والدین اور بچوں کی تربیت ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ! میرے لڑکے بہت ہی بد شوق ہیں تعلیم کی طرف ان کو قطعا التفات اور رغبت نہیں اس سے میرا قلب پریشان رہتا ہے ـ فرمایا کہ قلب کے پریشان اور مشوش رکھنے کی کیا ضرورت ہے مومن کو پریشان کرنے والی چیز بجز ایک چیز کے اور کوئی چیز نہیں وہ حق تعالی کی عدم رضا ہے اس سے تو مومن کے قلب میں جتنی بھی پریشانی ہو اور جو بھی حالت ہو وہ تھوڑی ہے اور جبکہ رضا کا اہتمام ہے اپنی وسعت اور قدرت کے موافق تو کوئی وجہ نہیں کہ مومن کا قلب پریشان اور مشوش ہو ـ اس لئے کہ تدبیر ہمارے ذمہ ہے مثلا تعلیم اولاد کیلئے شفیق استاد کا تلاش کر دینا کاغذ ، قلم دوات کا مہیا کر دینا کتابیں قرآن شریف کا خرید دینا اور مزید بر آں علم کے منافع اور علم دین کے فضائل سنا کر ترغیب دیدینا وقتا فوقتا نگرانی اور دیکھ بھال کر لینا ـ بس اگر یہ سب کچھ ہے تو ہم صرف اسی کے مکلف تھے آ گے ثمرہ کے ہم ذمہ دار نہیں اس لئے کہ ثمرہ کا مرتب ہونا یا نہ ہونا ہمارے اختیار سے باہر ہے ـ خلاصہ یہ ہے کہ اختیاری کاموں کو انسان کر لے اور غیر اختیاری کے پیچھے نہ پڑے ـ اصل سبب پریشانی کا غیر اختیاری کاموں کے کاموں کے درپے ہونا ہے ـ بھائی اکبر علی مرحوم بہت ہی دانش مند تھے اپنے بچوں کی تعلیم کے اسباب جمع کر دیے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اسباب سب جمع ہیں اب یہ پڑھیں یا نہ پڑھیں تشدد سے کام نہ لیتے تھے اور یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اب پڑھیں یا نہ پڑھیں ان کو اختیار ہے مجھے کوئی حسرت نہیں واقعی بڑے ہی کام کی اور سمجھ کی بات ہے ـ بھائی مرحوم کی باتیں قریب قریب دانش مندی کی ہوتی تھیں یہ بھی کہا کرتے تھے کہ زیادہ کاوش اچھی نہیں معلوم ہوتی ـ صاحب علم ہونا ضروی نہیں مسلمان ہونا ضروری ہے ـ فرمایا کہ ایک اور تدبیر نافع اس وقت ذہن میں آئی وہ یہ کہ علماء صلحاء کی صحبت میں کبھی کبھی بچوں کو بھیج دیا جایا کرے ـ بحمداللہ علماء صلحاء کی صحبت سے اتنا ضرور ہو جائیگا کہ دین اور اہل دین سے تعلق اور مناسبت پیدا ہو جائے گی ـ بزرگ بچوں کی بیعت کا اہتمام نہ کرتے تھے لیکن حضور مجالس اکابر کا ان کو بہت اہتمام تھا ـ
