ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یورب کے شہروں میں مدارس میں منگل کی بھی چھٹی ہوتی ہے اس لئے کہ وہاں کےلوگوں میں مشہور ہے کہ امام ابوحنیفہ کی وفات منگل کے روزہوئی ہمیں تویہ بھی معلوم نہیں کہ امام صاحب کی وفات منگل کے ورز ہوئی۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 131)اعلاء السنن اور تفسیرمیں مذہب حنفی کا کام
ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ مولوی صاحب ایک تصنیف کا وعدہ کرگئے ہیں جس میں آیات سے اثبات ہوگا مذہب حنفی کا کیونکہ مدرسہ دیوبند میں جیسے پہلے سے حدیث شریف کا دورہ ہوتا ہے امسال تفسیر کا دورہ بھی تجویز کیاگیا ہے اس میں مدارک بھی ہے اس کے مصنف حنفی ہیں تواس نئی کتاب میں اس میں زیادات ہوجاوے گی جیسے یہاں ایک کتاب مذہب حنفی میں حدیث کی ہوگئی ہے اعلاء السنن اسی طرح یہ ایک کتاب تفسیر کی ہوجائے گی جس کا وعدہ مولوی صاحب کرگئے ہیں پھرحدیث کی کتاب مذکورکی ترتیب پرفرمایا کہ اللہ کا شکرہے کہ یہاں کسی کوامداد کے لئے نہ تحریک کی جاتی ہے اور نہ ترغیب دی جاتی ہے اورکام سب جگہ سے زائد ہورہاہے ۔
(ملفوظ 130) فناء نفس مقدم ہے مجاہدہ پر :
ایک سلسلہ گفتگومیں فرمایا کہ جوشخص یہاں اصلاح کے لئے قیام کے ارادہ سے آتا ہے یا طالب علم مدرسہ می داخل ہونے کےلیے آتاہے اس کو دو وصیتیں کردی جاتی ہیں ایک یہ کہ کسی سے دوستی مت کرو اور دوسری یہ کہ کسی سے دشمنی مت کرو یہاں تو وہ رہ سکتا ہے جومردہ ہوکررہے یہاں زندوں کا کام نہیں اورجگہ تو ماہدہ مقدم ہے فناء نفس پراوریہاں فناء نفس مقدم ہے مجاہدہ پر۔
(ملفوظ 129 )سنی سنائی روایت پرعمل نہ فرماما :
ایک گفتگو میں فرمایا کہ الحمداللہ میرے عادت ہے کہ میں سنی سنائی روایتوں پر عمل نہیں کرتا اگر مدعی علیہ اس واقعہ کا انکار کرے تو میں اس پرعمل نہیں کرتا باقی رہا شبہ سویہ میرے اختیار میں نہیں شبہ توہوہی جاتا ہے مگریہ حق تعالیٰ کا فضل ہے کہ جوچیز اختیار میں ہے اس میں کبھی حدود سے تجاوز نہیں ہوتا ۔
(ملفوظ 128)خدمت کے شرائط میں ایک بے تکلفی بھی ہے :
ایک صاحب کی غلطی پرجوکسی خدمت کے متعلق صادر ہوئی تھی مواخزہ فرماتے ہوئےفرمایا کہ جب تک بے تکلفی نہ ہو کسی کی خدمت نہیں کرنا چاہئے ایسی خدمت سے مخدوم کو تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ خدمت کے شرائط میں سے ایک بے تکلفی بھی ہے لوگ خدمت میں کوئی شرط ہی نہیں سمجھتے حالانکہ نماز وروزہ جوقربات مقصود سے ہیں ان تک بھی شرائط ہیں مگر لوگ اس میں کچھ بھی شرائط نہیں سمجھتے اگر شرائط خود معلوم نہ ہوں آدمی کم از کم تحقیق تو کرلے کہ کیا شرائط ہیں اول تو فطرت سلیمہ کا مقتضایہ ہی ہے کہ خود ایسی شرائط جوکہ موٹی باتیں ہیں سمجھ میں آجائیں لیکن اگرکسی کی ایسی فطرت نہ ہو تویہ موٹی بات ہے کہ کسی سے معلوم ہی کرلے لیکن یہ باتیں ہوتی ہیں فکرسے اور فکرہے نہیں جوجی میں آیا کرلیا اس پران صاحب نے معافی کی درخواست کی فرمایا کہ معاف ہے مگر آئندہ ایسی باتوں کا خیال رہے بے ڈھنگا پن براہے ۔
(ملفوظ 127)بزرگوں کے مسلک چھوڑنے کی خرابیاں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ ساری خرابیاں اپنے بزرگوں کے مسلک اور طرز کوچھوڑ دینے کی ہیں عاقبت اور خیریت اسی طرزمیں ہے جوہمیشہ اپنے بزرگوں کا رہا ہے یہ نئی نئی باتیں انگریزیت اور نیچریت کی بدولت لوگوں کی گلوگیرہوگئیں اب ان چیزوں کا قلب سے مٹنا آسان نہیں البتہ ایک چیز ہے جوان کا انسداد کرسکتی ہے وہ صحبت ہے کسی کامل کی اور وہی مقصود ہے اور ایک اس کی ہی کیا شکایت کی جائے تمام دین ہی کی حقیقت بدل گئی اسی دین کے لباس میں ہزاروں راہ زن اور ڈاکو بنے پھرتے ہیں ان بدینوں کی بدولت لوگوں کے عقائد تک خراب ہو گئے بدعت اورشرک میں عام مبتلاء ہوگیا اور ذرا قلب میں خدا کا خوف نہیں رہا زیادہ تر گمراہی کا دروازہ ان ہی کی بدولت کھلاہے اورلوگ دوسری طرف متوجہ ہوگئے چنانچہ تحریک گزشتہ می علماء کی شرکت سے عوام پرزیادہ اثرہوا اور لوگ راہ سے بے راہ ہوگئے اور ایسے لوگوں کی حالت زیادہ خطرناک ہے جودوسرون کی گمراہی کا سبب بنیں ۔
11/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ
(ملفوظ 126)سادگی حضرت حاجی صاحب :
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہمارے بزرگوں کی تو ظاہری وضع بھی سادی رہتی تھی کوئی پہنچانتا بھی نہ تھا ایک مرتبہ حضرت حاجی رحمہ اللہ دہلی تشریف رکھتے تھے دیکھا ایک جگہ مجمع ہے اور دردنامہ غمناک جوکہ حضرت کی تصنیف پڑھا جارہا ہے حضرت بھی مستمعین ( سننے والوں ) میں شریک ہوگئے اورکسی نے پہچانا بھی نہیں ایک بارپانی پت تشریف لے جارہے تھے راستہ میں دیکھا کوئی عاشق یہی دردنامہ پڑھتا جارہا ہے فرماتے تھے کہ میں نے کہا کیوں بک بک لگا رہاہے اس نے حضرت کوسختی سے جواب دیا کہ توکیا جانے حضرت کے پانی پت پہنچنے کے بعد شہرت ہوئی یہ شخص بھی ملاقات کو آیا حضرت کو پہچان کر بہت شرمندہ ہوا اور حضرت سے معافی چاہی حضرت نے فرمایا کہ بھائی تم نے کوئی بری بات تو نہیں کہی تھی یہی توکہا تھا کہ توکیا جانے واقعی میں تمہاری حالت کو کیا جانوں ، یہ حالت تھی سادگی کی اپنے بزرگوں کی اور ادب تورنگ ہی بدل گیا ڈھنگ ہی نرالے ہیں مجھ کوتودیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ایک دم کایا پلٹ ہوگئی ۔
(ملفوظ 125) تفسیر عجیب از مولانا محمد یعقوب صاحب :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے بزرگ بحمداللہ بے نظیر جامع کمالات تھے چنانچہ باوجود اس کے مولانا فیض الحسن صاحب بہت بڑے ادیب ہیں جلالین پران کا حاشیہ بھی مشہور ہے وہ چھپا ہوا میرے پاس بہت دنوں تک رہا بھی ہے مگر اس میں کوئی خاص عجیب تحقیق نظرآئی اور مولانا محمدیعقوب صاحب رحمہ اللہ ایسے ادیب مشہورنہ تھے مگرمولانا کی تقریرات سے جوبہت سے مقامات مجھ کومنضبط بھی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ عربیت سے اس قدرمناسبت تھی کہ دیکھنے والا پھڑک جاتا ہے اس وقت ایک مقام یاد آگیا آیت الزانیۃ والزانی اور آیت السارق والسارقۃ کے متعلق ( پہلی آیت میں ) الزانیتہ کی تقدیم اور دوسری آیت میں السارق کی تقدیم کے بارہ میں مشہورسوال ہے جس کا سب سے لطیف جواب منقول ہے کہ سرقہ کی بنا جرات ہے اور وہ مرد میں زیادہ ہے اور زناء کی بناء شہوت ہے جوعورت میں زیادہ ہے مگر اس جواب میں یہ خدشہ ہے کہ اس فرق کو بناء کہتے ہیں تو مجرم کی ایک قسم معذوری کا اظہار ہے اور مقام یہ ہے تقیح کا اب مولانا کی توجیہ سنئے فرماتے تھے کہ سرقہ کا صدور مرد سے زیادہ عجیب اور قبیح ہے کہ وہ کما کرکھا سکتا ہے اورعورت میں عفت وشرم وحیا زیادہ ہوتی ہے اس سے زنا کا صدور زیادہ عجیب وقبیح ہے میں نے کسی تفسیر میں یہ بات نہیں دیکھی جوحضرت مولانا محمدیعقوب صاحب رحمہ اللہ سے سنی مولانا سے میں نے جلالین کے بیس پارے پڑھے ہیں اکثر مقامات میں ایک عجیب بات ارشاد ہوتی تھی گواب سب زیادہ رہا مگر کچھ کچھ یاد ہے اور پھر باوجود ان کمالات کے یہ حالت تھی کہ اپنے کو بلکل مٹائے ہوئے اور فنا کئے ہوئے تھے اورآج کل اکثروں کی یہ حالت ہے کہ نہ علوم ہیں نہ عمل نہ کوئی تحقیق ہے نہ کوئی تدقیق ہے مگر ویسے ہی جامے سے باہر ہوئے جاتے ہیں دیکھئے ہمارے بزرگ جوہرطرح پرصاحب مال تھے ان کو جو بھی خطابات دیئے جاتے اور جن القاب سے یاد کیاجاتا تھوڑا تھا مگر ان حضرات کا انتہائی لقب مولانا تھا ورنہ اکثر مولوی صاحب کہلاتے تھے اورآج کل جن لوگوں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں وہ شیخ الحدیث شیخ التفسیر، امیرالہند امام الہند کہلانے لگے یہ سب نئی ایجاد ہے البتہ شیخ الاسلام پرانا لقب ہے اس سے طبیعت میں انقباض نہیں ہوتا اور خیریہ القاب تو پھربھی علم سے تعلق رکھتے ہیں مگرآج کل تو جانوروں تک کے خطابات باعث فخر اور پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں یہی حوانیت کا غلبہ اس زمانہ میں ہوگیا ہے ، مثلا طوطی ہند، بلبل ہند، شیرپنجاب معلوم ہوتا ہے اب کچھ دنوں کے بعد فیل ہند ، اسپ ہند ، پیدا ہونگے کیا خرافات ہے خدا بھلاکر لے اس جاہ کا اس نے اندھا بنارکھا ہے اور سنئیے کہ ان میں لکھے پڑھے بھی نہیں مگرامام التفسیر شمس العلماء یہ خطابات اورالقاب یہ سب نیچریت کے ماتحت ہیں لوگوں کو ان باتوں میں کچھ مزہ آتا ہے استغفراللہ ۔
(ملفوظ 123)تبرکات میں زیادہ کاوش کرنا خلاف محبت ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عالم نہ ہوتو کم ازکم عاشق توہو شاہ عبدالعزیز صاحب رحمہ اللہ نے اسی عشق سے متاثر ہوکر لکھا ہوا دیکھا ہے اب یاد نہی رہاکہ کہاں لکھا ہے کہ یہ جوجابجا تبرکات ہیں ان میں زیادہ کاوش نہ کرے کہ خلاف ہے ۔
(ملفوظ 122)مخالفین کا بھی امدادیہ کی تعریف کرنا :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعضے بدعتی اپنے مجمع میںاقرار کرتے ہیں کہ یہ تواللہ کو معلوم ہے کہ نفع ہوتا ہے اورکہاں نہیں مگر تسلی جس چیز کا نام ہے وہ خانقاہ امداد یہ ہی میں ہوتی ہے اور کہیں بعضے پکے مخالف ہیں جن شخصوں نے یہ بات کہی ہے سب اللہ کا فضل ہے احسان ہے ۔

You must be logged in to post a comment.