ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ طریق اصلاح ہے جنم روگ ہے عمر بھر یہ ہی سلسلہ رہتا ہے مگرلوگ یہاں آرام چاہتے ہیں کہ دنیاہی میں جنت ہوجائے یہاں تومشقت مثل لازم کے ہے اور جس قدر ہوگی اتنا ہی اجربھی بڑھے گا وہ مشقت یہ ہے کہ ہرقدم پرنفس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے یہ نہ ہوتو بھرانسان کا کمال ہی کیا ہوگا یعنی شرکا جوداعیہ طبعی ہوتا ہے اس کی مخالفت کرنا اوراس عقل سے مغلوب کرنا یہی مجاہدہ اور مشقت ہے باقی محض حدیث النفس کوئی چیز نہیں جب تک اس کے اقتضاء پرعمل ہہو عقل کاکام صرف منفعت کودکھلانا ہے پھر اس کے بعد اگر اتباع کیا طبیعت کا تویہ شخص حیوان ہے اور اگر اتباع کیا عقل کا تو انسان ہے مگر خود عقل کے اتباع کےبھی حدود ہیں ورنہ حدود سے آگے غلوکرنے سے یہ عقل خود سبب ہوجاتی ہے غلبہ حیوانیت کی اس لئے جوچیز حدسے گزجاتی ہے اس کی حقیقت اس کی خاصیت سب بدل جاتےہیں اب ایک بات اوررہ گئی ہے وہ یہ کہ نفس کے لئے بعض اوقات لوگوں کوملامت مانع عمل ہوجاتی ہے مگرحقیقت یہ ہےکہ یہ طعن وتشیع خود موجب اجرہیں اس کے ہوتے ہوئے تومجاہدات اورریاضیات میں زیادہ برکت اور نورانیت پیداہوتی ہے یہ بدنی مجاہدات سے بھی زیادہ مجاہدہ ہے غرض یہ تمام موانع ہیں نفس کو بچہ کی طرح بہلانا اورسمجھانا چاہے یہ اس وقت کام دیتا ہے اس بہلانے پر ایک بزرگ کی حکایت یاد آئی کہ وہ شب کوایک رکابی پلاؤ کھلاؤں گا تمام شب اسی طرح عبادت میں گذر جاتی اور صبح کو وہ رکابی پلاؤ کی بدستور موجود رہتی مگر یہ بھی ان ہی حضرات سے نفس تھے جوروزانہ بہلانے میں آجاتے تھے اب توکوئی کرکے دیکھے ایک دن تونفس مان لے گا یا زائد سے زائد دودن پھرتیسرے روز قبضہ میں آنا مشکل ہوگا یوں کہے گا کہ بس تمہارے وعدوں کا تجربہ کرچکا اب قابو نہ آوں گا سواب ایسا بھی کرنا نہ چاہئے کام بھی نکال لے اور حسب وعدہ اسکو کھلابھی دے خلاصہ یہ ک نفس کو راہ پرلانے کی مختلف تدبیریں ہیں جوتبدل حالات سے بدلتی رہتی ہیں جس طرح ہوسکے کام نکالناچاہئے ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
(ملفوظ 90)تہجد پڑھنے کے لئے ہمت سے کام لینا :
ایک خط کے جواب میں فرمایا کہ اگرتہجد پردوام نہیں ہوتا تو ترک تہجد پربھی دوام نہیں ہونا چاہئے اپنی طرف سے ہمت رکھے پھرناغہ بھی عمل کے حکم میں شمار ہوگا۔
(ملفوظ 89)متعلم کو سہل تعلم کی درخواست کا حق نہیں :
فرمایا کہ ایک خط آیا تھا اس میں بعض امراض باطنی کو لکھ کرلکھاتھا کہ ان کا کوئی سہل علاج تجویزفرمایا جاوے دیکھئے جس کی درخواست کی گئی ہے کتنی بدنما بات ہے میراایک وعظ ہے التحصیل والتسہیل اس میں مسئلہ کو بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ معلم کے ذمہ کیا چیز ہے آیا طریق تحصیل کی تعلیم اور خود اکثر طرزقرآن وحدیث کا یہی تعلیم تحصیل ہےمثلا فرمایا گیاہے لاتقربو ا الزنا (اور زنا کے پاس مت پھٹکو ۔12) یہ نہیں فرمایا کہ اس پچنے کی سہل تدبیر یہ ہے دوسری جگہ اس کے مقدمات کا انسداد بتلایا گیا ہے یغضوا من ابصارھم ( اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔ 12) یہ خود عمل مشقت کا ہے اس کی تسہیل کا طریق نہیں بتلایا گیاہان کہیں کہیں تبرعا تسہیل کا طریقہ بھی بتلایا گیاہے مگر اس میں اطراد اور عموم نہیں اس غلطی میں بکثرت لوگ مبتلا ہیں کوئی سہل علاج بتلادو ، سوکیا یہ معلم کے ذمہ دار اورنہ متعلم کو اس کے مطالبہ کا حق ہے ہاں شفقت ورحمت کی بنا پر اگر اس کی کوئی اصل ہوتی تو حضورﷺ ہرعمل میں سہولت کی تدبیر بتلا دیتے مگر نہیں بتلائی بہرحال قرآن پاک اورحدیث میں تسہیل کی تدبیر ہرجگہ نہیں بتلائی گئی مگر پھر بھی اکثر لوگ شیوخ سےمطالبہ کرتے ہیں کہ اس سے بچنے کاسہل طریق بتلایئے اس میں کثرت سے لوگوں کو ابتلا ہورہاہے یا بعضے اگر اس کابراہ راست مطالبہ نہیں کرتے مگر وہ بواسطہ اس کے طالب ہوتے ہیں اس طرح سے کہ کیفیات وثمرات کےمتظررہتے ہیں کہ ذوق وشوق ہوتا کہ سہولت سے عمل کا صدور ہوتارہے مگریہ کیفیات بھی کوئی اختیاری چیزیں نہیں بعض اشخاص سے حق تعالیٰ کو ساری عمرمجاہدہ کرانا منظور ہوتا ہے اوروہ جانتے ہیں کہ ثمرات کے بعد یہ عمل چھوڑ دیگا وہاں ثمرہ مرتب نہیں فرماتے اب ایک شبہ اس سہولت کے متعلق اور ہوجاتا ہےکہ اگرشیخ صاحب تصرف ہوتو بڑی سہولت سے کام ہوسکتاہے اس کا جواب یہ ہے کہ شیخ کا اول تو صاحب تصرف ہونا ہی ضروری نہیں اور یہ کوئی نقص نہیں منافی کمال نہیں اوراگرشیخ صاحب تصرف بھی ہوتویہ کیا ضروری ہے کہ وہ تمہارے لئے تصرف ہی سے کام لے اگر اس کو تم سے کسی مصلحت کے سبب چکی ہی پسوانا مقصود ہوتو تم کیا حق ہے اس کی تجویز میں داخل دینے کا اور اگر اس پر بھی دخل دیا جاوے توشیخ کا ابتاع کہاں ہوا اس صورت میں تو اپنا ہی اتباع ہواایک بزرگ کا حکایت ہے کہ ان کا ایک مرید برسوں سے خانقاہ میں پڑا ہواتھا کرتا کراتا کچھ نہ تھا وہ لوگ آتے کوئی مہینہ میں کوئی دومہینہ میں کوئی چھ مہینے کوسال دوسال میں کام کرکیا اورصاحب اجازت ہوکر چل دیتے مگریہ شخص اسی انتظار میں تھا کہ شیخ ہی خود کچھ تصرف کریں حتی کہ انتظار میں اس کویہ وسوسہ ہونے لگا کہ غالبا شیخ بیچارے تصرف سے کورے ہیں اس خطرہ کی اطلاع شیخ کوہوگئی یہ لوگ بڑے عالی ظرف ہوتے ہیں اس کوپی گئے اتفاق سے ایک روزشیخ نے اس مرید سے فرمایا کہ آج ایک مٹکا پانی سے بھرکر خانقاہ کے دروازہ پر رکھو اورایک پچکاری لاؤ اور ہم کو اطلاع کرو غرض یہ کہ مرید صاحب نے سب انتظام مکمل کرکے شیخ کو اطلاع کی شیخ خانقاہ کے دروازہ پرپچکاری ہاتھ میں لے کربیٹھے خانقاہ کا دروازہ لب سڑک تھا ہندو مسلمان کفار کے سوسوددود سو کے غول خانقاہ کے دروازہ کے سامنے سے گذرتے تھے پچکاری بھربھر کفار کے مجمع پرمارتے جس کافر پر ایک چھینٹ بھی پڑجاتی بیسا ختہ وہی کلمہ شہادت پڑھنے لگتا ایک ہی تاریخ میں شیخ نے ہزاورں کفار کومسلمان بنادیا جب پانی ختم ہوگیا شیخ مسند پرجابیٹھے اور اس مرید کو بلاکرفرمایا کہ دیکھا کہ تمہارا شیخ کیسا صاحب تصرف ہے دیکھا شیخ کا تصرف ایک ہی تاریخ میں ہزارہاکفار کو مسلمان بنادیا کفر سے نکال کراسلام میں داخل کردیا مگر یادرکھو تجھے تو چکی ہی پسواؤ نگا جب ہی کچھ حاصل ہوگا تو شیخ کبھی صاحب تصرف ہوتا ہے مگرکسی مصلحت سے اس کا ظہور نہیں ہوتا مگر اصل بات وہی ہے جومیں کہہ آیا ہوں کہ اگرشیخ صاحب تصرف بھی نہ ہوتو نقص کیا ہے ایسے ہی صاحب کشف ہونا بھی شیخ کا ضروری نہیں ضرورت کی جوچیز ہے وہ فن ہے شیخ کے لئے فن سے واقفیت ضروری چیز ہے باقی یہ سب چیزیں زوائد سے ہیں بلکہ آج کل تواگرکوئی صاحب تصرفات بھی ہو مگر سنت سے ہٹا ہوا ہو اس سے زیادہ بچنے کی ضرورت ہے ۔
(ملفوظ 88)حضرت حکیم الامت نے مدتوں بعد طریق زندہ کیا:
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طریق مردہ ہوچکاتھا مدتوں کے بعد دوبارہ زندہ ہوا اور حقیقت واضح ہوئی مگرلوگ اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ سب غیربودہوجائے سویہ کیسے ہو سکتاہے جس کو خدا نے کشادہ کردیا اس کو بند کون کرسکتا ہے مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلاممسک لہاومایمسک فلامرسل لہ من بعد ہ وھوالعزیزالحکیم (اللہ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والانہیں اورجس کو بند کردے سواس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنیوالا نہیں اور وہی غالب حکمت والاہے ۔12) اب بحمداللہ طریق بے غبار ہے صدیوں تک تجدید کی ضرورت نہیں اور جب ضرورت ہوگی حق تعالیٰ اور کسی کو پیدا فرمادینگے مگراس چودھویں صدی میں تو ایسے ہی پیرکی ضرورت تھی جیسا کہ میں ہوں لٹھ ۔
8/ربیع الاول 1351ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنبشنبہ
(ملفوظ 87)ایک کوڑھ مغز کا خط:
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ حضرت والا کے وسیلے سے بندہ کے سب اعمال وعادات درست ہوجائیں گے میں نے جواب لکھاہے کہ میرے وسیلہ کو اصلاح اعمال سے کیا تعلق یہ اس لئے پوچھا تاکہ معلوم ہوکہ سمجھ کرلکھاہے یا محض الفاظ ہی ہیں اس لئے یہ سوال کی بات تھی ایسے مطالبات کی بناء پرمجھ کو متشدد سمجھتے ہیں چنانچہ باربارایسے ہی سوال وجواب کرنے پر ایک شخص نے لکھاتھا کہ آپ گورنمنٹ کے بہت خیرخواہ ہیں ٹکٹ بہت بکواتے ہیں حاصل یہ کہ ڈاک کے ٹکٹ زیادہ خرچ ہوتے ہیں اب بتلائے ایسے کوڑھ مغزوں کاکیا علاج ۔
(ملفوظ 86) ایک فہیم کو جلد بیعت فرمالیا :
ایک نووارد شخص آئے اور حضرت والا سے بیعت کی درخواست کی حضرت والا نے دیافت فرمایا کہ بیعت ہوکر کیا کروگے عرض کیا کہ جوبتلاؤگے وہی کروں گا فرمایا کہ اگر ہم یہ کہیں کہ گھرجاکر خط لکھنا خط کے ذریعہ ہم بیعت کرلیں گے اس کو مان لو گے عرض کیا کہ مان لونگا فرمایا کہ اس پرتو ضد نہ کروگے کہ ہاتھ ہی پرہاتھ رکھ بیعت ہونگا عرض کیا کہ ضدکیوں کروں گا جوحکم ہوگا وہی کروں گا فرمایا ماشاءاللہ فہم سلیم اس کو کہتے ہیں اچھا بھائی میں تم کو بعد نماز مغرب بیعت کرلوں گا اس پرفرمایا کہ مجھ کو بدنام کیا جاتاہے اس شخص سے میں نے خشک برتاؤ کیوں نہیں کیا میرے یہاں جو تشددات کہے جاتے ہیں ان سے طلب کا امتحان ہوجاتا ہے ۔
(ملفوظ 85 )بڑوں کی بدفہمی کی شکایت :
ایک خط کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ اگرچھوٹا بچہ باپ کی ڈاڑھی بھی نوچنے لگے توکوئی رنج نہیں ہوتا اس لئے بچہ ہے اس کو کیا خبرہے عقل ہے بلکہ الٹا باپ اس کے ہاتھ چومتا ہے رنج تواس کاہوتا ہے کہ سمجھدار عاقل ہوکر پھرایسی حرکت کرے دیکھئے یہی خط جوبے ڈھنگے پن سے لکھا گیا ہے یہ ہی کیااذیت کے لئے تھوڑا ہے خدا معلوم تہذیب کہاں رخصت ہوگئی یہ اس آزادی کی نئی تعلیم کااثر پرانی تعلیم والوں پربھی ہوگیا اس تعلیم میں کیسازہریلااثر ہے میں نے جواب بھی ایسا لکھا کہ طبیعت خوش ہوجائے گی میں ہی کیوں رعایت کروں جب ان ہی بے فکروں کو دوسرے کی اذیت کا خیال نہیں پھر مجھ کو بدنام کرتے ہیں کہ بدخلق ہے سخت گیرہے یہ بڑے باخلق اور نرم گیرہیں شرم نہیں آتی نالائقوں کو ۔
(ملفوظ 85)بڑوں کی بدفہمی کی شکایت :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس دوصدی کے اندر جس شان کے علماء ہندوستان میں گزر ے ہیں انکےزمانہ میں ان کی مثال ممالک اسلامیہ میں بھی بہت کم ہے ایک عالم تھے مکہ معظمہ میں درس فرمایا کرتے تھے کہ قرآن نازل ہوا عرب میں اور پڑھا اس کو مصریوں نے اور لکھا رومیوں نے اور سمجھا ہندیوں نے نیزسیاح لوگوں سے معلوم ہو ا کہ اسلام کو جو اچھی حالت ہندوستان میں ہے وہ ممالک اسلامیہ میں بھی نہیں اس کا راز یہ سمجھ میں آیا کہ وہاں کے لوگ اسلامی سلطنت ہونے کی بناء پربے فکر ہیں اور ہندوستان میں ہرمسلمان چاہے وہ عوام میں سے ہو یاوہ علماء ہوں اپنے کو ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ اگرہم نے خبرنہ لی تو اور کون سرپرست ہے جوخبرگیری کرے گا اسی طرح دنیوی امور میں بھی بلادیورپ کوکوئی خاص امتیاز نہیں حضرت مولانا دیوبندی رحمہ اللہ جب مالٹا سے تشریف لائے تو ظرافت سے فرمایا کہ جب تک یورپ نہ دیکھا تھا توخیال ہوتا تھا کہ وہاں کا آسمان کم ازکم سونے کا ہوگا اورزمین چاندی کی مگردیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہاں بھی ایساہی آسمان اور زمین ہے مالٹا کے متعلق ایک اور لطیف بات فرمائی کہ جب تک مالٹا میں رہے پاؤں توبندتھے مگر زبان کھلی ہوئی تھی اور ہندوستان میں آکر پاؤں توکھل گئے مگرزبان بندہوگئی ۔
حضرت مولانا کی عجیب ہی ذات تھی حضرت کوبہت ہی کم لوگوں نے پہچانا مدعیوں کا محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے کہ ہم متبع ہیں تم تو محض اپنے اعتراض کے متبع ہوتم بڑے فخر سے کہتے ہوکہ حضرت اسیرمالٹا تھے ہم تویہ کہتے ہیں کہ امیرمالٹا تھے تم کہتے ہوکہ شیخ الہند تھے ہم کہتے ہیں کہ شیخ العالم تھے اب بتلاؤ مولانا کا زیادہ معتقد کون ہے جس چیز کو ہم ذریعہ نجات سمجھتے ہیں یعنی اپنے بزرگوں سے تعلق بحمد اللہ وہ حقیقت میں ہم کو حاصل ہے تمہارے زبانی دعوے سے کیا ہوتا ہے اگراجتہادی اختلاف سے تم ہمارے اعتقاد کا انکار بھی کروتم ہم دلگیرنہیں ہوتے جیسے کیمیاگر کبھی دلگیرنہیں ہوتا اگرچہ ساری دنیا اس کو جھٹلائے وہ کہتاہے کہ الحمداللہ میں کیمیائی گرہوں یہ سب جھوٹے ہیں حضرت مولانا نے مجھ سے اختلاف میں بھی اتفاق رکھا ہے یہ کتنی مسرت کی بات ہے ۔
(ملفوظ 84 )دوصدی سے ہندوستان کے بے نظیرعلماء :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس دوصدی کے اندر جس شان کے علماء ہندوستان میں گزر ے ہیں انکےزمانہ میں ان کی مثال ممالک اسلامیہ میں بھی بہت کم ہے ایک عالم تھے مکہ معظمہ میں درس فرمایا کرتے تھے کہ قرآن نازل ہوا عرب میں اور پڑھا اس کو مصریوں نے اور لکھا رومیوں نے اور سمجھا ہندیوں نے نیزسیاح لوگوں سے معلوم ہو ا کہ اسلام کو جو اچھی حالت ہندوستان میں ہے وہ ممالک اسلامیہ میں بھی نہیں اس کا راز یہ سمجھ میں آیا کہ وہاں کے لوگ اسلامی سلطنت ہونے کی بناء پربے فکر ہیں اور ہندوستان میں ہرمسلمان چاہے وہ عوام میں سے ہو یاوہ علماء ہوں اپنے کو ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ اگرہم نے خبرنہ لی تو اور کون سرپرست ہے جوخبرگیری کرے گا اسی طرح دنیوی امور میں بھی بلادیورپ کوکوئی خاص امتیاز نہیں حضرت مولانا دیوبندی رحمہ اللہ جب مالٹا سے تشریف لائے تو ظرافت سے فرمایا کہ جب تک یورپ نہ دیکھا تھا توخیال ہوتا تھا کہ وہاں کا آسمان کم ازکم سونے کا ہوگا اورزمین چاندی کی مگردیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہاں بھی ایساہی آسمان اور زمین ہے مالٹا کے متعلق ایک اور لطیف بات فرمائی کہ جب تک مالٹا میں رہے پاؤں توبندتھے مگر زبان کھلی ہوئی تھی اور ہندوستان میں آکر پاؤں توکھل گئے مگرزبان بندہوگئی ۔
حضرت مولانا کی عجیب ہی ذات تھی حضرت کوبہت ہی کم لوگوں نے پہچانا مدعیوں کا محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے کہ ہم متبع ہیں تم تو محض اپنے اعتراض کے متبع ہوتم بڑے فخر سے کہتے ہوکہ حضرت اسیرمالٹا تھے ہم تویہ کہتے ہیں کہ امیرمالٹا تھے تم کہتے ہوکہ شیخ الہند تھے ہم کہتے ہیں کہ شیخ العالم تھے اب بتلاؤ مولانا کا زیادہ معتقد کون ہے جس چیز کو ہم ذریعہ نجات سمجھتے ہیں یعنی اپنے بزرگوں سے تعلق بحمد اللہ وہ حقیقت میں ہم کو حاصل ہے تمہارے زبانی دعوے سے کیا ہوتا ہے اگراجتہادی اختلاف سے تم ہمارے اعتقاد کا انکار بھی کروتم ہم دلگیرنہیں ہوتے جیسے کیمیاگر کبھی دلگیرنہیں ہوتا اگرچہ ساری دنیا اس کو جھٹلائے وہ کہتاہے کہ الحمداللہ میں کیمیائی گرہوں یہ سب جھوٹے ہیں حضرت مولانا نے مجھ سے اختلاف میں بھی اتفاق رکھا ہے یہ کتنی مسرت کی بات ہے ۔
(ملفوظ 83)اجازت لے کرآنے کی حکمت :
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جوشخص یہاں پرپہلی مرتبہ آوے اس کوتو ضرورت ہے کہ وہ اجازت لے کر حاضر ہو مگر کیا دوبارہ آنے کے لیے بھی اجازت کی ضرورت ہے یانہیں فرمایا کہ جی نہیں ضرورت توپہلی مرتبہ بھی نہیں یہ معمولی محض اس لئے ہے کہ جومقصد لے کرآتے ہیں اس میں بعض اوقات بعض شرائط ہوتے ہیں ، مثلابعض بیعت کے لئے آتے ہیں بعض کوکوئی خاص سوال کرنا ہوتا ہے اور بعض مرتبہ ان شرائط کے نہ پائے جانے سے وہ کام نہیں ہوتا تو آنیوالے کو اپنی ناکامیابی پرافسوس ہوتا ہے سواس میں بھی دوسروں ہی کی مصلحت ہے ، میری کو ئی مصلحت نہیں اور جو محض ملاقات کے لیے آتے ہیں ان کےلئے آتے ہیں ان کے لئے کچھ قیدنہیں یہ قیدی صرف ان کے لیے ہیں جوکوئی خاص مقصد لے کر آتے ہیں مثلا ان میں بعض لکھتے ہیں کہ فیض حاصل کرنیکی غرض سیحا ضری کی اجازت کی ضرورت ہے ان سے یہ سوال کرتا ہوں کہ فیض سے کیا مراد نیز اگرفیض نہ ہوا توکیا ہوگا اس لیے کہ بعض مرتبہ فیض مزعوم ہوتا ہے بعض مرتبہ نہیں ہوتا نیز بعض کو ہوتا ہے بعض کو نہیں ہوتا اس لئے پہلے سے معاملہ کی صفائی کرلیتا ہوں تاکہ آنے والے کو اپنا وقت اور روپیہ ٖصرف ہونے کے بعد عدم کامیابی پرافسوس نہ ہو اور مجھ کو اس کا ذمہ دارنہ سمجھے میں کسی کو اپنی طرف سے الجھن یادھوکہ میں ایک لمحہ کے لئے رکھنا نہیں چاہتا معاملہ صاف کرلیتا ہوں اس کے بعد وہ خود ذمہ دار ہے غرض اس میں محض آنے والوں کی مصلحت اور رعایت مقصود ہے اور اب تو تجربہ سے میں نے آنیوالوں کے لئے ایک اور قید کا اضافہ کیا ہے یہاں پرآکر مکاتبت ومخاطبت قطعا نہ کریں خاموشی مجلس میں بیٹھے رہا کریں اور اس کے بعد وطن واپس پہنچ کرلکھا کہ پہلے کہ پہلے توہماری سمجھ میں اسکی مصلحت نہ آئی تھی مگر دس روزخاموش رہنے سے جونفع اب محسوس ہواوہ دس برس کے مجاہدہ سے بھی نہ ہوتا اب بتلایئے کہ یہ قواعد اور اصول کیسے مفید ہیں یا بیکار ہیں ۔

You must be logged in to post a comment.