ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو حزن غیر اختیاری ہے وہ خود بخود معلوم ہو جاتا ہے اختیاری اور غیر اختیاری افعال میں بین فرق ہوتا ہے ۔ حقیقت میں بھی اور اثر میں بھی ۔ چنانچہ جو چیزیں غیر اختیاری ہیں ان کے صدور سے کبھی قلب پر کدورت نہیں ہوتی ۔ گو طبعی اثر ہو مگر وہ کدورت نہیں حزن ان چیزوں سے اختیاری ہو جاتا ہے یعنی اپنے خیال کو اس میں دخل دینا ، ، فکر کرنا ، غور کرنا وغیرہ اور حزن اضطرابی تو اتنی بڑی دولت ہے کہ اس سے قلب میں استعداد پیدا ہوتی ہے وصول الی الحق کی کیونکہ اس سے موانع وصول مرتفع ہوتے ہیں ۔
