فرمایا کہ ایک خط آیا لکھا ہے کہ صرف اس نیت سے حاضری کا ارادہ ہے کہ آنحضرت کے فیوض و برکات سے ہم تہی دامن بھی اپنی عاقبت سنوار سکیں جواب یہ دیا گیا کہ جس قدر آنے کے قبل سنوار سکتے ہیں وہ تو سنوار لیجئے پھر آنے کی گفتگو کیجئے ۔ مسلمان کو پریشانی سے بچانا بھی عاقبت سنوارنے کا اول اور ادنی قدم ہے آپ نے اپنا پتہ اردو کا نہ خط میں لکھا نہ لفافہ پر لکھا نہ لفافہ پتہ کا جواب کے لئے رکھا نہ میں انگریزی جانتا ہوں پھر فرمائیے کہ روانگی جواب کے وقت میں پریشان ہو گا یا نہیں سو اول اس کی اصلاح کیجئے پھر آگے لکھتے ہیں کہ میں فلاں خاں بہادر صاحب حاضر خدمت ہونا چاہتے ہیں جواب لکھا گیا کہ اگر ان کا خط آتا تو ان کو جواب دیتا آپ کو ان کے متعلق کچھ لکھنا خلاف اصول ہے ۔
ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 4
( ملفوظ 410 )اظہار اسلام کا طریقہ :
فرمایا کہ ایک مولوی صاحب نے بھوپال میں ایک ہندوعورت کو مسلمان کیا اس پر مقدمہ چلا ان کی عدالت میں طلبی ہوئی حاکم نے دریافت کیا کہ تم نے اس عورت کو مسلمان کیا انہوں نے بیان میں کہا کہ مسلمان تو پہلے ہی ہو چکی تھی ( کیونکہ جب دل سے اسلام کو حق مان لیا تو باطن میں تو وہ شخص مسلمان ہو گیا ) میں نے مسلمان نہیں کیا اس نے مجھ سے اظہار اسلام کا طریقہ معلوم کیا میں نے وہ طریقہ بتلا دیا کہ کلمہ پڑھ لو اسلام کا اظہار ہو جائے گا اس پر عدالت دنگ رہ گئی ۔ جب اللہ تعالی عقل اور فہم فرماتے ہیں بڑی مشکل سے مشکل بات سہل اور آسان ہو جاتی ہے ۔
( ملفوظ 409 )مشتبہ نومسلم کے پیچھے نماز کا حکم
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ اس شہر میں تین شخص نومسلم انگریرزی داں وارد ہوئے ہیں اب وہ نماز پڑھانے تک کے لئے تیار ہیں ایسے نومسلم مشتبہ الحال کے پیچھے امام راتب ( جو پہلے سے مقرر ہو ) کے ہوتے ہوئے اقتداء صحیح ہے یا نہیں اختلاف ہو رہا ہے ۔
فرمایا کہ یہ آج کل ایسا عام مرض چلا ہے کہ لوگ نئے آنیوالے کے بہت جلد معتقد ہو جاتے ہیں اور پرانوں کو چھوڑ دیتے ہیں اس کی بھی تحقیق نہیں کرتے کہ کس خیال کا ہے اور کس عقیدہ کا ہے اس خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں پر کمیٹی ہو کر اس پر فیصلہ ہو گیا ہے کہ حضرت کو ثالث بنایا جائے جو حضرت والا طے فرما دیں اس پر سب کو عمل کر لینا چاہئے اس پر سب راضی ہیں کوئی خلاف نہیں ۔ جواب میں یہ لکھا گیا کہ اگر میری ثالثی پر راضی ہیں تو میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ امام راتب ب تک باقاعدہ معزول نہ ہو اس سے افضل کو بھی حق امامت نہیں اور اگر معزول کرنے کی تجویز ہو تو معزول ہونے کے وجوہ اور دوسرے کی تقدیم کی وجوہ لکھ کر استفتاء کیا جاوے ۔
( ملفوظ 408 )آمین بالشر :
فرمایا کہ ایک مقام میں غیر مقلدوں اور حنفیوں کا آمین بالجہر پر جھگڑا تھا مقدمہ بازی کی نوبت آئی ایک انگریز تحقیق واقعہ کے لئے مقرر کیا گیا اس رپورٹ میں عجیب و غریب مضمون لکھا کہ میں نے تحقیق کیا تو احادیث میں آمین بالجہر اور آمین بالسر دونوں کا ثبوت معلوم ہو گیا مگر آمین بالشر کا کہیں ثبوت نہیں ہوا لہذا آمین کی تین قسمیں ہوئیں ، آمین بالجہر ، آمین بالسر ، آمین بالشر ، پہلی دو قسموں کی اجازت ہونا چاہئے اور آمین بالشر کی ممانعت ہونا چاہئے ۔
فرمایا کہ بعض غیر قوم کے لوگ بھی بڑے عالی دماغ ہوتے ہیں یہ شخص کیسا واقعہ کی حقیقت تک پہنچ گیا ۔ اور واقعی بعضے مدعیان عمل بالحدیث سنت سمجھ کر آمین بالجہر نہیں کہتے بلکہ شورش کی نیت سے وہ آمین بالشر ہی ہو جاتی ہے ۔
(ملفوظ 407)علم دین اور علم دنیا میں فرق :
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے بڑی حسرت سے لکھا ہے کہ میرے پیٹ میں درد رہتا ہے اب ایم ۔ اے کے سخت امتحان کی کس طرح تیاری کروں فرمایا کہ ایک شخص نے ایسے امتحانوں کے متعلق خوب کہا ہے کہ :
آسان ہے حساب روز محشر ٭ مشکل ہے پر امتحاں روڈ کی
اور بالکل صحیح کہا ہے جس نے کہا ، نہ اس لئے کہ وہ اس سے زیادہ عظیم الشان ہے بلکہ اس لئے کہ وہاں تو رحیم وکریم سے سابقہ ہوگا یہاں بے رحم ڈاکوؤں سے اب یہ یچارے ناکامی کے احتمال پر پریشان ہیں ان کے دل کو کوئی چیز اطمینان دلانے والی نہیں سوائے یاس اور حسرت کے بخلاف علم دین کے کہ اس کا ہرجز ہرحال میں کار آمد ہے اس میں کسی وقت بھی طالب کو یاس اور حسرت نہیں ہوسکتی خواہ قلیل ہو یا کثیر خواہ اس کی تحصیل کے بعد دنیوی کا میابی نوکری وغیرہ ہو یا نہ ہو وجہ یہ کہ علم معاش میں تو مقصود دنیوی کامیابی ہی ہے وہ نہ ہوتو پھر حسرت ہی حسرت ہے بخلاف علم دین کے کہ وہاں مقصود آخرت کی کامیابی ہے اگر دنیوی کا میابی بھی نہ ہوتو آخرت کی کامیابی سے تو یاس نہیں اس لئے حسرت کی کوئی وجہ نہیں یہ فرق ہے علم دنیا اور علم دین میں پھر فرمایا کہ دنیوی مصیبت کے موقع کے لئے جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مراقبہ سکھایا ہے وہ یہ کہ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو اس پر اجر ملتا ہے گناہ معاف ہوتے ہیں درجات بلند ہوتے ہیں اس مراقبہ سے آدھی مصیبت رہ جاتی ہے بلکہ بلکل ہی جاتی رہتی ہے دیکھئے اس میں بھی دین ہی کا کام آیا ۔
(ملفوظ 406) خانقاہ میں انسان بنانے کا کام
کسی نے علمی مسئلہ کی تحقیق کی اس پر فرمایا کہ کام بڑے کام جیسے درس و افتاء وامثالہا بڑے حضرات کررہے ہیں دوسرے یہ کام اور جگہ یہاں سے اچھا ہورہا ہے میں تو وہ کام کررہا ہوں کہ اور جگہ ہو بھی نہیں رہا ۔ اور ہے بھی چھوٹا کام اسی لئے مجھ سے بڑے کام لینا انصاف کے خلاف ہے یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص لوہار سے سنار کا کام لے یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے ۔ پھر فرمایا کہ نہ میں عالم بنانا جانتا ہوں نہ میں بزرگ بنانا جانتا ہوں میں تو آدمی بنانا جانتا ہوں اگر اس سے آگ کوئی چاہے تو وہ کہیں اور جائے پھرآدمی بنانے کا جو طریقہ میرے یہاں ہے یہ چونکہ اس وقت دوسری جگہ ہے نہیں اس وجہ سے لوگوں کی نظر میں بات نئی ہوگی ۔ ورنہ واقع میں پرانی ہی ہے پھر فرمایا جن لوگوں مجھ سے بے تکلفی کا تعلق نہیں ان کو مجھ سے ایسی علمی گفتگو کرنا نہ چاہئے ۔ ہاں جن کو پہلے سے یعنی اس تعلق تربیت کے قبل سے بھی مجھ سے بے تکلفی بھی ہے ان وکو اجازت ہے ۔
25 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم جمع
(ملفوظ 405 )مشایخ نے ایک زمانہ میں بیعت کرنا چھوڑ دیا تھا
فرمایا کہ ہاتھ پرہاتھ رکھ کر بیعت کرنے کی رسم ایک زمانہ میں مشائخ نے بھی خلفاء کے بدگمان ہونے کی وجہ سے چھوڑ دی تھیں اس لئے کہ خلفاء کو اس سے شبہ ہوتا تھا کہ یہ بھی مثل سلاطین کے بیعت لیتے ہیں حالانکہ سلاطین اورمشائخ کی بیعت میں فرق تھا ان کی اور قسم کی تھی ان کی اور قسم کی تھی اور اگر یہ ہیت بیعت کی ایسی ضروری چیز ہوتی جیسا اکثر اہل رواج سمجھتے ہیں کہ بدوں ہاتھ درہاتھ بیعت ہوہی نہیں سکتی تو لازم آئے گا کہ عورتیں کبھی بیعت ہی نہیں ہوسکتیں اس لئے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ان کو بیعت کرنا بوجہ حرمت مس اجنبیہ کے جائز نہیں ۔
(مفلوظ 404)دوسروں کے اخلاق درست فرمانا :
ایک ذاکر شاغل مقیم خانقاہ سے حضرت والا نے انکی کسی کوتاہی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ مجھ کوتو بدنام کیاجاتا ہے کہ سخت ہے ان کی نرمی کوکوئی نہیں دیکھتا یہ کیا کرتے ہیں ۔ اب اگر ان کے اخلاق درست کروں تم میرے اخلاق خراب ہوتے ہیں اور اگراپنے اخلاق کی درستی کرتا ہوں اورمتعارف اخلاق اختیار کرتا ہوں تو ان کے اخلاق بگڑتے ہیں میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے ہی اخلاق درست کروں ۔
(ملفوظ 403)بلا ضرورت شدید شرعی ذریعہ معاش چھوڑنا مناسب نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص نے بلا وجہ نوکری چھوڑدی تھی پھرباوجود بے کوشش اور سعی کے بھی تمام عمر نوکری نہیں ملی ۔ فرمایا کہ اپنے ذریعہ معاش کو چھوڑنا بلا ضرورت شدید شرعی مناسب نہیں یہ بھی ایک قسم کی ناشکری اور کفران نعمت ہے ۔ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے کرتے تھے کہ ضعفاء کو نا جائز ذریعہ کی کوشش میں لگارہے اورحکمت یہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ اب معصیت ہی میں مبتلا ہے اسباب معاش چھوڑ دینے کے بعد افلاس ہوگا اور اسی سے جو پریشانی ہوگی اس میں اندیشہ کفرکا ہے اوراب معصیت وقایہ ہورہی ہے کفر کا ۔ فرمایا کہ کیس حکیمانہ بات فرمائی ہاں اگر جائزصورت مل جائے تو اس وقت اس ناجائز کو چھوڑ دے ۔
(مفلوظ 402)عذر کی اطلاع دینا بھی ایفاء عہد ہے
فرمایا میں ایک مرتبہ دیوبند سے کسی جگہ جاتا ہوا شاہ عبدلرحیم صاحب رحمتہ اللہ علیہ رائے پوری کے پیر سے ملا ہوں ان کا نام بھی شاہ عبدالرحیم ہی تھا ۔ اچھے بزرگ تھے سہارنپور ہی میں ملاقات ہوئی ۔ یہ مجھے صحیح یا د نہیں رہا انھوں نے فرمایا تھا کہ پھر بھی ملنا یا میں نے خود غرض کیا تھا کہ میں اس سفر سے واپسی میں حاضر ہونگا مگر دیوبند دوسری طرف سے چلا آیا دیوبند پہنچکر خیال آیا کہ بزرگوں سے وعدہ کرکے خلاف کرنا اچھا نہیں خلاف ادب ہے میں نے دیوبند سے لکھا کہ میں اس عذر کی وجہ سے کہ دیوبند دوسرے راستہ سے چلا آیا حاضری سے مجبوررہا عذر کی وجہ سے وعدہ خلافی ہوئی جوابی ٹکٹ بھی بھیجا تھا مگر جواب آیا کہ عذر کی اطلاع دے دینا بھی ایفاء وعدہ ہی ہے وعدہ خلافی نہیں فرمایا کہ بزرگوں کی باتیں بھی بزرگ ہوتی ہیں ۔ کیسے کام کی بات فرمائی اور انھوں نے میرے لیئے دعائیں کیں ۔ میرے پاس بزرگوں کی دعاؤں کی ہی پونجی ہے اورعمل وغیرہ جیسے کچھ ہیں ان کی حقیقت تومجھ کو ہی معلوم ہے ۔

You must be logged in to post a comment.