ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک اخبار ایک مقام سے نکلتا ہے یہ بعض مدعیان حدیث کا پرچہ ہے اس میں میری ایک عبارت جو ایک آیت کی تفسیر کے متعلق ہے نا تمام نقل کرکے شبہ کیا گیا ہے کس قدر غضب اور ظلم کی بات ہے بعض لوگوں میں تدین اور امانت کا نام نہیں ہوتا دعویٰ ہی دعویٰ ہوتا ہے اہل وحدیث ہونے کا، نیز اعتراض کرکے مجھ کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ابن تیمیہ ابن القیم کی کتابیں دیکھا کرو میں کہتا ہوں کہ تم دیکھ کر بہت محقق ہوگئے میرے جس عبارت پرشبہ کیا تھا میں اس سے پیشتر اس کا جواب بھی دے چکا ہوں تدین اور امانت کی بات تو یہ تھی کہ میرے اس جوا ب کو نقل کرکے اس سے تعرض کرتے کچھ خدا کا خوف بھی تو چا ہئے کہ میری نا تمام عبارت نقل کرکے اعتراض کردیا یہ نہ سوچا کہ اگر کسی نے وہ مقام پورا دیکھا تو وہ کیا کہے گا.
میں ان کو تو کوئی جواب نہ دونگا مگر ان شاءاللہ تعالی ٰ اپنے یہاں اس مقام کو نقل کراکر شائع کردوں گا، ایسے بے احتیاط لوگوں سے خطاب کرنا ہی لاحاصل ہے واذا خاطبھم الجاھلون قالواسلما پرعمل کا یہی موقع ہے آج کل کے اکثر غیرمقلدوں میں تقوٰی طہارت نہیں ہوتا الا ماشاءاللہ پھر ان بزرگ صاحبِ اخبار کو میری غلطی ہی نکالنا تھی تو مجھ کو خاص طور پر اطلاع کردینا کافی تھا اخبار ہی میں چھاپنے کی کونسی ضرورت تھی اور وہ بھی نام کے ساتھ اور اگر میرے مضمون کے متعلق یہ خیال تھا کہ اس کی اشاعت ہوچکی اس سے لوگ گمراہ ہونگے اس لئے اشاعت ضروری ہے تو صرف یہ لکھ دینا کافی تھا کہ ایک ایسی تفسیر ہماری نظر سے گذری جو سلف کے خلاف ہے ہم بغرض اطلاع اس کی اشاعت کرتے ہیں مگر یہ تو جب کرتے جبکہ اس اشاعت سے دین مقصود ہوتا، مقصود تو فخر ہے کہ ہم نے فلاں شخص کی غلطی پکڑی پھر وہ بھی غلط تحریف کرکے مضمون کی پوری عبارت بھی تو نقل نہیں کی ایسی حرکت تو شرعا بھی جائز نہیں.
میں نے ان کو یہ بھی لکھا تھا کہ سوال کے طریقہ سے سوال کرو بلاضرورت اعتراض کا لہجہ نہیں ہونا چاہئے تو آپ نے اس کا بھی سنت ہونا ثابت کیا ہے کہ حدیث میں آیا ہے حضرت عائشہ نے حضور ﷺ سے حساب یسیر کے متعلق ایسے ہی لہجہ میں سوال کیا تھا یہ ہیں عامل بالحدیث اور ان کادعویٰ ہے حدیث دانی کا اتنا بھی معلوم نہیں کہ اگر لہجہ کا تحقیق علی سبیل التنزیل تسلیم بھی کرلیا جاوے تب بھی یہ فرق ہے وہاں بے تکلفی تھی وہاں لہجہ پرنظر نہ تھی دوسراشخص تو اس قیاس کا یہ جواب دیتا کہ تم بھی میری بیوی بن جاؤ پھر لہجہ کا میں بھی خیال نہ کروں گا.
اگر میری پوری عبارت نقل کرکے اعتراض کیا جاتا تو مجھ کو اس قدر رنج نہ ہوتا اور الحمداللہ مجھ کو اپنی ذاتی لغزشوں پر کبھی اصرار نہیں ہوتا سمجھ میں آتے ہی رجوع کرلیتا ہوں پھر اس فضول بلکہ موذی طرز کی کیا ضرورت تھی میرا تو قدیم سے معمول ہے کہ جب کوئی میری غلطی پر متنبہ کرتا ہے تو سب سے اول مجھ کویہی احتمال ہوتا ہے کہ ضرور مجھ سے غلطی ہوئی ہوگی اس کے بعد پھر اس میں غور کرتا ہوں یہ خدا کا ایک بہت بڑا فضل ہے کہ میں اول ہی سے اپنی غلطی قبول کرنے کو تیار ہوتا ہوں اور دوسرے اکثر لوگ اول اس کے جواب کی تلاش میں لگ جاتے ہیں سب بزرگوں سے زیادہ یہ بات حضرت مولانا یعقوب صاحب ؒ میں تھی کہ اپنی غلطی کو فورا تسلیم فرما کر رجو ع فرمالیتے تھے اور الحمداللہ میرے یہاں تو ایک مستقل شعبہ ہے جس کا نام تزجیح الراجح ہے اس میں برابر اپنی غلطیوں کو شائع کرتا رہتا ہوں.
پھر تہذیب کے ساتھ سوال کرنے پر ایک واقعہ بیان کیا کہ مجھ کو ایک مرتبہ حیدر آباد دکن میں میرے ایک دوست نے مدعوکیا تھا میں وہاں ایک وعظ میں ایک مضمون بیان کیا وہ تھا ایک لطیفہ مگر بیان کیا گیا صورت استدلال میں وہاں ایک بڑے معزز وممتاز شخص ہیں فخریا ر جنگ انہوں نے مجھ سے مقام وعظ پر نہیں بلکہ جائے قیام پر آکر نہایت نرم لہجہ میں اس مقام کے متعلق اس پاکیزہ عنوان سے دریافت کیا کہ یہ استدلال کس درجہ کا ہے میں نے ان کاشبہ سمجھ کر صاف کہہ دیا کہ یہ کسی درجہ کا بھی استدلال نہیں محض ایک لطیفہ ہے جس کی صورت استدلال کی ہو گئی سو ان کے اس سلیقہ سے سوال کرنے سے کوئی ناگواری نہیں ہوئی اور مزاحا فرمایا کہ اگر بدسلیقی سے سوال کرتے تو میں اس کے اثر سے ناگ وارد ( یعنی مشابہ سانپ کے ) ہوجاتا ۔

You must be logged in to post a comment.