اگر یہ رقم ایک شخص دے گا ورنہ نہیں حکیم صاحب نے کہا کہ بھائی یہ تو بڑی کرڑی شرط ہے بعض میرے ملنے والے سوداگر ہیں ان سے سفارش لکھ دیں اور مجھ کوتحریردیدی میں جاتا ہوں اللہ مالک ہے غرض کہ حکیم صاحب نے اپنے ایک دوست کو سفارش لکھ دی یہ اس کے پاس پہنچے پہلے حکیم صاحب کا پرچہ دیا اس کے بعد میری سفارشی تحریر دکھلائی وہ سوداگر ان سے کچھ زبانی باتیں دریافت کرنے لگے اس میں اتفاق سے میرا نام بھی آیا ان سوداگر کی دکان پراس وقت ایک بمبئی کے سیٹھ بیٹھے ہوئے کچھ اپنے لین دیی کی بات چیت کررہے تھے ان کے کانوں میں اس واقعہ کی کچھ بھنگ پڑی تو ان مقامی سوداگر سے سوال کیا کہ کیا بات ہے انہوں نے نے مفصل قصہ بیان کیا کہ کہ صاحب اتنی رقم کے قرضدار ہیں ایک بزرگ کی اولاد سے ہیں مگر ان کی شرط یہ ہے کہ اگر ایک ہی شخص یہ رقم دے گا تولوں گا ورنہ نہیں اور میرا نام بھی لیا کہ ان کے پاس اس کی شفارش اور تصدیق بھی ہے ان سیٹھ نے بدون کسی کنج وکاؤ کے ڈائی ہزار کے نوٹ جیب سے نکال کران کے حوالے کئے اور یہ الفاظ کہے جب ایسے شخص کی سفارش اور تصدیق ہے آگے کسی بات کے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں اب سنئے یہ معلوم ہوا کہ یہ سیٹھ عقائد اور مسلک میں اپنے بزرگوں کے خلاف بھی تھے بدعتی خیالات کے شخص تھے اور یہ بھی کہا کہ میں جب بمبئی سے چلا تھا یہ ڈھائی ہزار کے نوٹ اسی نیت سے لے کرچلا تھا کہ کسی کارخیر میں صرف کروں گا سواللہ نے وہ موقع عطا فرمادیا یہ صاحب کئی روز بعد میرے پاس آئے میں نے دورسے دیکھا میں سمجھا کہ بیچارے ناکام ہی آئے ہوں گے ڈھائی ہزار کا معاملہ تھا اتنی جلدی کس نے اتنی بڑی رقم دیدی ہوگی چہرہ کو دیکھ کرمعلوم ہوتا تھا کہ کامیاب ہیں غرض کہ جب وہ میرے پاس آکربیٹھے تب میں نے سوال کیا کہ کہئے کیا کرآئے کہا اللہ کاشکر ہے کامیاب آیا اس پربھی مجھ کوشفا نہیں ہوئی میں تفصیل دریافت کی کہ کیا کسی نے سعی اورکوشش کا وعدہ کرلیا ہے کہا کہ جی نہیں ڈھائی ہزار روپیہ قرض داروں کا ادا کرکے آیا ہوں اور مفصل واقعات بیان کئے مجھ کو حق تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ ہورہا تھا اور وہ اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کررہے تھے واقعی ایسی ہی وہ ذات ہے جوان پربھروسہ کرے وہ کبھی ناکام نہی رہتا اور یہ دنیا تو بیچاری بہت ہی کم وقعت چیز ہے ان پر تو اگر بھروسہ ہو آخرت اور دین بھی اسی طرح عطاء فرمادیتے ہیں جب قادرمطلق وہ ہیں اس حالت میں کسی کوناز نہیں کرناچاہئے کہ ہم ہی اگرکریں گے توفلاں کام ہوسکتاہے
ورنہ نہیں ہوسکتا وہ جس سے چاہیں اپنا کام لے لیں ان کا ملک ہے ان کی مخلوق ہے مگربھروسہ شرط ہے ، البتہ دین میں بھروسہ کے ساتھ طلب بھی شرط ہےپھراس کے ساتھ اگر صدق اورخلوص ہوتو پھر بیچارہ فلوس کیا چیز ہے وہ تو جوتیوں سے لگا پھرے گا ۔
ایک اور صاحب کا واقعہ ہے جومیرے دوست میرے ہم سبق بھی تھے وہ پانچ سو روپیہ کے قرض دار تھے مجھ سے سفارش جاہی کہ کسی کو لکھ دو میں نے کہا کہ مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کون دے سکتا ہے اور کون نہٰیں دے سکتا تم خود انتخاب کرلو اور مجھ کو بتلاؤ میں لکھ دوں گا انہوں نے میرے تین دوستوں کا نام لیا کہ ان کو لکھ دو میں نے تینوں کو یہ مضمون لکھا میرے ایک ہم سبق دوست قرضدار ہیں پانچ سو روپیہ کی ضرورت ہے وہ مجھ سے اس کے متعلق سفارش چاہتے ہیں کہ میں تم کو لکھ دوں اب میں تم سے مشورہ کرتا ہوں کہ اگر مٰیں ان کے بارے میں تم کولکھ دوں تو کیا اس سفارش سے گرانی تونہ ہوگی اس کے جواب آنے کے بعد پھر میں تم کوسفارش لکھوں گا ان میں ایک نے پچاس روپیہ بھیج دیئے ایک اور صاحب نے اسی طرح سفارش چاہی اورپریشانی کا اظہار کیا اور ایک معین ( شخص ) کا نام بھی بتلایا کہ فلاں سودا گرکو لکھ دو میں نے ان کواس طرح لکھا کہ ایک حاجت مند کو یہ ضرورت ہے اگر آپ کے پاس پہلے سے ایسی رقم موجود ہو جس کو آپ رہے ہوں کہ کہاں خرچ کروں اورکسی دوسرے سے وعدہ بھی نہ کرلیا ہو اور آپ کے علم میں کسی اور کو توقع بھی نہ ہو اس حالت میں ایک شخص حاجت مند ہیں ان کی اعانت کردیجئے ورنہ آزادی میں خلل نہ ڈالئے ان بیچاروں نے وہ رقم بھیج دی مجھ کو کام کرنے سے انکار نہیں مگرجی ضرور چاہتا ہے کسی پربارنہ ہو اور طریقہ سے کام ہو اور صاحب حقیقت تو یہ ہے کہ محض نام ہوجاتا ہے کسی کا ورنہ دینے والے تو وہ خود ہی ہیں اسی کو فرماتے ہیں
کارزلف تست مشک افشائی اماعاشقاں مصلحت را تہمتے برآہوئے چین بستہ اند
ایک بزرگ سے لفٹنٹ گورنر ملنے گئے چلتے وقت ان بزرگ سے دریافت کیا کہ آپ کی کیا گذر کی کیا صورت ہے بزرگ نے جواب دیا کہ کل اس کا جواب دینگے اگلے روزلفٹنٹ گورنر بزرگ کی خدمت میں ایک ہزار روپیہ کی تھیلی لے کرپہنچے اور پیش کی کہ حضور اپنے صرفہ میں لے آئیں اورپھر وہی سوال کیا بزرگ نے فرمایا کہ کل کی بات کا یہی جواب ہے دیکھئے ہمارے آپ کے مذہب میں اشتراک نہیں اور کسی قسم کا آپ کو مجھ سے تعلق نہیں آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچ سکتا باوجود اس کے پھریہ روپیہ آب نے مجھ کو دیا معلوم ہوا کہ کوئی اورہی قوت ہے جودلواتی ہے بس یہی صورت ہمارے گذر کی ہے اوروہی جواب ہے آپ کے سوال کا پھر اس میں بھی باوجود نفس توکل میں اشتراک کے اس کے سوال میں بزرگوں کی شانیں مختلف ہوتی ہیں جس سے مختلف رنگ مختلف مذاق ہوجاتا ہے جیسے باغ میں مختلف رنگ کے پھول اوردرخت ہوتے ہیں کسی میں انتظامی شان ہوتی ہے جن کی نسبت حدیث میں ملوک علی الاسرۃ ( بادشاہ ہیں تحت نشین ہیں ) آیا ہے جوحضرت خواجہ عبیداللہ احرار رحمہ اللہ کی شان تھی کسی میں ترک کی شان ہوتی ہے جیسے ذیل کے واقعات سے ظاہر سلطان سنجرشاہ نیمروز نے حضرت غوث پاک رحمہ اللہ کو لکھا تھا کہ اگر اجازت ہوتوجی چاہتا ہے کہ ملک سنجرکا کچھ حصہ خانقاہ کے اخراجات کے لئے پیش کردوں تاکہ اہل خانقاہ کی راحت اورآرام کا سامان ہوجائے حضرت نے جواب میں تحریرفرمایا
چوں چتر سنجری رخ بخشم سیاہ باد دردل اگر بود ہوس ملک سنجرم
زانگہ کہ یا فتم خبراز ملک نیم شب من ملک روز بیک جو نمی خرم
(ملک سنجرے کے چھتری کی طرح میرہ نصیبہ بھی سیاہ ہواگر میرے دل میں ملک سنجر کیہوس ہو (اوراصل بات یہ ہے کہ ) جب سے ملک نیم شب کی خبرمجھ کوملی ہے ملک نیم روز کوایک کوڑی کے بدلہ میں خریدنے کوتیارنہیں ہوں ۔12)
حضرت بختیار کا کی رحمہ اللہ کوسلطان شمس الدین نے چند مواضع کا فرمان لکھ کربھیج دیا کہ آپ کی خانقاہ اور اہل کے لئے پیش کرتا ہوں اس پرحضرت نےجواب میں تحریرفرمایا کہ ہم کوتم سے محبت ہے اور اس لئے ہم سمجھتے تھے کہ تم کوبھی ہم سے محبت ہوگی مگرآج معلوم ہواکہ تم کو ہم سے محبت نہیں کیونکہ اگرتم کوہم سے محبت ہوتی تو کیا محبت کا یہ ہی حق تھا کہ جوچیز خداتعالٰی کی نظر میں مبغوض ہے یعنی دنیا اس کو ہمارے سامنے پیش کرتے اوریہ نہیں تھا کہ کے پاس سامان تھا اس لئے استغناء تھا ان حضرات پرفاقے گذرتے تھے مگرپھر بھی وہی شان تھی اورفاقہ بیچارا تو جس کی حقیقت نان کافقدان ہے کیا چیز ہے وہ ہوقت جان پیش کرنے کو تیار بیٹھے رہتے ہیں اسی کو مولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
ناخوش تو خوش بود برجان من دل فدائے یار دل رنجان من
( تیری طرف سے (ظاہرا) ناگواربات بھی مجھے دل وجان سے گوارا ہے اورتیری جفاؤں پربھی دل قربان ہے ۔ 12)
حضرت شاہ عبدالقدوس صاحب گنگوہی رحمہ اللہ کی بیوی ان کے پیر کی بیٹھی تھیں کبھی دراز فقر وفاقہ پر کہتیں کہ اب برداشت نہیں ہوتی کچھ کھانے کا انتظام کرنا چاہئے توفرماتے گھبراؤ مت انتظار ہورہا ہے دریافت کرتیں کہاں ہورہا ہے فرماتے جنت میں ہورہاہے بی بی بھی ایسی تھیں کہ جنت کے وعدہ پرمطمئن ہوجاتیں سبحان اللہ کیا ایمان تھا ان ہی بی بی کا یہ واقعہ بھی ہے کہ ان کے پاس ان کے تمام زیورات میں سے صرف چاندی کا ایک ہاررہ گیا تھا جب حضرت گھر میں تشریف لاتے فرماتے گھرمیں سے دنیا کوبوآتی ہے ایک مرتبہ ایک بزرگ مہمان تشریف لائے بیوی صاحبہ نے ان بزرگ صاحب سے شکایت کی کہ میرے پاس ایک ہار ہے جواس مصلحت سے رکھا ہے کہ شاید رکن الدین (صاحبزادہ ) کی شادی میں مہمانوں کے لئے ضرورت ہوجائے مگران کو اس میں دنیا کی بوآتی ہے اور ہروقت میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ اس کو جدا کردوں ان بزرگ صاحب نے شاہ صاحب کو منع کیا کہ سب کی دنیا کی بوتم کوکیوں آتی ہے تم ان سے تعرض مت کرو اس کے بعد پھرکبھی بیوی سے اس ہار کا ذکر نہیں فرمایا ( ظرافت کے عنوان سے فرمایا کہ ) مطلب حضرت شاہ عبدالقدوس صاحب رحمہ اللہ کا یہ تھا کہ ہمارے گھرمیں ہار کیوں ہماری تو ہروقت جیت ہونی چاہئے ان ہی شیوں (شانوں ) کی وجہ سے میں نے ان حضرات کا بجائے صوفیہ کے عشاق لقب تجویز کیا ہے اورسچ یہ ہے کہ نری بزرگی سے کیا ہوتا ہے جب تک محبت نہ ہو اوراسی محبت کی شدت کا نام عشق ہے اور عشق کی خاصیت یہ ہے سوائے محبوب کے سب کوفنا کردیتا ہے اسی کومولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
عشق آں شعلہ است کوچوں برفروخت ہرچہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
تیغ لادر قتل غیرحق براند ، درنگر آخر کہ بعد لاچہ ماند،
ماند الااللہ باقی جملہ رفت ، مرحبا اےعشق شرکت سوز زفت
اور گلزارابراہیم میں مولانا ابوالحسن صاحب نے اسی کا ترجمہ کیا ہے
عشق کی آتش ہے ایسی بدیلا دے سوا معشوق کے سب کوجلا
( انتہی ملفوظ برکات التوکل )
13/ ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم سہ شنبہ

(ملفوظ 153)سوال کرنے کا پیشہ بنالینا برا ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کچھ سوال کی عادت ہی ہو جاتی ہے ضرورت اور مجبوری ومعذوری پرتو سوال کا مضائقہ نہیں مگر پیشہ بنالینا تو نہایت ہی بے غیرتی کی بات ہے غیرت میں تو دینے والے کی درخواست پربھی کہنے کی ہمت نہیں پڑتی میں جس وقت رنگون گیا تھا تو حاجی محمد یوسف صاحب نے یہ کہدیا تھا کہ اگر کوئی موقع خیرکا ہوا کرے تو اطلاع کردی جایا کرے ہم بھی اس میں شریک ہوجایا کریں مگر چونکہ عادت نہیں کبھی زبان نہیں اٹھی قلم نہیں چلا چنانچہ آج تک بھی کبھی نہیں لکھا حالانکہ ان کی حالت پرمجھ کو ہرطرح کا اطمینان ہے مالدار بھی ہیں مخلص بھی ہیں مگر اپنے نفس پراطمینان نہیں نفس کو گنجائش مل جانے کا اندیشہ ہے اسی وجہ سے اور بھی ایسی باتوں سے اجتناب رکھتا ہوں ۔