حضرت والا کہ ایک تنخواہ دارملازم نے ایک مہمان سے جوحج کرکے آئے تھے سے سوال کیا کہ کچھ تبرکات بھی لائے ہو اس کی اطلاع کسی ذریعہ سے حضرت والا کو ہوگئی اس پرملازم سے سخت مواخذہ فرمایا کہ تم کوکیا حق تھا اس سوال کا جبکہ میں ہرقسم کا تمہارا خیال رکھتا ہوں اور کسی قسم کی حتی الامکان تکلیت نہیں ہونے دیتا علاوہ تنخواہ کے ویسے بھی تمہاری خبر گیری کرتا رہتا ہوں پھر یہ حرص اورطمع اورمہمان سے سوال کیا معنی عرض کیا کہ محض دریافت کرنا مقصود تھا فرمایا کہ عذر گناہ بدتر ازگناہ اگرمانگتا مقصود نہ تھا فعل عبث ہوا جومانگنے اور سوال کرنے سے بھی زیادہ براہے نیزتمہارے اس سوال سے مہمان کو تکلیف ہوئی وہ محجوب ہوا اس کے بعد تووہ ضرورہی دے گا چاہے جی چاہے یا نہ چاہے اور یہاں تویہ بات ضروری قواعد میں داخل ہے کہ کوئی کسی سے سوال نہ کرے یہاں پررہنے والوں کو تو اس کے ماتحت رہنا چاہئے
بہشت آنجاکہ آزارئے نباشد ، کسے رابا کسے کارے نباشد
( وہی جگہ بہشت ہے جہاں کوئی تکلیف نہ ہو ، اور کسی کو کسی سے کوئی حاجت نہ ہو )
اب بتلائیے باوجود اس کے کہ میں دوسروں کی اس قدر خدمت کرتا ہوں بھر بھی اس طرح میں ستایا جاتا ہوں اور اس قسم کے بارمجھ ڈالے جاتے ہیں انصاف فرمائیے کہ جس شخص کے قلب میں اس قدررعایتیں رکھی ہوں کیا وہ خود ابتداء کسی سے سختی کرے گا میں فخرا بیان نہیں کرتا بلکہ اللہ کی نعمت ہے اس کا اظہارکرتا ہوں کہ میرے کسی فعل سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچتی اور یہ جوکچھ اللہ کی نعمت ہے ، اس کا ا ظہار کرتا ہون کہ میرے کسی فعل سے کبھی کسی کوتکلیف نہیں پہنچتی اوریہ جوکچھ قواعد اورضوابط میرے یہاں ہیں ان سے مقصود احکام کی حفاظت اور حدود کی رعایت ہے اپنے برزرگوں کا یہ ہی طرز دیکھا ہے اور یہ ہی پسند بھی ہے اب اگر ان حرکات پر دواروگیر اور محاسبہ نہ کروں تو پھر اس سے آگے درجہ بڑھے گا مثلا تو محض حرص وطمع ہے پھر مانگنا شروع کردینگے اور دینے والے بھی پہلے تو اور نیت سے خدمت کرتے ہیں مگر پھر مختلف نیت ہوجاتی ہے مثلا یہ کہ مقرب ہیں ان کے ذریعہ سے سلام وپیام پہچنے گا اورحاجت ہوگی وہ پوری ہوجائے گی اوراس کا فساد ظاہرہے میں ایسی فساد کے انسداد کےلئے ان لوگوں کی اس قدر رعایت کرتا ہوں کہ ان سے کہہ رکھا ہے جب کہیں کھانے کا سامان نہ ہو گھر سے کھانا منگا لو پلاؤ قورمہ تو ہوگا نہیں ڈال روٹی ہو گی مگر وہی کھالیا کرنا ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 120)ایک انگریزی خواں کا دن میں کئی لباس تبدیل کرنا :
ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ کلیہ تونہیں مگراکثریہ ہے کہ یہاں جوجس کے لئے تجویزکیا جاتا ہے وہ اسی کا اہل ہوتا ہے اور یہ میں پھر کہے دیتا ہوں کہ یہ کلیہ نہیں کبھی کوئی شبہ ودار کرے ایک صاحب یہاں انگریزی کی تعلیم یافتہ آئے تھے صبح سے شام تک کئی لباس بدلتے تھے وطن پہنچ کراپنے حالات کا خط لکھا میں نے علاوہ ان باتوں کے جواب کے ایک حالت یہ بھی لکھی کہ آپ جس وقت تک یہاں پرمقیم رہے آپ غزل کے مصداق رہے کہ
گہے درکسوت لیلیٰ فر شد ، گہے در صورت مجنون برآمد
( کبھی لیلٰی کے لباس میں چھپ گئے کبھی مجنون کی صورت میں نکلے ۔ 12)
اقرار کیا اور لکھا کہ میں خود محجوب ہوں آئندہ ان شاءاللہ ایسا نہ ہوگا ۔
11/ربیع الاول 1531ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ
( ملفوظ 119)غوائل نفس کا نہ سمجھنا بے فکری ہے :
ایک سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت بہت سے غوائل نفس کے ایسے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتے اگر کوئی کہے کہ پھر یہ ان کا مکلف ہی نہیں ہوگا سویہ بالکل غلط ہے کیونکہ فکر کرنے سے یہ سمجھ سکتا ہے مگر فکر نہیں کرتا اس لئے نہیں سمجھتا اور بے سمجھی کا انسداد کرسکتاہے مگرنہیں کرتا پس اس کا سبب بے فکری ہے اگر فکر ہو سب کچھ کرسکتا ہے ، اورفکر کا مکلف ہے ۔
(ملفوظ 118)العون النفس فی الصون عن التلبیس:
(ماقب بہ العون النفیس فی الصون عن التلبیس ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا بجز اسلام کے آج کل ہرمذہب میں تلبیس سے کام لیا جارہا ہے ایک ہندو نومسلم جوپہلے مستقل مہنت تھا کانپورمیں میرے پاس آیا اور یہ کہا کہ میں دنیا میں خدا کا دیدار کرنا چاہتا ہوں اور اس کی تلاش میں میں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ صرف کردیا مگرناکام رہا ہندو ہونے کے زمانہ میں ایک پوجاری نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تجھ کو پرمیشور کی جوت دکھلادوں گا مگر اس نے چالاکی یہ کی کہ شب کے وقت ایک کچھوے کی پشت پربہت سا گارا رکھ کر جما کر اس پر ایک چراغ جلاکر مجھ کواس سے ذرا فاصلہ پرلے گیا اور اس اشارہ کیا سووہ چل رہاتھا دور سے کہا کہ دیکھ وہ ہے پرمیشور کی جوت میں نے جواس کو دیکھا تواس کودیکھا تواس کی حرکت سے شبہ ہوا کہ اس میں وقار کیوں نہیں جب اطمینان نہ ہوا تو میں پاس پہنچا اس پوجاری نے ہرچند مجھ کو روکا ہاتھ بھی پکڑلیا کہ بچہ وہاں مت جا جل جائے گا مگر میں نہ رکا پہنچ ہی گیا جاکردیکھا تو یہ کاروائی ہے میں نے اس سے کہا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہا کہ بس میرے پاس تو یہی ہے باقی پوری حلوے کی کمی نہیں اگردل چاہے رہو اور عیش کرو میں نے کہا یہ چیزیں تو میں خود چھوڑ کر آیا ہوں پھرخیال ہوا کہ مسلمان ہونا چاہئے شاید وہاں یہ چیز نصیب ہوجائے یہ سب سن کر میں نے اس شخص سے کہا کہ تم دھوکے میں ہو اور تمہارے اسلام لانے کی یہ بناء ہے تو ہم صاف کہے دیتے ہیں کہ اسلام میں بھی دنیا میں خدا کا دیدار نہیں ہو سکتا ہاں آخرت میں وعدہ ہے پھرمیں کہا کہ جب تم اس میں ناکام رہوگے اورتمہارے اسلام کی یہ ہی بناء ہے تو شبہ ہوتا ہے کہ تم اسلام کو بھی چھوڑدوگے کہنے لگا کہ اسلام میں توحید ایسی کامل ہے کہ کہیں اورکسی مذہب میں نہیں اس لئے اسلام کو نہیں چھوڑسکتا میں نے کہا کہ اسلام میں کیا توحید کامل ہے مجھ کو یہ انتظارتھا کہ دیکھو کیا دلیل بیان کرتا ہے جس پراطمینان ہے کہنے لگا کہ اگرکوئی مسلمان ہوجاتا ہے اس کوسب مسلمان اپنے برابر سمجھنے لگتے ہیں یہ دلیل تھی اس کے پاس اسلام میں توحید کامل ہونے کی جوظاہرا کوئی بڑی برہانی بات نہیں مگر حق تعالیٰ کا جس پر فضل ہوتا ہے اور اس کو رحمت سے نوازتے ہیں وہاں کسی مانع کا دخل نہیں ہوتا ظاہرا تو جب وہ اسلام لاکر بھی اپنے مقصد میں ناکام ہوا توجواسلام کا داعی تھا وہ رخصت ہوجانا چاہئے تھا مگر یہ برکت اس کے خلوص نیت کی تھی چونکہ وہ ان کی ملاقات کا متلاشی تھا اس پریہ فضل ہوا کہ اس کو اسلام لانے کی توفیق نصیب فرمادی ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذو فضل العظیم اس قصہ میں جو اس نو مسلم سے بلا تلبیس حق بات صاف کہہ دی تھی اس پر ایک دوسرا قصہ بیان کیا کہ ایک ہندو جلال آباد میں تھا معزز رئیس تھا اس نے اتفاق سے ایک وعظ میں شرکت کی تھی اس کے سننے کے بعد اس نے چاہا تھا کہ میں اس تصوف کی تعلیم دوں کئی باررفعے پرچے چلے اورمیں نے اس کو خاص خاص عنوانات سےحق کی دعوت دی مگر سمجھا نہیں ایک رقعہ میں میں نے اس کو صاف لکھ دیا اگر ہم سے تصوف لینا ہے تو ایک شرط کی ضرورت ہے ہرطریق میں کچھ شرائط ہوتے ہیں جو تصوف ہم کو پہنچا ہے اس میں اسلام شرط ہے بس مایوس ہوکر بیٹھ گیا اسی عدم تلبیس کے سلسلہ میں فرمایا کہ جیسے میرے یہاں اپنے نقائض کے اخفا کا اہتمام نہیں ایسے ہی اپنے محاسن کے خفا کا بھی اہتمام نہیں جو بھی حالت ہے کھلی ہوئی ہے اب خواہ کوئی نقائض سے غیر معتقد ہوجائے خواہ محاسن پر معتقد مجموعہ پر نظر کرکے اعتقاد میں بھی کسی کو غلونہ ہوگا وہ وسط رہے گا پالیسی بمعنی فریب اور پالیسی بمعنی خوشامد دونوں سے بحمد اللہ مجھ کو ہمیشہ سے نفرت ہے میں توکہا کرتا ہوں کہ انگریزی کی پالیسی اورفارسی کی پالیسی دونوں قابل نفرت ہیں اور بناوٹ پرمعتقد ہونے والے کا اعتبار ہی کیا آخر انسان ہے کہا تک بنے گا ہمیشہ بنتے رہنا بڑا مشکل کام ہے اورجس طرح مصلح کو ضرورت ہے طالبین کو تلبیس سے بچاوے اسی طرح طالبین کو بھی سخت ضرورت ہے کہ تعیین مصلح میں نہایت احتیاط سے کام لیں اور تلبیس سے بچیں اور یہ سب احتیاطیں حالت موجودہ کے متعلق ہوسکتی ہیں باقی انجام کے متعلق جوکہ اس وقت محض مخفی ہے کوئی انتظام نہیں ہوسکتا بجزاس کے کہ جس وقت اس کا ظہور ہو اس سے قطع تعلق کروے کسی کو دلائل صحیحہ سے صاحب کمال سمجھا گیا مگر باوجود اس کے پھر اس کو رجعت ہوئی تواس وقت یہی حکم کیا جائے گا کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ پہلی ظاہری حالت واقع میں ولایت ہی نہ تھی جیسے طب کا مسئلہ ہے کہ دق کا مریض اگراچھا ہوگیا تو کہاں جاتا ہے کہ وہ دق ہی نہ تھی طبیب کی تشخیص میں غلطی ہوئی ایسے ہی ایسی حالت میں کسی کو صاحب کمال سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ پہلے ہی سے صاحب کمال نہ تھا بعض صورتیں اشتباہ کی ایسی بھی ہوتی ہے کہ غیر حقائق پرحقائق کا دھوکہ ہوجاتا ہے جیسے صبح کا ذب پرصبح صادق کا دھوکہ ہوجاتا ہے اسی کومولانا فرماتے ہیں
اے شدہ تو صبح کاذب رار ہیں صبح صادق راز کاذب ہم ببیں
( توجوصبح کاذب کا متبع ہورہاہے ، صبح صادق اور صبح کاذب میں امتیاز ۔ 12)
دیکھئے ابلیس کو اپنے متعلق ہی دھوکہ ہو اور نہ واقع میں اس کو کبھی نسبت اور قریب میسر نہیں ہوا اور آسمان پرچلا جانا یہ کیسی دلیل سے علامت مقبولیت کی نہیں البتہ مکان کو مطہرکہیں گے اس سے آگے کوئی بات اس کے کامل ہونے کی دلیل نہیں باقی یہ اعمال صالحہ ابلیس کے تھے وہ محض صورۃ تھے حقیقتہ نہ تھے مگر فتوے کے درجہ میں حقیقت معتبرنہیں اس لئے کبھی کسی آدمی کو بھروسہ نہیں کرنا چاہئے کہ میری حالت اخیرتک مامون ہی رہے گی میرے ابتدائی عربی کتابوں کے استاد نے جومکہ کے ایک ثقہ عالم تھے ایک حکایت بیان فرمائی کہ اتفاق سے مکہ سیلاب آیا جس سے ایک عالم کی قبر کھل گئی مگر دیکھا کہ بجائے اس میت کے ایک عورت نہایت حسین اس قبر میں ہے تعجب ہوا کہ وہ شخص جواس قبر میں دفن ہوا تھا اس کے بجائے یہ عورت قبرمیں کیسے ہے ایک آفاقی حاجی شخص نے بیان کیا کہ میں اس کو پہچانتا ہوں یہ ایک لندن کے انگریز کی بیٹی ہے جومجھ سے تعلیم حاصل کرتی تھی اورخفیہ مسلمان ہوکرمرگئی لوگوں نے یہ انتطام کیا کہ اس شخص کو مع دومکی لوگوں کے لندن بھیجا کہ وہاں اس کی قبر کھول کر دیکھو چنانچہ اس قبر میں اس مکی عالم کی میت کی نعش دیکھی گئی جس کوان دومکی ہمراہیوں نے پہچانا یہ سب واپس آئے اور بیان کیا اورحیرت بڑھی لوگوں نے اس کی مکھی شخص کے مکان پرپہنچ کر اس کی بیوی سے پوچھا کہ یہ شخص ایسا کیا یہ برا عمل کرتا تھا جس کی یہ سزادی گئی بیوی نے کہا کہ یہ جب مجھ سے مقاربت کرتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ جنابت کے مسئلہ میں عیسائیت کا مذہب بڑے آرام کا ہے کہ جنابت کا غسل نہیں ایسی حالت میں اپنی حالت کے پرکیا ناز کرے کسی کو کیا حقیر سمجھتے اس لئے کہ کیا خبرہے کسی کوخدا کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے بعض فساق فجار میں بھی خود فسق وفجور کے زمانہ میں ایسی بات ہوتی ہے کہ وہ بیڑا پار کردیتی ہے لکھنؤمیں ایک خان صاحب تھے رند مشرب بڑے آزاد دنیا بھر کے عیوب ان میں تھے عمر ڈھل چلی تھی اہل محلہ سمجھاتے کہ میاں ضعیفی کا زمانہ ہے اب توتوبہ کرلو نماز شروع کردووہ کہتے کہ اس سے کیا ملے گا لوگ کہتے ہیں کہ جنت ملے گی وہ کہتے کہ میاں جنت کے واسطے اس قدر محنت اور مشقت کون کرے جنت چلی جائے گی اور جنت میں جا کھڑے ہوں گے جس وقت مولانا امیرعلی صاحب نے ہنومان گڈی پربت پرستوں کے مقابلہ میں جہاد شروع کیا خان صاحب کو معلوم ہوا مولانا کے پاس پہنچے اورعرض کیا کہ مولانا کیا ہم جیسے گنہگاروں کو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں گے مولانا نے فرمایا کہ کون امرمانعی ہے خان صاحب ہاتھ میں تلوار لے کر میدان میں پہنچ گئے واقعی ایک ہاتھ سے خان صاحب شہید ہوگئے اور جنت میں داخل ہوگئے تویہ بات دین کی حمیت خاں صاحب میں عین جہاد کے وقت تھوڑا ہی پیدائش ہوئی تھی یہ پہلے ہی سے قلب میں تھی جس کی کسی کو خبر بھی نہ تھی اور بات یہ ہے علم علٰی شانہ کے ساتھ تعلق اورمحبت یہ بھی ایک عمل مخفی ہے جس کی بدولت خان صاحب کو یہ دولت نصیب ہوئی ، ایک شخص مار ہرہ میں تھا نہایت ہی اوباش لا اوبالی لوگ کہتے کہ میاں خدا کوبھی مبہ دکھلانا ہے ان حرکات سے توبہ کرلو جواب میں کہتا کہ میاں ہم جانیں ہمارے اللہ میاں تم کون دخل دینے والے ایک دن دفعتہ بیٹھے بیٹھے بیساختہ اس کے منہ سے نکلا کہ میاں میرا کیا حال ہوگا پھر اور کوئی کلمہ دنیا کا زبان سے نہیں نکلا اور رونا شروع کیا اسی حالت میں دو تین روز کے بعد اسی پرختم ہوگیا اورجان دیدی اب یہ شخص قتیل محبت وہیت ہونے کی وجہ سے شہداء میں سے ہے توکیا کسی کو حقیر اورذلیل سمجھا جا سکتا ہے اسی فرماتے ہیں
گناہ آئینہ عفو و رحمت ست اے شیخ مبیں بچشم حقارت گناہ گاراں را ،
(اے شیخ گناہ ( جس کے بعد توبہ نصیب ہوجاوے ) عفوو رحمت کا آئینہ ہے ( کیونکہ اگرگناہ نہ ہوتا تو توبہ کس چیز سے ہوتی اور توبہ نہ ہوتی تو عفود رحمت کا ظہور کیسے ہوتا ) لہذا گناہگاروں کو (اس حیثیث سے کہ وہ مظہر نہیں رحمت و عفو الہی کے ) چشم حقارت سے مت دیکھو ۔ 12)
(ملفوظ 117)عوام کا مصلح اور مبلغ سے خوش رہنا مشکل ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جن بزرگوں کے ہم معتقد ہیں اللہ کا شکر ہے کہ ان کی کوئی بات بھی ہم کو ناگوار نہیں ہوتی وجہ یہ کہ ان کی صرف ایک ہی چیز لوگوں کو ناگوار ہے وہ اظہار حق ہے جس کووہ بدون خوف لومۃ لائم (کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ) کے ظاہر کرتے ہیں اورحق ہمیشہ کڑوا ہوتاہے ، الحق مر،، مشہور ہےاور یہی چیز ہم کو محبوب ہے پھرنا گواری کی
کیا گنجائش رہی بقول سعدی رحمہ اللہ معشوق من ست آنکہ بنزدیک توزشت ست
( میرا وہی محبوب ہےجوتمہارے نزدیک برا ہے ۔ 12)
باقی اس پرعوام کا مخالف ہونا لازمی امرہے ان دونوں میں تو لزوم ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ کسی سے اظہار حق کریں اور وہ مخالف نہ ہو ان کے ساتھ تو بہت زیادہ مخالفت لازمی ہوگی اور ان کی مخالفت توجاہل لوگ کریں ہی گے اس لئے کہ مصلح اور مبلغ سے خوش رہنا مشکل بات ہے ۔
(ملفوظ 116)ایک نیا مذہب صلح کل :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اجکل ایک مذہب نکلا ہے صلح کل اور وہ لوگ یہ شعر پڑھا کرتے ہیں
حافظا گروصل خواہی صلح کن باخواص و عام یا مسلمان اللہ اللہ بابرہمن رام رام
یہ شعر حافظ کاتوہے نہیں مگر حافظ کا نام لگ گیا کیا دنیا میں یہ ہی ایک حافظ تھے اور سب ناظرہ خواں تھے یہ مذہب جاہل ہندو صوفیوں کا ہے کہ وہ تصوف میں کفرواسلام کی کچھ قید نہیں سمجھتے تھے چنانچہ ان کی رائے کامل بزرگوں کے متعلق بھی یہی ہے اس پر حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی رحمہ اللہ کا ایک واقعہ یاد آگیا مولانا سے اکثر لوگ تبرک مانگا کرتے اب کہاں تک دیں اس لئے مولانا نے ایک ہندو عطار کے یہاں کچھ گولیاں ہاضمہ کی بنواکر رکھدی تھیں جو شخص تبرک مانگتا وہی گولیاں بتادی جاتیں کہ وہاں سے خرید کردم کرالو مولانا پریشان استغراق غالب تھی کبھی کبھی گولیاں دیتے وقت ان گولیوں پربجائے دم کرنے کے تھوک بھی دیتے تھے مگر باوجود اس کے ان گولیوں کو ہندو تک بعض ہندؤں نے ایسے ہندؤں پر اعتراض کیا کہ تم مسلمان کا تھوک کھاتے ہو ان ہندوں نے جواب دیا کہ یہ مسلمان نہیں یہ تواوتار ہیں ان کا کیا ہندو کیا مسلمان ، عجیب بات ہے مولانا نے ساری عمر تکمیل اسلام کی کوشش کی اور ان کے نزدیک مولانا مسلمان ہی نہ تھے تو اس اعتقاد کا منشاء وہی جہل تھا کہ درویشی میں کفر واسلام کی کوئی قید نہیں ۔
(ملفوظ 115 )ابن حزم میں حزم نہیں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ابن حزم کے ذہن میں کجی توہے مگر ہیں بہت تیز باقی کجی توہے مگر ہیں بہت تیز باقی کجی پیٹ بھر کے ہے اس لئے کہ ان میں حزم (احتیاط) نہیں اسی طرح داود ظاہری ہیں ، ہیں توظاہری مگر ہیں ذہین اوریہ سب حضرات ذہانت کے ساتھ متد ین متورع (متقی ) بھی ہیں اس زمانہ میں ذہن کے ساتھ اس کا بھی قحط ہے ایسی ذہانت پرایک قصہ یاد آیا کہ ایک معقولی طالب علم سے کسی نے مسئلہ پوچھا کہ گلہری کنوئیں میں گرگئی اس کا کیا حکم ہے طالب علم صاحب کو مسئلہ تو معلوم نہ تھا مگر جہل کا اقرار کیسے کریں آپ نے معقولی تشقیقات شروع کیں کہ وہ جوگری ہے تو دوحال خالی نہیں یاتوکسی نے گرائی ہے یاخودی گری ہے ، آہستہ گری ہے یازورسے پھر یہ بھی دوحال سے خالی نہیں یا توکسی آدمی نے گرائی ہے یا جانور نے یاڈر کے خودگری تو ان شقوں میں سے کونسی صورت واقع ہوئی ہے بس اسی طرح سے ان کا جہل چھپ گیا آج کل ایسی ہی ذہانت اور تیزی کمال سمجھتی جاتی ہے ایک حکایت مولانا گنگوہی نے ایک مفتی کی بیان کی تھی ان کو عاجز کرنے کی غرض سے کسی نے ان سے مسئلہ پوچھا کہ حاملہ عورت سے نکاح کرنا کیسا ہے یہ بڑے بکھیڑے کا اور تفصیل طلب مسئلہ ہے انہوں نے اخفاء جہل کےلئے کیسا مزہ کا جواب دیا کہ یہ ایسا ہے جیسے گھیرادے دیا اور دریافت کیا گیا گھیراکہا کہ یہ ہی گھیرا جس کو گھیراکہتے ہیں چند بار کے سوال پربھی یہ ہی جواب دیتے رہے ایسا گھیرا دیا کہ خود بھی اس سے نہ نکلے بعضے ایسے بھی گذرے ہیں کہ قصدا تو تلبیس نہ کرتے تھے مگر علمی سرمایہ کی کمی سے بعضے امراض کے اثر سے بے اصول جواب ان سے صادر ہوجاتے تھے ممکن ہے کہ وہ معزور ہوں مگر عوام کو ضرر تو پہنچ جاتا ہے جس سے بچانا ضروری تھا اور بچانے کی باضابطہ صورت یہی ہے کہ ان کا ابطال کیا جاوے مگر بعض مقامات پراس سےفتنہ ہوجاتا ہے اس لئے ایسے موقع پرتحصیل مقصود کےلئے بڑی حکمت کی ضرورت ہے حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی حکم بنایا تھا اس حکمت کا ایک واقعہ ہے مولانا کے ابتدائی وقت میں ایک بزرگ تھے مولوی سالاربخش صاحب وہ اس علاقہ میں بہت زیادہ بااثر تھے مگر مسائل بے اصل بیان کرتے تھے مولانا کی فراست قابل ملاحظہ ہے ایک شخص مولانا سے مسئلہ پوچھنے آیا اتفاق سے اس وقت مولوی سالاربخش صاحب گنگوہ آئے ہوئے تھے مولانا نے اسی حکمت پرنظرفرما کر اس شخص سے فرمایا کہ بڑے مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں ان سے مسئلہ پوچھو ان کے سامنے میں کیا چیز ہوں وہ شخص مولوی سالاربخش صاحب کے پاس پہنچا اور ان سے مسئلہ دریافت کیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ میں مولانا رشید احمد صاحب سے مسئلہ پوچھنے گیاتھا انہوں نے یہ فرمایا کہ ہم مولوی صاحب کے سامنے کیا چیز ہیں مولوی سالاربخش صاحب بڑے خوش ہوئے اور خوشی کے جوش میں بولے کہ واقعی وہ بڑے عالم ہیں آج سے ہم نے یہ کام ان ہی کے سپرد کردیا بس مسائل ان ہی سے پوچھا کرو ہم سے پوچھنے کی ضرورت نہیں حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ کی فراست دیکھئے کہ کتنے بڑے خلجان کوذراسی دیر میں رفع فرما دیا واقعی یہ حضرت مولانا ہی کاکام تھا ان حضرات کی فراست سبحان اللہ ۔
(ملفوظ 114)بعض اہل علم کے قلوب میں دین کی بے وقعتی :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ افسوس ہے آج کل بعضے حضرات دیندار اور اہل علم کہلاتے ہیں مگر اپنی اولاد کو تعلیم دنیا کی طرف بھیجتے ہیں مجھ کو توصاف معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگ غالبا اس پربھی پچتاتے ہونگے کہ ہم عالم کیوں ہوگئے ہم انگریزی کیوں نہ پڑھی سو یہ حالت کس قدر خطرناک ہے کہ اس سے ان کے قلب میں علم دین کی کھلی بے وقعتی معلوم ہوتی ہے حق تعالی ٰ ان لوگوں کی حالت پررحم فرمائیں اور ان کو ہدایت فرمائیں ۔
(ملفوظ 113) ثواب پہنچانے کی حقیقت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدعتیوں میں دین توہوتا نہیں یوں ہی اڑنگ بڑنگ ہانکتے رہتے ہیں کثرت سے دو باتیں ایجاد کررکھی ہیں جن کی نہ کوئی اصل معقول ہے اور نہ کوئی دلیل منقول ایک صاحب نے جوبدعتی ہونے کے ساتھ جنٹلمین انگریزی خواں بھی تھے ایصال ثواب پرمجھ سے گفتگو کی اور فاتحہ جوکھانے پرہوتی ہے اس کے متعلق سوال کیا میں نے دریافت کیا کہ ثواب پہنچانے کی حقیقت کیا ہے کہ ایک چیز کا ثواب ہم کو ملا ہم نے اس کو دوسرے کو پہنچادیا میں نے کہا کہ کھانا کھلانے سے یا دینے سے قبل ظاہر ہے کوئی ثواب کا عمل صادر ہی نہیں ہوا اس لئے ثواب بھی آپ کو نہیں ملا پھر کیا چیز پہنچاتے ہو ظاہر ہے کہ دیگ میں نکال کر طشت میں رکھنے پرتو کوئی ثواب ملا نہیں جس کو پہنچایا گیا پس گم ہوگئے اسی طرح ایک گاؤں کا شخص میرے پاس آیا اور کہا ک اجی مولوی جی کھانے پرہاتھ اٹھاکر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے میں نے کہا کہ تم نے اللہ واسطے کبھی کپڑا دیا ہوگا کیا اس پربھی فاتحہ پڑھوائی تھی سواس میں اور اس میں کیا فرق ہے پھر میں نے دریافت کیا کہ تمہاری یہاں کولہوں ہے جس میں گنے کا رس نکلتا ہےکہا کہ ہے میں نے کہا رس نکالنے کے بعد اس کے چھلکے یعنی کھوئی مسجد میں پانی گرم کرنے کےلئے کبھی دیتے ہوکیا اس پر بھی فاتحہ پڑھتے ہویا پڑھواتے ہوسمجھ میں آگئی بہت ہی خوش ہوا اور روز سے ہنسا کہنے لگا واقعی یہ ساری باتیں بیوقوفی ہی کی ہیں غرض بدعت کی باتیں خود صریح طور پرعقل کے بھی خلاف ہیں مگر تسویل نفسانی (نفس کے دھوکہ دینے ) کہ وجہ سے اس وقت سنت اوربدعت میں فرق کرنا پڑا مشکل ہوگیا جس کے سمجھنے میں اہل علم تک گڑبڑ میں پڑجاتے ہیں چنانچہ ایک طالب علم ان رسوم کے مانع تھے دوسرے مجوز (جائز کہنے والے ) ان مجوز نے کہا کہ یہ ماتعین کا سوء ظن ہے کہ فاعلین کے عقیدہ کو فاسد سمجھتے ہیں ان کے عنوان کو مت دیکھو ان کی نیت بری نہیں وہ جوکہتے ہیں کہ یہ نیاز ہے فلاں بزرگ کی مراد یہ ہوتی ہےکہ نیاز اللہ کی اور ایصال ثواب ان بزرگ کومانع کہتا تھا کہ نیت ہی بری ہوتی ہے یہ گفتگو ایک مسجد میں ہورہی تھی کہ ایک بڑھیا کچھ مٹھائی وغیرہ لئے ہوئے آئی اور مقیم مسجد ایک طالب علم سےکہا کہ بیٹا اس پر بڑے پیرکی نیاز دے دو مانع نے امتحانا کہا کہ بڑی بی نیاز تواللہ کی ہوا اور ثواب بخش دیں بڑے پیر صاحب کوتو بڑھیا کیا کہتی ہے کہ نیاز دیدو اس وقت مانع نے مجوز سےکہا اب اپنی تاویل کودیکھ لوبڑی بی اس کو کس طرح رد کررہی ہے یہ سب خرابیاں کھانے پینے والوں کی بدولت ہورہی ہیں وہ ان تدابیر سے حلوے خوب اڑاتے ہیں بلکہ ساتھ میں حسینو ں کے جلوئے بھی کیونکہ اکثر جاہل عورتیں ایسی چیزیں لےکرآتی ہیں بڑے ہی بددین ہیں ایک ملاکی حکایت سنی ہے کہ ایک گاؤں میں ایک مسجد تھی اس میں ایک مالارہتا تھا ایک بڑھیا فاتحہ کا کھاملانے کے لئے لائی اتفاق سے اس وقت ملامسجد میں تھا نہیں ایک مسافر مسجد میں ٹھہرا ہواتھا اس عورت نے اول ملاکو آوازدی جب وہ نہ بولایہ خیال کیا کہ مقصود تو ثواب ہےلاؤ اسی مسافر کو دیدو چنانچہ وہ چیز کھانے کی مسافر کو دے کرجلدی یہ مسجد کے دروازہ سے نکلی ہی تھی کہ ملا آگیا اس عورت سے دریافت کیا کہاں آئی تھی کہا کہ فلاں چیز کھانے کی لائی تھی مگر تم نہ تھے اس لئے مسافروں کودےکر چلی آئی یہ سن کرملائے آگ لگ گئی اورخیال کیا کہ بری راہ نکلی اب ہماری تخصیص مٹ جائے گی مسجد میں پہنچا اور ایک ہاتھ میں لٹھ لےکر تمام مسجد کےصحن میں دیوانوں کی طرح مارتا پھرنے لگا اور اخیر میں خود دہڑام سے گرگیا گاؤں والے جمع ہوگئے سوال کرنے پرکہا کہ بس اب میرا یہاں گذر نہیں اورکہیں جار رہا ہوں لوگوں نے وجہ پوچھی کہا کہ بات یہ ہے کہ میں تویہاں کے مردوں کو پہچانتا ہوں مسافر پہچانتا نہیں جب مردے جمع ہوئے اس مسافر نے تقسیم میں گڑبڑکی اس کو تونا واقف سمجھ کرکچھ بولے نہیں جب میں آیا میرے سرہو گئے مجھ کو لپٹ گئے میں نے کتنا ہی ہٹایا لٹھ بجایا کہ جب مجھے دی ہی نہیں میں تم کو کہاں سے دوں مگر ایک نہ سنی آخرسب نے مل کرمجھ کو گرادیا اب اگر ہمیشہ ایسا ہی ہو امیں تو مرجاؤں گا اس لئے جاتا ہوں دوسری جگہ گاؤں والے بیچاروں نے متفق ہوکر کہا کہ بس جی ملا ہی کو دیا کرینگے یہ کماؤ لوگ ایسے شریر ہوتے ہیں ملا پر ایک حکایت اور یاد آئی ایک عورت نے کھیر پکائی اتار کررکابی میں رکھی کتا آیا منہ ڈال گیا عورت نے اپنے بچے سے کہا کہ جایہ مسجد کے ملا کودے آ، وہ لیکر گیا ملا کونہ معلوم کے روز میں کھیرملی تھی بچے کے ہاتھ سے لیتے ہی ایک طرف سے کھانا شروع کردی بچے نےکہا ملاجی ادھر سے نہ کھائیو ادہر کتے نے منہ ڈالدیا تھا ملاجی نے نہ سن کرہاتھ سے رکابی پھینک کرماری وہ رکابی ٹوٹ گئی بچہ رونے لگا ملاجی نے دریافت کیا کہ تو کیوں روتا ہے کہاکہ تم نے رکابی پھوڑدی مجھ کو میری ماں مارے گی یہ تو میرے بھیا کے پاخانہ اٹھانے کی رکابی تھی یہ حالت ان کے عوام وخواص کی ہے اسی طرح کی حالت آج کل کے کماؤ پیروں کی ہے ایک ایسے ہی گاؤں میں پیراپنے مریدوں میں گئے ایک مریدنی گنواری کے یہاں ٹھہرے ایک دوسری گنواری مریدنی آئی کہ شام کو میرے یہاں ٹھہر ے ہیں میرا حق ہے اختلاف ہونے لگا تو دونوں کے اتفاق سے پیر صاحب حکم سے کہا کہ بھائی ٹھہرا ہوں اسی کے یہاں کھانا مناسب ہے آنے والی بولی اچھی بات مگر میں نے مرغ کاٹاتھا یہ سن کر پیر پھسل گئے اور گھروالی سے کہا کہ خیر اسی کو اجازت دیدے وہ ان سے کیا کہتی جھلاکر آنیوالی سے کہا جاتوہی پیرسے یوں توں کرالیجوبس یہ حالت ہے اسی لیے ان نالائقوں کی قدر منزلت بھی ایسی ہی ہوتی ہے ایک گاؤں میں اناج کی تیاری پرسب کمیوں کا حق نکالا جارہا تھا جب اناج اٹھانے لگے توایک چودھری نے جو اس تقسیم کو دیکھ رہا تھا یوں کہا کہ ارے سب کمیوں کا حق تو نکالا مگر اس سہرے پیر کا بھی حق نکال دو وہ آوے گا ایسے نالائقوں کی سزا یہی ہے خیر یہ تو جاہل لوگ تھے جن کے واقعات ہیں باقی زیادہ افسوس بعض علماء کی حالت پرہے کہ اغراض کی بدولت راہ سے بھی گرگئے نظر سے بھی گرگئے عوام کوان سے بد گمانی ہونے لگی اگرعلماء اپنی آن بان کو باقی رکھتے توان کی بڑی قدر ہوتی اور ان پر اعتماد بھی ہوتا مگر یہ بھی پھسلنے لگے بس ان کے پھسلنے پرزیادہ ررنج ہے اس لئے کہ ان کے پھسلنے سے عوام کے گمراہ ہونے کا سخت اندیشہ ہے اس ہی لئے میں ہمیشہ اس کی کوشش کرتا ہوں کہ علماء سے لوگ بدظن نہ ہوں ان کے ساتھ مربوط رہیں کہ ان کے دین کی سلامتی اسی میں منحصر ہے اس بداعتمادی پرایک واقعہ یاد آیا کہ ایک بڑی بی نے مجھ سے مسئلہ پوچھا کہ زکوۃ کا روپیہ ہے تاکہ وہ اس کے مصرف میں صرف کردیں وہ خوش ہوئیں اورکہا کہ مدرسہ میں جومولوی صاحب ہیں میں نے ان سے بھی پوچھا تھا انہوں نے بھی یہ ہی بتلایا تھا مگر مجھ کو اطمینان نہ ہو ا تھا کہ شاید اپنے مدرسہ کی غرض سے بتلا دیا ہو اسلئے میں نے یہ خیال کیا کہ کسی بہرے تبولے سے (یعنی غنی مستغنی ٰ سے ) پوچھوں بتلائیے یہ بدگمانی کس درجہ کی بات ہے پھر جب اہل علم پر اعتماد نہ ہوگا تومسائل کس سے پوچھیں گے اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ علماء کو بہت سنبھل کررہنے کی ضرورت ہےبلکہ ان جاہل صوفیوں اوردرویشوں کی حرکات سے اس قدر عوام کی گمراہی کا اندیشہ ہے جس قدر اہل علم اورعلماء کے پھسل جانے سے اندیشہ گمراہی کا ہے ان کو بہت سنبھل کرچلنے کی ضرورت ہے ۔
(ملفوظ 112)شیعوں کےخواص ہروقت تلبیس کی تدابیر سوچتے ہیں :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ شیعوں کے عوام الناس گمراہی میں درجہ کے نہیں جس درجہ کے ان کے خواص ہیں ہروقت تلبیس کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں ایک واقعہ میں لکھنؤ کا ایک مجتہد صاحب کے پاس ایک شیعی نواب صاحب ہانپتے کانپتے آئے کہا کہ جناب آج بڑا جرم صادر ہوا اسکا کیا کفارہ ہونا چاہئے وہ جرم یہ ہوا قبلہ کی خاک شفاء کی تسبیح بھولے سے ہاتھ رہ گئی اور بیت الخلاء میں چلی گئی اوراس کا تا گا ٹوٹ کرچند دانے پاخانہ میں گرگئے اب اس گناہ کا کیا کفارہ ہے مجتہد صاحب نے جواب دیا کہ نواب صاحب فکرنہ کیجئے وہ خاک شفاء ہی نہ تھی پاک چیز ناپاک کی طرف جاہی نہیں سکتی تمام مجلس میں اس جواب پربڑی تحسین ہوئی کہ سبحان اللہ کیا نکتہ فرمایا اس مجلس میں ایک سنی بھی تھے انہوں نے کہا کہ حضرت قبلہ آپ کے جواب سے تو آج مذہب کا قطعی فیصلہ ہوجاوے گا یہ آپ کے ہاتھ میں تسبیح ہے میں نے بارہا آپ سے سناہے کہ یہ اصلی خاک شفاء کی ہے سومجھ کو اجازت دیجئے کہ اس کا تا گا توڑ کر پاخانہ کے سامنے لٹکاتا ہوں اگرتسبیح کا کوئی دانہ نہ گرا تو میں شیعی ہوجاؤنگا اور اگر گرگیا تو آگے کچھ کہہ نہیں سکتا تمام مجلس پراس جواب سے حیرت طاری ہوگئی اور مجتہد صاحب سے کچھ بھی جواب نہ بن پڑا ایک دوسرا واقعہ بھی لکھنؤ کا ہے شیعوں کے یہاں خرگوش حرام ہے مولانا اسمعیل شہید صاحب رحمتہ اللہ علیہ لکھنو کے آمد کے زمانہ میں ایک خرگوش کاشکار کرکے لائے وہ ایک گوشہ میں رکھا ہوا تھا اتفاق سے مولانا کے پاس ایک مجتہد صاحب بغرض ملاقات تشریف لائےوہ بیٹھے ہوئے تھے اتنے ایک کتا آیا وہ خرگوش کی طرف چلا مگرسونگھ کرہٹ گیا اس پرمجتہد صاحب کوایک موقع ملا فرماتے ہیں جناب مولانا دیکھئے آپ کے شکار کوکتے نے بھی نہیں کھایا مولانا نے جواب دیا کہ جناب قبلہ مجتہد صاحب یہ کتوں کے کھانے کا نہیں ہے آدمیوں کے کھانے کا ہے ۔ تیسرا واقعہ ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ عامی سنی سے ایک شیعی کی گفتگو ہوئی سنی نے کہا جب فدک پرجھگڑا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کو کیوں نہ لے لیا شیعی نے جواب دیا کہ جو چیز غصب کرلی جاتی ہے پھر ہم لوگ اس کونہیں لیتے ، سنی نے جواب دیا کہ خلافت بھی تو غصب کرلی گئی تھی پھر اس کو کیوں لیا اس جواب پرشیعی دم بخود رہ گیا۔ چوتھا واقعہ ایک مولوی صاحب میرے دوست ہیں کیرانہ کے رہنے والے وطن ہی میں ان سے ایک شیعی نے کہا کہ مولوی صاحب یہ کیا بات ہے کہ آج کل جتنے نئے نئے فرقے نکلتے ہیں تہتر بہتر فرقہ جوبنے ہیں یہ سب سنیوں ہی میں سے بنتے ہیں کبھی آپ نے یہ بھی دیکھا کہ مومنین سے کوئی نیا فرقہ بناہومولوی صاحب نہایت ذہین اور ذکی شخص ہیں بڑی ظرافت سے کہا کہ آپ نے بالکل سچ کہا مگر اس کی وجہ آپ کو معلوم نہیں میں بتلاتاہوں وہ وجہ یہ ہے کہ یہ سب کو معلوم ہےکہ شیطان ہرشخص کو گمراہی میں اعلی درجہ پر پہنچانے کی کوشش میں لگارہتا ہے توسنی چونکہ حق پرہیں اس لئے وہ ہروقت ان کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور نئی نئی گمراہیاں سکھلاتا رہتا ہے بخلاف تم لوگوں کے کہ تم کو گمراہی کے اعلی درجہ پر پہنچا چکا ہے اب وہاں سے کس درجہ پرپہنچا دے اس لئے تم سے بیفکر ہےیہ سن کرشیعی صاحب نے سانس نہیں لیا ۔ پانچواں واقعہ ایک خواندہ شیعی اور ایک ناخواندہ خان صاحب کا ہے سفر میں اتفاقا ساتھ ہوگیا شیعی صاحب نے کہا کہ جناب خان صاحب جن لوگوں نے امام حسین کوشہید کیا معلوم نہیں ہم تھے یاتم تھے (یہ چھیڑتھی مطلب یہ کہ شیعی تو محب حسین ہیں وہ توہو نہیں سکتے بس سنی ہی ہونگے حالانکہ یہ تاریخ کے خلاف ہے مگر بیچارے باخواندہ پٹھان تاریخ کیاجانے شیعی صاحب سمجھتے تھے کہ یہ بیچارہ اس کا جواب کیا دے گا ) خان صاحب بولے جناب واقعات تو واقف لوگ جانتے ہوں گے مگر ایک بات موٹی تو ہم بھی سمجھ سکتے ہیں وہ یہ کہ ہم نے سناہے کہ جو اصحاب کو برا کہے اس نے اللہ ورسول کو برا کہا اور جواللہ ورسول کو برا کہے وہ کافر ہے اور حضرت امام حسین کو قتل کرنا مسلمان کا کا م توہے نہیں کافر ہی ایسا کام کرسکتا ہے اب دیکھ لیجئے ان کے شہید کرنے والے کون تھے ، شیعی صاحب باوجود خواندہ ہونے کےدم بخود ہی تورہ گئے ۔

You must be logged in to post a comment.