(ملفوظ 401)عورتوں کے لئے بلا وجہ سفرکا حکم

عورتوں کے پردہ کے متعلق ذکر تھا کہ بے حد بے احتیاطیاں ہورہی ہیں ۔ فرمایا کہ والد صاحب مرحوم کا قصہ ہے وہ اسکے سخت مخالف تھے کہ عورتوں کو ریل میں سفر کرایا جائے ۔ فرمایا کرتے تھے کہ پردہ کی احتیاط ریل کے سفر میں رہ نہیں سکتی اسلیئے اس سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ والدہ صاحبہ کو کانپور لے گئے یہاں سے کانپور تک بیل گاڑی میں سفرکیا البتہ حج کے سفر میں مجبور تھے ۔ پھر فرمایا کہ میں عورتوں کے سفر کو بلا ضرورت اچھا نہیں سمجھتا حتی کہ بیعت کے لئے بھی سفر کرنے کو منع کرتا ہون ۔ ایک بی بی سفر کرکے بیعت کے لیے آئی تھیں میں ان پربہت ناراض ہوا کہ محض بیعت لے لئے سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی اور میں نے انکوبیعت نہیں کیا ۔ بلا بیعت کیے ہوئے واپس کیا ۔ اس میں مصلحت تھی کہ یہ اوروں سے جاکر کہیں گی اس لئے اورعورتیں بھی ہمت نہ کریں گی ۔
ایک قصبہ ہے یہاں سے قریب وہاں سے ایک مجمع عورتوں کا چھکڑا پھرا ہوا آیا دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سب بیعت کے ارادہ سے آئی ہیں ۔ میں نے ان کو ڈانٹا اور بیعت نہیں کیا ۔ اور یہ کہا کہ یہ غرض توخط کے ذریعے سے بھی پوری ہوسکتی تھی پھر بلا ضرورت سفر کیوں کیا انکونا گوار بھی ہوا آپس میں ذکر کیا کہ یہ مولوی اچھا نہیں گنگوہ والا مولوی بہت اچھا تھا ترت (یعنی برا ہونے پرتو میں بھی متفق ہوں مگر بیعت نہ کروں گا۔

(ملفوظ 400)شوہر کے لئے کھانا پکانے کا حکم :

ایک صاحب نے سوال کیا کہ عورتیں جوکھانا پکاتی ہیں کیا یہ شرعا ان کے ذمہ ہے فرمایا کہ میں تو ذمہ نہیں سمجھتا ۔ مگر ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ قضاء تو نہیں مگر دیانتہ ان کے ذمہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دیانتہ بھی ان کے ذمہ نہیں البتہ جس وقت شوہر حکم دے وہ اطاعت روج کے تحت میں لازم ہوجاویگا اور میں اس آیت سے استدلال کرتا ہوں ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا التسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ لتسکنوا سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت جی بہلانے کے واسطے ہے روٹیاں پکانے کے واسطے نہیں ، وہ مولوی صاحب اس کو فی نفسہ واجب فرماتے ہیں میں اس کوفی نفسہ واجب نہیں سمجھتا ایک صاحب نووارد جن کو ایسی مخاطبت کی اجازت نہ تھی مجلس میں حاضر تھے انھوں نے عرض کیا کہ ان کا مستدل کیا ہے ۔ فرمایا کہ کیا یہاں پرفقہی مسائل کی تحقیق کے لئے آپ تشریف کائے ہیں یہ کام تو اور بہت جگہ ہورہا ہے اور یہاں سے اچھا ہورہا ہے یہاں پرجس کام کے لئے آئے ہو اس کے متعلق پوچھو بتاؤنگا میں نے تو یہ نسبت دوسری جگہوں کے بڑے کاموں کے ایک چھوٹا سا کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ قاعدہ بغدادی پڑھاتا ہوں فقہ کی تحقیق کے لئے بڑے بڑے حضرات بڑی بڑی جگہ میں موجود ہیں خواہ مخواہ غیر ضروری سوال کرکے مجھ کو پریشان کیا مجھے ایسی باتوں سے بڑی کلفت ہوتی ہے ۔ اب دنیا بھر کے استدلالات بھی میں ہی بیان کروں کہ ان کا یہ مستدل ہے ۔ ایسی باتوں سے دل تنگ ہوتا ہے البتہ اگر کوئی مصلح خود اپنی رائے سے ایسے گفتگو کرے تو یہ اس کا تبرع ہے جیسے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے مکہ معظمہ میں ایک غیرمقلد عالم سے گفتگو فرمائی تھی ۔ گفتگو اس پر تھی کہ وہ غیر مقلد صاحب یہ کہتے تھے کہ مدینہ شریف کا سفر قصدا اس نیت سے کرنا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کی زیارت کروں گا جائز نہیں حضرت انکی تمام باتوں کا نہایت مدلل جواب فرماتے رہے ۔ اخیر میں وہ غیرمقلد صاحب کہنے لگے کہ خیر مسجد نبوی کی زیارت کا قصد کرے ورضہ مبارک کی زیارت کا قصد نہ کرے حضرت نے فرمایا کہ آپ کی عقل بھی عجیب ہے کہ جس کی فضیلت بالذات ہے اس کا تو قصد نہ کرے اورجس کی فضیلت بالعرض ہے کیونکہ مسجد نبوی کی فضیلت تو آپ کی ذات مقدس ہی کی بدولت ہوئی ہے اس کا قصد کرے انھوں نے کہا کہ فرض وواجب توہے ہی نہیں جس کا اس قدر اہتمام کیا جائے حضرت نے فرمایا کہ بے شک فتوے سے تو واجب نہیں مگر طریق عشق سے توواجب ہے اخیر میں حضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالٰٰ آپکو ہدایت فرما دے کہنے لگے مجھ کو اسکی ہدایت نہ کرے مگر اتفاقی بات کہ اسی روز بیت الحرام میں حکومت کی طرف سے غیرمقلدوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی ۔ یہ حضرت بھی پکڑے گئے ان سے بھی توبہ کرائی گئی اور یہ کہا گیا کہ توبہ اس پر معلق ہے کہ مدینہ کا سفر کریں تو انھوں نے بھی اونٹ کرایہ کیا اور مدینہ شریف پہنچ گئے ۔

(ملفوظ 399)مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب متعلق حق تلفی :

ایک صاحب نے آجکل کی حالت بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ دغا بازی اورحق تلفی تو عام ہوگئی ہے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس کے متعلق ایک عجیب لطیفہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی مسلمان حق تلفی کبھی کرے تو مسلمان ہی کے ساتھ کرے کافر کے ساتھ نہ کرے تاکہ گھر کی نعمت گھرہی رہے اسلیئے کہ مسلمان کی نیکیاں مسلمان ہی کومل جائیں گی ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک بزرگ تھے انکو ایک شخص گالیاں دیا کرتا تھا وہ بزرگ اسکی مالی امداد روپیہ پیسے سے کرتے تھے اس نے محسن سمجھ کر گالیاں دینی چھوڑ دیں ان بزرگ نے روپے پیسے دینے بند کردیئے اس شخص نے تعجب سے پوچھا حضرت یہ کیا بات ۔ فرمایا کہ بھائی دنیا لینے دینے کی جگہ ہے ۔ تم نے مجھے دینا چھوڑدیا ۔ میں نے تمھیں دینا بند کردیا تم مجھ کو نیکیاں دیتے تھے کہ نماز ورزہ کرو خود اور دیدو مجھے ، میں تمھیں روپیہ پیسے دیدیا کرتا تھا تم دینا شروع کردو ۔ دیکھوپھرہم دیتے ہیں یا نہیں بھائی میں تو تم کو اپنا محسن سمجھتا تھا کہ اپنی نیکیاں مجھ کو دیتے تھے پھر فرمایا کہ اللہ والوں کی شان ہی جدا ہوتی ہے ۔
25 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ

(ملفوظ 398) متعدد حکایات متعلق تعویذ :

فرمایا ایک عورت کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں انڑیس پاس کرنا چاہتی ہوں ۔ میں نے امتحان دیا تھا ناکامیاب رہی آپ کوئی تعویذ دیدیں کہ میں کامیاب ہوجاؤں فرمایا کہ ان عورتوں کو کس مصیبت نے مارا یہ ان چیزوں کو حاصل کرکے کیا تیرچلائیں گی سوائے دین برباد کرنے کے اور یہ تو بے چاری عورتیں ہیں اس علم دنیا خصوص انگریزی کی بدولت تو مردوں کا دین بھی برباد ہوگیا ۔ پھر تعویذ کی مناسبت سے فرمایا کہ حضرت سید صاحبہ ہرکام کے لئے ایک ہی تعویذ یعنی یہ لکھ دیا کرتے تھے ،، خداوندااگر منظورداری حاجتش رابرآری ۔ اور اس ہی سے لوگوں کے کام نکل جاتے تھے ۔ حضرت شاہ عبدالقادرصاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص بھنگ بیچنے آیا آکر عرض کیا کہ حضرت دکان نہیں چلتی بھنگ نہیں بکتی ایک تعویذ دیدیجئے آپ نے ایک پرچہ پرکچھ لکھ کردے اور فرمایا کہ جس سونٹے سے بھنگ گھونٹا کرتے ہو اس کو اس میں باندھ دینا خوب بھنگ بکنا شروع ہوگئی ، بعض طالب علموں کو شبہ ہوا کر بھنگ ایک حرام چیز اس کے لئے تعویذ دیدیا یہ تواعانت علی المعصیۃ ہے اتفاق سے وہ شخص اطلاع کرنے حاضرہوا آپ کو اس وسوسہ کا بھی علم ہوگیا اس شخص پینا لکھا ہے وہ تو پیویں ہی گے سواسی کی دکان سے لے لیا کریں ،، تب لوگوں کی آنکھیں کھلیں کہ اس میں اعانت علی المعصیۃ کیا ہوئی ۔
معلوم ہوا کہ ان حجرات پراعتراض کرنا ہی لغو ہے البتہ یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اس شخص کو نہی عن المنکر کیوں نہ کیا ۔ سویہ کیا فرض ہے کہ اسی مجلس میں کیا کریں کسی مناسب موقع پرکردیا ہوگا پھر اس مناسبت سے کہ یہ حضرات متعارف تعویذات کے پابند نہیں ہوتے ان کے معمولی الفاظ میں بھی برکت ہوتی ہے یہ حکایت بیاب فرمائی ۔ کہ ایک مرتبہ حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا نکاح کے لئے ایک جگہ بے حد کوشش کرتا تھا مگر نکاح نہ ہوتا تھا حضرت مولانا سے عرض کیا کہ یہ صورت ہے حضرت نے ایک تعویذ لکھا مضمون اس کا یہ تھا کہ ،، اے اللہ ! میں کچھ نہیں جانتا اور یہ تمہارا بندہ مانتا نہیں یہ تمہارا غلام تم جانو تمہارا کام ،، اس کی برکت سے نکاح ہوگیا حاصل اس کا یہ تھا کہ اس شخص کے معاملہ کوخدا کے سپرد کردیا اس کی برکت سے کام ہوگیا اللہ اکبر!ان حضرات کی باتیں کیسی عجیب وغریب ہوتی ہیں اوریہ سب فضل ہے ۔
پھر فرمایا کہ اس بات پرکہ ان حضرات پراعتراض کرنا حماقت ہے ایک قصہ یاد آیا کہ دہلی میں ایک درویش تھے وہ بیٹھے ہوئے یہ کہ رہے تھے کہ ،، نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ ۔ پھرمیں تیراکہنا کیوں کروں ،، اس پرلوگوں کو غصہ بھڑک رہا تھا اورکفر فتوے دے رہے تھے آخر ایک آدمی ان کو پکڑ کر قاضی کے اجلاس میں لے گئے کہ دیکھئے ! کہ کہہ رہا ہے کہ شرعی حکم اور سزا دیجئے ۔ قاضی صاحب نے درویش سے سوال کیا کہ شاہ صاحب یہ آپ کس کو کہہ رہے ہو؟ درویش ہنسا اورکہا کہ تمام دہلی شہر میں ایک شخص کوتو عقل ہے ورنہ سارے بے وقوف ہی آباد ہیں ۔ میں اپنے نفس سے خطاب کررہا ہوں میرا نفس مجھ سے کوئی چیز طلب کررہا ہے میں اسے کہتا ہوں کہ نہ تو میرا خدا نہ میں تیرا بندہ میں تیرا کہنا کیوں کروں ۔ توحضرت !اکثر حقیقت سے بے خبری اعتراض کا سبب ہوتی ہے ۔ پھر فرمایا کہ تعویذ گنڈوں کے بارہ میںلوگوں کے خصوص عوام کے عقائد بہت خراب ہوگئے ہیں چنانچہ عام طور پرایک غلط خیال یہ پھیل رہاہے کہ نفع شرط اجازت کو سمجھتے ہیں خود بعض لوگ مجھ کو لکھتے ہیں کہ اعمال قرآنی آپ کی کتاب ہے آپ اس کی اجازت دیدیں میں لکھ دیتا ہوں کہ مجھے خود کی عامل کی اجازت نہیں کیا ایسے شخص کا اجازت دینا کافی ہوسکتا ہے اس کاکوئی جواب ہی نہیں آتا ۔
سود سے متعلق اپنی رائے پوچھنے پراظہار افسوس :
ایک سلسلہ مضمون پرفرمایا کہ ایک ڈپٹی کلکڑ یہاں پرآئے تھے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کا سود کے متعلق کیا خیال ہے یہ سوال کا طرز بھی جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا ہے آپ کا کیا خیال ہے میں نے کہا کہ میرا کیا خیال ہوتا میں تو مسلمان آدمی ہوں مذہبی آدمی ہوں ۔ اللہ ورسول کا جو حکم ہے وہی خیال ہے وہ یہ ہے کہ حق تعالٰی فرمانے ہیں واحل اللہ البیع وحرم الربوا ( حالانکہ اللہ تعالٰی نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے ) کہنے لگے کہ فلاں صاحب ( ایک جاہل ) دہلوی اس آیت کی اور تفسیر کرتے ہیں میں نے کہا اگر اسکی تفسیر معتبر ہے تو وہ قانون جس سے آپ فیصلے کرتے ہیں مجھ کودیجئے میں اسکی شرح لکھوں گا پھر آپ اس شرح کی موافق فیصلے کیا کیجئے جو یقینا فلاں شخص کی شرح کے موافق ہے جولکھا پڑھا ہے اس پرجوجواب آپ گورنمنٹ کی طرف سے ملے گا وہ ہی جواب میری طرف سے ہے اورجن کا آپ نام لے رہے ہیں وہ کیا جانیں کہ تفسیر کسے کہتے ہیں ۔

(ملفوظ 397)غیرمقلدوں کے مذہب کا حاصل :

ایک سلسلہ مضمون میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب نے مجھ سے ایک حکایت بیان کی کہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ فلاں فلاں بزرگ سماع سنتے تھے ان مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہربزرگ میں کچھ کمزوری ہوتی ہے اگر ہرایک میں اس کی کمزوری کو لے کر جمع کرکے عمل کیا جاوے تودین تو کچھ رہے گا ہی نہیں ۔
پھرفرمایا کہ حضرت مولانا محمد یعقوب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اکثر غیر مقلدوں کے مذہب کا حاصل مجموعہ رخص ( رخصتوں پرعمل کرنا ) ہے جس کا نتیجہ اکثر بددینی ہے ۔
21شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دوشنبہ

(ملفوظ 396)حکایت ، بدنامی سے ڈرنے والے کی

ایک صاحب کی بے ڈھنگی پن کی گفتگو سے حضرت والا کو اذیت پہنچی اس کی شکایت کا اظہار فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں یہ واقعہ اس واسطے ظاہر کرتا ہوں کہ سب کے کانوں میں پڑجائے اور سب کو معلوم ہوجائے کہ ایسی بات دوسروں کی اذیت کا سبب ہوتی ہے گودارو گیر کے اس طرز سے میں بدنام ہوتا ہوں مگر بدنامی ہوا کرے اورحضرت عام نیک نامی تو کسی حالت میں بھی نہیں ہوسکتی پھر اس پر ایک حکایت بیان فرمائی کہ ایک شخص مع اہل وعیال سفر میں چلا خود گھوڑی پرسوار بیوی بچوں کو پیدل ہمراہ لیا ایک گاؤں پرگذر ہوا لوگوں نے دیکھ کر کہا کہ کیسا سنگدل ادمی ہے بچوں اور بیوی کو پیدل مار رکھا ہے اور ہٹا کٹا خود چڑھا جارہا ہے سمجھا کہ ٹھیک کہہ رہے ہیں خود اترلیا اور بیوی کو سوار کردیا پھر ایک گاؤں پر گذر ہوا لوگوں نے کہا کہ زن مرید ایسے ہی ہوتے ہیں جورو کا غلام ۔ خود پیدل مصیبت اٹھا رہا ہے اور اس کو بیگم بناکر سوار کر رکھا ہے سمجھا کہ یہ بھی ٹھیک کہہ رہے سب سوار ہوگئے ایک گاؤں ملا لوگوں نے دیکھ کرکہا کہ ارے ! اس گھوڑے کو کیوں ترسا ترسا کر مارا ایک گولی نہ ماردی دیکھ ! کتنے آدمی لئے آخرسب اترلئے اورلگام پکڑ کر چلا ۔ لوگوں نے دیکھ کرکہا کہ دیکھو نا شکرے ایسے ہوتے ہیں خدا تعالٰی نے گھر کی سواری دی پھر سب مررہے ہیں۔ارے باری باری چڑھتے اترچلے جاتے دوسرے جب سوارہی ہونا نہ تھا تو ساتھ لے کر چلنے کی کون سی ضرورت تھی گھر پر ہی باندھ آنا تھا ۔ تب یہ سمجھا کہ جب کو ئی شق بھی اعتراض سے محفوظ نہ رہی اورسب پر ہاتھ صاف کیا گیا تو ایسی تیسی میں جائیں اب جو اپنے جی میں آئے گا اس پر عمل کرینگے تو حضرت کس کس کی مرضی کو ٌپورا کیا جائے اگرآدمی اسکے پیچھے پڑے تو کوئی کام بھی نہیں کرسکتا ۔

(ملفوظ 395)اول بارہدیہ قبول کرنے میں خرابی :

فرمایا کہا ایک صاحب جو بہت متمول ہیں یہاں پرآئے اور ان کے آنے کا پہلا موقع تھا وہ صاحب بہت سے کپڑے وغیرہ لائے تھے بطور ہدیہ مجھ کو دینے لگے میں نے بوجہ مخالفت شرائط عذر کردیا میں پہلے ان قواعد پربہت سختی سے پابند تھا بطول مزاح فرمایا کہ جوں جوں سن بڑھنے سے بدن ڈھیلا ہوتا جاتا ہے قواعد بھی ڈھیلے ہوتے جاتے ہیں انہوں نے اپنے ایک رفیق سے شکایت کی انہوں نے کہا کہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کیجئے کہ جس چیز کی تلاش لے لئے آپ نے سفر کیا تھا وہ چیز مل گئی آپ اس سفر میں جہاں جہاں گئے ہرجگہ آپ کے نام کا وظیفہ پڑھا جاتا تھا اور یہاں پریہ برتاؤ ہوا کہ کسی نے پوچھا بھی نہیں تو وہ چیز یہاں ہے ان کا سفر سے مقصود تھا کہ کسی کو اپنا رہبر بناؤں اور دین کا تعلق پیدا کروں گا اس سے ان کی تسلی ہوگئی ایک اور صاحب علم کا واقعہ ہے جن کو یہاں آکر اپنے کھانے کا خود انتظام کرنا پڑا جو ظاہرا خشکی ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ صاحب چند شرائط ذہن میں لے کرچلے جاتے تھے کہ ایسے شخص سے تعلق پیدا کروں گا جن میں یہ صفات ہوں ماشاءاللہ آدمی فہیم اور سمجدار ہیں وہ صفات یہ ہیں کہ ایک تو آنے والوں کو کھانا نہ کھلایا جاتا ہو ورنہ دکانداری کا شبہ ہوگا دوسرے پڑھا لکھا ہو تیسرے اس کے یہاں ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہو چاپلوسی نہ ہو ایسے شخص سے بیعت کا تعلق کروں گا تو فہیم آدمی پرجلدی ہدیہ نہ لینے کا کھانے وغیرہ کی مدارت نہ کرنے کا اچھا اثرہوتا ہے پھرفرمایا کہ اول بارمیں ہدیہ قبول کرنے میں ایک خرابی یہ ہے کہ یہ تو معلوم نہیں ہوتا کہ ہدیہ دینے والا اپنی کوئی غرض لے ایا ہے یا کوئی اور مصلحت ہے سو بعض دفعہ ایسا ہوا کہ کوئی چیز میں نے قبول کرلی مگر اس شخص نے ساتھ ہی ساتھ کو ئی فرمائش کردی جس سے معلوم ہوا کہ یہ ہدیہ اسکی تمہید تھی اس وقت ایک غیرت سی معلوم ہوتی تھی کہ تجارت کی مشابہت ہوگئی اس لئے میں نے یہ قاعدہ مقرر کردیا کہ بدون بے تکلفی ہوئے ہدیہ قبول نہ کیا جاوے گا ۔

(ملفوظ 394)خاوند کے تسخیر کے تعویذ کے احکام

ایک بی بی نے ایک صاحب کے ذریعہ سے اپنے خاوند کی تسخیر کے لئے تعویذ لینا چاہا حضرت والا نے فرمایا فقہاء نے فرمایا ہے کہ خاوند کے لئے تسخیر کا تعویذ کرانا حرام ہے گو اس فتوے کی عبارت مطلق ہے مگر قواعد سے اس کی شرح یہ ہے کہ حقوق دو طرح کے ہیں ایک تو وہ حقوق جوشرعا شوہر پرواجب ہیں اور ایک وہ ہیں جوشرعا واجب نہیں سوجو حقوق واجب نہیں ان میں کسی تعویذ و عمل کے ذریعہ سے اس کو مجبور کرنا یعنی تسخیر کی ایسی تدبیر جس سے وہ مغلوب اور پاگل ہوجائے اور اپنے مصالح کی کچھ خبر نہ رہے یہ غیر واجب پر مجبور کرنا ہے یہ حرام ہے ہاں اگر حقوق واجبہ میں کوتاہی کرتا تواس کے لیے مجبورکرنا بھی جائز ہے اور چونکہ ان عملیات میں اثر تابع ہوتا ہے قصد کے اس لئے عمل کے وقت غیر واجبہ حقوق حاصل ہونے کا قصد کرنا بھی گناہ ہے اور اثر کا تابع قصد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عملیات بھی ایک قسم کا مسمریزم ہے جس سے کسی کے دل ودماغ پرقابوحاصل کیا جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ جزئیہ بے حد یا د رکھنے کے قابل ہے اگرکسی کو یہ شرح معلوم نہ وہوتو وہ فقہاء پر اعتراض کرے گا اس لئے کہ فقہاء کے اس جزئیہ میں اس تفصیل کی تصریح نہیں جیسے طب کی کتابوں میں بعضے نسخے ہیں جن میں خاص اس مقام پرقیود کی تصریح نہیں مگر قواعد سے وہ مقید ہیں پھر اس پرایک بزرگ کا قصہ بطور تفریع کے فرمایا کہ ان سے کسی شخص کو عداوت تھی اور ان کو بہت ستایا تھا ایک مرتبہ ان بزرگ نے اس کے لئے بددعا کی اس کے بعد وہ ہلاک ہوگیا ان بزرگ نے بطور استفتاء کے مجھے لکھا کہ ایسا واقع پیش آگیا ہے مجھکو یہ خوف ہے کہ کہیں قتل کا گناہ نہ ہوا ہو یہ ان کی دین داری کی بات تھی کہ خشیت کا غلبہ ہوا اگر آجکل کسی پیر سے ایسا ہوجاوے تو مریدوں میں بڑے فخر کے ساتھ بیٹھ کر اپنی کرامت بیان کرے کہ دیکھو ہماری بددعا سے ہلاک ہو گیا ہماری بددعاء خالی تھوڑا ہی جاسکتی ہے اور ایک بزرگ ہیں کہ بیچاروں کو اس سے خوف ہوا بس رسم پرستوں اورحق پرستوں میں یہ ہی تو فرق ہوتا ہے وہ ہروقت لرزاں ترساں رہتے ہیں اورکسی چیز پر بھی نازاں نہیں ہوتے مجھ پراس خط کا بڑا اثر ہوا اور ان کی بزرگی کا معتقد ہوگیا یہ سوال ایسا تھا کہ ساری عمر بھی مجھ سے کبھی ایسا سوال نہیں کیا گیا تھا کہ جوحادثہ مشابہ کرامت ہواوراس پریہ شبہ کیا جاوے میں نے جواب لکھا کہ آپ کا اندیشہ صحیح ہے مگر اس میں تفصیل ہے وہ یہ کہ یہ دیکھا جاوے کہ آپ صاحب تصرف ہیں یا نہیں اگر نہیں تو آپ کے ذمہ اہلاک کا تو گناہ نہیں ہوا باقی بددعا کا گناہ سو اگر شرعا ایسی بددعا جائز تھی تو اس کا بھی گناہ نہیں اور اگر جائز نہ تھی توصرف بددعا کا گناہ ہوا یہ تو اس وقت ہے جب آپ صاحب تصرف نہ ہوں اور اگر آپ صاحب تصرف ہیں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ بددعاء کے وقت آپ نے اپنے دل اور خیال کو اس کی ہلاکت کی طرف متوجہ کیا یا نہیں اگرنہیں کیا تو قتل کا گناہ نہ ہوگا ہاں بددعا ء کا گناہ بعض صورت میں ہوا جسیی ابھی اوپر مذکر ہوا اس میں توبہ استغفار کرنا چاہئے اورایک صورت یہ ہے کہ اگراس شخص کو اپنا صاحب تصرف نہ ہونا تجربہ سے معلوم ہے مثلا بارہا تصرف کا قصد کیا مگر کبھی کچھ نہیں ہوا تو اس صورت میں اگر ہلاکت کا خیال بھی کیا تب بھی قتل کا گناہ نہیں ہوا البتہ اس صورت میں اگروہ شرعا مستحق قتل نہ تھا تواس کی ہلاکت کی تمنا کا گناہ ہوگا اور تجربہ سے اپنا صاحب تصرف ہونا معلوم ہے اور پھر اس کا خیال بھی کیا اور وہ مستحق قتل نہیں تویہ شخص قاتل ہے کیونکہ تلوار سے قتل کرنا اور تصرف سے قتل کرنا دونوں سبب قتل ہونے میں برابر ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ تلوار سے قتل عمد ہے جس میں قصاص ہے اور یہ شبہ عمد اس صورت میں دیت اورکفارہ دینا ہوگا وہ بزرگ اس مفصل جواب س بہت مسرور ہوئے پھر فرمایا کہ مسلمان کو ہرقدم پرعلم کی ضرورت ہے نہ معلوم یہ جاہل پیر کیسے بے خوف اور مستغنی ہیں کہ جائز نا جائز کی فکر ہی نہیں۔
21شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ

(ملفوظ 393)مجوزہ حالت میں بندوں کے مصالح :

فرمایا کہ حق سبحانہ وتعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے جوحالت بھی تجویذ فرمائی ہے اس میں ان کے مصالح کی رعایت رکھی ہے جس کے اسباب سب کے لئے جدا جدا ہیں حضرت قاضی ثناءاللہ صاحب پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ نے تفسیر مظہری میں ایک حدیث لکھی ہے یہ حدیث قدسی ہے حق تعالٰی فرماتے ہیں بعضے بندوں کے متعلق مجھے معلوم ہے کہ وہ اگر دولت مند رہیں تو ان کا ایمان رہے گا اور اگرمفلس ہوجاویں تو ایمان نہ رہے گا اور بعضے بالعکس بعضوں کو اگرتندرست رکھوں تو ایمان رہے گا اور اگر بیمار رکھوں تو شکوہ شکایت کرتا پھرے گا اور ایمان برباد کردے گا اور بعضوں کو بیمار رکھوں تو ایمان درست رہے گا اور اگرتندرست رکھوں تو ایمان کھو بیٹھے گا میں اپنے بندوں کو خوب جانتا ہوں اھ اور اگر دوسرے وقت دوسری حالت ہوجاوے اس لئے کہ حالات میں ستغیر تبدل بھی ہوتا رہتا ہے تو سمجھنا چاہئے اس وقت وہی حالت حافظ ایمان ہوگی خوب کہا گیا ہے ۔ کہ خواجہ خودروش بندہ پروری داند

(ملفوظ 392)عرفی خوش اخلاقی نے عوام کے دماغ خراب کردیئے :

ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ الحمداللہ تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ میرے معمولات سب کے سب نہایت مفید وراحت بخش ہیں مگر آج کل کے علماء ومشائخ کی عرفی خوش اخلاقی نے عوام کے دماغ بگاڑدیئے کہ وہ ان معلومات کو تشدد سمجھتے ہیں ۔