سلسلہ کے لیے اس سے دو ملفوظ چھوڑ کر تیسرا پہلا ملفوظ دیکھو اسی دیہاتی شخص نے ایک گھنٹہ کے بعد آ کر عرض کیا کہ بخار کے لیے تعویذ دے دو ، یہ کہہ کر خاموش ہو گیا ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ تم نے اس دوسری مرتبہ دھوکہ دیا اور اول مرتبہ کی بات باوجود کہہ دینے کے یاد نہیں دلائی ، میں یوں سمجھا کہ کوئی اور شخص ہے تو تم نے مخالفت کیوں کی ، اب اس مخالفت کی سزا یہ ہے کہ اگر تعویذ لینا ہے تو ایک لفافہ خرید کر اور اس پر اپنا پتہ لکھ کر اور اس میں یاداشت کا ایک پرچہ لکھ کر میرے پاس رکھ دو کہ مجھ کو فلاں چیز کے تعویذ کی ضرورت ہے مجھ کو دے دو ، میں ڈاک سے تعویذ بھیج دوں گا ، میں نے تدبیر بتلا دی ، یہ بھی میرا احسان ہے نہیں تو ناراضگی میں آدمی تدبیر بھی نہیں بتلایا کرتا تم نے کتنی مرتبہ ستایا اور کئی طرح کی تکلیف دی ۔
