(ملفوظ 152)تعویذ گنڈوں سے متعلق عوام کے اعتقاد خراب ہیں :

ایک دیہاتی شخص نے آکر آسیب کا تعویذ مانگا فرمایا کہ تم لوگ جب آتے ہو آسیب ہی کا تعویذ مانگتے ہوکیا دنیا میں اور کوئی مرض ہی نہیں رہا ان دیہاتیوں میں یہ عجیب بات ہے کہ جہاں کوئی بیماری آئی کہتے ہیں اوپر اثر ہے مراد یہ ہے کہ جن کا اثر ہے ایک شخص دیہاتی آیا اور آکر کہا کہ تعویذ دیدو میں نے کہا میں سمجھا نہیں توزور سے کہتا ہے کہ تعویذ دیدو میں نے کہا میں بہرا نہیں ہوں سن تو لیا مگرسمجھا نہیں تب خاموش ہوا میں نے کہا جاؤ یہاں سے اٹھ کرباہر اورکسی سے پوچھو کہ میں نے اتنی بات کہی ہے یہ ادھوری ہے یا پوری ہے اور اگر پوری کہنا ہو تو کس طرح کہوں تھوڑی دیر بعد آیا اجی دلوی جی اوپرے اثر کا تعویذ دیدو میں نے پوچھا کہ تیری پہلی بات ادھوری تھی یا پوری کہا کہ جی میں ہی ادھوری بات کہہ رہا تھا میں نے اس سے کہا کہ مریض کوتو وہاں جن ستا رہا ہے اس کے لئے تو تعویذ لے جا رہا ہے اور ایک تعویذ مجھے اپنے لئے لکھنا پڑے گا اس لئے کہ تو مجھے ستارہا ہے تاکہ میں تیرے ستاؤں سے بچوں علاوہ نا تمام تعبیرات کے نقص کے ان تعو یذ گنڈوں کے متعلق عوام کے عقائد بھی نہایت ہی خراب ہیں ۔

(ملفوظ 151)سائلوں کو چار آنے دینا :

دوسائلوں نے آکرحضرت والا سے سوال کیا فرمایا کہ اگردوچار پیسہ لیکرتم خوش ہوجاؤ تو پیش کردوں اس پر وہ خاموش رہے فرمایا کہ جیسے میں نے صاف کہہ دیا تم بھی کہہ دو کہ ہمیں منظور ہے یا نہیں عرض کیا کہ جومرضی ہوفرمایا کہ یہ جملہ تمہارا مہمل ہے صاف نہیں ہے اس پراس سائل نے کہا کہ منظور ہے فرمایا کہ اب بات صاف ہوئی اورچار آنہ دے کرفرمایا کہ کبھی کسی کو دق مت کیا کرو صاف بات کہا کرو وہ سائل کے کرنہایت مسرت کے لہجے میں دعائیں دیتا ہوا چلا گیا حضرت والا نے اہل مجلس کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ اگر میں پیشتری ہی دو چار آنہ کہتا توان چار آنوں پران کو یہ مسرت نہ ہوتی جواب ہوئی میں ان کی نبضیں پہچانتا ہوں اب خوش بخوش چلے گئے ۔

(ملفوظ 150) عوام کو راحت پہنچانا اہل اقتدار کا فرض ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بہت سے انتظامی کام حکومت ہی کرسکتی ہے ایسے کام اسی ہی کے کرنے کے ہیں مثلا باجے اگرحکومت چاہے بند کرسکتی ہے رہا کتوں کے متعلق اول توپالنے کی ممانعت ہوسکتی ہے اوراگر ضرورت کے موقع کا استثناء بھی ہوتوقیود کے ساتھ ہوسکتا ہے مثلا یہ کہ باندھ کررکھو اس لیے کہ اندھیرے میں ستاتے ہیں کسی کا دامن پکڑلیا پیر پکڑلیا ، ایک ضروری انتظام یہ کرنے کے بل ہے کہ جانوروں کے بڑے بڑے گھنٹے بند ھوا دینے شاہئیں ، ایک مرتبہ میں نماز مغرب کچھ دیرسے مکان کی طرف جارہا تھا ایک سانڈے سامنے سے آگیا اندھیرا تھا نیز میں نیچی نظر کئے ہوئے جارہا تھا بلکل تصادم ہونے کو تھا مگر خداتعالٰی کی قدرت کہ وہ خود ایک طرف کوبچ گیا تو ایسے یہ سب انتظامات حکومت کرسکتی ہے اور عامہ خلائق کو راحت پہنچا سکتی ہے مگر یہ بھی جب ہی ہوسکتا ہے جبکہ راحت پہنچانا مقصود بھی ہولیکن اس وقت اہل اقتدار کو راحت ہی پہنچانا مقصود نہیں محض پیسہ کمانا مقصود ہے مگر پھر بھی اور گورنمنٹوں سے غنیمت ہے خود غرض سہی مگرساتھ ہی ہماری بعضی غرضٰ بھی پوری ہوجاتی ہے ایک شخص نے خوب کہا ہے کہ بعضی گورنمنٹ کی مثال تودق کی سی ہے جس میں گھل گھل کرمرجاتا ہے اور بعضی گورنمنٹ کی مثال ہیضہ کی سی ہے کہ چٹ پٹ کام تمام ہوجاتا ہے اور دق میں چاربرس دس تک الجھا رہتا ہے ۔

(ملفوظ 149)علماء کے اخلاق مروجہ نے عوام کے دماغ خراب کردیئے :

ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ علماء کے مروجہ اخلاق نے عوام کے دماغ خراب کردیئے اب میں تنہا کہاں اصلاح کروں اورکسی جگہ توروک ٹوک بھی نہیں کی جاتی نہ غلطیوں اور بدتمیزیوں پرمتنبہ کیا جاتا ہے لوگ یہاں پرآکر دنیا سے نرالا طرز دیکھتے ہیں یہ ہی وجہ یہاں سے ان کی وحشت کی ہے اگر سب یہ ہی اصول اختیار کریں تو بہت جلد لوگوں کی اصلاح ہوجائے مگر وہ کریں ہی کیوں اور ان کو ضرورت ہی کیا پڑی ان کی مصالح وہمیہ میں خلل پڑتا ہے نہایت ہی گڑبڑ ہورہی ہے مقتداؤں اور پیشواؤں کے ڈھیلے پن نے عوام کا توناس ہی کردیا ۔

(ملفوظ 148) آج کل دہریت اورنیچریت کا غلبہ :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فریایا کہ آج کل تو دہریت اور نیچریت کا پورا غلبہ ہے قلوب پرایسا زہریلا اثرہوا ہےکہ کسی امتی پرتو کیا اطمینان ہوگا اوراس کا کیا احترم ہوگا خودحضورﷺ کی عظمت بھی قلوب سے نکلتی جارہی ہے اور مقصود تمام تر موقوف ہے اسی عظمت و محبت پرصحابہ کرام کے کام کا راز یہی ہے کہ حضورﷺ کے عاشق تھے ان کے قلوب اللہ اور رسول کی محبت وعظمت وخشیت سے پرتھے اب بھی جہاں کام ہوتا ہے اہل اللہ کی محبت سے ہوتا ہے جس کی بدولت ان حضرات کی حکومت قلوب پرہوتی ہے بخلاف ظاہری سلاطین کے ان کی حکومت محض جسم پرہوتی ہے ان کے محکومیں محض آلات حرب کے محکوم ہوتے ہیں بخلاف اہل اللہ کے خدام اور محکومین کے کہ ان کی شان ہی جدا ہوتی ہے ان کے جوکہہ دیاجاتا ہے وہ دل سے کرتےہیں کسی کام سے کسی بات سے انکارنہیں ایسی اطاعت رسم پرست کبھی قیامت تک بھی نہیں کرسکتے ۔

(ملفوظ 147)آج کل جمہوریت کا زور ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جمہوریت کا زور ہے اس کی ترجیح میں کہتے کہ شخصیت اس لئے مضر ہے کہ ایک شخص کا کچھ اعتبار نہیں دین فروشی کردے ملت فروشی کردے قوم فروشی کردے اسی خیال سے جمہوریت قائم کرنے کی چیزہے لیلکن غور کرنے کی چیز ہے لیکن غور کرنے سے اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ یہ نکلتا ہے کہ تمہارے تمدن میں نالائق بھی حاکم ہوسکتا ہے جس میں یہ احتمال ہوسکتے ہیں اور ہمارا مسلک یہ ہے کہ بادشاہ لائق ہو ایسے شخص کا انتخاب کرو جس پریہ احتمالات ہی نہ ہوں اور جیسے شبہات تم نے شخصیت میں نکالے ہیں ایسے شبہات جمہوریت میں بھی ہوسکتے ہیں جن کے انسداد کے لئے تم نے جماعت کا انتخاب کیا ہے چنانچہ ایسے واقعات بھی کثرت سے ہیں اب اس کے بعد دیکھ لوکہ کونسی بات عقل کے موافق ہے اور کون نہیں دوسری بات یہ ہے کہ رعایا پرجوہیبت ہوتی ہے وہ شخصیت ہی سے ہوتی ہے جمہوریت اور جماعت کی ایسی ہیبت نہیں ہوتی اور ان درجہ کی ترغیب کام کی ہوسکتی ہے اس لئے کہ طبعا اس کا بھی خاص اثر ہوتا ہے کام کرنے والوں پر کہ ہمارے اس کام سے امیر یا سردارخوش ہو اس سے ان کا دل بڑھتا ہے اور جمہوریت میں کوئی خوش ہونے والا معین نہیں اس لئے کسی کی خوشی کا اثر ہی کیا ہوگا آج ایک جماعت انتخاب میں ہیں کل دوسری ہے بس اورشخصیت میں رعایا اور حاکم میں خاص تعلقات ہوتے ہیں جس کواہل ذوق اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ۔

(ملفوظ 146)جانوروں میں عقل :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تووثوق کے ساتھ کہا کرتا ہوں کہ جانوروں میں بھی عقل ہے مگر اتنی نہیں کہ جس سے وہ احکام کے مکلف ہوں میرے اس دعوے کے موید اس کثرت سے واقعات ہیں کہ مضطرہوکر ماننا پڑتا ہے کہ جانوروں میں بھی ضرور عقل ہے ۔

(ملفوظ 145) عوام کے اکثر شبہات کا منشاء جہل بسیط ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شبہات جوعوام میں پیدا ہوتے ہیں ان کا منشا اکثرجہل بسیط ہوتا ہے اسی لئے وضوح حق کے بعد بہت صاف الفاظ میں غلطی کا اقرار کرلیتے ہیں بخلاف مدعیان عقل کے کہ جہل مرکب میں مبتلا ہوتے ہیں اس لئے انکار رجوع کرنا بھی رجوع کرنا بھی پیچدار عنوان سے ہوتا ہے ہمارے قصبہ میں ایک بڑی بی تھیں انہوں نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کیا اللہ میاں زندہ ہیں میں نے جواب میں مقدمات فطریہ سے کام لیا میں نے کہا کہ یہ بتلاؤ مینہ کون برساتا ہے کہنے لگی اللہ میاں میں نے کہا کہ یہ بچے وغیرہ کون دیتا ہے کہنے لگی اللہ میاں میں نے کہا کہ اب یہ بتاؤ کہ اگر زندہ نہ ہوتے تو یہ کام کون کرتا بڑی بی مان گئیں جنٹلمیں نہ تھیں ورنہ یوں کہتیں کہ میں پہلے سوال کو واپس لیتی ہوں کیا بیہودہ متکبرانہ کلمہ ہے جس میں ندامت کا نام تک نہیں مگرمہذہب لوگ اس کے اس قدر دلدار ہیں کہ تمام تہذیب کواسی ختم سمجھتے ہیں ۔

(ملفوظ 144)تحریکات حاضرہ کے دینی انقلاب پراظہار افسوس :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تحریکات حاضرہ میں کس قدر جلد دینی انقلاب ہوگیا اور یہ تو اس حالت میں ہے کہ یہ لوگ اپنے مقصد میں ناکام رہے اگر سوراج مل جاتا اور کامیابی ہوجاتی تب دیکھتے کہ دین کا کیا حشر ہوتا اور عوام تو بیچارے کس شمار میں ہیں علماء تک اس گڑبڑ میں پھنس گئے اور حدود سے گذر کربے قیدی کے میدان میں آکھڑے ہوئے اور زیادہ گمراہی ان ہی لوگون کی وجہ سے پھیلی اس لئے کہ یہ لوگ مقتدا اور پیشوا کہلاتے ہیں تو ان کا اثر ہونا ہی چاہئے تھا بعضوں کی بے قیدی سن کرآپ کو تعجب ہوگا کہ ایک مشہور عالم نے اپنے وعظ میں سہارنپور میں بیان کیا کہ بعض لوگ خوامخواہ کے اوہام میں مبتلا ہیں کہتے ہیں کہ اگر سوراج مل گیا تو ہندو مسجدوں میں اذان نہ ہونے دیں گے توصاحبو کیا گھرمیں نماز نہیں ہوسکتی اور کہتے ہیں کہ گائے کی قربانی نہ ہونے دیں گے توکیا بکرے کی قربانی نہیں کرسکتے کیا گائے کی قربانی فرض و واجب ہے ، یہ واعظ ہیں اور عالم کہلاتے ہیں اتنی بات کہنے کی اور رہ گئی کہ اگر وہ اسلام پرنہ رہنے دیں گے تو کیا غیراسلام پروہ کر زندہ نہیں رہ سکتے ذرا ذہنیت تودیکھئے کہ جوہندو چاہیں گے اسکو گوارا کرلیں گے اس درجہ تک بوبت پہنچ چکی ہے ۔ اللہم احفظنا ۔

(ملفوظ 143) عورتوں میں بے حیائی کا مرض :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر اقوام میں عورتوں میں بے حیائی کا مرض عام ہوگیا ہے میں نے خود اخباروں میں پڑھا ہے کہ امریکی عورتوں کے سنگار پرڈبل فیس خرچ ہوتی ہے اگرمکمل سنگار کرایا جائے توفیس کے پچاس روپیہ خرچ ہوتے ہیں اور نسگار کرنے والے کے سامنے تقریبا برہنہ ہوجاتی ہیں ۔