( ملفوظ 157 )نظم اوقات کیلئے دلیل

ملقب بہ اجمع الکلام فی انفع النظام ۔ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو اکثر اہل علم سے بھی امید بہت کم ہو گئی کہ آئندہ ایسے امور کی اصلاح کریں جن میں عام ابتلا ہے کیونکہ یہ لوگ خود ہی قابل تربیت ہیں ۔ ایک طالب علم آئے تھے مراد آباد سے انہوں نے یہاں سے جا کر اعتراض کے طور پر لکھا کہ تم نے جو اوقات کا انضباط کیا ہے خیر القرون میں یہ انضباط نہ تھا اس لیے بس یہ سب بدعت ہے مگر جواب کے لیے نہ ٹکٹ تھا نہ کارڈ ، اگر ہوتا تو میں جواب لکھتا کہ تم نے جو مراد آباد کے مدرسہ میں پڑھا ہے وہاں پر بھی اسباق کے لیے اوقات کا انضباط تھا کہ 8 بجے تک فلاں سبق اور 9 بجے سے 10 بجے تک فلاں سبق اور 2 بجے سے 4 بجے تک فلاں سبق یہ بھی خیر القرون میں نہ تھا ۔ لہذا یہ بھی بدعت ہوا ، سو اس بناء پر آپ کا سارا علم جو بدعتی طریق پر حاصل کیا گیا ہے نا مبارک اور ظلماتی ہوا بلکہ اگر بدعت کے یہ معنی ہیں جو ان حضرت نے سمجھے ہیں کہ جو چیز خیر القرون میں نہ ہو تو خیر القرون میں تو ان کا بھی وجود نہ تھا پس یہ بھی مجسم بدعت ہوئے کیا خرافات ہے ۔ تحصیل علم کرنے والوں کے فہم کی حالت ہے عوام بے چاروں کی تو شکایت کی جائے جب کہ لکھے پڑھے علم کے مدعی اس زمانہ میں بکثرت اس قدر بد فہم اور کم عقل پیدا ہو رہے ہیں ان بزرگ کو بدعت کی تعریف بھی معلوم نہیں یہ انضباط کسی کے اعتقاد میں عبادت تو نہیں اس لیے ان کا خیر القرون میں نہ ہونا اور اب ہونا بدعت کو مستلزم نہیں ، میں نے حیات المسلمین روح ہشتم ( نمبر 3 ) میں ایسے انتظامات کے متعلق لکھ دیا ہے چنانچہ آیک آیت میں ہے کہ اس بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں ( اور زبان سے نہیں فرماتے کہ اٹھ کر چلے جاؤ ) اور اللہ تعالی صاف بات کہنے سے ( کسی کا لحاظ نہیں کرتے ( سورہ احزاب ) اسی واسطے خود فرما دیا :
اذا دعیتم فادخلوا فاذا طعمتم فانتشروا الآیۃ
اور اس مقام میں جس طرح شان انتظامی کی تعلیم ہے اس طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق پر دلالت سے جیسا کہ یستحیی سے معلوم ہوتا ہے اللہ اکبر کیا انتہا ہے آپ کی مروت کی کہ اپنے غلاموں کو بھی یہ فرماتے ہوئے شرماتے تھے کہ اب اپنے کاموں میں لگو مگر یہ لحاظ اپنے ذاتی معاملات میں تھا ، احکام کی تبلیغ میں نہ تھا اور اس باب میں بہت نصوص ہیں ۔ اب یہاں کے قواعد اور ان ضوابط کے متعلق ایک غیبی لطیفہ سنئے ۔ ایک صاحب مخلص اور دوست یہاں پر مہمان ہوئے ان کے ساتھ ان کا ملازم ایک بے ریش لڑکا تھا ، قانون یہاں پر یہ ہے کہ شب کو بے ریش لڑکا خانقاہ میں نہیں رہ سکتا مگر چونکہ ان سے بہت خصوصیت کا تعلق تھا اور ان کی نگرانی پر اعتماد بھی تھا اس لیے ان سے کچھ نہیں کہا گیا بلکہ کہتے ہوئے شرمایا ۔ غرض یہ کہ وہ شب کو مع اپنے ملازم کے خانقاہ میں مقیم رہے صبح کو بعد نماز فجر کہنے لگے کہ رات بڑی ہی طبیعت کو انتشار رہا وہ یہ کہ میں نے رات کو خواب میں حضرت حافظ ضامن صاحب کو دیکھا کہ بہت خفا ہوئے ہیں کہ بے ریش لڑکے کو لے کر خانقاہ میں کیوں قیام کیا ، میں نے کہا کہ قانون تو یہاں کا یہی ہے مگر محض آپ کے لحاظ سے اس کا اظہار نہیں کیا گیا مگر آج معلوم ہوا کہ یہاں زندہ ہی منتظم نہیں مردے بھی منتظم ہیں ( مزاحا کہا گیا ) پھر میں نے کہا کہ اب سے امرد کو ساتھ مت لانا اور مجھ کو بھی اس خواب پر بڑا تعجب ہوا اس لیے کہ ان کو خبر بھی نہ تھی کہ یہ معمول ہے اس لیے قوت متخیلہ کا بھی احتمال نہ تھا