ملفوظ 334: وساوس کو دفع کرنیکی طرف متوجہ ہونا مضر ہے

وساوس کو دفع کرنیکی طرف متوجہ ہونا مضر ہے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ وساوس کے دفع کی طرف اگر متوجہ رہے اس میں کوئی ضرر تو نہیں فرمایا وسوسہ سے قلب کو خالی کرنے کی طرف متوجہ ہونا یہ خود ایک مستقل وسوسہ ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ مضر ہے ـ اسلئے کہ پہلے جو وساوس قلب میں آ رہے تھے وہ تو محل تفصیل ہیں کہ آیا اختیار سے آ رہے ہیں یا بدوں اختیار کئے اور اس کی طرف دفع کیلئے متوجہ ہونا قصد سے ہے گو دفع ہی کا قصد ہو مگر توبہ بقصد تو ہوئی اس لئے ضرر رساں ہوا اس کی مثال بجلی کے تار کی سی ہے کہ اگر دفع کی نیت سے بھی ہاتھ لگائے گا تب بھی وہ لپٹے گا ـ اس فکر ہی میں نہ پڑنا چاہیے ـ مثلا کسی کے قلب میں کفر کا وسوسہ آئے اور وہ اس کے دفع کی فک کرے یہ تدبیر نافع نہ ہو گی ـ بلکہ اس وقت توجہ الی اللہ کی تجدید کر دے یا توجہ الی القرآن کر لے یا توجہ الی الشیخ کر لے یہ تدبیر انشاءاللہ نافع ہو گی ـ