(ملفوظ 101 )واقعہ ایڈیڑ اخبار (اہل حدیث ) کے تدین وامانت کا فقدان :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک اخبار ایک مقام سے نکلتا ہے یہ بعض مدعیان حدیث کا پرچہ ہے اس میں میری ایک عبارت جو ایک آیت کی تفسیر کے متعلق ہے نا تمام نقل کرکے شبہ کیا گیا ہے کس قدر غضب اور ظلم کی بات ہے بعض لوگوں میں تدین اور امانت کا نام نہیں ہوتا دعویٰ ہی دعویٰ ہوتا ہے اہل وحدیث ہونے کا، نیز اعتراض کرکے مجھ کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ابن تیمیہ ابن القیم کی کتابیں دیکھا کرو میں کہتا ہوں کہ تم دیکھ کر بہت محقق ہوگئے میرے جس عبارت پرشبہ کیا تھا میں اس سے پیشتر اس کا جواب بھی دے چکا ہوں تدین اور امانت کی بات تو یہ تھی کہ میرے اس جوا ب کو نقل کرکے اس سے تعرض کرتے کچھ خدا کا خوف بھی تو چا ہئے کہ میری نا تمام عبارت نقل کرکے اعتراض کردیا یہ نہ سوچا کہ اگر کسی نے وہ مقام پورا دیکھا تو وہ کیا کہے گا.

میں ان کو تو کوئی جواب نہ دونگا مگر ان شاءاللہ تعالی ٰ اپنے یہاں اس مقام کو نقل کراکر شائع کردوں گا، ایسے بے احتیاط لوگوں سے خطاب کرنا ہی لاحاصل ہے واذا خاطبھم الجاھلون قالواسلما پرعمل کا یہی موقع ہے آج کل کے اکثر غیرمقلدوں میں تقوٰی  طہارت نہیں ہوتا الا ماشاءاللہ پھر ان بزرگ صاحبِ اخبار کو میری غلطی ہی نکالنا تھی تو مجھ کو خاص طور پر اطلاع کردینا کافی تھا اخبار ہی میں چھاپنے کی کونسی ضرورت تھی اور وہ بھی نام کے ساتھ اور اگر میرے مضمون کے متعلق یہ خیال تھا کہ اس کی اشاعت ہوچکی اس سے لوگ گمراہ ہونگے اس لئے اشاعت ضروری ہے تو صرف یہ لکھ دینا کافی تھا کہ ایک ایسی تفسیر ہماری نظر سے گذری جو سلف کے خلاف ہے ہم بغرض اطلاع اس کی اشاعت کرتے ہیں مگر یہ تو جب کرتے جبکہ اس اشاعت سے دین مقصود ہوتا، مقصود تو فخر ہے کہ ہم  نے فلاں شخص کی غلطی پکڑی پھر وہ بھی غلط تحریف کرکے مضمون کی پوری عبارت بھی تو نقل نہیں کی ایسی حرکت تو شرعا بھی جائز نہیں.

میں  نے ان کو یہ بھی لکھا تھا کہ سوال کے طریقہ سے سوال کرو بلاضرورت اعتراض کا لہجہ نہیں ہونا چاہئے تو آپ نے اس کا بھی سنت ہونا ثابت کیا ہے کہ حدیث میں آیا ہے حضرت عائشہ نے حضور ﷺ سے حساب یسیر کے متعلق ایسے ہی لہجہ میں سوال کیا تھا یہ ہیں عامل بالحدیث اور ان کادعویٰ ہے حدیث دانی کا اتنا بھی معلوم نہیں کہ اگر لہجہ کا تحقیق علی سبیل التنزیل تسلیم بھی کرلیا جاوے تب بھی یہ فرق ہے وہاں بے تکلفی تھی وہاں لہجہ پرنظر نہ تھی دوسراشخص تو اس قیاس کا یہ جواب دیتا کہ تم بھی میری بیوی بن جاؤ پھر لہجہ کا میں بھی خیال نہ کروں گا.

اگر میری پوری عبارت نقل کرکے اعتراض کیا جاتا تو مجھ کو اس قدر رنج نہ ہوتا اور الحمداللہ مجھ کو اپنی ذاتی لغزشوں پر کبھی اصرار نہیں ہوتا سمجھ میں آتے ہی رجوع کرلیتا ہوں پھر اس فضول بلکہ موذی طرز کی کیا ضرورت تھی میرا تو قدیم سے معمول ہے کہ جب کوئی میری غلطی پر متنبہ کرتا ہے تو سب سے اول مجھ کویہی احتمال ہوتا ہے کہ ضرور مجھ سے غلطی ہوئی ہوگی اس کے بعد پھر اس میں غور کرتا ہوں یہ خدا کا ایک بہت بڑا فضل ہے کہ میں اول ہی سے اپنی غلطی قبول کرنے کو تیار ہوتا ہوں اور دوسرے اکثر لوگ اول اس کے جواب کی تلاش میں لگ جاتے ہیں سب بزرگوں سے زیادہ یہ بات حضرت مولانا یعقوب صاحب ؒ میں تھی کہ اپنی غلطی کو فورا تسلیم فرما کر رجو ع فرمالیتے تھے اور الحمداللہ میرے یہاں تو ایک مستقل شعبہ ہے جس کا نام تزجیح الراجح ہے اس میں برابر اپنی غلطیوں کو شائع کرتا رہتا ہوں.

پھر تہذیب کے ساتھ سوال کرنے پر ایک واقعہ بیان کیا کہ مجھ کو ایک مرتبہ حیدر آباد دکن میں میرے ایک دوست نے مدعوکیا تھا میں وہاں ایک وعظ میں ایک مضمون بیان کیا وہ تھا ایک لطیفہ مگر بیان کیا گیا صورت استدلال میں وہاں ایک بڑے معزز وممتاز شخص ہیں فخریا ر جنگ انہوں نے مجھ سے مقام وعظ پر نہیں بلکہ جائے قیام پر آکر نہایت نرم لہجہ میں اس مقام کے متعلق اس پاکیزہ عنوان سے دریافت کیا کہ یہ استدلال کس درجہ کا ہے میں نے ان کاشبہ سمجھ کر صاف کہہ دیا کہ یہ کسی درجہ کا بھی استدلال نہیں محض ایک لطیفہ ہے جس کی صورت استدلال کی ہو گئی سو ان کے اس سلیقہ سے سوال کرنے سے کوئی ناگواری نہیں ہوئی اور مزاحا فرمایا کہ اگر بدسلیقی سے سوال کرتے تو میں اس کے اثر سے ناگ وارد ( یعنی مشابہ سانپ کے ) ہوجاتا ۔

(ملفوظ 100)طریقت میں حضرت گنگوہی کی عجیب البیلی شان :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت گنگوہی ؒ کی طریقت میں بھی عجیب البیلی شان تھی حضرت کا اکثر حصہ عمرکا درس تدریس میں گذراور نہ بڑے حقائق کا اظہار ہوتا میرے ایک دوست نے ایک مرتبہ حضرت کو بعد وفات خواب میں دیکھا دوباتیں فرمائیں ایک یہ کہ ہم کو توحق تعالیٰ نے مرنے کے بعد خلافت دیدی میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ حق تعالیٰ نے افاضہ کا تصرف عطا فرمایا ہے جیسے بعض بزرگوں کو بعد وفات عطاہوتاہے اور دوسری بات میرے متعلق فرمائی کہ ذرا تیزی ہے مزاج میں پھرفرمایاکہ خیرکچھ ڈر نہیں ۔
9/ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ

(ملفوظ 99)سماع ڈھولک سارنگی سے کھلم کھلاحرام اور معصیت ہے :

ایک صاحب نے سماع کے متعلق ذکرکیا فرمایا آج کل سماع کہاں ہے لہوولعب ہے ، میرا اس کے متعلق ایک مستقل رسالہ ہےحق السماع اسکانام ہے اس کا دیکھ لینا ان شاءاللہ تعالیٰ کافی ہے ایک بزرگ ہیں حضرت شاہ نجات اللہ صاحب کرسی ایک مقام ہے وہاں ان کامزار ہے کسی نے ان کے سامنے تخت پرزور سے لکڑی ماردی اس پرفرمایا کہ یہ بھی باجا ہے اس قدر احتیاط تھی اورآج کل تو ڈھولک سارنگی ستارہا رمونیم گراموفون لوگوں میں شیروشکر کی طرح رائج ہورہے ہیں یہ کوئی سماع ہے جوبعض اہل حال سے منقول ہےیہ توکھلم کھلا معصیت ہے اور قطعا حرام ہے ، خوامخواہ بزرگوں کوبدنا م کرتے ہیں بلکہ خوداصل سماع ہی کے متعلق بے حد شرائط ہیں رسالہ مذکورہ دیکھنے سے اس کی حقیقت کا انکشاف ہوجائے گا اس کو دیکھ لیا جائے پھرکسی سوال کی انشاءاللہ حاجت نہ رہے گی ۔

(ملفوظ 98)گاؤں میں جمعہ جائزنہیں :

ایک صاحب نے گاؤں میں جمعہ کے جواز کےمتعلق سوال فرمایا کہ امام صاحب کے نزدیک گاؤں میں جمعہ جائز نہیں حضرت مولانا گنگوہی ؒ نے ایک بار آبہہ والوں سے (یہ ایک گاؤں ہے ) فرمایا تھا کہ میں یہ سمجھا تھا کہ آبہہ والے میرے ہیں اور آبہہ میراہے مگرتعجب ہے کہ تم لوگ وہاں جمعہ پڑھتے ہوتب ان لوگوں نے جمعہ پڑھنا ترک کیا حضرت مولانا گنگوہی ؒ اس مسئلہ میں بہت محتاط تھے اور حضرت مولانا محمد قاسم صاحب ؒ اس مسئلہ میں قدر ے توسع رکھتے تھے ۔

(ملفوظ 97)مصالح دنیوی کودین پر مقدم کرنا کتنا غضب ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل مصلحت پرستی کا بازار گرم ہے بکثرت مصالح دنیوی کو دین پرمقدم سمجھتے ہیں کتنے غضب اور ظلم کی بات ہے میں بحمد اللہ دین کومقدم رکھنا چاہتا ہوں مصالح دنیوی پربس یہی لوگوں سے میری لڑائی کا راز ہے اسی وجہ سے میں بدنام ہوں میں توکہتا ہوں کہ مصالح جس قدر پیسے جائیں اسی قدر سالن لذیذ ہوتا ہے جی ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ خواہ دینا کی مصلحت نہ ہو مگر دین کی مصلحت محفوظ رہے کسی کام کا کسی بات کا داعی دنیانہ ہومحض دین ہو ۔

(ملفوظ 96) حضرت حکیم الامت کا بجز حقوق مالیہ جملہ حقوق معاف فرمانا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں بجز حقوق مالیہ کے اور سب حقوق بندگان خدا معاف کردیتا ہون جیسے سب دشتم وشکایت وغیبت وغیرہ اور حقوق مالیہ اس لئے معاف نہیں کرتا ممکن ہےکہ میرا کوئی قلمدان ہی اٹھا کرلے جائے کہ یہ توحقوق مالیہ بھی معاف کرچکا۔

(ملفوظ 95)اخلاق متعارفہ سے اصلاح نہیں ہوسکتی :

ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر میں اخلاق متعارفہ اختیار کروں اور تمہاری للوپتو میں رہوں تو تمہاری اصلاح کیسے ہو باقی اصلاح کے اس طرز خاص میں مجھ کو اپنی کسی بات اور کسی کام اورکسی حالت پر ناز نہیں اور ناز توکس چڑیا کانام ہےمیں تو واقعی اپنے کو کلب اورخنزیر سے بدتر سمجھتاہوں بھلاکوئی اس کاکیا یقین کرسکتاہے اس لیے میں بتلاتا ہوں کہ خنزیر سے بدتر سمجھنا اس معنی کرہے کہ ان میں عقوبت کا احتمال نہیں اورہم میں عقوبت اورعذاب کا احتمال ہے اب بتلاؤ کون اچھا ہے نیز باب اصلاح میں میں بحمداللہ امیں ہوں یعنی کسی کی حالت کی اطلاع دوسرے کو نہیں کرتا اگر کسی کامضمون نقل کراتا ہوں تواس کانام نہیں نقل کراتا کہ یہ کس کا مضمون ہے غرض میں ہرقسم کی رعایت کو ملحوظ رکھتاہوں اورامراض باطنی کاسہل سے سہل علاج تجویز کرتا ہوں اورکسی مرض کو لاعلاج نہیں مگرطب روحانی میں بحمد اللہ کہیں گاڑی نہیں اٹکتی پھرجب اتنی رعایتوں پربھی مجھ کو اذیت دی جاوے توکہاں تک تغیرنہ ہو آخرمیں بھی انسان ہوں بشرہوں تومجھ کواس قدر ستایا ہی کیوں جاتا ہے اس پر کچھ کہتا ہوں تو مجھ کوبدخلق اورسخت گیرمشہور کرتے ہیں اوراپنی حرکت کو نہیں دیکھتے اس کی بالکل ایسی مثال ہےکہ چپکے سے ایک شخص کے سوئی چھبودی اور الگ ہوگئے اب وہ چیخ رہاہے چلارہاہے جھلا رہاہے اس کے چیخنے اور چلانے اورجھلانے کوتو سب دیکھ رہے ہیں مگر اس کے سوئی چھبونے کو کسی نے نہیں دیکھا پھراس پریہ کہا جائے کہ میاں ایک ذراسی سوئی ہی تو چھبوئی ہے اس قدر غل کیوں مچاتے ہو جی ہاں جب تمہاے چھبوئی جائے تب پتہ چلے اگرکہوں کہ ہم توبرداشت کرسکتے ہیں تومیں کہوں گا کہ تم بے حس ہوجیسے فالج زدہ پر کوئی اثرنہیں ہوتا دوسرا توبے حس نہیں اس کو محسوس ہوتا ہے ۔

(ملفوظ 94)عمل شروع کرتے ہی دشواری سہولت بن جاتی ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عمل تواگر دشواری ہوتو شروع کردے پھرسہولت بھی حق تعالی ٰ میسر فرمادیتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں فاما من اعطی ٰ واتقی ٰ وصدق بالحسنی ٰ فسنیسرہ للیسریٰ اے ہمارے اکابر تسہیل کا بہت قصد کرتے ہیں مگربعض چیز سہولت کی ہوتی ہی نہیں کیا کیا جاوے ایک شخص بی اے ہیں وہ یہاں پرآئے تھے ہیں سمجھدار شخص یہاں سے وطن واپس جاکر لکھا کہ میرے اندر کبرکا مرض ہے اور نفس اس لکھنے پربھی تیار نہیں کہ کبر کو اپنی طرف منسوب کرے میں نے لکھا کہ یہ مضمون مجھ کو پانچ مرتبہ لکھ کربھیج دو پانچ مرتبہ بھی نہیں لکھنے پائے کہ مرض سے شفاہوگئی اب اس سے زیادہ اور کیا تسہیل ہوگی اب وہ بتلائیں جواس طریق کو بدعت کہتے ہیں کہ اس میں بدعت کی کونسی بات ہے یہ تو تدابیر ہیں جیسے طبیب جسمانی امراض کی تدابیراختیار کرتاہے ایسے ہی اس طریق میں خاص تدابیر ہیں ان ہی تدابیر کانام مستقل فن ہوجانے کی وجہ سے تصوف رکھ دیا ہےیہ تدابیر اس مقصود کےمعین ہیں توان میں بدعت کی کونسی بات ہوئی مگرہرحال میں یہ سب کچھ موقوف ہے ارادہ پرمگر لوگ اردہ ہی نہیں کرتے محض تمنا کرتے ہیں اگر ارادہ کریں سخت سے سخت کام آسان ہوجائے اور بے ارادہ آسان سے آسان کام سخت ہوجاتاہے ہمارے خاندان کی ایک عورت کی حکایت کہ ان کو آنکھ کھلنے کے وقت شب کو پیاس لگی خاوند سےکہا کہ پیاس گیا لگ رہی ہے خاوند نے کہا کہ اٹھ کرپانی پی لومگر کم ہمتی سے نہیں اٹھی خاوند تھے ظریف کچھ دیر کے بعد کہا کہ مجھ کو بھی پیاس لگ گئی پانی پلادو عورتوں کو شوہرکی راحت ضاص خیال ہوتا ہے اس لئے اٹھ کرپانی لائی خاوند نےکہا کہ مجھ کو پیاس نہیں بہانہ سے منگایا ہے تم پیلو تب سمجھی اب دیکھ لیجئے اپنے لئے پیاس لگنے پر پانی پینے کا ارادہ نہ تھا اٹھنا مشکل ہوگیا اور خاوند کیلئے ارادہ کیا تو آسان ہوگیا حق تعالیٰ ارادہ کے متعلق فرماتے ہیں من ارادالاخرۃ وسعی ٰ لھا سعیھا فاولئک وھو مومن کان سعیھم مشکورا اور تمنا کے متعلق فرماتے ہیں ام للانسطن ماتمنی تمنا کے متعلق یہ فرمایا اورارادہ کے متعلق یہ فرمایا جب انسان ارادہ کرتا ہے سخت سے محنت اور مشکل سے مشکل کام سہل ہوجاتا ہے اوردرمیان کے تمام حائل اورموانع خود بخود دور ہوتے چلے جاتے ہیں بھر اس کام کے ہرجز ومیں اردہ کی ضرورت نہیں رہتی جیسے کوئی شخص بازار جانے کا ارادہ کرے تواول مرتبہ تو پہلاقد م اٹھا نے پر ارادہ کی ضرورت ہوگی پھرآخرتک ارادہ کی ضرورت نہیں رہتی وہی پہلا ارادہ ممتد ہوتا چلاجاتا ہے ورنہ اگر ہرقدم پرمستقل ارادہ کرے توصبح سے شام تک بھی بازار کا راستہ طے نہ کرسکے خلاصہ یہ ہے کہ کام شروع کردینا شایئے اوریہ دیکھنا چاہئے کہ کچھ حاصل بھی ہوا یا نہیں جیسے چکی پیسنے والی عورت اگرچکی کے ہرپھیرپر یہ دیکھے کہ کس قدر پس چکا تو بس آٹا پس چکا اس کی صورت تویہ ہی ہے کہ غلہ ڈال لے جائے اورچکی کوگھمائے جائے جب صبح کو دیکھی گی تو چکی کا گرنڈ یعنی مخزن آٹے سے بھراپائے گی غرض کام کرنا چاہئے اوراس پرآمادہ رہنا چایئے کہ چاہے کچھ نفع ہویا نہ ہواورعمل بھی خواہ بھی ہواوکبھی نہ ہو اس کی طرف نظرہی نہ کرے کام شروع کردے اور ایک اوربات کام کی اس وقت ذہن میں آئی وہ یہ کہ ماضی کی کوتاہی کو بھلادیناچاہئے یہ بھی ایک بہت بڑی غلطی ہے کہ ماضی پرمستقل کو قیاس کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ایسی ہی کوتاہی ہوگی اس سے بھی ہمت ٹوٹ جاتی ہے نیز اگرکام کرنے کے زمانہ میں کوئی لغزش ہوجائے یا کسی نامناسب بات یا فعل کا صدور ہوجائے اس کابھی مراقبہ کرنے پر بیٹھ جائے بس دل سے اللہم اغفرلی کہہ کر آگے چلے ورنہ پھریہ مراقبہ بھی اپناہی مطالعہ ہوگا اس طرف کا تومشاہدہ پھر بھی نہ ہوا ایک ضروری بات اوربھی ہے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خواہ قلیل ہی کی توفیق ہو اور ہمیشہ کے لئے بھی توفیق کی امید نہ ہو اس کو بھی غنیمت سمجھے مثلا یہ خیال کرےکہ آج کی دورکعت بھی کیوں چھوڑیں شاید ہی نجات کا سبب ہوجائیں سواس طریق سے کام کرکے دیکھو پھر دیکھو گے کیا سے کیا ہوتا ہے ۔
8/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد ظہر یوم پنجشنبہ

(ملفوظ 93)طریق کامل کی صحبت سے سمجھ آسکتاہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حقیقت تویہ ہے کہ طریق کامل کی صحبت ہی سے سمجھ میں آسکتا ہے کتابو ں کے دیکھنے سے کیا ہوتا ہے کتابوں میں تو قسمت ہی کچھ ہے مگر بتلانے والے کی بھی ضرورت ہے جیسے طب کی کتابوں میں سب کچھ ہے مگر بدون طبیب حاذق کے کچھ نہیں کرسکتے ایسے ہی یہاں سمجھ لیا جائے ۔

(ملفوظ 92)اصل چیز طلب اور ہمت ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہمارے ایک بزرگ کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی دوام نہ ہو کبھی نہ ہوتو اس مجموعہ ہی دوام کرلو یہ بھی ایک قسم کا دوام ہے مگریہ علاج حقیقت نہیں سب تدابیر ہیں اصل چیز طلب اور ہمت ہے اس سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور تدابیر جزئیہ حیلے ہیں اس سے کام لینے کے۔