واجد علی شاہ کی ظرافت ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ واجد علی شاہ اودھ عیش و نشاط میں پڑ کر واجد علی نہ رہا تھا فاقد علی ہو گیا تھا ـ مگر بعضے باتیں اس کی بڑی ظرافت میں ہوتی تھیں بعض انگریزوں نے اس سے پوچھا کہ تم اپنی حیات تک وظیفہ چاہتے ہو یا بعد مرنے کے بھی پسماندوں کے لیے وظیفہ چاہتے ہو کہا کہ صرف اپنی حیات تک روثہ نے کہا یہ کیا کہا کہ سب میرا مرنا تکتے اب سب دعاء کریں گے کہ یہ بیٹھا رہے میں دعا گومفت کے حاصل کر لیے عجیب ظرافت ہے اور انہیں کی حکایت ہے کہ کتب خانہ پر تو ایک کہار کو ملازم رکھا اور باورچی خانہ پر ایک مولوی صاحب کو ـ کسی نے پوچھا یہ کیا کیا کہ کہار کو علم سے کیا نسبت وہ جاہل ہے کتابیں نہ چرائے گا اور مولوی ایماندار ہیں اسلئے باورچی خانہ پر ان کی ضرورت ہے کہ کوئی زہر وغیرہ کھانے میں نہ دیدے وہاں ایماندار ہی کی ضرورت ہے
