( ملفوظ 10) فرمایا کہ آج صبح جس نالائق کو نکالا ہے اس نے بہت ہی ستایا ، ایسے جھوٹے شخص سے کیا خیر کی توقع ہوسکتی ہے ۔ ایک چھوٹے سے معاملہ میں اس قدر جھوٹ پھر جھوٹ پر جھوٹ مکان کے دروازہ پر سوتا تھا ایسے مکار شخص کا کیا بھروسہ ، ایسا شخص خطرناک ہے اور اگر دروازہ پر نہ بھی رہے مدرسہ ہی میں رہے تو کیا مدرسہ کے لوگ مفت کے ہیں کہ ان کو دھوکے دیتے رہو ، ستاتے رہو ۔ فرمایا کہ مجھے جھوٹ سے بڑی نفرت ہے اور کاذب سے نفرت ہونا بھی چاہیے اس لیے کہ اس سے تو کچھ امید نہیں نہ معلوم کس وقت کیا دھوکہ دے ۔
