ملفوظ 345: وجد کی تعریف اور رونا نہ آ نے پر افسوس ہونا رونا ہے

وجد کی تعریف اور رونا نہ آ نے پر افسوس ہونا رونا ہے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حالت محمودہ غیر اختیاریہ کو وجد کہتے ہیں جو محمود ہے مگر ماموربہ نہیں انہوں نے عرض کیا یبکون ویزیدھم خشوعا ( اور یہ قرآن ان کا خشوع بڑھا دیتا ہے ) فرمایا گیا ہے کیا یہاں پر قصد سے رونا مراد ہے فرمایا کہ اس میں صرف فضیلت بکاء کی مذکور ہے اس کا امر نہیں اس لئے قصد سے رونا مراد نہیں ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ جس کو رونا نہیں آتا فرمایا اس کو بھی آتا ہے عرض کیا کہ کہاں آتا ہے فرمایا کہ رونا نہ آ نے پر افسوس ہونا یہ بھی رونا ہی ہے بعض کو فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا ( تھوڑے دنوں میں دنیا میں ہنس لیں اور بہت دنوں آخرت میں روتے رہیں ) سے بکاء کے ماموربہ ہونے کا اندیشہ ہو گیا ہے مگر وہ صورۃ امر ہے مگر معنی خبر ہے قیامت میں کفار کے وقوع بکاء کی خبر دے رہے ہیں ـ